3

اسلام میں عورت کے حقوق

اسلام نے عورتوں کو جو مقام و مرتبہ، عزت و وقار، تعلیمی و تحریکی آزادی اور معاشرتی رول عطا کیا ہے وہ کسی دوسرے مذہب میں نہیں ہے۔ احادیث مبارکہ میں دونوں کے فرائض واجبات یکساں ہیں۔اس طرح دعوتِ دین کے لیے بھی مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو قرآن نے سرگرم رول ادا کرنے کی دعوت دی ہے۔ اور کہا کہ:

والمؤمنون و المؤمنات بعضہم اولیاء ببعض یأمرون بالمعروف و ینھون عن المنکر۔ (التوبۃ:۷۱)

بے شک مومن مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں وہ نیکیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں۔‘‘

ان المسلمین والمسلمات والمؤمنین و المومنات …… اجراً عظیماً۔ (الاحزاب:۳۵)

’’ بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، صابر مرد اور صابر عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں،خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں، روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، خدا کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور خدا کو کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں اللہ نے ان سب کے لیے مغفرت اور اجر عظیم تیار کیا ہے۔‘‘

اس آیت کریمہ میں اللہ رب العزت نے مردوں اور عورتوں کو برابری کا درجہ دیا اور فرمایا کہ دونوں کی مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ ان صفات سے مشروط ہے۔ عورتیں بھی انھیں خوبیوں کو اپنی زندگی کا زیور بنائیں اور مرد کو تو ہے ہی۔ عورتیں ان ہی اصولوں کو اپنا کر اخلاص و روحانی ترقی کے بلند سے بلند مرتبہ تک پہنچ سکتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی رحمت و شفقت بغیر کسی تخصیص کے مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے عام ہے اور آخرت میں کامیابی و سرخروئی حاصل کرنے کا جو معیار مردوں کو بتایا گیا ہے وہی عورتوں کے لیے بھی ہے اس لیے دونوں کو یکساں فکر آخرت کرنی چاہیے، یہاں بھی دونوں برابر ہیں سورئہ بقرہ: ۲۲۸، اور عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر وہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں۔ اسلام میں دونوں کے حقوق ہر جگہ برابر ہیں۔ اللہ کے نزدیک زیادہ محترم وہ ہے جو تقویٰ میں بہتر ہو۔ اللہ تعالیٰ سورئہ النساء میں فرماتا ہے جو نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ایسے لوگ ہی جنت میں داخلے کے حقدار ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی۔

پھر قرآن میں ہمیں ایک بڑی مثال اور دکھتی ہے کہ ایک پوری سورئہ ہی ایک محترم عورت کی شخصیت پر اتاردی جو کہ سورئہ مریم ہے۔ اللہ رب العزت ان کا نام لے کر ان کی تعریف فرماتا ہے:’’اللہ ایمان والوں کے لیے مثال بیان کرتا ہے فرعون کی بیوی کی جبکہ اس نے دعا کی اے مرے رب! میرے لیے جنت میں ایک گھر بنا اور مجھ کو نجات دے فرعون سے اور اس کے عمل سے اور مجھے نجات دے ظالموں کی قوم سے اور مریم بنت عمران کی مثال بیان کرتا ہے جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی پس ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی اور اس نے اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھا۔‘‘ (التحریم:۱۱،۱۲)

سورئہ مجادلہ آیت:۱ میں بھی اللہ نے ایک خاتون کی بات کو سنا اور اس کا جواب دیا: ’’اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملے میں تم سے تکرار کررہی ہے اور اللہ سے فریاد کیے جاتی ہے اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔‘‘

یہ خولہ بنت ثعلبہؓ جن کے واقعہ کو رہتی دنیا تک قرآن میں محفوظ کردیا گیا۔ قرآن ہمیں بہت واضح طور پر ایسے لوگوں کے بارے میں خوشخبری دیتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوتے ہیں اور ان کا انجام بھی بتاتا ہے جو اللہ کے حدود کو پامال کرتے ہیں۔

پھر اگر ہم عبادت کو غور سے دیکھیں تو اسلام کی عبادات بھی دونوں کے حصے میں برابر ہیں مثلاً نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ساری چیزوں میں آپ یکسانیت پائیں گے۔ عورت اور مرد میں کوئی تفریق اگر ہوتی تو بی بی حضرت ہاجرہؑ کی اس سعی کو اللہ تعالیٰ نشانی کے طور پر نہ رکھتا جو کہ قیامت تک کے لیے ایک لازمی رکن ہے۔ حج مبارکہ کے لیے اس کو ایک لازمی رکن کا درجہ نہ ملتا یہ بھی ایک خاتون ہی تھیں جن کا ایک عمل رب العالمین کو اتنا پسند آگیا کہ آج بھی اس کی پیروی کرنے میں لوگ فخر محسوس کرتے ہیں اورزندگیاں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ قرآن حکیم میں ایک سماجی برائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ڈرایا گیا ہے کہ بچیوں کو مت مارو: ’’پوچھا جائے گاکہ تم کو کس جرم میں قتل کیا گیا تھا۔‘‘ (التکویر:۸،۹)

عرب میں اس وقت اور پوری دنیا میں آج لڑکی کو یا تو دنیامیں آنے کے بعد مار دیتے ہیں۔یا پیٹ کے اندھیرے کمرے میں سائنس و ٹکنالوجی کے ذریعہ ختم کردیا جاتا ہے۔ اسی طرح جگہ جگہ قرآن میں عورتوں کے حقوق مساوات ان کی عزت و تکریم کی بات کہی گئی ہے۔

احادیث جو کہ اسلام کا دوسرا سب سے بڑا ماخذ ہیں وہ اگر ہم دیکھیں تو وہاں اور زیادہ زور دیا گیا ہے۔ خطبہ حجۃ الوداع میں بھی آپؐ نے رہنمائی فرمائی ہے۔ آپؐ نے والدین کو بچیوں کے پالنے پوسنے، تعلیم و تربیت، صحت و پرورش اور شادی بیاہ پر جنت کی خوشخبری سنائی ہے۔ آپؐ نے فرمایا جس نے تین لڑکیوں کی اچھی طرح پرورش کی اور پھر ان کی شادی کردی تو وہ جنت کا حقدار ہوگیا۔ کوئی صحابی رسولؐ کے ساتھ بیٹھے سن رہے تھے پوچھا اے اللہ کے رسولؐ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ایک سوال ہے۔ آپؐ نے اجازت دی۔ صحابی نے پوچھا اللہ کے رسولؐ اگر کسی کے ایک بچی ہو تو وہ کیا کرے؟ آپؐ نے فرمایا اس کے لیے بھی جنت کے دروازے کھول دئے جائیں گے جس طرح سے تین لڑکیوں والے باپ کے لیے کھولے جائیں گے۔ اسلام مرد اور عورت میں کوئی تفریق نہیں کرتا۔ اللہ کے رسول ؐ سے پوچھا گیا سب سے زیادہ بہتر سلوک کا حقدار کون ہے۔ آپؐ نے فرمایا تیری ماں، دوسری دفعہ بھی آپ ؐ نے فرمایا تیری ماں، اور تیسری دفعہ بھی آپؐ نے تیری ماں فرمایا۔ جب چوتھی دفعہ پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا تیرا باپ۔ اس حدیث کی رو سے اگر آپ دیکھیں تو ماں جو کہ عورت ہے وہ باپ سے تین درجہ آگے ہے۔ اس طرح سینکڑوں احادیث مبارکہ میں ماں کی حیثیت جنت کی ضمانت قرار دیتی ہیں۔

جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔ یہ تو سب نے سن ہی رکھا ہے۔ امام بخاری ؒ نے حضرت عمرؓ کا قول نقل کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’مکہ میں ہم لوگ عورتوں کو بالکل ہیچ سمجھتے تھے، مدینہ میں نسبتاً ان کی قدر تھی لیکن جب اسلام آیا اور اللہ نے ان کے متعلق آیات نا زل فرمائیں تو ہمیں ان کی حقیقی قدرومنزلت معلوم ہوئی۔‘‘ (صحیح بخاری)۔

اس طرح کہیں ماں ، کہیں بہن، بیٹی اور بیو ی کی شکل میں عورت کو ایک اہم چیز بنادیا ہے جس سے اپنی دین اور دنیا دونوں کو سنوارا جاسکتا ہے۔ سماجی برائیوں کو دور کیا جاسکتا ہے۔ وہ سارے حقوق دئے گئے جو مرد کو ملے یعنی اپنا سرمایہ تجارت میں لگاسکتی ہے، محنت مزدوری کرسکتی ہے۔ پھر بیوی کتنی ہی مالدار ہو اس کا خرچہ شوہر پر ہی رکھا گیا ہے۔ اسلام نے ہی معاشی حقوق کے ساتھ ساتھ تمدنی حقوق بھی عطا کیے جیسے عورت کو شوہر کا انتخاب کرنے کا پورا پورا حق دیا گیا۔مطلقہ یا بیوہ کو نکاح ثانی کا حق دیا، فوجداری اور دیوانی قوانین میں مرد اور عورت کو برابر حق دیا گیا ہے۔ اس طرح روحانی اخلاقی اور انسانی لحاظ سے فضیلت پاکر عورت اپنے جنس مخالف یعنی مرد سے کئی گنا آگے نکل گئی جو کہ صرف اور صرف اسلام کی دین ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
انعام الرحمن رفیقی

تبصرہ کیجیے