BOOST

کس جرم میں قتل کی گئی؟

روزنامہ ہندوستان ٹائمس نے Female Foeticideپر ایک بین مذہبی تقابلی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس خبر کے مطابق ملک میں مردو خواتین کے تناسب میںمسلم آبادی عیسائیوں کے بعد سب سے بہتر ہے۔ مسلم معاشرے میں ایک ہزار مردوں کے مقابلے میں ۹۵۰ عورتیں ہیں۔ جبکہ بدترین معاشرہ سکھ آبادی کاہے ، جہاں لڑکیوں کی تعداد گھٹ کر ۷۸۶ رہ گئی ہے۔

یہ سب جانتے ہیں کہ سکھ معاشرہ معاشی طور پر خوشحال معاشرہ ہے۔ سرکاری نوکریوں، تعلیم اور تجارت کے لحاظ سے یہ معاشرہ بہر حال سب سے زیادہ مطمئن ہے۔ ریاستوں کی رینکنگ میں پچھلے سال پنچاب کو جو سکھ آبادی کا مرکز ہے، سب سے اول درجہ ملا تھا۔ لیکن ترقی اور خوشحالی کی اسی چمک دمک میں کتنا گھور اندھیرا ہے۔ جو لوگ اپنی بیٹیوں کو خوب سے خوب جہیز دینے اور تعلیم دلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہی جنسی تفریق کے سب سے بڑے مجرم ہیں۔

اس کے مقابلے میں مسلم معاشرہ ملک کے پسماندہ معاشرے میں شمار کیا جاتا ہے۔ ملکی میڈیا مسلم معاشرے کی ’’دقیانوسی‘‘ حالت کو بڑی دلچسپی سے پیش کرتا ہے۔ حکومت ہند کی سچر کمیٹی نے تسلیم کیا ہے کہ مسلمان عموماً چھوٹے کاروبار سے وابستہ تھے لیکن اب ان کا کاروبار تباہ ہورہا ہے۔ غربت آج بھی اس معاشرے کا مقدر ہے۔ پچھلے ایک سال میں میڈیا نے گڑیا، عمرانہ، ثانیہ اور ارجمند جیسی عورتوں کے مسائل پر اسلامی معاشرے اور اسلامی شریعت کو اپنی علمی اور صحافتی ہوس کا نشانہ بنایا۔ لیکن اسے اس بات کی توفیق نہیں ہوئی کہ مسلم معاشرے کے اس روشن پہلو کو بطور مثال پیش کرے، جو معاشرہ عورتوں کے لیے سب سے زیادہ محفوظ ہے۔ بات صرف جنسی تفریق کی نہیں ہے۔ جہیز کے لیے غیر مسلم عورتوں کو ٹارچر کرنے کا تناسب غیر معمولی ہے۔ گھریلو تشدد کے معاملے میں غیر مسلم معاشرے میں عورتوں کی عزت و آبرو جان و مال ہر لمحہ خطرے میں ہے۔ بڑے شہروں میں خاص طور پر دلّی کے جرائم سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ عورتوں کو ٹارچر کرنے کی اکثر رپورٹیں غیر مسلم محلوں سے لکھائی جاتی ہیں۔ لیکن کوئی نہیں جو دنیا کو بتائے کے مسلم معاشرہ آج بھی اس پہلو سے نسبتاً زیادہ محفوظ ہے۔

اس موازنے پر غور کیا جائے تو ایک بڑی حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ عورتوں کے بارے میں کسی بھی معاشرے کا برتاؤ اس کے تہذیبی اصولوں سے طے ہوتا ہے۔ اسلامی تہذیب بنیادی طور پر سارے انسانوں کو خدا کا بندہ کہتی ہے۔ بندگی میں سارے انسانوں میں مساوات ہے۔ اس مساوات میں فلیتنافس المتنافسون کی صحت مند مقابلے کی فضا پیدا کی گئی ہے۔ سارا مقابلہ عزت دولت، تفاخر Statusکا نہ ہو کر کے خدا کی اطاعت کا ہے۔ اور سب سے بہتر انسان وہ ہے جو سب سے زیادہ خدا کا مطیع اور اس سے ڈرنے والا ہے۔ ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم۔

دوسری باعث اطمینان بات یہ ہے کہ بندگی کا صلہ نقد ملے یا نہ ملے آخرت کی سچائی ایسی واضح کی گئی ہے کہ معمولی سے معمولی یا بے عمل مسلمان بھی ایک بار آخرت میں جواب دہی کے احساس سے ڈر جاتا ہے۔ اخلاقی اور سماجی، تجارتی یا سیاسی جرائم سے پہلے ایک مسلمان کو یہ خیال آتا ہے اور آنا چاہیے کہ اسے خدا کے آگے جواب دہ ہونا ہے۔ اب اس خدا اور اس کے رسولؐ کی بعض تعلیمات خواتین کی پوزیشن کو سب سے مضبوط پوزیشن عطا کرتی ہیں۔

ومن عمل صالحا من ذکر او انثی وہو مؤمن فاولئک یدخلون الجنۃ یرزقون فیہا بغیر حساب۔ (غافر: ۴۰)

’’اور جو نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو ایسے سب لوگ جنگ میں داخل ہوں گے جہاں ان کو بے حساب رزق دیا جائے گا۔‘‘

ومن عمل صالحا من ذکر او انثی وہو مؤمن فلنحینہ حیوٰۃ طیبۃ و لنجزینہم اجرہم باحسن ماکانو یعملون۔ (النحل: ۹۷)

’’جو شخص بھی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ایسے لوگوں کو اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے۔‘‘

انما المومنون والمومنات اولیاء بعضہم بعضا۔

’’بے شک مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست (مددگار) ہیں۔‘‘

ساتھ ہی جنسی تفریق کرنے والے مجرموں کو ڈراتے ہوئے سورئہ تکویر میں فرمایا گیا:

وإذا المؤودۃ سئلت بأی ذنب قتلت

’’(اور یاد کرو اس وقت کو) جب زندہ در گورلڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ جس جرم میں ماردی گئی تھی۔‘‘

یہ آیت زندہ در گور کرنے کے پس منظر میں آئی تو ہے لیکن اس کے دائرے میںہر وہ جرم قابل گرفت ہے جو جنس مونث اور صنف نازک کی جسمانی، مالی، اخلاقی یا سیاسی حیثیت کو مجروم کرنے والا ہو۔ جو حیثیت اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو عطا کی ہے اسے کم کرنے، بدلنے، اس کی نئی تشریح کرنے کا حق نہ تو میڈیا کو ہے نہ علمائے اسلام کو اور نہ کسی حکومت کو۔ اب آئیے دیکھیں کہ محسن انسانیت ؐنے کیا فرمایا۔ فتح مکہ کے بعد خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’آبگینوں کے ساتھ نرمی اور ملائمت کا سلوک کرو۔‘‘

آپؐ نے لڑکیوں کو بوجھ سمجھنے کی بجائے ان کی تربیت کو حصول جنت کا ذریعہ قرار دیا۔ کسی مسلمان کی اس سے بڑی معراج کیا ہوگی کہ اسے ایک بچی کی تربیت کی توفیق ملے اور اس کے بدلے جنت۔

من کانت لہ انثی فلم یئدہا ولم یہنیہا ولم یؤثر ولدہ علیہا ادخلہ اللہ الجنۃ۔(ابوداؤد)

’’جس کے ہاں لڑکی ہو اور وہ اسے زندہ دفن نہ کرے نہ ذلیل کرکے رکھے۔ نہ بیٹے کو اس پر ترجیح دے۔ اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔‘‘

من عال ثلث بنات او مثلہن من الاخوات فأدبہن ورحمہن حتی یغنیہن اللہ اوجب اللہ لہ الجنۃ۔ (شرح السنۃ)

’’جس شخص نے تین بیٹیوں یا بہنوں کی پرورش کی۔ ان کو اچھا ادب سکھایا اور ان پر شفقت کا برتاؤ کیا یہاں تک کہ وہ اس کی محتاج نہ رہیں تو اللہ اس کے لیے جنت واجب کردے گا۔‘‘

یہ ہے اسلامی تہذیب کے اصولوں سے بننے والی عوامی فکر جس نے ہندوستان ٹائمس کے سروے میں مسلمان معاشرے کو عورتوں کے لیے زیادہ محفوظ قرار دیا ہے۔

لیکن یہ انصاف نہ ہوگا کہ مسلم معاشرے کو اسی طرح کلین چٹ دے دی جائے۔ یہ سچ ہے کہ امت کے ایک بڑے طبقے میں فکری زوال آیا ہے۔ ہم نے اسلام کہ تہذیبی اصولوں سے عملی طور پر اور علمی طور پر کنارہ کشی اختیار کی ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو کوئی ضروری نہیں کہ مسلم معاشرہ بھی خواتین کے لیے سب سے زیادہ غیر محفوظ اور سب سے زیادہ بے رحم نہ بن جائے۔ بعض واقعات اس تاریک مستقبل کی آہٹ دے رہے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہماری معاشرتی بنیادیں دوسرے معاشروں کی طرح منہدم ہوں، ہمیں بیدار ہونا چاہیے۔

معمارِ حرم باز بتعمیر جہاں خیز

از خواب گراں خواب گراں خواب گراں خیز

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

تبصرہ کیجیے