2

تحریک اسلامی کے فروغ میں خواتین کا رول

تحریکات اسلامی میں خواتین کے رول پر گفتگو روزبروز رفتار پکڑ رہی ہے۔ اس بحث میں روز نئے موضوعات شامل ہو رہے ہیں ہیں۔نئے نئے زاویوں سے خواتین کے رول پر بحث ہو رہی ہے۔ ضرورت ہے کہ تحریک اسلامی میں خواتین کے رول پر بھی مسلم معاشرہ میں بحث ہو۔

تحریک اسلامی کے کام اور مقصد کے بارے میں ہم سب واقف ہیں:

کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنہون عن المنکر و تومنون باللہ

معروف کی دعوت اور منکر کو مٹانے کی مہم اس انداز میں چلائی جائے کہ خدا کا دین سارے جھوٹے دینوں پر غالب ہو جائے۔یہی نہیں بلکہ خدا کا دین فرد کی ذاتی زندگی میں رچ بس جائے۔ اسکے بعد انسانی معاشرہ خدا کے دین کے مطابق چلنے لگے اور حکومت و امامت اس دین کی فرمابردار بن کر رہے۔یہی وہ تصور ہے جسے تحریک اسلامی نے پیش کیا ہے۔ اور اس جد و جہد کو اقامت دین کی جدو جہد کا نام دیا گیا ہے۔

خواتین اسلام تاریخ کی روشنی میں

کیا یہ ممکن ہے کہ دنیا کا کوئی معاشرہ عورت کے بغیر مکمل ہو۔ کیا یہ ممکن ہے کہ انسانی زندگی کی گاڑی بغیر عورت کے ایک قدم سفر کر سکے۔یقینا نہیں۔قرآن مجید نے اسی لیے اول دن سے ہی تحریک اسلامی میں خواتین کا رولمتعینکر دیا ہے۔فرمایا:

انما المومنون والمومنات اولیا بعضہم ببعض یامرون بالمعروف وینہون عن المنکر۔

آیت قرآنی کے بعد اب دنیا کا کوئی شخص تحریک اسلامی میں خواتین کے رول کا نہ تو انکار کر سکتا ہے نہ اسے محدود کر سکتا ہے۔کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ مختلف بہانے اور تشرحیں کرکے اسکے رول کو محدود کرے۔خود خواتین کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو اس عظیم ذمہ داری سے بری الذمہ کر لیں۔ مکہ مکرمہ کو جب اللہ تعالی نے عالمی امامت کا مرکز بنانے کا فیصلہ کیا تو حضرت ہاجرہ نے حکم خدا پر بے آب و گیا ہ میدان میں اپنے بیٹے اسماعیل کے ساتھ رہنا گوارہ کیا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک خدا کی طرف بلایا تو اس دعوت پر سب سے پہلے لبیک کہنے والے مبارک لوگوں میں حضرت خدیجہ کا نام سر فہرست ہے۔اس راہ میں جب آزمائشیں برداشت کرنے کی باری آئی تو حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنی جان دے دی لیکن ایمان نہیں چھوڑا۔یہ اس زمانے کی بات ہے جب غلبہ اسلام کی امیدیں دور دور تک نہیں تھیں۔بلکہ مشرکین کے لیے اسلام کے غالب ہونے کی بات ایک مذاق بن گئی تھی۔جب اسلام کا نام لینا اپنی جان کو خطرے میںڈالنا تھا ۔ اس وقت عمر جیسے سنگ دل جیسے شخص کو ایک عورت ہی کی دعوت نے متاثر کیا۔پھر جب اسلامی احکام کی تشریح اور اسکی تبلیغ کا مسئلہ ہوا تو حضرت عائشہ نے محاذ سنبھالا۔دو ہزار سے زیادہ روایتیں صرف حضرت عائشہ سے مروی ہیں۔اکثر صحابہ نے آپ سے علم حاصل کیا۔بات صرف یہیں تک محدود نہیں رہی۔

دور اول میں جب اسلام غلبے کی طرف بڑھنے لگا توخواتین میدان جنگ میں بھی اورمیدان تجارت میں بھی نظر آنے لگیں۔حضرت صفیہ نے میدان احد میں مدینے کی سرحد پر کفار کو نظر نہیں اٹھانے دی۔حضرت خنسا نے نہ صرف خود جنگ میں حصہ لیا بلکہ اپنے چار جوان جگر کے ٹکڑوں کی شہادت گوارا کی۔ مدینے کی مارکٹ سے جب شکائیتیں ملنی لگیں تو حضرت عمر نے اپنے دور خلافت میں حضرت شفا کو ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی نگرانی اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا ذمہ دار بنایا۔ ہم نے صرف تاریخ کی یاد دہانی کے لیے چند مثالیں پیش کی ہیں۔

بیسویں صدی میں خواتین کا کردار

اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ مختلف نشیب و فراز سے گذری ہے۔جس طرح سے ملت اسلامیہ کو بے عملی اور جمود نے اسلامی زندگی کے اصل دھارے سے الگ دیا اسی طرح سے خواتین کے بارے میں علما اور عوام کی رایوں میں بھی تبدیلی ہوتی گئی۔جمود کا شکار صرف مرد ہی نہیں بلکہ خواتین بھی ہوئیں۔میدان عمل میں مردوں کے ساتھ خواتین بھی غائب نظر آنے لگیں۔یہاں تک کہ مغربی ممالک سے اٹھنے والے ہر فتنے نے ہمیں اپنی گرفت میں لینا شروع کر دیا۔جب ملت اسلامیہ کو کسی طرح ایک رکھنے والی رہی سہی خلافت عثمانیہ پر خطرے منڈلانے لگے تو اس وقت تک عالم اسلام میں متعدد بے چین روحیں فکر مندی کے ساتھ سرگرم ہوگئیں۔انیسویں صدی سے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔تاریخ نے کروٹ لی۔ مسلم حکومتیں بے بس تھیں ۔لیکن اسلام بے بس نہیں تھا۔جسم قید تھے لیکن اسلامی فکر کی بیداری سورج کی طرح بلندی کی طرف بڑھنے لگی۔جمال الدین افغانی، محمد عبدہ اور رشید رضا مصری نے اسلام کا احیاء کیا اور ان سے فیض حاصل کرکے حسن البنا نے مصر میں تحریک اخوان المسلمون کی بنیاد ڈالی۔یہ سلسلہ صرف مصر تک ہی محدود نہیں رہا۔ ہندوستان میں سید مودودی کی قیادت میں جماعت اسلامی نے دین کے صاف شفاف تصور کو عام کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ باطل نظریات کے خلاف کشمکش بڑھتی رہی۔قید و بند سزائے موت کے فرمان جاری ہوتے رہے۔لیکن ان مشکل حالات میں اسلام کا صاف شفاف تصور مقبول ہوتا رہا۔پچھلے پچاس سالوں میں جہاں خواتین کو رسوا کرنے والی تحریکوں نے اپنے قدم جمائے وہیں خواتین اسلام نے بھی آگے بڑھ کر اقامت دین کی جد و جہد میں حصہ لیا ہے۔اس وقت صرف زینب الغزالی کا تذکرہ کافی ہوگا،جن کا انتقال ۳؍ اگست کو ہواہے۔جن لوگوں نے انکی سرگذشت ’’زنداں کے شب و روز‘‘ کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ زینب الغزالی نے اکیلے اپنے دم پر مصر کی خواتین کو منظم کیا ۔جب حسن البنا کی قیادت میں اخوان سرگرم ہوئی تو زینب الغزالی بھی اس قافلے کا حصہ بن گئیں۔جب مصری حکومت نے اخوان کے کارکنوں پر غیر انسانی مظالم کا سلسلہ شروع کیا تو اس ظلم میں خواتین کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔زینب الغزالی نے اپنے اوپر ہوئے مظالم کا تذکرہ کیا ہے۔ اسے پڑھنے کے بعد ہر شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ کیا کوئی حکومت ایک خاتون پر اس قدر ظلم کر سکتی ہے۔کیا کوئی خاتون اس طرح کا ظلم برداشت کر سکتی ہے۔لیکن ہم تاریخ میں یہی دیکھتے ہیں کہ تحریک اسلامی کے لیے خواتین نے ایسی قربانیاں دی ہیں۔

اس سلسلے میں دوسرا نام مریم جمیلہ کا لیا جا سکتا ہے۔نو عمری میں ہی اسلام قبول کرنے کے بعد محترمہ مریم جمیلہ نے تحریک اسلامی کا دامن تھاما۔تحریک کے ساتھ ان کی محبت کا یہ عالم ہوا کہ انہوں نے اپنا وطن چھوڑ کر پاکستان کو اپنا وطن بنا لیا۔مریم جمیلہ نے تحریک کی خواتین میں اسلامی شعور کی بیداری کا کام علمی اور عملی سرگرمیوں سے کیا۔اپنی کتاب’’ اسلام ایک نظریہ ایک تحریک ‘‘میں مریم جمیلہ عصر حاضر کی تحریکات اور تحریکی مفکرین کی خدمات کا تذکرہ کیا ہے۔ساتھ ہی انہوں نے ملت اسلامیہ کو آزادی کا نعرہ لگانے والوں کی چالوں سے بھی باخبر کیا ہے۔مغربی تہذیب کو چھوڑنے کے بعد مریم جمیلہ نے کبھی اپنی پرانی تہذیب پر توجہ نہ کی۔بلکہ مغربی تہذیب پر بھی چوٹ ماری۔آج علمی حلقوں میں مریم جمیلہ کا نام عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔یہاں پر ہم سوڈان کے اسلام پسند لیڈر حسن ترابی کا تذکرہ کرنا بھی ضروری ہے۔ حسن ترابی ابھی ایک مہینے پہلے ہی جیل سے رہا ہوئے ہیں۔ جب تک ترابی جیل میں رہے اس وقت تک انکی اہلیہ امۃاللہ وصال المہدی نے قانونی لڑائی میں حصہ لیا۔یہاں ان ہزاروں خواتین کا تذکرہ بھی ضروری ہے جنہوں نے امرجنسی کے دوران ارکان جماعت کے قید و بندکے دوران حوصلہ رکھا بلکہ بعض خواتین نے حالات کا ڈٹ کا مقابلہ کیا۔

خواتین کے رول کی ضرورت

جب خواتین کے رول کی بات ہوتی ہے تو بہت سی باتیں آتی ہیں۔یہ شبہ ہوتا ہے کہ جب مرد حضرات تحریک اسلامی کے لیے اتنی محنت کررہے ہیں تو عورتوں کو اس میدان میں آنے کی کیا ضرورت ہے۔اس موقعے پر علامہ اقبال کا ایک شعر کافی ہوگا علامہ مغربی تہذیب کی جادوئی تاثیر کے خلاف عورتوں کے عمل پر توجہ دلاتے ہیں:

اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش

مجبور ہیں معذور ہیں مردان خرد مند

کیا چیز ہے آرائش وقیمت میں زیادہ

آزادی نسواں کہ زمرد کا گلوبند

ہزار وجہیں ہیں کہ عورت میدان عمل میں آئے۔اسکولوں اور یونی ورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والی بچیوں کو مغربی تہذیب کے دلال آسانی سے اپنے جال میں پھنسا رہے ہیں۔آزادی اور فیشن کے نام پر عریانیت اور فحاشی موجودہ تہذیب کا حصہ بن گئی ہے۔کلچر اور ثقافت میں عورت کا کردار صرف اور صرف جسم کی نمائش تک رہ گیا ہے۔بات صرف اتنی ہی نہیں ہے۔بنیادی تعلیم سے آج بھی کروڑوں بچیاں محروم ہیں۔انسان کے بنیادی حقوق سے آج بھی کروڑوں عورتیں ناواقف ہیں۔غربت اور بے چارگی کی وجہ سے آج بھی لاکھوں عورتیں تپتی دھوپ میں بوجھ اٹھا رہی ہیں اور لاکھوںبھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔ایک طرف دولت کی ریل پیل کی وجہ سے عورت بے راہ روی کا شکار ہے تو دوسری جانب دو وقت کی روٹی کی تلاش میں عورت استحصال کی چکی میں پیسی جا رہی ہے۔

آئیے ایک نگاہ ذرا میڈیا پر بھی ڈالیں۔پچھلے کچھ دنوںسے ہمارا میڈیا مسلم عورتوں کے لئیے کچھ زیادہ ہی فکر مند ہو گیا ہے۔لیکن اس کی فکرمندی صرف اس بات میں ہے کہ اسلام عورتوں کو جائز حقوق نہیں دیتا۔اسلام نے عورتوں کو چہار دیواری میں قید کر دیا ہے۔گویا عورت کی ترقی اور تعلیم میں سب سے بڑی رکاوٹ صرف اسلام ہے۔اب آپ بتائیے کہ کیا اتنی باتیں کافی نہیں ہیں کہ ہم سستی اور کاہلی کو چھوڑ کر بہانوں کے بجائے اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے کے لیے آواز بلند کریں۔جب لوگ مسلم پرسنل لا اور جماعت اسلامی کے افراد کو خواتین کی صورتحال پر افسوس کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو انکے ذہن میں یہ سوال ضرور پیدہ ہوتا ہے کہ کیا جماعت اسلامی میں ایسی عورتیں نہیں ہیں جو اپنے بارے میں مردوں سے بہتر بول سکیں۔اگرسنگھ، کانگریس اور بائیں بازوں کی تنظیموں کے تحت خواتین منظم ہوکر اپنی پارٹی کے لیے دوڑ دھوپ کر سکتی ہیں تو اسلام کا کلمہ سربلند کرنے کے لیے مسلم خواتین ہی پیچھے کیوں رہیں۔

خواتین کا رول

اگر ہم نے میدان عمل میں آنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو ہمارے سامنے یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ ہمارے کرنے کے کام کیا ہیں اور ہماری ترجیحات کیا ہوں۔

یہ دور منظم ہونے کا ہے۔ طاقت کو منظم کرکے صحیح رخ پر استعمال کرنے کا ہے،عورت اپنے گھر میں کیا کر سکتی ہے۔عورت تعلیم گاہوں میں کیا انقلاب لا سکتی ہے اورسیاست ومعیشت کے میدان میں عورت کیا کارنامے انجام دے سکتی ہے۔ہم لوگ ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ ہر مرد کی کامیابی کے پیچھے کسی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔اقبال نے کہا ہے

وجود زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن

اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں

گھرپہلا محاذ ہے

سب سے پہلا محاذ عورت کا اپنا گھر ہے۔عورت کا سب سے اہم رول ایک ماں کا ہے۔اگر تحریک اسلامی کی اصطلاح میں بات کریں تو بہتر افراد فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ایک ماں ہے۔تربیت اولاد سب سے بڑا مشن ہے جس کی ذمہ داری ایک ماں پر عائد ہوتی ہے۔خاص طور پر لڑکی کی تربیت پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کو جنت کی بشارت سنائی ہے۔نیک اولاد کو صدقہ جاریہ قرار دیا گیا ہے۔مودودی ہوں یا حسن البنا، سید قطب شہید ہوں یا ابوالحسن ندوی ان عظیم شخصیتوں کے پیچھے ایک عظیم ماں کی رات دن کی محنتیں پوشیدہ ہیں۔ذرا ہم تحریک اسلامی کا جائزہ لیں۔کیا ہم اور آپ اس مشن کو انجام دے رہے ہیں۔کیا ہمارے گھروں میں تحریک کے کارکنان تیار ہو رہے ہیں۔دوسرا رول ایک بیوی کی حیثیت سے ہے۔یہ رول سب سے اہم ہے۔اگر بیوی صالح ہے تو پورا گھر صالح ہو گا۔

اپنی تیاری

اسکے بعدسب سے اہم ذمہ داری یہ بھی ہے کہ عورت خاص طور پر مسلمان عورت اپنے آپ کو صلاحیت مند بنائے۔ہم جس دور میں جی رہے ہیں وہاں شرک اور کفر نے اپنا جال علم و فن کے تاروں سے بنا رکھا ہے۔آج باطل کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلم عورت بھی علم و ہنر کے ہتھیاروں سے لیس ہو۔حضرت عمر نے فرمایا ہے کہ مومن نہ تو دھوکہ دیتا ہے اور نہ دھوکہ کھاتا ہے۔علمی تیاری کے بغیر باطل ہمیں آسانی سے اپنے جال میں گرفتار کر سکتا ہے۔اپنی تربیت کے لیے اسلامی کتابوں کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرنا اس پر بحث کرنا اور اس پر علمی تیاری کرنا ہماری پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔ہم میں سے کچھ لوگ اگر یہ طے کر لیں کہ ہم بچوں کی تربیت یا اسلام میں عورتوں کے حقوق پر خاص مہارت حاصل کریں گے۔ کوئی یہ طئے کرے کہ سماجی علوم پر یا عورتوں سے متعلق الزامات پر تحقیقی مطالعہ کریں گے۔ تو آنے والے دنوں میں ہمیں اپنی طالبات کی فکر بنانے میں زیادہ آسانی ہوگی۔

افراد سازی اور تنظیم

ہندوستان میں تحریک اسلامی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ عورتیں ابھی تک منظم نہیں ہو سکی ہیں۔عورتوں کی تنظیمی قوت آج بھی صفر ہے۔یہی وجہ ہے مسلم خواتین کی ترجمانی کرنے والی پورے ملک میں ایک بھی تنظیم موجود نہیں ہے۔مولانا مودودی نے تحریک اسلامی کی بنیاد رکھنے کے بعد سب سے زیادہ تنظیم پر زور دیا۔کیونکہ اجتماعی طاقت صرف تنظیم میں ہے۔ملکی سطح پر ریاستی سطح پر یا پھر مقامی سطح پر عورتوں کو منظم کرنا پہلی ضرورت ہے۔انہیں کارکن کی سطح سے اٹھا کربتدریج قیادت کے لیے تیار کرنا بنیادی ضرورت ہے۔ آج ہم مختلف موضوعات پر خاتون ماہر تلاش کرتے ہیں لیکن اس میدان میں برائے نام بھی عورتیں موجود نہیں ہیں۔اسکی وجہ یہ ہے کہ خواتین کے اجتماعات صرف روایتی پروگراموں کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں۔تنظیمی قوت بڑھانے ارکان و کارکنان کو آگے بڑھانے پر شائد ہی کبھی بات کرتے ہیں۔

عام معاشرہ

ان کرداروں سے الگ ہٹ کر عورت کا سماجی اور دعوتی رول ہے۔جس سماج میں عورت رہ رہی ہے اس سماج کی برائیوں پر ایک عورت خاموش کیسے رہ سکتی ہے۔اسکے دل میں اس شر کے خلاف شدید نفرت پیدا ہونی چاہیے۔آج دیکھنے میں یہی آ رہا ہے کہ چند خواتین برائی کو برائی سمجھنے کے باوجود خاموش ہیں۔حدیث شریف دیکھئے:

من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ وان لم یستطع فبلسانہ وان لم یستطع فبقلبہ وذلک اضعف الایمان۔

اس کے مخاطب مردوں کے ساتھ خواتین بھی ہیں۔قران مجید میں یا ایہا الذین آمنو کے خطاب سے جہاں جہاں مومنوں کو مخاطب کیا گیا ہے اس سے مراد خواتین بھی ہیں۔ہماری نوجوان طالبات کالج اور یونی ورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے جاتی ہیں وہاں غیر انسانی روایتیں انکے سامنے گذرتی ہیں۔لیکن وہ خاموشی سے آگے نکل جاتی ہیں۔ہماری طالبات اور خواتین کو اتنا متحرک ہونے کی ضرورت ہیکہ وہ کسی بھی برائی پر خاموش نہ بیٹھ سکیں۔اور حق کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔

آخری بات

یہ ہے وہ رول جو تحریک اسلامی نے ہمارے ذمہ کیا ہے۔اس رول کے ساتھ ہمیں تحریک اسلامی کی خدمت کرنی ہے۔اگرچہ یہ بہت آسان کام نہیں ہے لیکن اس تحریک سے جڑنے کے بعد ہم نے مشکل کام کرنے کا عہد کیا ہے۔کیونکہ آج اسلام کا کام کرنے کا وقت ہے۔آج حالات کا ہم سے یہی تقاضا ہے۔آج زیادہ قربانی دینے اور زیادہ کام کرنے کا موقعہ ہے۔ہمیں ان لوگوں کے حصے کا بھی کام کرنا ہے جو یہ کام نہیں کر رہے ہیں۔ہمیں طے شدہ مشن کے مطابق طئے شدہ ٹارگٹ کے مطابق عورتوں میں تحریک اسلامی کا پیغام عام کرنا ہے۔اور اگر ہم نے یہ کام نہیں کیا توواضح ہے کہ اللہ تعالی کے یہاں ہمیں اس غفلت کا حساب دینا ہوگا۔

شیئر کیجیے
Default image
مریم جمال

تبصرہ کیجیے