6

حجاب کے نام

حجاب اسلامی

خاکسار نے ماہنامہ حجاب اسلامی کا نمونہ شمارہ (نومبر ۲۰۰۵ء) قیمتاً اس لیے منگوایا تھا کہ شاید اس سے عصر جدید میں ہندوستانی مسلم خواتین کے مثبت کردار کی کوئی حوصلہ افزا تصویر اور ان کے پر امید مستقبل کی اطمینان بخش علامت سامنے آسکے۔ خیال یہ بھی تھا کہ خواتین و طالبات کے اس جریدہ میں ان شعلہ بار مسائل کا بھی ذکر ہوگا جو موجودہ ہندوستانی معاشرہ میں خواتین بالخصوص مسلم خواتین کو درپیش ہیں۔ میری مراد آزاد روی کے بہانے ملک میں چلنے والی بے حیائی کی بادِ سموم سے چمنِ اسلام کے گلوں و غنچوں کے تحفظ اور فحاشی کی خوفناک ژالہ باری سے نازک اور لطیف آبگینوں یعنی دخترانِ اسلام کی مکمل حفاظت سے ہے۔ اور یہ کوئی ایسے مسئلے نہیں ہیں جو فوری طور پر توجہ طلب نہ ہوں یا جنہیں مستقبل میں خود بخود حل ہونے دینے کی خوش فہمی پر معرضِ التوا میں ڈالا جاسکے۔ لیکن افسوس، سخت مایوسی ہوئی۔ زیر نظر شمارہ کے تمام تر مشمولات کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ تاثر مرتب ہوا کہ مسلم معاشرے میں خواتین کے مثبت اور مثالی کردار نیز ان کی سماجی فعالیت اور بے حیائی و فحاشی سے ان کی حفاظت کے معاملہ کو وہ ترجیح نہیں دی جارہی ہے جو انہیں دی جانی چاہیے۔

جہاں حجاب اسلامی کی اشاعت کا تیسرا سال شروع ہونے کی خوشی ہے وہاں اس امر کا بھی افسوس ہے کہ جریدہ تاحال اس معیار تک نہیں پہنچ سکا جس معیار پر اس کی عام پذیرائی ہوسکتی تھی۔ غالباً اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جریدہ کی تدوین، ترتیب اور تزئین پر تاہنوز غور نہیں کیا گیا ہے جبکہ دورِ حاضر میں جرائد و رسائل کو بھی اپنے فروغ توسیع اشاعت اور بقاکے لیے بہت کچھ سنورنا اور سنوارنا پڑتا ہے۔ میری واقفیت میں ایسے کئی اردو رسائل و جرائد ہیں جو اپنی تزئین اور مشمولات کی تدوین و ترتیب کے لحاظ سے بلند معیار حاصل کرچکے ہیں اور عوام میں بے حد مقبول ہیں۔ برعکس اس کے حجاب اسلامی جو بادی النظر میں تو اسلامی خواتین و طالبات کے لیے وقف ہے مگر بہ لحاظ مشمولات ایک عام اور روایتی علمی و دینی جریدہ ہونے کا تاثر دیتا ہے۔

معاون مدیرہ محترمہ مریم جمال نے اپنے اداریہ میں بہت کچھ صحیح لکھا ہے۔ ان کے مشاہدات مبنی برحقیقت ہیں اور فکر انگیز بھی۔ انھوں نے سپریم کورٹ کی ان دیکھی کرنے والی اروندھتی رائے کی سرگرم زندگی کا ذکر کیا ہے۔ یہی نہیں، اروندھتی رائے کی بے باکی اور دیدہ دلیری کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے امریکہ میں یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ ہندوستان امریکہ کی بالادستی قبول کرچکا ہے، اپنی تقریر کا آغاز ان الفاظ سے کیا: ’’میں ایک محکوم، امریکی سلطنت کے ایک غلام کے بطور بول رہی ہوں۔‘‘ اور اختتام اس جملے پر کیا: ’’ہر ملک کی حکومت فحش، رشوت زدہ اور بربریت سے پُر ہے اور اس میں ہندوستان بھی شامل ہے۔‘‘ (ماہنامہ حیات، جولائی ۲۰۰۳ء؁،) کیا اروندھتی رائے نے غلط کہا؟

محترم مریم جمال کا یہ شکوہ کہ مسلم خواتین پر مسلم نما خواتین کے بے ہودہ افسانے اور تحریری کاوشیں آج پوری طاقت سے مسلم طالبات کا ذہن بگاڑ رہی ہیں۔ اس وجہ سے قابل اعتنا لگتا ہے کہ مسلم خواتین پر مسلم خاتون افسانہ نگاروں اور تخلیق کاروں نے بہتر زندگی کے لیے عالم نسواں کے پُر امید مستقبل اور مثبت نظریات سے اپنے مادی اور دنیوی مفادات کے پیشِ نظر، قطعی پہلوتہی کرلی ہے اور ان کا فکری شعور ایک ایسے نقطے پر جامد ہوگیاہے جہاں انہیں اپنے مادی مفادات کو فوقیت دینے کے علاوہ اور کچھ نہیں سوجھتا۔ بہر حال یہ ایسا موضوع ہے جس پر ایک طویل بحث ممکن ہے۔ زیرِ نظر شمارہ میں محسن رضا خاں صاحب نے اپنی تحریر ’’عصر حاضر میں سرسید کی معنویت‘‘ ص:۹۰ میں لکھا ہے: ’’سرسید واحد شخص تھے جنھوں نے مردوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تعلیم نسواں کی بھی حمایت کی۔‘‘ واقعتا یہ بات درست ہے لیکن تعلیم کے ضمن میں سرسید احمد خاں کے مندرجہ ذیل قول کو بھی نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔ آپ فرماتے ہیں:’’ وہ تعلیم جو حسبِ احتیاج نہ ہو غیر مفید ہوتی ہے اور جیسا کہ ایک عقلمند کا قول ہے کہ اگر حسب احتیاج لوگوں کو تعلیم و تربیت نہ ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اول مفلس اور محتاج اور پھر نالائق اور کاہل اور پھر ذلیل و خوار اور پھر چوروبدمعاش ہوجاتے ہیں۔‘‘ اس مقولے کا اطلاق صرف مسلم معاشرے پر نہیں بلکہ سالم ہندوستانی معاشرے پر ہوتا ہے۔ اس لیے باعث تعجب نہیں کہ حسبِ احتیاج تعلیم و تربیت کے قطعی فقدان کی وجہ سے معاشرہ میں ہر کہیں چوروں اور بدمعاشوں کا بول بالانظر آتا ہے۔ زیر نظر شمارہ کا حصہ ادبیات یونہی سطحی سا ہے، اگر کچھ جان ہے تو افسانہ منیم جی میں ہے جو استحصال کرنے والے افراد اور طاقتوں کے سفّاکانہ کردار کا ایک عمومی اور معمولی سا نمونہ پیش کرتا ہے۔ حجاب اسلامی کے تیسرے سال میں داخل ہونے پر ادارہ کو بہت بہت مبارکباد۔ خدا کرے کہ سالِ نو ۲۰۰۶ء حجاب اسلامی اور اس کے قارئین و ادارہ کے وابستگان کے لیے خوشی اور خوش حالی کا پیغام لے کر آئے۔ ڈھیر ساری نیک خواہشات کے ساتھ۔

اندر سنگھ ورما، پٹودی روڈ، گڑگاؤں، ہریانہ

قارئین ہوشیار باش!

پروف کی غلطیوں پر قابو پالیا گیا ہے۔ مبارکباد۔ گذشتہ شمارے کے اداریہ میں قارئین کو، محض تعریفی مراسلوں کے بجائے تنقیدی مراسلے بھی لکھنے کی ترغیب کے باوجود، تازہ شمارے میں اس ترغیب کا کوئی اثر نہیں دکھائی پڑا۔ کچھ تو اپنا نام شائع ہونے کی خواہش، اور کچھ اردو جرائد و رسائل کی خود پسندی اور تعریف پسندی نے مل کر قارئین کا مزاج برسہا برس سے ایسا ہی بنا رکھا ہے۔

ص:۱۰۷ پر لطیفہ (’’دوباتیں‘‘) کا اختتامی جملہ حیاء سے مغائر ہے۔ اسے شائع کرنے سے احتراز کرنا چاہیے تھا۔ ص:۶۸ ، سطر ۱۵ میں لفظ ’’گذری‘‘ کا املاء غلط ہے۔ اسے ’’گزری‘‘ ہونا چاہیے تھا۔ واضح ہو کہ حرف گ سے حرف ذ کبھی نہیں ملتا۔ (اسی طرح گذارش، سرگذشت، گذرگاہ وغیرہ غلط املاء ہیں)۔

ص:۷۰ پر علامہ اقبال کا قطعہ بے محل ہے۔ سباق سے بھی لاتعلق اور سیاق سے بھی لا تعلق۔

ص: ۹۱ سطر:۸ ’’شادی کے بجائے‘‘ ’’ازدواج‘‘ ہونا چاہیے تھا۔ شادی (بہ معنی تقریبِ نکاح و رخصتی) ایک لمحاتی عمل ہے جبکہ زوجین میں ’’بندھن‘‘ ازدواج کی ایک مستقل کیفیت ہے۔

ص:۷۴ کا مواد، صفحہ ۷۵ پر مکرر طبع ہوگیا ہے۔ کاپی پیسٹنگ کے وقت توجہ دیں۔

ص:۷۹ پر ’’حجاب فیشن عروج پر‘‘ کا آخری جملہ گرچہ نہایت اہم ہے لیکن تحریر میں اس کی حیثیت ثانوی وغیر اہم نظر آتی ہے۔ تحریر بحیثیت مجموعی یہ تاثر دیتی ہے کہ ریاست کیرالا میں اس فیشن کا فروغ قابلِ تحسین ہے اور دس دس لاکھ روپیوں تک کے حجاب پر ہمیں اطمینان و فخر محسوس کرنا چاہیے۔ یہ کھلا اسراف ہونے کی وجہ سے (خود قرآن کے مطابق) شیطانی عمل قرار پاتا ہے۔ حجاب کی روح کا گلا گھونٹ دینا، اس کی بنیادی قباحت ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مغربی تہذیب کی انتہا پسندی ’’اسلامی‘‘ روپ دھار کرہماری تہذیب میں نقب لگانے میں پیش رفت کررہی ہے۔ اسلامی رسائل میں بھی اسلام کے نام پر(اور افسوس صد افسوس کہ آیات و احادیث کے حوالے سے) مسلم عورت کو مغربی تہذیب کی وکالت کرتے ہوئے فیمنسٹ تحریک کی آواز پر لبیک کہنے کی ترغیب دینے والے ’’علمی‘‘ مقالے بہ قلم علماء شائع ہونے لگے ہیں۔ مدیر حجاب سے بجا طور پر توقع کی جاتی ہے کہ اس خاموش اور آہستہ خرام مرعوبیت اور تہذیبی شکستگی سے قارئین کو ہوشیار کرتے رہیں گے۔

محمد زین العابدین منصوری

[اخبارِ نسواں میں صرف خبریں شامل کی جاتی ہیں۔ عموماً یہ خبریں اخبارات کے حوالے سے ہی پیش کی جاتی ہیں۔ خبروں کا جائزہ ہمارا مقصد نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود اختصار کے ساتھ کچھ معمولی باتیں بطور تبصرہ پیش کی جاتی ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوسکتا کہ ہر خبر سے ادارہ متفق ہے اور قارئین کو بھی اس پر رضا مند کرنا چاہتا ہے۔ اس لیے پہلے بھی متعدد غیر مسلم شخصیات، تنظیموں کے بیانات، رپورٹس ہم دیتے رہے ہیں۔ (ادارہ)]

ثانیہ رول ماڈل نہیں ہے

مسلمانوں کے اصل مسائل سے دھیان ہٹا کر ان کو مصنوعی مسائل میں الجھا کر ان کی توانائی اور ذہنی یکسوئی کو ختم کرنے کے لیے جو نت نئی کوششیں ہوتی رہتی ہیں اس سلسلہ کی ایک کڑی ثانیہ مرزا کا لباس ہے۔ جس کے ذریعہ جان بوجھ کر قرآن و حدیث، شریعتِ اسلامی اور تاریخ اسلام کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ثانیہ کے معاملہ میں ایک پیچیدگی یہ ہے کہ وہ انفرادی مرضی کے تحت جو کچھ کررہی ہے اسے میڈیا کا بڑا حلقہ مسلمانوں کے لیے رول ماڈل بتارہا ہے۔ جو کہ صراحتاً غلط ہے۔ کوئی بھی مسلمان چھ انچ یا چھ فٹ کا معاملہ مرضی پر نہیں چھوڑ سکتا وہ اس سلسلہ میں شریعت کی رہنمائی دیکھے گا۔ اپنی مرضی سے کرے گا تو سب کے لیے رول ماڈل نہیں ہوسکتا۔ اللہ کی شریعت صرف ثانیہ کے لیے نہیں ہے وہ شارا لیووا، سسیریتا ولیمس کے لیے بھی مفید ہے اگر وہ عمل کریں۔ مسلمان ہونے کا تقاضہ تو یہ ہے کہ آپ اسلامی احکام دوسروں تک پہنچائیں۔ بے حیائی اور عریانی اور تمام برائیوں سے روکیں، یہ نہیں کہ خود گندگی میں بہیں اور دوسروں کو بھی دعوت دیں۔ کرکٹ کی دنیا میں اسپانسر کرنے والے کا اشتہار پہننا لازم ہوتا ہے۔ جنوبی افریقہ کے کھلاڑی ہاشم آملہ نے شراب کمپنی کا لوگو پہننے سے منع کردیا۔ پوری پاکستانی کرکٹ ٹیم نے بھی منع کردیا تو کیا پاکستانی ٹیم کی روٹی روزی بند ہوگئی یا ہاشم آملا کو ٹیم سے نکال دیا؟ دراصل اس میں افراد کا اتنا قصور نہیں جتنا کہ اس بے حیائی، فحاشی، عریانی اور صارفیت کی مہم چلانے والے تجارتی اداروں، میڈیا مالکوں اور شیطان کے ایجنٹوں کا ہے جو اس بے حیائی، فحاشی اور عریانیت کے ذریعہ اپنی اشیاء کو بیچنا چاہتے ہیں۔ اگر خوبصورت ناموں کی آڑ میں یہ جوان جسموں کی نمائش نہیں ہے تو ۳۵-۴۰ سال کی عمر کے بعد یہ ستارے کیوں میڈیا کی توجہ کا باعث نہیں بنتے؟ کیا ان ستاروں کی ذہنی قابلیت ختم ہوجاتی ہے یا ان کے جسموں کے کس بل ڈھیلے ہوکر اپنی مارکیٹ ویلیو کھودیتے ہیں اس لیے ایسا ہوتا ہے؟

اگر یہ شیطان کے ایجنٹ، عورتوں کے جسموں کی نمائش لگا کر منافع کمانے والے انسان، مسلم سماج میں تعلیم، ترقی اور برابری لانا چاہتے ہیں تو ان سماجوں میں تعلیم، سماجی خدمت، خدمت خلق کے کام کرنے والی نمایاں خواتین کو میڈیا میں کیوں نمایاں نہیں کیا جاتا۔ مثال کے طور پر اسی ماہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ڈاکٹر قدسیہ تحسین کو Nematologyمیں معرکۃ الآراء تحقیق پر سائنس کا نہایت اعلیٰ انعام دیا گیا مگر مسلمانوں میں تعلیم، ترقی، کھلے پن کے دعویدار میڈیا اور ’’جدید خیال دانشوروں‘‘ نے ڈاکٹر قدسیہ تحسین کو رول ماڈل کیوں نہیں بتایا؟ ان کے فوٹو ٹی وی اور اخباروں میں کیوں نہیں شائع ہوئے؟ محمد علی کلے کے ویتنام جنگ میں غریب بے قصور عوام کا خون بہانے سے منع کرکے جبری فوجی خدمت کے امریکی قانون سے بغاوت کی پاداش میں عالمی ہیوی ویٹ مکے باز چیمپئن کا خطاب گنوا دیا تھا۔ مگر اپنے اس حق پرستانہ عمل سے انسانی تاریخ میں اپنے لیے ایک مقام محفوظ کرلیا اور وہ چھینا ہوا اعزاز بھی اللہ نے انہیں دوبارہ عطا کیا۔ اگر وہ بھی اور ہاشم آملا بھی مجبوری کا بہانہ کر حرام اور انسانیت دشمن عمل کرتے رہتے تو کیا تاریخ میں وہ اپنا نام لکھا پاتے؟ یہ چند دنوں کی بے وفا پبلسٹی زیادہ بہتر ہے یا دنیاوی لحاظ سے بھی پائیدار اور اخروی لحاظ سے بھی لافانی کامیابی زیادہ بہتر ہے۔ یہ صرف ثانیہ کے لیے نہیں بلکہ ہر نیک انسان/ مسلمان کے لیے فیصلہ کرنے کا نازک موقع ہے کہ وہ شیطان کے گروہ کے ساتھ ہے یا اللہ کے فرماں برداروں میں سے ہے۔

ڈاکٹر ایم اجمل فاروقی، گاندھی روڈ، دہرہ دون

اللہ کی فرمانبرداری کا داعی

دسمبر ۲۰۰۵ء؁ کا تازہ شمارہ حجاب ملا پڑھ کر دلی مسرت ہوئی واقعی رسالہ اللہ کی فرماں برداری کا داعی ہے اور آج بھٹکی ہوئی امت کے لیے راہِ روشن ہے۔ خاص طور سے عورتوں کے لیے تو بہت ہی بیش بہا تحفہ ہے۔

مشتاق احمد، ندوۃ العلماء لکھنؤ

رسالہ پسند آیا

میں نے پہلی بار ماہ دسمبر ۲۰۰۵ء کا ماہنامہ حجاب اسلامی پڑھا۔ مجھے یہ بے حد پسند آیا۔ سرورق جاذب نظر ہے۔ اس کے علاوہ رسالے میں شائع ہونے والے مضامین دینیات، بزم حجاب، کہانیاں، افسانے، نفسیات، تربیت، خصوصی تحریر، نہایت معلومات، مفید، دلچسپ اور معیاری لگے۔ سچ تو یہ ہے کہ قارئین کی معلومات میں اضافہ کرنے والے ہیں۔

شکیل احمد فرینک، گورکھپور

[ماہنامہ حجاب اسلامی کو اور زیادہ بہتر ، مفید اور تعمیری بنانے کی تجاویز پر مبنی اور خامیوں و کوتاہیوں کی نشاندہی کرنے والے خطوط اور مراسلوں کااستقبال ہے۔ ہم ان بہی خواہوں کے شکر گذار ہیں جو اس طرح کے مراسلے ارسال کرکے ہماری معاونت کرتے ہیں۔ ایڈیٹر]

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

تبصرہ کیجیے