3

چند قابل غور حقائق

کیا مذہب نے عورت کو اب تک ظالمانہ رسوم و رواج میں نہیں باندھ رکھا ہے؟ کیا عورت کی آزادی اور اس کی ترقی کی راہ مذہب نے نہیں روک رکھی ہے؟ شادی، بیاہ، گھر، خاندان، رشتے ناتے اور مردوں کی بالا تر حیثیت کے پیچھے مذہب نہیں ہے؟ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تیسری دنیاکے ممالک بھی مغربی ملکوں کی طرح ان رکاوٹوں کو توڑ کر عورت کی آزادی کا راستہ صاف کریں اور کیا مذہب کو درمیان سے نکالیں، جنسی تعلقات کی آزادی، ابارشن، اقتصادی اعتبار سے خود کفیل اور سیاسی قوت سے لیس کیے بغیر تیسری دنیا میں جمہوریت کی تکمیل نہیں کی جاسکتی؟؟

ابھی یہ سوال ادھورے ہیں— کیا فیمنسٹ تحریکیں سرمایہ پرستوں کے وظیفوں پر نہیں پھل پھول رہی ہیں؟ کیا مذہب کو مٹانے کے لیے سرمایہ پرستوں اور نام نہاد محنت کشوں ’’کمیونسٹوں‘‘ نے معاہدہ نہیں کیا ہے؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ان دونوں سیاسی گروپوں نے مل کر پہلے دنیا کو جنسی آوارگی کا عادی بنایا، اس کے بعد اس کے عبرت ناک انجام کی ذمہ داری سے جان بچانے کے لیے مصنوعی طریقے ایجاد کیے اور آج آزاد حکومتوں کو ایڈس مٹانے کے نام پرانھیں اپنا اقتصادی غلام بنانے کے لیے مصروف ہیں؟ کیا ملک میں سرگرم اکثر بیشتر خواتین تنظیمیں بالواسطہ یا بلاواسطہ انہی استعماری قوتوں کے اشاروں پر نہیں ناچ رہی ہیں؟

ان دونوں ردعمل کے باوجود کچھ دوسری سچائیاں بھی ہیں۔ تیسری دنیا جہاں پیغمبر آخرﷺ نے غلامانہ رسم و رواج سے عورت کو نجات دلائی، جنھوں نے عورتوں کو تعلیم یافتہ بنانے اور انھیں سماج میں باوقار مرتبہ عطا کرنے کی تحریک چلائی، جنھوں نے عورت کے لیے ماں، بہن، بیٹی اور بیوی جیسے مقدس سماجی مرتبوں کو جنت دوزخ کے انجام سے جوڑا، جنھوں نے وراثت، نفقہ، کفالت اور مہر دینے کے ساتھ اقتصادی، سیاسی اور تحریکی سرگرمیوں میں بھی شامل کیا — اس عظیم قائد ﷺ کے ماننے والوں نے ان کی تعلیمات سے پلہ جھاڑ کر کہیں ہندومت، کہیں بودھ، کہیں عیسائی تو کہیں اپنے سابق مذہب کی روایات کو من و عن جاری رکھا ہے۔ ناموں کی تبدیلی کے ساتھ اسے اسلامی رنگ روپ دینا کافی سمجھ لیا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کی معاشرتی صورتحال معمولی بہتر تو ہوئی ہے لیکن محسنِ انسانیت کے خاکے کے مطابق نہیں ہوسکی۔

اقوام متحدہ جیسا عالمی ادارہ خواتین کے مسائل کو حل کرنے کے لیے لگاتار کوششوں میں مصروف ہے یہاں تک کہ ۱۹۷۰-۱۹۸۰ کی دہائی کو اس ادارے نے خواتین کی ترقی کی دہائی تسلیم کیا تھا۔ اس کے بعد قاہرہ اجلاس اور پھر بیجنگ اجلاس کے سلسلے جاری رہے۔ اس فکر مندی میں بہت سے مسلم ممالک اور مسلم مفکرین بھی غم زدہ نظر آتے ہیں۔ اور وہ مسلم خواتین کی ترقی کے لیے سرگرم ہیں لیکن یہ عالمی ادارہ تہذیبی حملہ آوروں کا آلہ کار بن چکا ہے۔ انسانی آبادی کے ایک عظیم طبقے کو نظر انداز کرتے ہوئے اس ادارے کا ایجنڈہ مفاد پرستوں کے اشاروں پر تیار ہورہا ہے۔ ملیشیا اسلامی یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر زینت کوثر کو بیجنگ کانفرس اور اس سے پہلے کی میٹنگ کے لیے پیپر تیار کرنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد محترمہ نے تفصیل سے اس بات کو واضح کیا کہ بیجنگ پلس کانفرنس کی حقیقت کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں:

’’پلیٹ فارم فار ایکشن کے کچھ مطالبے تو جائز ہوسکتے ہیں لیکن یہ محفوظ سیکس اور محفوظ ابارشن کے حق کا مطالبہ ایسا مطالبہ ہے جو جنسی تعلقات کو شادی جیسے سماجی ادا سے آزاد کردے گا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ یہ خود تہذیب کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ان مطالبوں کا گہرائی سے مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ جن باتوں کو حقوق نسواں کے طور پر پیش کیا جارہا ہے وہ Rightsحقوق نہیں بلکہ Wrongs غلطیاں ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ محفوظ سکیس اور محفوظ ابارشن کی سیاست پر لبرل اور ریڈیکل فمنسٹ گروپوں کا تسلط ہے۔ اقوام متحدہ جو عالمی انسانی حقوق کا محافظ تصور کیا جاتا ہے۔ اس سے یہ امید نہیں کی جاتی کہ وہ آزادی اور نجات کے نام پر مغرب کا ثقافتی اور جنسی ایجنڈہ دوسروں پر مسلط کرے۔ ویٹکن اور اسلامی گروپوں کی تمام مخالفت کے باوجود بیجنگ پلس ۵ اقوام متحدہ میں پاس ہوگیا۔ اسی لیے یہ وقت ہے کہ اسلامی اسکالرس ان مسائل پر اسلامی نقطہ نظر پیش کریں۔ اور قرآن و سنت میں دئے گئے حقوق نسواں کے ساتھ انصاف سے کام لیں۔ وہیں مسلم خواتین کی ذمہ داری ہے کہ وہ گمراہ فمنسٹ سیاست کی مزاحمت کریں ، ساتھ ہی اپنے معاشرے میں مقامی روایات جو ان کے لیے ناانصافی کا ذریعہ ہیں اس کی بھی مزاحمت کریں۔‘‘

موجودہ معاشرے کی سب سے تلخ حقیقت یہی ہے کہ آج عورت رسوا ہورہی ہے، اس کی عصمت اور عفت پر ہر وقت اندیشوں کے سیاہ سائے منڈلاتے رہتے ہیں۔ جنسی ہوس سڑکوں، ہوٹلوں، بازاروں، سینما انڈسٹری اور گھروں میں راج کررہی ہے۔ معمولی سے معمولی شئے کے اشتہار کے لیے خواتین کو ہی اپنی عزت کا سودا کرنا پڑتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ کسی مذہبی معاشرے میں، بطور خاص اسلامی معاشرے میں عورت اتنی رسوا نہ تو ہوئی اور نہ ہوسکتی ہے۔

مسلم عورت زیادہ بااختیار ہے

جہاں تک اسلام اور عورت کا سوال ہے تو عورت نظریاتی طور پر اسلام میں نہ صرف محفوظ ہے بلکہ زیادہ بااختیار ہے۔ لیکن اسلام کے ساتھ مسئلہ ہے اور یہ مسئلہ اسلام کے ساتھ اس وقت تک رہے گا جب تک اسلام سیاسی سماجی اور اقتصادی اداروں کا منتظم اور پالیسی ساز نہ بن جائے۔ کچھ خیر خواہ کہتے ہیں کہ اگر اسلام عورتوں کی خوشحالی اور ان کی ترقی کے لیے کچھ کرسکتا ہے تو کرے۔ ہمارے نزدیک زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ پہلے اسلام کی بالادستی سیاسی اور سماجی اداروں پر قائم ہو، پہلے اسلام کو ملکوں، اقتصادی اداروں اور سماجی اداروں کی پالیسی بنانے کی اجازت دی جائے۔

یہ دنیا عورت کو رسوا کرنے کے لیے جتنی زیادہ فراخ دل ہے اسلام کو کسی بھی قسم کے غلبے کی طرف بڑھنے سے اس کو اتنی ہی بے چینی ہوتی ہے۔ جو لوگ موجودہ تہذیب کے شانہ بشانہ عورت کی فلاح چاہتے ہیں وہ درحقیقت ایک سخت کشمکش سے بچنا چاہتے ہیں۔ جو یہ سمجھتے ہیں کہ مسلم عورتوں کو ایڈس کے خاتمے کے لیے حکومت ہند یا دوسری مغرب نواز حکومتوں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے وہ دراصل مسلم عورت کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں۔

مسلم عورت ہر دو اعتبار سے زیادہ ایمپاورڈ ہے۔ کیوں کہ اس سر زمین پر انسان کی جو حیثیت ہے وہ حیثیت دونوں جنسوں کو یکساں طور پر حاصل ہے۔ زمین پر منصب خلافت کی ذمہ داری کی وجہ سے عورت بھی ثواب و عذاب میں مردوں کے برابر رکھی گئی ہے۔ ذمہ داریوں کا دائرہ جسمانی تقاضوں کے مطابق رکھا گیا ہے لیکن برتری اور قوامیت کے غیر اسلامی تصور کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی ہے۔ اس اسلامی ماڈل کو زمانہ اول میں دیکھا گیا۔ اور جدید دور میں بعض ممالک اس کی جانب گامزن ہیں لیکن اس کے باوجود بہت اہم سوالات ہیں جن کے جوابات مسلم معاشرے کو عملی صورت میں دینے ہوں گے۔ یہ لکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ عورت کوجو کچھ اسلام نے دیا ہے وہ مسلمانوں نے نہیں دیا ہے۔ جو کچھ عورتوں کے بارے میں کہا گیا ہے اس کی تشریح میں کہیں نہ کہیں بخل سے کام لیا گیا ہے۔ اگر مگر، اور خود ساختہ تشریحوں نے غیر مسلموں کے سامنے اسلام کے بارے میں شکوک پیدا کیے ہیں۔

کیا وجہ ہے کہ ہندوستان سمیت پوری دنیا میں مسلم خواتین دوسرے سیاسی نظریوں کے ساتھ تو نظر آتی ہے لیکن خود اسلامی تحریکوں میں ان کی شرکت صفر کے درجے پر ہے۔ فیصلہ کرنے والی اہم باڈیز میں خواتین کی شرکت نظر نہیں آتی۔ مسلم عورت کی اقتصادی بدحالی کسی سے چھپی نہیں ہے۔زمینی حقیقت یہی ہے کہ مسلم مطلقہ یا بیواؤں کے حالات انتہائی تلخ ہیں، یا وہ ظالم بھائیوں کی دست نگر بن کر رہتی ہیں۔

٭ایمپارومنٹ کی غیر اسلامی جڑوں کو خشک کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ خواتین کو غربت، تشدد (گھریلو ذہنی و جسمانی) اور جہالت سے نجات دلائیں۔ اللہ کے نزدیک سب سے مبغوض شئے طلاق ہے۔ لیکن اس حق کا استعمال کرنے میں نے صرف عام لوگ نہیں بلکہ خاص لوگ بھی بداحتیاطی کررہے ہیں۔ اولاد کی کفالت مرد کی ذمہ داری ہے لیکن طلاق کی صورت میں عورت بچوں کے ساتھ بھگا دی جاتی ہے۔ خلع کا حق بیان کی حد تک ہے۔ اس کا محفوظ اور مناسب استعمال شائد ہی ہوتا ہے۔ کل ملا کر یہ کہ قانونی اعتبار سے ایک عورت کے ہاتھ میں وعظ و نصیحت کے سوا کچھ بھی نہیں رہ گیا ہے۔ اس صورتحال کا خاتمہ کرنا ہوگا۔

٭عورتوں کی تعلیم کے لیے کھلنے والے مدارس ایک درجہ اطمینان کا سبب ہیں، لیکن ان مدارس کا نصاب تعلیم، ذرائع تعلیم اور طریقہ تعلیم توجہ کا طالب ہے۔ ایک مدرسے کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہاں طالبات کے لیے لائبریری اور اخبارات و رسائل تک کا نظم نہیں کیا جاتا۔ بہتر استانیوںکی فراہمی ان مدارس کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ وہ تمام انتظامات جو طلبہ کے لیے ہوتے ہیں کم سے کم اسی درجے کے انتظامات کی مستحق طالبات بھی ہیں۔ کچھ مدارس میں تربیتی نظم کا مسئلہ ہے تو کہیں وسائل کی قلت ہے اورمختلف اداروں کی اسکالرشپ میں طالبات کا حصہ معمولی سے بھی کم ہے۔

٭اس صورت حال میں اسلامی مفکرین کے لیے صرف اتنا کافی نہیں ہے کہ چند تقریریں، اداریے اور کتابیں لکھنے پر اکتفا کرلیا جائے۔ اور اس کا علاج یہ بھی نہیں ہے کہ ملت اسلامیہ کی خواتین مغربیت کی شکار خواتین کی طرز پر احتجاج، مظاہروں کی روش اپنائیں یا فیمنسٹ تحریکوں کی آلہ کار بن جائیں۔ اس کے لیے بنیاد سے تبدیلی کا عمل شروع کرنا ہوگا۔ مدارس اسلامیہ اس سلسلہ میں لائق ستائش رول ادا کررہے ہیں۔ اسی کردار کو صیقل کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف فراغت کے بعد اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے لیے مواقع کھولنے ہوں گے۔ کئی ریسرچ سینٹر ملک میں ہیں لیکن کوئی سینٹر طالبات کے لیے نہیں ہے جہاں مدارس کی فارغات اپنی تحقیقی کاوشوں کو غیر اسلامی نظریات کے خلاف پیش کرسکیں۔ نیز سماج میں تبدیلی کے لیے وہ خود ایک نقشہ بنا کر کام کرسکیں۔

شیئر کیجیے
Default image
عمیر انس

تبصرہ کیجیے