2

بدگمانی

فضا میں ایک مخصوص بوجھل مہک اور گہری اداسی اب تک موجود تھی۔

شمسہ کا دکھ کچھ مختلف نوعیت کا تھا۔ وہ خود اپنے اوپر حیران تھی کہ وہ اس معاملہ کو ایک خاص رنگ کی عینک ہی سے دیکھتی رہی۔

اسے مسز ساجد سے پہلی ملاقات یاد آئی۔ وہ ایک خوشگوار اور روشن دن تھا۔ فضا میں آمدِ بہار کی تازگی اور شوخی تھی۔ نرم دھوپ، کھلی فضا، خنک ہوا اور تمام پودوں پر بہار کے رنگ تھے۔ ایسے میں خالد، شمسہ کو اپنے دوست ماجد کے گھر لے گئے۔ ماجد صاحب سے ان کی نئی نئی دوستی ہوئی تھی۔ اگر بیگمات آپس میں مل لیں تو دوستوں کی دوستی زیادہ پائیدار ہوجاتی ہے۔ عورتوں کی پشت پناہی جو مل جاتی ہے۔

ماجد صاحب باہر چھوٹے سے لان میں بیٹھے تھے۔ خالد بھی وہیں ایک کرسی پر براجمان ہوگئے اور شمسہ کو لیے ہوئے مسز ماجد اندر آگئیں۔تعارف پر معلوم ہوا کہ ان کااپنا نام مینا تھا ’’I am a Doctor‘‘ انھوں نے صوفے میں دھنستے ہوئے اعلان کیا۔ شمسہ یکایک قدرے محتاط اور مرعوب ہوگئی۔ ’’اچھا تو یہ ڈاکٹر ہیں۔‘‘ اس نے دل ہی دل میں سوچتے ہوئے ان کے سراپے کا جائزہ لیا۔ لمبا قد، بارعب شخصیت، صحت اچھی اورچہرے پر عینک نے گویا ان کے اعلان کی تائید کی۔ جب وہ بولتیں تولگتا کہ کسی کو ڈانٹ رہی ہیں۔ ہاتھوں، انگلیوں، کانوں اور گلے کا زیور البتہ ان کے اعلان کی تردید محسوس ہوتا تھا… مگر اگلے ہی لمحے انھوں نے خود ہی وضاحت کی۔

’’میرے سسرال والے بہت پرانے خیالات کے تھے۔ انھوں نے مجھے پریکٹس نہیں کرنے دی۔ آج تک گھر بیٹھی اپنی تعلیم ضائع کررہی ہوں۔‘‘ وہ اپنی چوڑیوں سے کھیل رہی تھیں۔ شمسہ تو ذرا کم کم ہی بول رہی تھی۔ اس نے محسوس کیا کہ وہ بولنے کی کافی شوقین ہیں۔ اس نے سوچا کہ انھیںپوراموقع ملنا چاہیے … مسز ماجد اپنا تعارف مکمل کروا رہی تھیں۔ ’’میں نے اپنے بچے بڑے Rough and Toughپالے ہیں۔ میرے پاس کوئی نوکر نہیں مگر ہم سب مل کر کام کرتے ہیں۔ میرے چار بیٹے ہیں بیٹی کوئی نہیں … بیٹیوں والے کام بھی بیٹے کرلیتے ہیں۔‘‘ انھوں نے ہنس کر مزید کہا: ’’ابھی دیکھئے گا، آپ کے لیے چائے میرا بیٹا لائے گا۔‘‘

اور واقعی کچھ دیر بعد ایک بیٹا چائے کی ٹرے باہر لے جارہا تھا اور ایک اندر ان کے پاس لارہا تھا۔

رفتہ رفتہ وہ کھلتی گئیں اور خوب گھل مل گئیں۔ دونوں گھروں کا میل جول بچوں تک اتر گیا… ان کی سخت طبیعت ایک ظاہری خول تھا اور دل میں محبت کی گداز تھی۔ کچھ ہی دنوں میں انھوں نے خالد کی اماں جی کا دل بھی جیت لیا تھا۔ عمر کے ایک مرحلے پر آکر جب بوڑھے لوگ اپنی اولاد کی طرف سے نظر انداز کیے جانے کی شکایتوں سے بھرے ہوتے ہیں، ایسے میں کسی کا توجہ دینا بطور خاص ملنے آنا، بیٹھ کر باتیں کرنا اور دکھ بیماری میں خیال رکھنا دل جیتنے کے لیے کافی ہوتا ہے اور مینا بیگم باتیں تو خوب لچھے دار کرتی تھیں۔ اماں جی کے ہاتھ پاؤں بھی دبا دیتیں۔ اپنی ڈاکٹری کا رعب دے دے کر ان کی بڑھاپے کی بیماریوں میں خوب مشورے دیتیں۔ اماں جی نے کہا۔

’’آج کل مجھ پر بڑی سستی طاری رہتی ہے۔ ڈاکٹر کو دکھایا تھا وہ کہتا ہے کہ کمزوری زیادہ ہوگئی ہے۔ طاقت کے ٹیکے لگوالیں۔‘‘

مینا بیگم نے فوراً اپنی خدمات پیش کریں۔

’’آپ انجکشن منگوالیں۔ میں لگادوں گی۔‘‘

اماں جی نے کہا:

’’انجکشن تو آئے رکھے ہیں۔ سوچتی تھی کہ کوئی گھر آکر لگا دے تو اچھا ہے۔ مجھ سے تو ڈاکٹروں کی دکانوں پر نہیں جایا جاتا۔‘‘

ڈاکٹر صاحبہ چند لمحے خاموش رہیں پھر بولیں:

’’مگر میں سوچتی ہوں، میں تو آؤٹ آف پریکٹس ہوں۔ آپ کو تکلیف ہوگی۔ میرا ہاتھ سخت لگے گا۔ چلیں میں کل ایک کمپوڈر لے کر آؤں گی۔ وہ آپ کو روز انجکشن لگاجایا کرے گا۔‘‘

اماں جی نے تکلف کیا۔

’’ارے نہیں تم کہاں اتنی تکلیف کرو گی۔ خالد لے آئے گا۔‘‘

’’ارے نہیں نہیں‘‘ وہ ہنس دیں۔ ’’تکلیف کی کیا بات ہے۔ آپ میری بھی تو ماں ہیں نا اور تکلیف مجھے کیا ہونی ہے۔ میرے ایک کولیگ تھے ڈاکٹر عالمگیر… ان کا یہاں ایک چھوٹا سا ہسپتال ہے۔ وہ میرے ساتھ پڑھے ہوئے ہیں K-Eمیں۔‘‘

’’K-Eکیا بلا ہے؟‘‘ اماں جی نے بھولپن سے پوچھا۔

’’کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج اماں جی …‘‘ وہ شفقت سے مسکرائیں۔ ’’اس کالج میں وہ میرے ساتھ پڑھتے تھے بعد میں میری ساس نے مجھے تو پریکٹس کرنے نہ دی… بہر حال میرا مطلب یہ ہے کہ میں انھیں فون کردوں گی وہ اپنا ایک کمپوڈر بھیج دیں گے بلکہ میں خود اسے لے کر آؤں گی … آپ فکر نہ کریں۔‘‘

اور اگلے دن وہ واقعی ایک بندہ پکڑ لائیں اور پھر چھ دن مسلسل اسے ساتھ لاکر اپنی نگرانی میں اماں جی کو انجکشن لگواتی رہیں۔

ایک دن اماں جی نے کہا۔

’’آج میرا سر بہت بھاری ہورہا ہے۔ مینا بیٹی ذرا میرابلڈ پریشر تو دیکھو کہیں زیادہ تو نہیں ہوگیا۔‘‘

’’اوہو میں تو اب بلڈ پریشر لینا بھی بھول چکی ہوں۔‘‘ انھوں نے ماتھے پرہاتھ مار کر کہا۔ ’’پریکٹس نہیں کی نا۔ سب کچھ بھول گیا۔ میری ساس…‘‘ وہ ساس کا ذکر خیر کرنا کبھی نہیں بھولتی تھیں۔ … ’’چلئے میں کل کمپوڈر کو لے آؤں گی۔ وہ لے لے گا۔‘‘

شمسہ نے کہا: ’’نہیں مسز ماجد۔ آپ تکلیف نہ کیجیے۔ مجھے بلڈ پریشر لینا آتا ہے، میں ابھی لے لیتی ہوں۔‘‘

’’اچھا اچھا ٹھیک ہے۔‘‘ انھوں نے پھر سے یاد دلایا: ’’بس میں ذرا آؤٹ آف پریکٹس ہوں نا۔‘‘

اس دن زور و شور سے بحث چل رہی تھی کہ انسانی ذہن کی رسائی کہاں کہاں تک ہے۔ شمسہ نے اسی دن ایک معلوماتی مضمون پڑھا تھا۔

’’ذہین سے ذہین انسان بھی اپنے دماغ کا صرف ۴ یا۵ فیصد حصہ استعمال کرپاتا ہے۔‘‘ اس نے اپنی معلومات کا اظہار کیا۔ ’’سائنس داں کہتے ہیں کہ اگر انسانی دماغ کی صلاحیتیں رکھنے والا کمپیوٹر بنایا جائے تو اس کا سائز ایک بڑے شہر کے برابر ہو گا۔‘‘

اماں جی نے بات کو ایک نیا رخ دیا :’’انسانی ذہن کی کیا بات ہے۔ پہنچنا چاہے تو مریخ تک پہنچ جائے اور نہ پہنچے تو شاہ رگ سے قریب ہی اپنے رب تک نہ پہنچے۔‘‘

ڈاکٹرمینا کی ڈاکٹری کی رگ پھڑکی۔ ’’حالانکہ دماغ ہے کیا چیز۔ ایک پاؤ کی ایک گندی سی پلپلی سی چیز جس میں کیڑے کلبلاتے ہیں۔‘‘

اماں جی نے عینک کے اوپر سے گھورا۔ ’’کیا کہتی ہو … بیٹی یہ تو محض ایک محاورہ ہے۔‘‘

’’نہیں جی!‘‘ انھوں نے بڑے یقین سے کہا: ’’میں نے خود دیکھا ہے۔ … جب آپریشن ہوتے ہیں تو میڈیکل کالج کے اسٹوڈنٹس کو بلایا جاتا ہے تاکہ وہ اس کا مشاہدہ کریں۔ ہم اوپر ایک سوراخ میں سے جھانکتے تھے۔ اماں جی سچ مچ دماغ میں کیڑے کلبلاتے ہیں۔‘‘

اماں جی ہنسے لگیں۔ شمسہ بھی مسکرادی۔

بعد میں شمسہ نے اماں جی سے کہا۔

’’اماں جی مجھے تو شک ہے کہ مسز ماجد واقعی ڈاکٹر ہیں؟‘‘

اماں جی مسکرادیں۔

’’پتا نہیں۔ کیا کہا جاسکتا ہے۔‘‘

رفتہ رفتہ ان کے جوہر کھلتے جارہے تھے۔

گڑیا نے کہا: ’’اماں جی مسز ماجداپنے آپ کو وہ کچھ ثابت کرتی ہیں جو وہ نہیں ہیں۔‘‘

’’ارے نہیں بیٹی۔‘‘ اماں جی نے بات ٹالی ’’شاید باتوں باتوں میں انھیں خیال نہیں رہتا۔ ویسے وہ دل کی بہت اچھی ہیں۔‘‘

’’اماں جی‘‘ گڑیانے اصرار کیا۔ ’’کل وہ کہہ رہی تھیں کہ ان کی ساری بہنیں ڈاکٹر ہیں اور سارے بہنوئی فوج میں ہیں۔‘‘

خالد نے قہقہہ لگایا : لیجیے ملک کی پوری فوج، میڈیکل کور سمیت آپ کی خدمت میںحاضر ہے۔ آپ جو حکم کریں گی وہ ہوجائے گا۔‘‘

اماں جی مسکراتی رہیں۔ ’’تو بھئی ہوں گے نا! تمہیں کیا اعتراض ہے۔ بری بات ہے تم لوگ ہر وقت دوسروں کی برائیاں کیوں ڈھونڈتے اور کرتے رہتے ہو۔ چھوڑ دو یہ باتیں۔ کچھ اچھی اچھی باتیںکرو۔‘‘

ملک کے اکثر بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ وہ اپنی رشتہ داری ثابت کرتی رہتی تھیں۔ درمیانے طبقے سے ہونے پر شاید انھیں احساسِ کمتری تھا جس کا ا زالہ کرنے کی وہ کوشش کرتی تھیں۔ ان کی یہ کمزوری اب سب پر کھل چکی تھی اور بے اعتباری اتنی ہوچکی تھی کہ وہ کوئی بھی دعویٰ کرتیں، کوئی اسے تسلیم نہ کرتا۔

پھر ان کے شوہرکا تبادلہ دوسرے شہر ہوگیا۔ جانے سے پہلے وہ اکثر بیمار رہنے لگی تھیں۔ شمسہ کئی دفعہ تیمار داری کے لیے گئی۔وہ فکر مند تھیں۔

’’جس دن سے میری دیورانی میرے پاس سے ہوکر گئی ہے، میں مسلسل بیمار ہوں۔‘‘

’’ارے نہیں‘‘ شمسہ نے تسلی دی۔ ’’ایسے وہم نہ کیا کریں۔ بیماری تو اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔‘‘

’’نہیں بھئی‘‘ ان کی سوچ ایک اٹل فیصلے پر پہنچ چکی تھی۔ ’’وہ بہت جادو ٹونے کرنے والی عورت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس نے مجھ پر جادو کرایا ہے۔ وہ مجھ سے جلتی ہے۔‘‘

شمسہ نے کافی سمجھانے کی کوشش کی مگر بے سود۔ ان کا روشن چہرہ بجھا بجھا سا تھا۔ وہ جو اپنے ظاہری حلیے کو ہمیشہ بالکل ٹھیک ٹھاک بلکہ ٹپ ٹپ رکھتی تھیں، آج کل بے توجہی کا شکار تھا۔ سرمیں مستقل درد کی وجہ سے پٹی بندھی تھی۔ گھر میں کوئی بیٹی یا کوئی دوسرا تیمار دار نہ تھا۔ بیٹے کما حقہ تیمار داری اور گھر داری نہیں سنبھال سکتے تھے۔ گھر کی حالت بھی اجڑی ہوئی اور ابتر سی تھی …… انہی حالات میں ان لوگوں نے سامان وغیرہ باندھا اور اپنی نئی منزل کی طرف چلے گئے۔

کچھ عرصہ تک ٹیلی فون پر رابطہ رہا۔ حال احوال معلوم ہوتا رہا۔ لڑکوں کی آپس میں اکثر گفتگو ہوتی رہتی تھی۔ ایک دن انہی سے پتا چلا کہ مسز ماجدکینسر کا شکار ہوگئی ہیں۔ ان کی بیماری درحقیقت اسی سلسلہ کی کڑی تھی لیکن اس وقت معلوم نہ ہوسکا۔

چھوٹے شہروں میں ایسی ’’بڑی‘‘ بیماریوں کا علاج کہاں ممکن ہوتا ہے۔ بالآخر انھیں ایک بڑے شہر شفٹ ہونا پڑا۔ وہاں ان کی والدہ کا گھر تھا۔ اس طرح انھیں بہتر علاج کے ساتھ ساتھ بہتر تیمارداری بھی میسر آگئی۔

شمسہ نے خالد سے کہا۔ ’’ہمیں بھی مسز ماجد کو دیکھنے جانا چاہیے۔ ہمارے ان سے اتنے اچھے تعلقات تھے۔ ہمارا فرض بنتا ہے کہ اس مشکل گھڑی میں ان کا ساتھ دیں۔‘‘

’’لیکن ہمیں ان کی قیام گاہ کا کیا پتا؟ ہم کہاں جاکر ان سے ملیں گے؟‘‘ خالد نے سوال اٹھایا۔ پھر خود ہی بولے۔

’’اچھا ٹھیک ہے۔ ماجد صاحب سے ان کانیا فون نمبر اور ایڈریس لے لیتے ہیں اور اگلے ہفتے ان سے ملنے چلتے ہیں۔‘‘

ماجد صاحب نے انھیں ایڈریس تو نہ دیا، فون نمبر دے دیا اور کہا کہ فون کرکے ایڈریس سمجھ لینا کیونکہ پرانے محلوں میں گلیاں در گلیاں پہنچنا ذرا مشکل ہی ہوتا ہے۔

شمسہ نے مسز ماجد کے لیے کچھ تحفے اور پھل پھول لے لیے تھے۔ اماں جی کی طرف سے بھی خیرسگالی اور ہمدردی کے اظہار کے لیے ایک چھوٹا سا تحفہ تھا۔ دوپہر تک وہ لوگ ان کے شہر پہنچ گئے۔ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ آرام کرنے کے بعد انھوں نے مسز ماجد کو فون کیا۔ غالباً ان کی بہن نے فون ریسیو کیا۔ چند ہی لمحوں کے بعد مسز ماجد فون پر تھیں۔ علیک سلیک ہوئی۔

’’کیا حال ہیں آپ کیسی ہیں؟‘‘

’’بس بہن کیا پوچھتی ہو۔ طبیعت مسلسل خراب رہنے لگی ہے۔ بیماری ہی ایسی موذی لگی ہے جو جان لے کر ہی پیچھا چھوڑے گی۔‘‘

’’اللہ نہ کرے۔ اللہ آپ کو لمبی زندگی دے۔ مایوسی کی باتیں کیوں کرتی ہیں۔‘‘

’’کینسر کا دوسرا نام موت ہے۔ مایوسی کی باتیں اس لیے کرتی ہوں کہ میں تو خود ڈاکٹر ہوں میں جانتی ہوں کہ اس بیماری کا کوئی علاج نہیں…‘‘

’’اللہ نے کوئی بیماری ایسی پیدا نہیں کی جس کا علاج بھی ساتھ ہی پیدا نہ کیا ہو … آپ اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ وہ ضرور آپ کو شفا دے گا۔ ان شاء اللہ، آج کل تو میڈیکل سائنس کافی ترقی کرگئی ہے۔ روز نت نئے علاج دریافت ہورہے ہیں۔ آپ فکر نہ کیا کریں۔‘‘

’’جانے کیاگزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک‘‘ … بلکہ یہ بھی کہ ’’خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک۔‘‘

’’اچھا چلیں یہ باتیں کافی لمبی ہیں۔ ملنے پر ہوں گی۔ میں تو بطورِ خاص صرف آپ سے ملنے، آپ کو دیکھنے کے لیے آئی ہوں … ذرا اپنا ایڈریس تو سمجھا دیجئے۔‘‘

(چند لمحے کی خاموشی) ’’بہت شکریہ آپ کی قدر افزائی کا …… لیکن آپ کہاں ڈھونڈیں گی میرے ابا کا گھر۔ بڑا مشکل پتا ہے۔

’’کوئی بات نہیں۔ ہمارے پاس اپنی گاڑی ہے۔ ہم ڈھونڈ لیں گے۔ آپ گلی نمبر، مکان نمبر وغیرہ بتائیے۔‘‘

’’مجھے تو کچھ زیادہ پتہ نہیں ہے اور اس وقت کوئی مرد بھی گھر پر نہیں جو اچھی طرح ایڈریس سمجھا سکے۔‘‘

’’کب تک آجائیں گے۔‘‘

’’وہ تو رات گئے آتے ہیں۔‘‘

’’پھر کیا کیا جائے… میں تو آپ سے ضرور ملنا چاہتی ہوں۔ امی نے بھی آپ کو بطورِ خاص پوچھا ہے اور تحفہ بھیجا ہے۔ خالد صاحب خود مجھے لے کر آئے ہیں۔‘‘

’’بہت بہت شکریہ، میں بے حد شکر گزار ہوں۔ چلیں یہ بھی غنیمت ہے کہ آپ سے فون پر بات ہوگئی۔ آپ کو میرا حال تو معلوم ہو ہی گیا ہے نا۔ ملاقات تو مجھے مشکل ہی لگ رہی ہے۔‘‘

شمسہ اس بات سے بہت حیران تھی۔ اس نے کافی کوشش کی کہ پتہ معلوم ہوجائے لیکن انھوں نے پلہ ہی نہ پکڑایا۔ تب وہ دل برداشتہ سی ہوگئی۔ ’’نہ جانے کیوں وہ اپنا پتہ نہیں بتانا چاہتیں۔ کیوں نہیں چاہتیں کہ ہم انھیں دیکھنے جائیں؟‘‘ پھر اس کے دماغ میں ایک گمان لہرایا… ’’وہ اپنے جس اسٹیٹس کااظہار کرتی رہتی تھیں، اصل حقیقت اس کے مطابق نہیں ہوگی۔ یقینا وہ نہیں چاہتیں کہ اصل حقیقت پر سے پردہ اٹھ جائے۔ بس اسی لیے وہ کترارہی ہیں۔‘‘ تب ساتھ ہی اسے گزشتہ باتیں یاد آنے لگیں۔

’’میں ڈاکٹر ہوں‘‘ ’’دماغ میں کیڑے کلبلاتے ہیں‘‘، ’’میری سب بہنیں ڈاکٹر اور سب بہنوئی فوج میں ہیں۔‘‘

خالد اور وہ دیر تک اس حیران کن رویے پر تبصرہ کرتے رہے۔ بالآخر انھوں نے یہی طے کیا کہ چونکہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو بہت اعلیٰ مرتبہ اور دولت اور مناصب والا ظاہر کرتی رہتی تھیں لہٰذا اب وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے اصل حالات ہمارے علم میں آئیں اور انھیں شرمندگی ہو۔

وہ مایوس اور ناکام ہوکر واپس گئے اور ایسے دل براشتہ ہوئے کہ دوبارہ انھیں فون وغیرہ بھی نہ کیا۔

پھر چند ماہ کے بعد ان کے ایک بیٹے نے فون پر اطلاع دی کہ ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ جنازے پر جانا ضروری تھا لیکن دوری کی وجہ سے وہ بروقت نہ پہنچ سکے بلکہ اگلے دن پہنچے۔ فضا سوگوارتھی۔ بیٹے اور شوہر صدمے کی کیفیت میںتھے۔ بہنیں اور نندیں اور دوسری رشتہ دارخواتین افسردہ و غمگین بیٹھی تھیں۔ خالد مردوں میں جابیٹھے اور شمسہ خواتین والے کمرے میں آگئی۔ تعزیت تو ایک رسم ہے۔ کئی دفعہ الفاظ دلی جذبات کااظہار کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں اور کئی دفعہ محض بے جان الفاظ ہی الفاظ ہوتے ہیں۔ رشتہ جتنا قریبی ہو، دکھ اتنا ہی گہرا ہوتا ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ کینسر کا مریض تو گویا وقت کی الٹی گنتی گن رہاہوتاہے، اس کے باوجود جدائی کاصدمہ محسوس ہوتا ہے۔ سب اپنے اپنے دکھ کی مختلف کیفیات لیے ایک دوسرے کے غم میں شریک تھے۔ مسز ماجد کی ایک بہن (جوکسی اسکول میں ٹیچرتھیں) آہستہ آہستہ ان کی بیماری کے مراحل اور کیفیات بتارہی تھیں۔

’’مرض سارے جسم میں پھیل چکا تھا۔ جب معلوم ہوا تو بہت دیر ہوچکی تھی۔ پھر بھی وہ کئی مہینے نکال گئیں۔ جب وہ ہمارے پاس آئیں تو بے حد کمزور ہوچکی تھیں، رنگ سیاہ پڑچکا تھا۔ بال اڑگئے تھے۔ جسم ہڈیوں کا ڈھانچہ بنتا جارہا تھا۔ آپ کو تو معلوم ہے وہ سجنے سنورنے کی کتنی شوقین تھیں۔ انھیں پسند تھا کہ وہ اچھی لگیں۔ وہ ہمیشہ اچھے کپڑے، زیور اور میک اپ میں رہتی تھیں … مگر ان کاحلیہ اتنا خراب ہوچکا تھا کہ آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ کر وہ چیخنے لگتی تھیں۔ طبیعت مزید خراب ہوجاتی۔ حتی کہ ہم نے پورے گھر سے ہر چھوٹا بڑا آئینہ ہٹا دیا … اسی وجہ سے وہ کسی سے ملنا پسند نہیں کرتی تھیں۔ جب آپ انھیں دیکھنے آنا چاہتی تھیں، انھوں نے اس لیے آپ کو نہیں آنے دیاکہ وہ اپنی اس بھیانک اور قابل رحم صورت اور حلیے کے ساتھ آپ کے سامنے نہیں آنا چاہتی تھیں…‘‘

شمسہ ایک سناٹے میں آگئی …اف اللہ وہ کیا سمجھتی رہی اور حقیقت کیا تھی … اس کا سرجھک گیا … تو یہ تھی اس کے گمان کی حقیقت … اس کا دکھ مزید گہرا ہوگیا۔ دل پر زخم ایک نئے زاویے سے لگا تھا۔ ’’اے مومنو! بہت گمان کرنے سے پرہیز کیاکروکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
.....

تبصرہ کیجیے