2

جنت اور جہنم

انسان اپنے عمل سے اپنے لیے جنت اور جہنم دونوں بناسکتا ہے بلکہ بناتاہے۔ دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت کی زندگی میں بھی۔اسی طرح قومیں اپنے اعمال سے اپنے لیے دونوں چیزیں بناتی ہیں۔

اسلام سراسر سلامتی ہے۔ اس پر چلنے والے دنیا میں بھی سلامتی کے حقدار ہیں اور آخرت میں بھی ان کے لیے ہر تکلیف اور پریشانی سے نجات ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ واقعی اسلام کو اپنی زندگی میں اپناتے ہوں اور اس کے احکامات پر عمل کرتے ہوں۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ اس دنیا کی زندگی میں تنگی اور پریشانیوں کا شکار ہوں، لیکن انہیں نافرمان لوگوں کے عیش و طرب کو دیکھ کر مرعوب یا مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نا فرمان لوگوں کو سب کچھ یہیں پر دے دیتا ہے اور آخرت میں ان کے لیے سخت عذاب کے علاوہ کچھ نہ ہوگا۔ اگر ہمارے دل کاآئینہ صاف ہو تو ان نافرمانوں کے عیش میں تو جنت کے بجائے جہنم نظر آئے گا وہ عیش ایسا عیش ہے جو سیدھا جہنم پہنچاتا ہے۔ وما ہم عنا بغائیبن۔

دنیاکی زندگی میں اللہ پر ایمان رکھنے والوں کا طرزعمل یہ ہوتا ہے کہ وہ اس زندگی کو آخرت کی تیاری کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس زندگی کو ایک امتحان گاہ تصور کرتے ہوئے جیتے ہیں۔ جبکہ نافرمان لوگوں کی سوچ ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘یعنی اس زندگی میں عیش و عشرت اور مزے لوٹ لو کہ دنیا دوبارہ ملنے والی نہیں ہوتی ہے۔ نافرمان لوگوں کی یہی مادہ پرستانہ سوچ ہے جو ایک طرف تو انہیں خود جہنم کی طرف دھکیلتی جاتی ہے دوسری طرف ان کے اعمال کے اثرات اس دنیا کو بھی جہنم بنانے کا کام کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ اہل ایمان اس دنیا کی زندگی کو ناپائیدار اور ختم ہوجانے والی تصور کرکے آخرت کی دائمی زندگی کو سنوارنے کی فکر کرتے ہیں۔ اور ان کی اسی فکر کے نتیجہ میں ان کے قول و عمل سے سماج اور معاشرہ میں برائیاں پھیلنے کے بجائے اچھائیوں کا فروغ ہوتا ہے بلکہ ان کی زندگی کا مشن ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ سماج سے برائیوں کو مٹاتے اور بھلائیوں کو پھیلاتے ہیں۔

دونوں گروہ اپنی سوچ اور طرز زندگی میں بالکل مختلف ہیں لہٰذا دنیا و آخرت دونوں جگہ دونوں گروہوں کے اعمال کے نتائج اور انجام بھی الگ ہوں گے۔

نافرمان لوگوں کاتذکرہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے:

وسیق الذین کفروا الی جہنم زمرا حتی اذا جاء واہا فتحت ابوابہا وقال لہم خزینتہا الم یأتکم نذیر۔ قالوا بلیٰ ولکن کذبنا وقلنا ما نزل اللہ من شیٔ۔

’’اور (اس دن) کفر کرنے والوں کو جہنم کی طرف ہنکا کر لے جایا جائے گا وہ وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھلے ہوں گے تو اس کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے والے (نبی) نہیں آئے تھے۔ وہ کہیں گے کہ بیشک آئے تو تھے مگر ہم نے انہیں جھٹلایا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز ویزنہیں اتاری۔‘‘

اس کے بالکل برعکس نیک لوگوں کا معاملہ ہوگا۔ اس لیے انہیں بڑے احترام کے ساتھ جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔ اور کہا جائے گا کہ یہ تمہارے اچھے اعمال کا نتیجہ ہے تم واقعی اچھے رہے اور اب اس جنت میں ہمیشہ رہو۔

غور کرنے کی بات ہے کہ انسان اپنے اعمال کی بنیاد پر ہی جنت یا جہنم میں جائے گا تو کیا ہم اپنے اعمال کو جنتیوں کے اعمال بنانے کے لیے تیار ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو ہمیں ہر عمل کرنے سے پہلے اس کے انجام کے بارے میں سوچ لینا چاہیے۔

شیئر کیجیے
Default image
اسماء تزئین مومناتی

تبصرہ کیجیے