5

عیدالاضحی

حضرت محمد مصطفی ﷺ نے مسلمانوں کو دو عیدوں کی خوشخبری دی عیدالفطر دوسرے عیدالاضحی۔ صحابہ کرامؓ نے آپؐ سے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ! یہ قربانی کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: تمہارے جدامجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی سنت ہے۔

عبد اور معبود کے رشتے میں ایک ایسا لمحہ آتا ہے جب عشق امتحان مانگتا ہے، جب رب اپنے بندے کی محبت کو پرکھتا ہے، اس کی جانچ ہوتی ہے اور یہ جانچ بندے کی محبت و بندگی پر منحصر ہوتی ہے۔ بندہ جس قدر اپنے رب کے عشق میں مضبوط ہوتا ہے اس کی جانچ یا آزمائش بھی اسی قدر سخت ہوتی ہے۔

حضرت ابراہیمؑ نے جب کفر سے بیزاری کا اعلان کیا اور ہر طرف سے منہ موڑ کر اپنے رب کے بندے بن گئے تو بڑی مشکلیں اور آزمائشیں ان کی راہ میں آئیں مگر ان کے قدم نہ ڈگمگائے۔ یہاں تک کہ انہیں آگ میں پھینک دیا گیا۔ اور اللہ کی رحمت نے ان کی مدد کی اور وہ آگ ان کے لیے ٹھنڈی ہوگئی کیونکہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والے بندوں کو اللہ کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ حضرت ہاجرہ علیہا السلام سے شادی کے بعد جب آپ کی عمر تقریباً اسی سال کی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے نرینہ اولاد حضرت اسماعیلؑ کی خوشخبری دی۔ ارشاد ربانی ہوا کہ اپنی چہیتی بیوی اور معصوم بیٹے کو صحرا میں چھوڑ آؤ پھر انھوں نے اس حکم کی بھی تعمیل کی۔ تپتے صحرا میں تنہا ماں اور نومولود شیر خوار بچہ پیاس کی شدت سے بے حال ہونے لگا۔ آخر رحمت حق کو جوش آیا اور جہاں بچہ لیٹا ہوا تھا وہیں اس کی ایڑیوں کے پاس پانی کا چشمہ ابلنے لگا۔ حضرت ہاجرہ نے اللہ کا شکرادا کیا۔

اسّی سال کی عمر میں حاصل ہونے والے بیٹے کی محبت کا اندازہ کیجیے اور پھر دیکھئے کہ کیا کوئی باپ اپنی اس قدر محبوب اولاد کے گلے پر چھری چلا سکتا ہے؟ مگر حضرت ابراہیمؑ نے اپنے رب کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرکے یہ ثابت کردیا کہ وہ صرف اور صرف اپنے رب کی محبت کے اسیر تھے اور اس محبت کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو ہٹادینے کا عزم رکھتے تھے۔ تبھی تو ان کے رب نے انہیں ’’خلیل‘‘ اور ’’حنیف‘‘ کے القاب سے نوازا۔

اور پھر بیٹے کی فرمانبرداری اور محبت الٰہی دیکھئے کہ جب باپ نے اپنے خواب کا ذکر اس سے کیا تو وہ کیا کہتا ہے۔ ’’ابا جان! آپ کو جو حکم ہوا ہے اس کی تعمیل کیجیے۔ انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے۔ باپ نے بیٹے کی نازک گردن پر چھری پھیر دی۔ فراغت کے بعد آنکھ کھولی تو بیٹے کو صحیح و سالم ایک کنارے کھڑے پایا۔ اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا:

’’اے ابراہیمؑ تم نے خواب سچ کر دکھایا۔ ہم احسان کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔‘‘

جب بندہ حق بندگی ادا کرنے میں پیش پیش ہوتا ہے تب رب کریم بھی اپنے بندے کی محبت کاجواب محبت سے دیتاہے۔ اپنے بندوں کی یہ ادا رب کو ایسی بھائی کہ قیامت تک ان لمحوں کو امر کردیا۔ ایک ماں کی بے قراری کو سعی کی شکل میں اور حضرت ابراہیمؑ و حضرت اسماعیلؑ کے جذبہ عشق کو قربانی کی رسم کی صورت میں واجب قرار دیا۔ رسم قربانی صرف ایک رسم ہی نہیں بلکہ وہ وعدہ ہے جو اللہ کے دوست نے اس سے کیا اور پورا فرمایا۔ اپنی خواہشوں اور اپنے ارمانوں کی قربانی، یہ اللہ کی راہ میں اپنی زندگی کی قربانی دینے کا عہد ہے جو قربانی دے کر بندہ اپنے رب سے کرتا ہے۔ یہ عشق اور فرمانبرداری کی وہ مثال ہے جو قیامت تک عاشقوں کے طلبِ شوق میں اضافہ کرتی رہے گی اور عشق کی آگ کو بھڑکاتی رہے گی۔ جب بندہ بنا کسی لالچ کے عشق کی منزل کو طے کرتا ہے، ہر غرض سے بے نیاز ہوتا ہے، راہِ خدا میں صرف اللہ تعالیٰ سے ہی امید و خوف رکھتا ہے، ہر خوف و محبت سے بے نیاز ہوکر صرف اپنے رب کی خوشنودی ہی کے لیے اپنی زندگی بھی داؤ پر لگاتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اپنے ان عظیم بندوں کو بندگی کی معراج عطا کرتا ہے۔ عیدالاضحی ہمیں اس عظیم مقصد کی طرف گامزن کرتی ہے۔

عید قرباں اور حج کے مناسک ایک مثالی خاندان کی محبت الٰہی میں سرشاری کی یادگاریں ہیں جہاں شوہر اللہ کا فرمانبردار ہے تو بیوی بھی اس کی اس فرمانبرداری میں ہی اپنے رب کی رضا و خوشنودی تلاش کرتی ہے۔ اور جب ماں اور باپ دونوں صرف اور صرف اپنے رب کی خوشنودی کے طلب گار ہیں تو بیٹا بھی ویسا ہی صالح اور فرمانبردار ہے کہ اپنے آپ کو قربانی کے لیے خوشی خوشی پیش کردیتا ہے۔ قربانی اور حج جہاں ہمیں ان عظیم ہستیوں کی عظیم قربانیوں کو یاد دلاتے ہیں وہیں ان کی زندگی کے معاشرتی گوشوں میں جھانکنے کی دعوت بھی دیتے ہیں۔ حضرت ابراہیم کی زندگی بہ حیثیت شوہر، حضرت ہاجرہ کی زندگی بہ حیثیت بیوی اور حضرت اسماعیلؑ کی زندگی بہ حیثیت فرزند ہمیں دیکھنی چاہیے اور اس پر غور کرناچاہیے اور اپنے گھر کو ایسا مثالی گھر بنانے پر توجہ دینی چاہیے جہاں تمام افراد کی پسند صرف اور صرف رضائے الٰہی ہو اور اس راہ میں سب لوگ ایک دوسرے کے مددگار اور معاون ہوں۔

شیئر کیجیے
Default image
شیخ طاہرہ عبدالشکور

تبصرہ کیجیے