خواتین کی سیاسی فعالیت

نئے قانون شہریت (سی اے اے)، این آر سی اور این پی آر کے خلاف پورے ملک میں احتجاج کا ایسا سلسلہ جاری ہے جس کی مثال آزاد ہندوستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس احتجاج کی کئی خصوصیات ہیں۔ ان خصوصیات میں ایک بہت نمایاں یہ ہے کہ اس میں خواتین کا کردار اور ان کی فعالیت سب سے زیادہ ہے۔ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں خواتین سیاسی فکر اور اجتماعی سرگرمیوں کے علاوہ معاشرتی اعتبار سے بھی مردوں سے بہت پیچھے تھیں اور اس پہلو سے ہندوستانی سماج پسماندہ تصور کیا جاتا تھا، یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس احتجاج میں صرف مسلم سماج کی خواتین ہی نمایاں نہیں ہیں بلکہ ہر مذہب، برادری اور ہر سماج کی خواتین ایک جٹ نظر آتی ہیں جس کے نتیجے میں یہ تصور غلط ثابت ہوتا جارہا ہے کہ اس احتجاج میں صرف مسلمان شامل ہیں۔ دراصل میڈیا نے بھی ابتداء میں یہی تاثر دینے کی کوشش کی مگر اب جبکہ اس سلسلہ کو شروع ہوئے دو ماہ سے بھی زیادہ کا عرصہ گزرگیا ہے بہ آسانی یہ بات سمجھی اور دیکھی جاسکتی ہے کہ یہ مذہبی حد بندیوں کا شکار نہیں بلکہ پوری ہندوستانی قوم کا احتجاج ہے اس قانون کے خلاف جو ملک کو مذہبی اکائیوں میں بانٹ کر سیاسی مفادات حاصل کرنا چاہتا ہے۔

خواتین کی اس فعالیت کو ہم کئی پہلوؤں سے دیکھ سکتے ہیں۔ ان میں ایک پہلو تو خواتین کی سیاسی، سماجی اور معاشرتی بیداری کا ہے جو کافی اہم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت جو معاشرے کا تقریباً نصف ہے وہ بھی اب ملکی اور سیاسی معاملات میں اپنی آواز خود بن رہی ہے اور اپنے حقوق کی لڑائی اور سیاسی مفادات کا تحفظ خود کرنے کا عزم و ارادہ کرچکی ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ برسرِ اقتدار گروہ نے جس طرح احتجاج کرنے والوں پر بے دریغ طاقت کا استعمال کیا اور اسے کچلنے کی کوشش کی وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ سیاسی گروہ نہ تو انسانیت و شرافت کی بنیاد پر خواتین کے ساتھ انسانی نرمی کا برتاؤ کرنے کے لیے تیار ہے اور نہ معصوم بچوں کے ساتھ نرمی و محبت کا رویہ اپنا سکتا ہے۔ ابتدائی دنوں میں احتجاج کو کچلنے کے لیے کی گئی پولیس کارروائیوں سے یہ ثابت ثابت ہوچکی تھی اور شاید اسی بربریت نے خواتین کے اندر سے خوف نکال کر لڑائی کو پوری طاقت سے انتہائی مرحلے تک لڑنے کا ارادہ کرلیا ہے۔ اس اسلسلے میں ثبوت کے طور پر بہت ساری مثالیں سماج کے سامنے ہیں جہاں خواتین وطالبات پر پولیس نے غیر انسانی انداز میں تشدد کیا۔ قانون اور طاقت کے اندھے اور ظالمانہ استعمال کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ اسکولی بچوں پر محض ایک ڈرامہ اسٹیج کرنے کے لیے جو غیر نصابی سرگرمیوں کا حصہ ہوتا ہے، دیش دروہ کا مقدمہ دائر کیا جائے، اسکول کے اساتذہ، انتظامیہ پر کیس لگایا جائے اور بچوں کے سرپرستوں تک سے پوچھ گچھ کی جائے اور حراست میں لیا جائے، پولیس کی ٹیم آئے دن اسکول پہنچ کر ڈرامے میں شریک بچوں سے گھنٹوں تفتیش کرے۔ یہ واقعہ بیدر کے شاہین اسکول کا ہے جہاں انتظامیہ اور اساتذہ کے علاوہ بچوں کے سرپرستوں کے خلاف بھی کیس درج کیا گیا ہے۔ یہ ریاست کرناٹک ہے جہاں کس کی حکومت ہے یہ معلوم ہے۔

جمہوریت میں احتجاج قانونی اور انسانی حق ہے اور اس کی مختلف شکلیں ہوسکتی ہیں۔ اس سے آگے بڑھ کر بات تو یہ کہی جاتی ہے کہ جمہوری نظام میں احتجاج ہی جمہوریت کی اصل روح ہے اور اگر احتجاج اور مخالفت کا حق نہ ملے تو جمہوریت رہی کہاں وہ تو تانا شاہی میں تبدیل ہوگئی۔ یہی نہیں بلکہ جمہوری نظام کے حقیقی مؤیدین اور مستفیدین تو یہاں تک یقین رکھتے ہیں کہ جمہوری نظام میں غلط محسوس کی جانے والی باتوں کے خلاف احتجاج کرنا اور اپنی مخالفت درج کرانا جمہوری مملکت کے شہریوں کا فرض ہے، اگر وہ اس فرض کو ادا نہیں کرتے اور حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف اپنا احتجاج درج نہیں کراتے تو جمہوریت ختم ہوجائے گی اور ملک کا نقصان ہوگا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جمہوری نظام میں ایک بھی شہری کی مخالف آواز ہے تو اسے سننا حکومت کا فرض ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مغربی دنیا کے وہ ممالک جو جمہوریت سے حقیقی انداز میں فیض یاب ہورہے ہیں ان کے یہاں یہ روایت بہت مضبوط اور طاقت ور ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ یہ مملکتیں ہر اعتبار سے مضبوط و مستحکم ہیں۔

خواتین کے خاص طور پر فعال ہونے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ شاید انہیں اس بات کاادراک ہوگیا ہے کہ ہر دو صورت میں جہاں مرد کی شہریت چھنے یا عورت کی عورت بہرحال متاثر ہوگی۔ آسام کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اکثر متاثرین خواتین ہیں چاہے وہ خود کی شہریت چھن جانے کے سبب ہوں یا شوہروں کی شہریت چھن جانے کی سبب۔

جہاں تک تمام مذاہب اور طبقات کے ایک ساتھ آنے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ملک کے تمام شہریوں کو اس بات کا شعور و ادراک ہوگیا ہے کہ انہیں ایک ایسے غیر ضروری عمل میں پھنسایا جارہا ہے جس سے نبرد آزما ہونا کوئی آسان کام ہرگز نہیں ہوسکتا باوجود اس کے وزیر داخلہ مسلمانوں کے علاوہ تمام لوگوں کو یہ یقین دہانی کراچکے ہیں کہ ان کو شہریت سے محروم نہیں کیا جائے گا بلکہ CAAکے ذریعہ انہیں شہریت دے دی جائے گی۔ وزیر داخلہ یہ بار بار کہہ چکے ہیں کہ CAAشہریت لینے والا نہیں بلکہ شہریت دینے والا قانون ہے۔ ہم بھی یہ بات جانتے ہیں کہ یہ لینے والا نہیں بلکہ دینے والا ہے مگر اس کرونولوجی کے تناظر میں این آر سی اور این پی آر جب دیکھتے ہیں جو بیان کی جاتی ہے تو بھی شک کے گھیرے میں آجاتا ہے۔ اس لیے ایک ایسے سماج میں جہاں برتھ سرٹیفیکٹ کے حصول کا تصور ہی اکیسویں صدی کی طرح نیا ہے وہاں بیسویں صدی میں پیدا ہونے والے باپ دادا کے برتھ سرٹیفیکٹ پیش کرنا کتنا آسان اور کتنا مشکل ہوگا یہ ہر شہری سمجھ سکتا ہے اور اسی بات نے لوگوں کو سڑکوں اور میدانوں میں اکٹھا ہونے پر مجبور کردیا ہے۔

اگر ہم سنجیدگی اور انسانی ہمدردی میں سیاست سے اوپر اٹھ کر دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ ہمارے ہندوستان کے سماجی اور معاشرتی تانے بانے کیا ہیں۔ اصل ہندوستان وہ نہیں جو شہروں میں رہتا ہے بلکہ اصل ہندوستان وہ ہے جو دیہاتوں اور جنگلوں میں رہتا ہے جس میں دیہاتی کسان اور ان پڑھ لوگ شامل ہیں۔ یہاں آدی باسیوں کی تعداد کروڑوں میں ہے جو آج بھی جنگلوں میں جیتے ہیں اور اپنی تمام ضروریات کے لیے اسی زندگی پر منحصر ہیں۔ یہ ہندوستان ایسا ملک ہے جہاں سڑک پر زندگی گزارنے والے لاکھوں لوگ تو فقیر ہیں جن کے پاس کوئی سرٹیفیکٹ نہیں اور ان کی نسلیں اسی طرح پیدا ہوکر مرکھپ جاتی ہیں۔

ہندوستان کے انہی سماجی و معاشرتی تانوں بانوں دیکھتے ہوئے ملکی عوام جن میں باشعور طبقہ اور سماج کے دانشوران تک شامل ہیں، اس قانون کی مخالفت کررہے ہیں۔ لیکن اس بے مثال مخالفت کے باوجود حکومت کا رویہ ملکی عوام کے ساتھ ہمدردانہ ہونے کے بجائے معاندانہ ہے اور یہ ان کی بات سننے اور مطالبات پر غور کے بجائے اسے کچلنے اور ختم کرنے کی کوشش میں ہے جو ملکی جمہوریت اور دستور و قانون کی روح کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ملک میں یہ بات بڑے پیمانے پر کہی جارہی ہے اور محسوس بھی کی جارہی ہے کہ یہ دستور اور قانون بچانے کی لڑائی ہے کیونکہ ملک کا دستور خطرے میں ہے۔

ہماری رائے میں یہ تاثر اور تصور اگر عوام کے اندر پیدا ہورہا ہے تو یہ برسراقتدار گروہ کے لیے صحت مند علامت نہیں ہے۔ اس کا حل صرف اور صرف یہی ہے کہ حکومت جلد از جلد ایسے اقدامات کرے جو اس تاثر کو نہ صرف زائل کریں بلکہ مزید ایسے اقدامات بھی کرے جن سے مزید یہ تاثر قائم نہ ہوسکے اور ایسا اسی وقت ممکن ہے جب حکومت اور ارباب اقتدار، جو دستور کی حلف کے ذریعے وہاں پہنچے ہیں، اپنے قول اور اس سے زیادہ اپنے عمل کے ذریعہ یہ ثابت کریں کہ وہ اس دستور کا احترام کرتے ہیں اور اسی کے مطابق ملک چلانے کا عزم و ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ بات تو ہر کوئی جانتا ہے کہ اگر ایک مرتبہ کسی سے اعتماد اٹھ جائے یا کمزور پڑجائے تو اسے بہ حال کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ محنت اور کوشش کی ضرورت ہوتی ہے — اور — شاید اب حکومت کو اس کے لیے پہلے سے زیادہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی