2

ہم دو اور ہمارے چھ

ہندو خواتین! ہوشیار! بھاڑ میںجائے تمہاری پڑھائی لکھائی، تمہاری خود اعتمادی، تمہاری صحت کے مسائل، تمہاری تعلیم اور کچھ کر دکھانے کا جذبہ۔

ہری دوار میں منعقد ہوئی گیارہویں ’’دھرم سنسد‘‘ نے ہندو ووٹ بینک کی حفاظت کے لیے اعلان کیا ہے کہ’’ اب وقت آگیا ہے کہ ہندوؤں کی آبادی کو بڑھایا جائے کیونکہ یہ ووٹ بینک کو بڑھانے کا زمانہ ہے، جس کا ووٹ بینک ہوتا ہے اسی کی سنی جاتی ہے۔‘‘

مذہب کے ان محافظوں کا کہنا ہے کہ اگر مذہب کو بچانا ہے توہندوؤں کی زیادہ سے زیادہ آبادی چاہیے۔ اس ملک میں جب سے ہندوؤں نے ’’ہم دو ہمارے دو‘‘ کا نعرہ اپنایا ہے تب سے ہندوؤں کی آبادی میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔ اس لیے اب اس نعرہ کو چھوڑ کر ہندوؤں کو چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کریں۔

ہر ہندو کو کم از کم چھ بچے پیدا کرنے چاہئیں، ان میں سے دو بچے مذہب کی حفاظت کے لیے، دو بچے بھارت ماتا کی حفاظت کے لیے اور دو بچے خاندان کی حفاظت کے لیے۔ تواے خواتین! آپ سمجھ گئیں نہ کہ جب بھی آپ کے یہاں بچے کی پیدائش ہو تو اس بات کو پکا کر لیجیے کہ وہ لڑکا ہی ہو، کیونکہ مذہب کے محافظوں کو لڑکیوں کی ضرورت نہیں ہے۔ مذہب کے ان محافظوں کی مدد کے لیے امینوں سینٹیس (Amino Sentesis) اور الٹرا ساؤنڈ نے یہ بندوبست پہلے ہی سے کر رکھا ہے کہ جب لڑکی حمل میں ہو تو اس کا کام تمام کردیا جائے۔

خواتین کی تنظیمیں شور شرابہ کریں تو کرنے دو آخر مذہب کی حفاظت کے لیے تو لڑکیاں ہمیشہ سے ہی قربانیاں دیتی آئی ہیں۔ کبھی ستی ہوکر، (شوہر کی چتا کے ساتھ جل کر)، تو کبھی جوہر کرکے ،پھر بیٹے کے حصول کے لیے پتروشٹی یگیہ اور ٹونے ٹوٹکے بھی تو ہیں۔ اور کیا معلوم کے کل مذہب کی حفاظت کے لیے نکلے مہارتھی یہ فرمان بھی نکال دیں کہ جو ماں لڑکی پیدا کرے گی، اسے سخت سزا کا مستحق ہونا پڑے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بچہ (لڑکا) حاصل کرنے کے لیے اور مذہب کی حفاظت کرنے کے نسخے بتانے والے کلینک بھی جگہ جگہ کھل جائیں، اور چھٹے بچے کی پیدائش پر خاص ڈسکاؤنٹ کا بندوبست ہو۔

اب یہ چھ کے چھ لڑکے کیا کھائیں گے، کیسے تعلیم حاصل کریں گے، کہاں رہیں گے بسیں گے، اس سے کسی کو کیا مطلب؟

پرانی کہاوت ہے کہ جب ایشور (بھگوان) کھانے کے لیے ایک منھ دیتا ہے تو کمانے کے لیے دو ہاتھ بھی۔ آچاریوں نے کہا کہ ان چھ لڑکوں میں سے دو لڑکے خاندان کی حفاظت کے لیے بھی ہوں گے۔ ہندوستان کی آبادی ایک عرب ہے تو کیا۔ ہندو تو دن بدن کم ہوتے ہی جارہے ہیں پھر ہندوؤں نے کیا اس بات کا ٹھیکہ لے رکھا ہے کہ وہ آبادی کی فکر کرتے پھریں۔

ملک میں دنیا کے سب سے زیادہ بچہ مزدور ہیں۔ ان میں سے لاکھوں پورے سات دن اور اٹھارہ گھنٹے محنت کرکے بھی ۱۰۰ روپے نہیں کما پاتے۔ ان کے سرپر نہ چھت ہے اور نہ ہی انھوں نے کبھی اسکول کا منھ دیکھا ہے۔ بیمار پڑجانے پر علاج تو ہے ہی نہیں، تنخواہ بھی نہیں ہے۔

ہندوستان میں لاکھوں بچے اپنی پہلی سالگرہ، طبی سہولیات اور مناسب غذا کی کمی کی وجہ سے نہیں منا پاتے، لاکھوں بچے غریبی اور سخت گھریلو مسائل کی وجہ سے اسکول نہیں جاپاتے۔ مگر ہمارے مذہب کے محافظوں کو اس بات سے کیا لینا دینا۔ یہ سب تو والدین اور سرکار کا کام ہے۔ ان کا کام ہے کہ کیسے لوگوں کو مذہب کی حفاظت کے ذریعہ آپسی دشمنی اور انتقامی جذبہ کا سبق پڑھایا جائے۔ انہیں خواتین یا ماؤں کی صحت کی بھی کوئی فکر نہیں ہے، ورنہ ایسا نہ کہا جاتا۔ کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ بچے کی پیدائش کے دوران لاکھوں مائیں، مناسب طبی سہولیات کی کمی کی وجہ سے مرجاتی ہیں۔ مر کر بھی کم سے کم مذہب کی حفاظت کے لیے چھ لڑکے تو دے ہی جائے گی اور ایسی جننی (پیدا کرنے والی) ماں کو سب سلام کریں گے۔

حال ہی میں اس بحث نے زور پکڑا تھا کہ الیکشن لڑکے لیے دو بچوں کی پابندی ہٹا دینی چاہیے مذہب کے محافظوں کو بھی یہ بات سمجھ میں آگئی ہے آخرکیوں دو بچے والے لوگ مثالی بنیں لالو پرشاد یادو کیوں نہیں۔ اشوک سنگھل، لالو یادو چاہے ایک دوسرے کی کتنی بھی مخالفت کریں اس مسئلے پر دونوں ہم پلہ ہیں۔

ترجمہ: جرار احمد(ہندوستان (ہندی) ۲۳؍دسمبر)

شیئر کیجیے
Default image
تحریر: چھما شرما

تبصرہ کیجیے