2

میری کینڈی

میرا تعلق امریکہ سے ہے۔ پیشے کے اعتبار سے چند سال پہلے تک میں آرٹسٹ تھی اور فن کی دنیا میں میرا ایک نام تھا، اس لیے لاکھوں میں کھیلتی تھی، لیکن بدقسمتی سے میں ذہنی اعتبار سے دہریہ یعنی خدا کی منکر تھی اور مذہب اور اخلاقی قدروں کو لایعنی سمجھتی تھی۔ میرے نزدیک زندگی کا مقصد محض عیاشی تھا اور بس۔ اندازہ کیجیے کہ میں نے یکے بعد دیگرے چار شادیاں کیں لیکن کسی بھی خاوند سے میرا نباہ نہ ہوسکا اور ایک وقت ایسا آیا کہ میرا سکون مکمل طور پر غارت ہوگیا۔ عیش کا کوئی انداز مجھے مسرت سے ہمکنار نہ کرتا اور افسردگی و پژمردگی ہمہ وقت میرے دل و دماغ پر چھائی رہتی۔

بھوک اور نیند ختم ہوکر رہ گئی۔ میں گھنٹوں بستر پر کروٹیں بدلتی رہتی لیکن پُر سکون نیند میری زندگی سے جیسے مستقلاً رخصت ہوگئی تھی۔ تنگ آکر میں نے نیند آور دواؤں کا استعمال شروع کردیا اور جب یہ بھی بے کار ثابت ہوئیں تو شراب اور دیگر منشیات میری زندگی کا مستقل حصہ بن گئیں۔ لیکن کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی۔ ڈپریشن ہمہ وقت مجھے گھیرے رہتا اور خوف میرے اعصاب کو کچلتا رہتا۔ اندازہ کیجیے میری مایوسی کا یہ عالم تھا کہ کئی بار میں نے خود کشی کی کوشش کی۔ لوگوں سے ملنا ملانا ختم ہوگیا، مستقل چڑچڑے پن اور مردم بیزاری کی وجہ سے کوئی مجھ سے ملنا پسند نہ کرتا اور ایک ماں کے سوا دنیا میں میرا کوئی ہمدرد اور غمگسار نہ رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آخر کار مجھے ایک دارالامان میں داخل ہونا پڑا، جہاں عادی نشہ بازوں کا علاج ہوتا تھا۔ یہ وہ صورتِ حال تھی جب ایک خاتون فرشتہ رحمت بن کر میری زندگی میں داخل ہوئی۔ یہ ہماری ہمسائی تھی جو میری ماں کی گہری دوست بھی تھی اور مزاج اور عادات کے اعتبار سے منفرد خصوصیات کی حامل تھی۔ وہ بڑی ہی باوقار اور محبت کرنے والی خاتون تھی۔ وہ میری والدہ کے ہمراہ وقتاً فوقتاً دارالامان میں آتی اور خاصا وقت میرے پاس گزارتی۔ اس کے رویے میں ایک خاص قسم کی اپنائیت اور انس محسوس ہوتا۔ وہ میری ہمت بندھاتی اور جینے کا حوصلہ عطا کرتی۔ وہ کہا کرتی تمہارا سب سے بڑا مرض یہ ہے کہ تم خدا کو نہیں مانتیں حالانکہ انسان کی اپنی زندگی اور کائنات کی ایک ایک چیز اس کے وجود کی شہادت دے رہی ہے۔ اس نے دلیل دی ’’یہ جو گھڑی تم نے کلائی کے ساتھ باندھ رکھی ہے، کون کہہ سکتا ہے کہ خود بخود بن گئی ہے اور کوئی اس کا بنانے والا نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر کوئی اس طرح کی سوچ رکھتا ہے تو وہ نرا احمق ہے، عقل و خرد سے اس کا کوئی تعلق نہیں، تو جب یہ حتمی حقیقت ہے کہ ایک معمولی گھڑی خود بخود نہیں بنی، یہ عینک اور یہ جوتا محض اتفاق سے وجود پذیر نہیں ہوا، تو پھر یہ خیال کرنا کہ ہماری یہ آنکھیں، یہ ہاتھ، یہ پاؤں بغیر کسی خالق کے بن گئے ہیں، کتنی احمقانہ اور بے بنیاد سوچ ہے۔‘‘وہ خاتون محبت اور شفقت سے میرا ہاتھ پکڑ کر میری آنکھوں میں جھانکتی اور دل سوزی سے کہتی ’’یقین کرو کہ اس کائنات کا، اس عظیم پراسرار کائنات کا ایک خالق اور مالک ہے۔ اسی نے ہمیں پیدا کیا ہے، اور اسی نے انسانوں کو حیرت انگیز جسمانی نظام اور ذہنی و عقلی اور عملی صلاحیتیں عطا کی ہیں، وہ زندہ و پائندہ اور حی و قیوم ہے۔ ہماری ایک ایک حرکت اس کی نظروں کے سامنے ہے اور ہماری زندگی کا ایک ایک لمحہ اس کے کمپیوٹروں میں محفوظ ہورہا ہے۔‘‘

’’لیکن اگر وہ موجود ہے تو پھر دکھائی کیوں نہیں دیتا اور ہماری عقل اس کا احاطہ کیوں نہیں کرتی؟‘‘

میرے اس اعتراض پر وہ خاتون مسکرائی اور کہنے لگی کہ ’’میری پیاری بیٹی انسانی بصارت اور عقل کی استعداد بڑی محدود ہے، ضروری نہیں کہ یہ ہر چیز کا احاطہ کرسکیں۔ ذرا دیکھو اسی دنیا میں ہمارے ارد گرد ایسی متعدد چیزیں موجود ہیں جو اپنا وجود رکھتی ہیں لیکن نظر نہیں آتیں۔ بجلی اور ہوا اس کی ٹھوس مثالیں ہیں۔ ایٹم کو بڑی سے بڑی خوردبین نہیں دیکھ سکی لیکن کون ہے جو اس کے وجود سے انکار کرتا ہے؟ اسی طرح اس کائنات میں لازماً ایک سپریم قوت موجود ہے جو سارے نظاموں کو چلارہی ہے، لیکن ہماری کمزور، محدود بصارت اس کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ رہی عقل تو وہ بھی محدود اہلیت کی حامل ہے اورروز مرہ زندگی میں دھوکے کھانا اور غیر معمولی معاملات کا ادراک نہ کرنا، اس کا عمومی مزاج ہے۔ پھر یہ دونوں کمزور اور محدود انسانی صلاحیتیں ظاہر ہے ایک لا محدود و لافانی قوت کا احاطہ کس طرح کرسکتی ہیں؟ اس کا ادراک اور یقین تو دو ہی طرح سے ہوسکتا ہے۔ انسان کی اپنی ذات میں اور کائنات میں جو ان گنت اور بے حدود و بے شمار نشانیاں موجود ہیں، ان کو دیکھے اور پھر ان پر غوروفکر کرے تو لازماً وہ خالق کائنات کے وجود کا قائل ہوجائے گا، اور دوسرا ذریعہ نبیوں کی تعلیم ہے۔ اگر ٹھنڈے دل و دماغ سے، سنجیدگی کے ساتھ مذہبی تعلیمات کا مطالعہ کیا جائے گا اور ان پر تفکر و تدبر کیا جائے گا، تو بھی خدا کی پہچان آسانی سے ہوسکتی ہے۔‘‘

اس شفیق و کریم خاتون کی گفتگو اور محبت آمیز رویے نے شک کے بہت سے کانٹے دل سے نکال دئیے اور مجھے ایک عرصے کے بعد یوں محسوس ہوا جیسے متلاطم موجوںکے درمیان کسی ڈوبتے ہوئے شخص کو اچانک ایک مضبوط تختے کا سہارا مل جائے۔ مایوسی کے اندھیرے چھٹتے ہوئے نظر آئے اور اس رات پہلی بار میں نے خدا کے حضور جھکنے کا شرف حاصل کیا اور میں نے رو رو کر التجائیں کیں۔

’’میرے خدا، میرے عظیم خدا، میرے رحیم خدا تو بہت مہربان اور رحم کرنے والا ہے، تو اپنی مخلوق سے محبت کرتا ہے۔ میں ایک کمزور اور ناداں عورت ہوں اور تباہی کے کنارے پر کھڑی ہوں اور اب وہ لوگ بھی پریشان ہیں جو مجھ سے ہمدردی کا تعلق رکھتے ہیں۔ مجھ پر رحم کر اور مجھے مایوسی کے اندھیروں سے نکال دے۔‘‘میں نے یہ دعا بار بار مانگی اور رو رو کر مانگی۔ نتیجہ یہ کہ دل کا غبار دھل گیا اور یاس کی تاریکیوں میں امید کے جگنو ٹمٹمانے لگے اور حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ذہن و فکر کی دنیا میں ایک نئی زندگی کو طلوع ہوتے ہوئے دیکھنے لگی۔ ایک عزم، پاکیزہ عزم، میرے اعصاب میں بیدار ہونے لگا اور جلد ہی میری صحت بحال ہونے لگی اور زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ میں مکمل صحت یاب ہوکر اپنے گھر آگئی۔ منشیات کی لعنت سے مجھے مکمل چھٹکارا مل گیا تھا اوریہ صرف اور صرف خدائے واحد کی ذات پر یقین و ایمان کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔صحت یابی کے بعد ایک روز میں اپنی اس محسنہ کے گھر گئی جس نے مجھے دہریت اور بے یقینی کے اتھاہ اندھیروں سے نکالنے میں اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔ میں جب اس کے گھر پہنچی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ وہ کچھ ایسے انداز میں عبادت کررہی تھی جس کا مشاہدہ مجھے کبھی نہیں ہوا تھا۔ وہ فارغ ہوئی اور میں نے اس کے طرز عبادت کے بارے میں استفسار کیا تو اس نے بتایا کہ دراصل اس نے اسلام قبول کرلیا ہے، پھر اس نے مجھے اسلام کے بنیادی تعلیمات کا تعارف کرایا اور اسلام کے بارے میں چند کتب عنایت کیں جن میں قرآن کا انگریزی ترجمہ بھی تھا۔

قرآن کے مطالعے نے مجھے یقین و ایمان کی روشن شاہرہ پر لاکھڑا کیا۔ میں اس کتاب سے بے حد متاثر ہوئی۔ اللہ کی وحدانیت، اس کی عظمت و شوکت، اس کی رحمی و کریمی دل پر نقش ہوتی چلی گئی۔ میں نے دیکھا کہ قرآن بار بار عقل کو اپیل کرتا ہے اور انسانی ذات کے اندر اور کائنات میں پھیلی ہوئی مختلف اشیاء اور آثار کی جانب متوجہ کرکے غوروفکر کی دعوت دیتا ہے، جب کہ اس کے برعکس بائبل کی تعلیم یہ ہے کہ عقیدے اور ایمان کا عقل سے کوئی تعلق نہیں۔ چنانچہ قرآن سے میرا تعلق لمحہ بہ لمحہ مضبوط ہوتا چلا گیا۔ مذکورہ خاتون نے اسلام کے بارے میں جو کتابیں دی تھیں، ان کے مطالعے سے ان کے دین کی تعلیمات مزید نکھر کر سامنے آئیں اور جب میں نے پیغمبر اسلام ﷺ کی زندگی کامطالعہ کیا تو حیرت اور خوشی سے کچھ نہ پوچھئے کہ میری کیا کیفیت ہوئی، اور زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ ایک روز میں نے کلمۂ طیبہ پڑھ کر اس نیک خاتون کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا۔

اب میں قریباً روزانہ اس عظیم خاتون کے گھر جاتی ہوں اور وہ مجھے اسلامی زندگی کے کسی نئے رخ سے متعارف کراتی ہے۔ میں اس مشفق و حلیم خاتون کے رویے سے جان گئی ہوں کہ اسلام محبت و اخلاص کا مذہب ہے اور جو اسے ایک پروگرام کے تحت دانستہ اختیار کرتا ہے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرتا ہے، وہ محبت اور اخلاص کا پیکر بن جاتا ہے۔ آج میں بھی اپنی محسنہ کی طرح دینی تعلیمات پر عمل کرتی ہوں اور بے حد مسرور و مطمئن زندگی گزار رہی ہوں۔ کچھ ہی عرصہ پہلے میںنے اپنی سرگذشت کو کتابی صورت میں مرتب کردیا جس کے بعد مجھے سینکڑوں خطوط آئے جن میں لوگوں نے کتاب کی تعریف میں لکھا تھا کہ تمہاری زندگی نے ہمیں جینے کا نیا حوصلہ عطا کیا ہے اور خدا پر ہمارا ایمان پختہ ہوا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر عبدالغنی فاروق

تبصرہ کیجیے