3

دمے کے مریض کی دیکھ بھال

دمے کا عارضہ نہ صرف اس میں مبتلافرد کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے، بلکہ مریض کے اعزا اور تیمارداروں کو بھی تشویش زدہ کردیتا ہے۔ خاص طور پردمے کے شدید دورے کے لمحات میں مریض کی حالت دیکھ کر بعض اوقات اہلِ خانہ کے بھی ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔

دمے کی کیفیت دراصل پھیپھڑوں اور تنفسی اعضا کے خلافِ معمول ردعمل کا نتیجہ ہوتی ہے جس میں تنفسی نالیاں تنگ ہوکر سانس کی آمدورفت کو دشوار بنادیتی ہیں۔ ایسے میں مریض کی حالت غیر ہوجاتی ہے اور وہ شدید بے چینی اور وحشت محسوس کرتا ہے۔ اگر آپ کے گھر میں کسی فرد کو دمے کی شکایت لاحق ہے تو یہاں مریض کی تیمارداری کے لیے کچھ مفید رہنما اصول دئیے جارہے ہیں۔

تنفس کی دشواری کی صورت میں

پھیپھڑوں کے پھیلنے میں کمی آجانے اور بے چینی کی وجہ سے دمے کے مریض کی سانس بے تریب اور تیز ہوجاتی ہے۔ ایسی کیفیت میں:

٭ مریض کو ایسے انداز میں بٹھایا لٹا دیجیے، جس میں وہ آسانی سے سانس لے سکے۔ مریض کی پوزیشن ایسی ہونی چاہیے جس میں شکم کے عضلات آسانی سے پھیل سکیں۔

٭ مریض کو تنفسی پھوا کے استعمال میں مدد دیجیے۔ اِن ہیلر کے استعمال سے مریض کو گہرا سانس لینے میں آسانی ہوجاتی ہے۔

٭ مریض کے جسم اور ذہن کو پُر سکون بنانے کی تکنیک استعمال کرنے کی ترغیب دیجیے۔ ان سے مریض کی بے چینی دور ہوسکتی ہے۔

٭ مریض کی شعوری کیفیت اور ہوش و حواس کا بغور جائزہ لیتے رہیے کہ کہیں اس پر غنودگی یا غشی تو طاری نہیں ہورہی ہے۔ ایسی صورت میں فوراً طبی امداد کا انتظام کیجیے۔

سینے کی خشکی اور بلغمی رکاوٹ کی صورت میں

٭ مریض کو کھانسنے میں مدد دیجیے۔ کھانسنے سے تنفسی نالیاں کھل جاتی ہیں۔

٭ مریض کو سیدھا بٹھا دیجیے یا ۴۵ درجے کے زاویے تک پیچھے ٹیک لگوادیجیے۔ مریض کی پوزیشن تبدیل کرنے سے بلغم بھی اوپر نیچے حرکت کرتا ہے۔

٭ مریض کے کمرے میں گردوغبار یا دھوئیں کا گزر نہیں ہونا چاہیے۔

٭ مریض کے کمرے کے ماحول کو مرطوب رکھئے۔

٭ بلغم کی صورت میں مریض کو کھانسی روکنے کی کوئی دوا نہیں دینی چاہیے۔ کھانسی بلغم کے اخراج کا ایک قدرتی ذریعہ ہے۔

٭ مریض کو دن میں ڈیڑھ سے دو لیٹر پانی پینے کی ترغیب دیجیے۔ اس سے بلغم کے اخراج میں مدد ملتی ہے۔

٭ بلغم باہر نکالنے کے بعد مریض کو کلی اور غرارے کے لیے کہنا چاہیے تاکہ زبان اور منھ میں بلغمی رطوبت کا ذائقہ موجود نہ رہے۔

تھکن اور نقاہت کی صورت میں

آکسیجن کی مناسب مقدار نہ ملنے کی وجہ سے دمے کا مریض تھکن اور کمزوری کی شکایت کرتا ہے۔ ایسی صورت میں:

٭ مریض کے لیے کافی نیند اور آرام کو یقینی بنائیے۔ مریض کو کام کے دوران بھی وقفہ کرکے آرام کرنے کی ترغیب دیجیے۔

٭ مریض کو سانس کی مشقیں (یوگا) کرنے کی ترغیب دیجیے۔ ان سے آکسیجن کی مقدار بڑھ کر توانائی فراہم ہوتی ہے۔

٭ روز مرہ کے کاموں میں مریض کا ہاتھ بٹائیے تاکہ وہ تھکن کا شکار نہ ہو۔

٭ مریض کی ضرورت کی اشیا اس کی پہنچ میں رکھئے تاکہ اسے جسمانی حرکت کی کم سے کم ضرورت پڑے۔

تعدیے کا خطرہ

دمے کے مریض میں تنفسی تعدیوں کا امکان ہوتا ہے۔ اسیٹرائڈ ادویہ کے استعمال سے بھی یہ امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس خطرے سے بچاؤ کے لیے:

٭ مریض کی قوتِ مدافعت بڑھانے کے لیے اسے مقوی غذائیں استعمال کرائیے۔

٭ وقتاً فوقتاً مریض کا جسمانی درجۂ حرارت (ٹمپریچر) لیتے رہیے۔ بخار کی صورت میں فوراً معالج کے پاس لے جائیے۔

٭ مریض کو اچھی طرح کھانسنے اور گہرا سانس لینے کی ترغیب دیجیے۔ اس سے تنفسی نالیاں صاف رہتی ہیں اور تعدیے کاخطرہ کم ہوجاتا ہے۔

٭ مریض کو پانی اور مشروبات زیادہ استعمال کرنے کے لیے کہیے۔

٭ مریض کو تنفسی پھوار (ان ہیلر) معالج کی ہدایات کے مطابق باقاعدگی سے استعمال کرائیے۔

٭ دمے کے مریض کو تنفسی تعدیوں میں مبتلا افراد سے میل جول رکھنے سے روکنا چاہیے۔

٭ ان ہیلر استعمال کرنے کے بعد مریض کو منھ اچھی طرح صاف کرنے کے لیے کہیے، تاکہ کسی قسم کی خراش یا سوزش کا امکان نہ رہے۔

خوف اور وحشت کی کیفیات میں

دمے کے دورے کے دوران مریض شدید خوف اور گھبراہٹ کا اظہار کرتا ہے جیسے وہ مرنے والا ہو۔ ایسی کیفیت میں:

٭ مریض کو تسلی اور حوصلہ دیجیے کہ یہ تکلیف عارضی اور گزرجانے والی ہے۔

٭ مریض کو اپنی کیفیت اور احساسات بیان کرنے کی ترغیب دیجیے۔ اس سے اس کی بے چینی اور تشویش میں کمی ہوگی۔

٭ دورے کے وقت مریض کو تنہا نہ چھوڑئیے۔ کسی کے پاس موجود ہونے سے مریض کا خوف کم ہوجاتا ہے۔ مریض کی پیٹھ سہلانے سے اسے آرام محسوس ہوتا ہے۔

٭ دورے کے بعد مریض کو مناسب آرام کی ترغیب دیجیے تاکہ اس کی صحت اور توانائی بحال ہوسکے۔

٭ مریض کو دمے کے مرض کے حوالے سے مستند اور عام فہم معلومات فراہم کیجیے۔ مرض کے بارے میں جان لینے سے مریضوں کی تشویش کم ہوجاتی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
؟؟؟

تبصرہ کیجیے