6

ادرک

ادرک سارا سال اگنے والی نباتات میں سے ہے جس کی شاخیں موٹی، سخت اور زیر زمین ہوتی ہیں۔ اس کے پتے اور ڈنٹھلوں میں سے کاٹنے یا چھیلنے پر مخصوص قسم کی بو آتی ہے۔ اس کی جڑ نما گانٹھوں کو پتے خشک ہونے پر زمین سے کھود کر نکالا جاتا ہے۔ دھوپ میں سکھائے ہوئے ادرک کو سونٹھ کہا جاتا ہے۔

سنسکرت کے ادب اور چین کی طبی تحریروں میں ادرک کا تذکرہ جا بجا ملتا ہے۔ اس کاسنسکرت نام سنگابیرا، یونانی نام زنگی بیری اور لاطینی نام زنگی بیر سے ملتا ہے۔ ادرک کا ہندوستان میں دوا کے طور پر استعمال ویدک دور سے ہورہا ہے۔ تب اسے مہا آوشدھی یعنی عظیم دوا کہا جاتا تھا۔ قدیم اطباء اسے دافع بلغم اور مخرج ریاح کی حیثیت سے استعمال کرتے تھے۔ یونانی طبیب گیلن، ادرک کو جسم کی فاسد رطوبتیں صاف کرنے کے لیے استعمال کراتا تھا۔ وہ اسے جسم میں بلغم کی کثرت سے لاحق ہونے والے فالج کے علاج کے لیے بھی مریضوں کو دیا کرتا تھا۔ حکیم بو علی سینا اسے محرک باہ کے طور پر استعمال کیا کرتا تھا۔ صدیوں پہلے پوموز نے گٹھیا کے علاج کے لیے اسے متعارف کرایا۔

ادرک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا اصل وطن ہندوستان ہی ہے جہاں سے یہ ابتدائی ادوار میں چین میں متعارف ہوا۔ لگتا ہے کہ ازمنہ قدیم ہی سے ہندوستان اور چین میں یہ مسالے اور دوا کی حیثیت سے مقبول تھا۔ یورپ میں لوگ اس سے پہلے صدی عیسوی میں آگاہ ہوئے۔

تازہ ادرک کا کیمیائی تجزیہ بتاتا ہے کہ اس کے ایک سو گرام میں 80.9 فیصدرطوبت، 2.3 فیصد پروٹین، 0.9فیصد چکنائی اور 12.3فیصد کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں۔ اس کے معدنی اور حیاتینی اجزاء میں کیلیشم، فاسفورس، آئرن، کیروٹین، تھایامین، ریبوفلاوین، نایاسین اور وٹامن سی شامل ہیں۔ اس کی ایک سو گرام کی غذائی صلاحیت 67کیلوریز ہے۔

ادرک اپنے اجزائے ترکیبی کے لحاظ سے مختلف اقسام کا ہوتا ہے۔ مختلف علاقوں، زرعی اور موسمی کیفیات، خشک کرنے کے طریقوں، پیکنگ اور ذخیرہ کرنے کے انداز، ان سب کی وجہ سے اس کے خواص میں فرق آجاتا ہے۔ کیمیائی تجزیوں کے مطابق برصغیر میں ۲۶ اقسام کا ادرک پایا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر اس میں اڑجانے والا تیل، اولیوریزین (کشید کیا ہوا ایسی ٹون) پانی کا جوہر، کولڈالکوحل، نشاستہ، راکھ، پانی میں حل ہوجانے والی راکھ، تیزاب میں حل ہوجانے والی راکھ اور کھار (الکلی) پائے جاتے ہیں۔

بھاپ پر اس کا جوہر کشید کرنے پر یا خشک اور کوٹے ہوئے ادرک کو نچوڑنے پر اس میں سے ایک زرد رنگ کا تیل برآمد ہوتا ہے۔ تیل میں سے ایک خوشبو نکلتی ہے جو گرم مسالوں سے نکلنے والے تیلوں کی طرح تیز اور ناگوار نہیں ہوتی۔ اس تیل کی خوشبو دیر تک برقرار رہتی ہے۔

شفا بخش قوت اور طبی استعمال

ہندوستان اور مشرق بعید میں ادرک کو وسیع پیمانے پر دیسی ادوایات میں شامل کیا جاتا ہے۔ کھانے میں یہ محرک، قاطع بلغم اور بیرونی استعمال پر یہ پٹھوں کے درد سے نجات دیتا ہے۔ دیگر متعدد مسالوں کی طرح ادرک میں بھی محرک باہ اجزاء پائے جاتے ہیں۔

نظام ہضم کی خرابیاں

بدہضمی، ریاح، قولنج، قے، تشنجی اور دیگر درد (معدہ و انتڑیاں) جن کے ساتھ بخار نہ ہو، میں ادرک کا استعمال مفید اور ہمہ گیر ہے۔ تازہ ادرک کا ایک ٹکڑا باقاعدگی سے ہر کھانے کے بعد چبانا مذکورہ بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس کا یہ تحفظاتی اثر وافر مقدار میں پائے جانے والے لعاب دار اور متحرک کرنے والے انزائمز اور اڑجانے والے تیل کی بدولت ہے۔

تازہ ادرک کا آدھا چائے کا چمچہ پانی، ایک چائے کا چمچہ تازہ لیموں کا رس، پودینے کا پانی اور اسی مقدار میں شہد ملا کر دینا بدہضمی، متلی، صفرا کی وجہ سے قے، مرغن غذا کی وجہ سے ہونے والی بدہضمی، زیادہ تلی ہوئی اشیاء کھانے سے معدے کی خرابی، صبح کے وقت اضمحلال، یرقان اور بواسیر میں شافی علاج ہے۔ ان بیماریوں میں مذکورہ مکسچر دن میں تین بار لینا چاہیے۔

کھانسی اور زکام

ادرک مختلف قسم کی کھانسی اور زکام میں عمدہ علاج ہے۔ ادرک سے کشید کیا ہوا رس شہد کے ساتھ دن میں تین چار مرتبہ لینا سردی، زکام اور کھانسی میں مفید ہے۔ سردی اور زکام کی صورت میں ادرک کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر ایک کپ پانی میں ابالا جاتا ہے۔ ابالنے اور چھان لینے کے بعد اس پانی میں آدھا چائے کا چمچہ چینی شامل کرکے گرم گرم پیا جاتا ہے۔ ادرک کی چائے بنانے کے لیے ابلتے ہوئے پانی میں چائے کی پتی ڈالنے سے پہلے ادرک کے ٹکڑے ڈال دئے جاتے ہیں۔ یہ جوشاندہ یا چائے بار بار سردی اور زکام اور ان سے متعلقہ بخار میں موثر علاج ہے۔

نظام تنفس

ایک کپ میتھی کے جوشاندے میں تازہ ادرک کا جوس ایک چائے کا چمچہ اور ذائقہ بہتر بنانے کے لیے شہد کا اضافہ خوب پسینہ لاتا ہے اور انفلوئنزا میں بخار کو کم کرتا ہے۔ یہ برونکائٹس، دمہ، کالی کھانسی اور پھیپھڑوں کی تپ دق میں عمدہ علاج ہے۔

حیض کی بے قاعدگی

حیض کی بے قاعدگی میں تازہ ادرک کا ایک ٹکڑا کچل کر ایک کپ پانی میں چند منٹوں تک ابالنے کے بعد چینی ملا کر کھانے کے بعد (دن میں تین بار) پینا تکلیف دہ یا بے قاعدہ حیض (سرد ہوا یا ٹھنڈے پانح کے غسل کی وجہ سے) کی شکایت دور کرتا ہے۔

درد

ادرک بے مثال دافع درد ہے۔ اور ہر قسم کے درد کا علاج ہے۔ سر درد میں ادرک کا مرہم (خشک ادرک کو کسی پتھر پہ تھوڑے سے پانی میں رگڑ کر تیار کرکے) پیشانی پر لگاتے ہیں۔ اسی مرہم کو جبڑوں(مسوڑھوں) پہ لگانے سے دانت درد کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ کان درد کی صورت میں تازہ ادرک کے رس کے چند قطرے کان میں ٹپکانے سے درد دور ہوجاتا ہے۔

دیگر استعمال

ادرک دو حالتوں میں دستیاب ہوتا ہے۔ یعنی تازہ اور خشک۔ دونوں صورتوں میں ہی موثر ہے۔ چونکہ ادرک کا ذائقہ زیادہ خوشگوار نہیں ہوتا ہے اس لیے اسے پکوان میں شامل کرتے ہوئے مناسب مقدار ہی پیش نظر رکھی جاتی ہے۔ مغربی ممالک میں اسے باورچی خانے میں خوب استعمال کیا جاتا ہے۔ ادرک کی روٹی، بسکٹ، کیک، پڈنگ، سوپ اور اچار یورپ میں بہت مقبول ہیں۔ یہ کری پاؤڈر کا لازمی جزو ہے۔ چینی پکوانوں میں ادرک مسالہ کی حیثیت سے وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ادرک سے حاصل ہونے والا تیل خوشبوؤں اور ایسنس تیار کرنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا جوہر اولیو ریزن ادویات بنانے اور ذائقہ بڑھانے کے کام آتا ہے۔

ایک مجرب نسخہ

لہسن زمانہ قدیم سے مختلف بیماریوں کے علاج میں استعمال ہورہا ہے۔ جسمانی دماغی طاقت کے لیے بھی اسے مختلف طریقوں سے کھلایا جاتا ہے۔ گنٹھیا، ریح کے درد، نمونیا، بھوک نہ لگنا، لقوہ اور بلغمی امراض میں یہ فائدہ مند ہے۔ اسی طرح سرکہ کو طب نبویؐ میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اس کے بھی کئی فوائد ہیں۔ عام طور پر پیاز او ر سرکہ برسات میں استعمال کیا جاتا ہے تاکہ وبائی اثرات سے بچاؤ ہو۔ یہ کھانے کو ہضم کرتا اور بھوک بڑھاتا ہے جلدی بیماریوں میں مختلف ادویہ کو سر کے میں پکا کر استعمال کیا جاتا ہے سرکہ فوراً بدن میں جذب ہوکر شفا بخش عمل شروع کردیتا ہے۔

ہمارے پیارے رسول ﷺ کو شہد بہت مرغوب تھا۔ جدید سائنسی تحقیق کے مطابق بھی شہد مکمل غذا ہے۔ یہ جسم کے اندر چھپے ہوئے فاسد مادّے تحلیل کرکے معدے کی غلاظت کو دور کرتا ہے۔ جسم بھی کئی امراض سے محفوظ رہتا ہے۔ یہ پھیپھڑوں کی بیماری میں بے حد مفید ہے۔ان تینوں اشیاء کی افادیت کے پیش نظر حکمانے یہ نسخہ ترتیب دیا۔ ایک پیالہ سرکہ اور ایک پیالہ شہد میں لہسن کے آٹھ دانے چھیل کر ملائیے۔ انھیں گرائنڈر میں ڈال کر اچھی طرح حل کیجیے۔ اور آٹپ دن فریج کے نچلے خانے میں رکھئے۔ نویں دن سے صبح نہار منہ ایک بڑا چمچہ یہ آمیزہ پی کر آدھ گھنٹے بعد ناشتہ کرلیجیے۔ صرف پندرہ دن بعد ہی مثبت اثرات ظاہر ہوں گے۔

اس میں کسی چیز کی کمی بیشی نہ کریں۔ یہ مکمل نسخہ ہے۔ سرکہ پھلوں کا خریدئیے، سیب یا انگور کا ہو تو بہتر ہے۔ شہد خالص ہونا چاہیے ورنہ فائدہ نہیں ہوگا۔ اصل میں یہ نسخہ دل کی بندنالیاں کھولنے، بلڈ پریشر دور کرنے اور انجائنا کے درد کے لیے مفید ہے۔ جوڑوں کے درد میں بھی فائدہ مند ثابت ہوگا اور اس کے استعمال سے فالتو چربی بھی کم ہوگی۔

شیئر کیجیے
Default image
ایچ کے باکھرو

تبصرہ کیجیے