خوش گوار تعلق کے لیے قرآنی ہدایات

اپنے ماننے والوں کو ذہنی اور اخلاقی اعتبار سے نہایت بلند مقام پر دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے وہ انہیں جہاں بہت ساری اخلاقی خوبیوں کو اپنے اندر بیدار کرنے کی تلقین کرتا ہے وہیں اس بات کی بھی ہدایت دیتا ہے کہ اخلاقی خرابیاں فرد اور سماج میں پیدا نہ ہوں۔ وہ تکبر اور حسد سے بچنے کی ہدایت دیتا ہے، احسان کرنے پر ابھارتا ہے مگر احسان جتانے سے منع کرتا ہے۔ سچ بولنے کی حمایت کرتا ہے مگر کسی پر الزام لگانے سے روکتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ اسلام ایک ایسا معاشرہ دیکھنا چاہتا ہے جہاں لوگ بھائی بھائی کی حیثیت سے رہیں اور ایک دوسرے سے محبت اور خلوص کا معاملہ کریں اسلام کی دی ہوئی یہ ہدایات وہ ہیں جو ایک طرف تو خاندان کے نظام کو مستحکم اور مضبوط بناتی ہیں دوسری طرف معاشرے کو مضبوط اقدار کا حامل اور باہم مربوط کرتی ہیں۔ ساتھ ہی وہ ان تمام خوبیوں کو افراد کے اندر پیدا کرنا چاہتا ہے جو اس میں معاون و مددگار ہوں اور ان برائیوں سے روکتا ہے جو اس راہ میں رکاوٹ بنیں۔ قرآن کریم کی سورہ حجرات میں ان باتوں کا ذکر ہے جو افراد کو اخلاقی برائیوں سے بچا کر مضبوط و مستحکم سماج اور معاشرے کی تعمیر و تشکیل کے قابل بناتی ہیں۔ اس سورہ میں نو باتوں کا ذکر ہے:
۱- ناپسندیدہ خبر کی تحقیق کی جائے
۲- باہم صلح کرائی جائے
۳- زندگی میں عدل اختیار کیا جائے
یہ تین ایسی باتیں ہیں جنھیں اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان کا تعلق اگرچہ ہماری انفرادی زندگی سے ہے لیکن ان کاموں کی انجام دہی یا عدم انجام دہی سے دیگر افراد پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری صورت میں سماج میں انتشار، بدامنی اور لڑائی جھگڑے کو فروغ ملتا ہے اور ظاہر ہے اسلام اس بات کو پسند نہیں کرتا۔
اس کے ساتھ ہی چند باتوں سے روکتا ہے اور یہ باتیں ایسی ہیں کہ انسان عام طور پر ان میں بڑی آسانی کے ساتھ پھنس جاتا ہے اور جب ایسا کرتا ہے تو افراد کے دل آپس میں پھٹ جاتے ہیں، ایک دوسرے کے لیے دل میں نفرت کے جذبات بھڑکنے لگتے ہیں اور پھر تعلقات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ پہلے خاندان ٹوٹتے ہیں اور معاشرہ بکھراؤ کی زد میں آجاتا ہے۔ ان باتوں کا تعلق ہماری ذاتی زندگی سے ہے اور یہ ایسی برائیاں ہیں جن کا لوگوں کو بعض اوقات احساس تک نہیں ہوتا حالاں کہ یہ بڑی برائیاں ہیں اور انسانوں کے نیک اعمال کو گھن کی طرح ختم کردیتی ہیں۔ ذرا دیکھئے یہ برائیاں کیا ہیں؟
۱- ایک دوسرے کا مذاق اڑانا
۲- ایک دوسرے کو طعنہ دینا
۳- برے اور ناپسندہ نام سے پکارنا
۴- ایک دوسرے کی غیبت کرنا
۵- کسی کی ٹوہ میں لگنا
۶- ایک دوسرے سے بدگمانی
٭ سماج میں اکثر لگائی بجھائی کرنے والے لوگ نظر آجاتے ہیں۔ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ غلط خبر پھیلا کر لوگوں کو آپس میں لڑا دیا جائے اور وہ گری ہوئی اخلاقیات رکھنے والے لوگ اسی سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں اور اپنے مفادات بھی لوگوں کو باہم لڑا کر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ اس طرح کی اڑائی گئی باتوں سے طیش میں آکر ہم کوئی اقدام کریں۔ وہ یہ ہدایت دیتا ہے کہ اگر کوئی فاسق مزاج آدمی کوئی خبر لے کر آئے تو طیش میں آکر اقدام کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کرلی جائے کہ بات صحیح ہے بھی یا نہیں۔ کیوں کہ اگر جھوٹی بات کو درست مان کر انسان اقدام کر بیٹھے تو بعد میں شرمندگی اور نقصان دونوں کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ جب کہ تحقیق کی صورت میں آدمی نقصان اٹھانے اور نقصان پہنچانے سے محفوظ رہ کر ان لوگوں کو بھی پہچان سکے گا جو اسے دوسروں سے لڑا کر اپنا مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ قرآن اس بات کو یوں بیان کرتا ہے۔
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔‘‘
٭ باہمی تنازعات کسی بھی خاندان یا معاشرے میں ہوسکتے ہیں، اسلام چاہتا ہے کہ وہ آپسی لڑائی تک نہ پہنچیں اور باہمی صلح کے ذریعہ حل کرلیے جائیں۔ اس سے افراد، سماج اور حکومتی نظام تمام ہی کا فائدہ ہے۔ وہ معاشرہ اور خاندان دنیا کی نظر میں بھی اور اسلام کی نظر میں بھی بہترین ہے جہاں جھگڑے باہم مل بیٹھ کر طے کرلیے جائیں۔ اسلام اسے صلح کہتا ہے اور صلح کو سراپا خیر قرار دیتا ہے۔ اسلام سماج کو یہ ذمے داری سونپتا ہے کہ وہ آگے آئے اور دو لڑتے افراد کے درمیان صلح کرائے او رہدایت دیتا ہے کہ صلح میں انصاف قائم کیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ کمزور کو دبا کر طاقت ور کو محض اس کی طاقت کی وجہ سے اس کی حمایت مل جائے۔ اگر زیادتی کرنے والا طاقتور ہے تب بھی اسے انصاف کے تقاضوں کے آگے سرنگوں کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس سلسلے میں اسلام یہاں تک کہتا ہے کہ اگر وہ نہ مانے تو سماج اپنی سماجی طاقت کے ذریعے اسے انصاف کو قبول کرنے کے لیے مجبور کرے۔ اگر سماج ایسا کرتا ہے تو وہ اسے انصاف کے قیام کا نام دیتا ہے اور ان لوگوں کی ستائش کرتا ہے جو قیام انصاف میں مددگار بنیں۔ اسلام کا یہ اصول سماج کی جھوٹی یونٹ خاندان پر بھی نافذ ہوتا ہے اور وسیع صورت میں معاشرے پر بھیاللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ترجمہ: ’’اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ جائیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ اگر ان میں سے کوئی ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے۔ پھر اگر وہ پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرادو۔ اور انصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘
اس کے بعد کہا گیا ہے:
ترجمہ: ’’اہل ایمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘
اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ باہم صلح و مصالحت کرنا اور کرانا ایمانی بھائی چارے کا تقاضہ ہے اور دوسری طرف ایسا کرنے والے اللہ کی رحمت کے حق دار ہیں۔ اس آیت کے تناظر میں اگر ہم اپنی سماجی و خاندانی زندگی کاجائزہ لیں تو بہ خوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہم اللہ کی رحمت سے کس لیے محروم ہیں۔
٭ ایک دوسرے کا مذاق اڑانا، کسی کو طعنے دینا اور برے ناموں سے پکارنا ایسی حرکت ہے جس سے دل ٹوٹ جاتے ہیں۔ اس سے بڑی بات یہ ہے کہ انسان ایسا بعض اوقات بے خیالی میں اور عادت سے مجبور ہوکر کر گزرتا ہے۔ اسے اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ اس کے اس عمل سے کسی کا دل ٹوٹ سکتا ہے اور اس کا یہ عمل خود اس کی آخرت تباہ کر سکتا ہے۔ یہ کتنا خطرناک ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اس حرکت کو ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنے کے مذمتی الفاظ سے بیان کیا گیا ہے۔ قرآن کے الفاظ دیکھئے!
ترجمہ: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے، جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہ ظالم ہیں۔‘‘
٭ بدگمانی، غیبت اور تجسس ایسی برائیاں ہیں جو دلوں کو تو توڑتی ہی ہیں ساتھ ہی انسان کو بھی سماجی رسوائی سے دو چار کرتی ہیں۔ ان برائیوں کے اثرات اتنے ہمہ گیر ہیں کہ ہماری ذاتی زندگی سے لے کر پورے سماج تک کو بری طرح متاثر کرتی ہیں۔ بھائی بھائی اور شوہر بیوی کا رشتہ بدگمانی اور تجسس کے سبب ٹوٹ جاتا ہے۔ رشتے پارہ پارہ ہونے لگتے ہیں اور خاندان ٹوٹ جاتے ہیں۔ جب کہ غیبت کو مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مانند کہا گیا ہے۔ کیا ہم میں سے کوئی ہے جو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے؟ ہرگز نہیں! مگر عملی زندگی میں تو ہم اکثر کھاتے ہیں۔ یہ بیماری ہمارے اندر بہت زیادہ ہے۔ شادی کی محفل ہو یا تعزیت کی مجلس یا پھر عام ملاقاتیں۔ اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اس برائی سے نہیں بچ پاتے۔ اس کی وجہ ہمارے شعورو احساس کا کمزور ہونا ہے۔ ہم اس برائی کی شناعت سے واقف نہیں اس لیے بڑی آسانی سے اس کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں۔ ہمیں اپنے جائزے کی اور مسلسل جائزہ لیتے رہنے کی ضرورت ہے۔ آپ سورہ حجرات کا مطالعہ کریں تو ان باتوں کو بڑی تفصیل سے پائیں گے، اور دوران مطالعہ اندازہ ہو جائے گا کہ یہ باتیں ایک صالح فرد مضبوط خاندان اور مضبوط سماج کے لیے کتنی اہم ہیں۔ آئیے اس کا مطالعہ کریں اور اپنی زندگی کو ان ہدایات کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں جو قرآن نے ہمیں دی ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
زینب حسین غزالی