5

بیوی کے لیے اہم ہدایات

گھر کیا ہے؟ یہ وہ دل ہے جہاں ہر طرف سے بے کار خون آتا ہے اور کارآمد خون میں تبدیل ہوکر باہر نکلتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جو تھکاوٹ، پریشانی، غم، بھوک، پیاس کو رفع کرتا ہے اور سب کو تازہ دم، پرامید اور پرجوش بناکر اپنے اپنے کام پر بھیجتا ہے۔ یہ وہ اساس ہے جو آگے لڑنے والی فوج کو راشن، دوا اور اسلحہ جات فراہم کرتی ہے خواہ جھونپڑی ہو یا خواہ بنگلہ ہو، گھر وہ ہے جہاں سے جسم کو راحت اور خوشی اور روح کو محبت اور ولولہ کی فراہمی ہوتی ہو۔
ضروری ہے کہ گھر والی اپنے گھر کو ایسا سنوارے کہ یہ مقاصد پورے ہوسکیں۔ وہ گھر جنت ہے جس میں مادی ضروریات بھی موجود ہوں۔ اور ذہنی ضروریات بھی۔ اسلئے گھر والی کو خانہ داری… بالفاظ دیگر خانگی سیاست… میں ماہر ہونا ضروری ہے۔ سیاست کے معنی یہ نہیں کہ دھوکا، فریب، جھوٹ، بے ایمانی، ظلم اور ہر نیک و بد کے ذریعہ سے اپنا کام نکال لینا خواہ دوسروں کا کچھ بھی نقصان ہو جائے۔ سیاست کے معنی ہیں عقل، خوش تدبیری، خوش سلیقگی اور بڑے مقصد کے لیے قربانی۔
شادی لڑکی کے اور ساتھ ہی لڑکے کے سر پر گھر کی ملکہ یا گھر کے سربراہ کا تاج رکھ دیتی ہے لیکن سر کو تاج کے لائق بنانا ہر کس و ناکس کو نہیں آتا۔ اس لیے اسے سب سے زیادہ توجہ اپنے سرتاج کی طرف دینی ہوگی جو کام کرنے ہیں انہیں اچھی طرح سمجھ لیا جائے اسی طرح لڑکے کو بھی اپنی ذمے داریوں کو سمجھنا چاہیے۔
شوہر پر فرض ہے کہ گھر کی مادی ضروریات کے لیے آمدنی حاصل کرے اور آمدنی حاصل کرنا آسان نہیں۔ زراعت ہو یا تجارت، فن ہو یا ملازمت، لازم ہے کہ کام کرنے والے کا دل نہ صرف خوش ہو بلکہ زیادہ سے زیادہ کمانے کی امنگ اور ولولہ سے پر ہو، اگر اسے یہ آمدنی گھر پر خرچ کرنی ہے تو انصاف کا تقاضا ہے کہ گھر اسے خوشی، سکون اور ولولہ مہیا کرے۔ اگر اسے یہ چیزیں گھر سے نہ ملیں گی تو شاید وہ ان کی تلاش میں کہیں اور نکل کھڑا ہوگا اور خدا نہ کرے اس کے قدم غلط سمت اٹھ جائیں۔ گھر سے یہ چیزیں اسی وقت مل سکتی ہیں جب بیوی فرماں بردار ہو۔ نیک سیرت اور پاک دامن ہو۔ بد مزاجی اور زبان درازی سے کوسوں دور ہو۔ فطرت کا قانون ہے کہ شوہر اسی وقت گھر کے معاملات اور خصوصاً مالی معاملات میں دلچسپی لے گا جب اسے گھر کا بادشاہ بلکہ تسلیم کیا جائے گا۔ جب اس کی لیڈری بلاشرکت اور بلا بحث اور بلا چوں و چرا ہو۔ جب اس کا حکم بیوی اور بچوں پر فوراً واجب التعمیل ہو ان ابتدائی باتوں کے بعد میری درج ذیل نصیحت کو غور سے سنو اور عمل کرنے کی کوشش کرو۔
(1) اس کے غصہ کو اکثر برداشت کیا جانا چاہیے اور لاٹھی کا جواب تلوار سے نہ دینا چاہیے۔ ایک مشینی چولہے پر ہدایت یوں لکھی تھی ’’اوپر کا سوراخ کھلا رہنے دو۔ جب فاضل گرمی خارج ہوجائے گی، سوراخ خود بخود بند ہوجائے گا‘‘ ایک ہوشیار بیوی نے یہ ہدایت اپنے گرم مزاج شوہر پر چسپاں کردی۔ جب وہ زیادہ غصہ میں آتا تھا اس کے منہ سے فاضل گرمی خارج ہونے لگتی تھی۔ اس کے بعد سوراخ خودبخود بند ہوجایا کرتا تھا۔
(2) جب تمہیں غصہ کرنے کی ضرورت پیش آئے تو چوبیس گھنٹے پہلے تفصیلی پلان بنالو کہ تمہیں کس پر غصہ کرنا ہے۔ کس وقت، کتنا، کیوں، کن الفاظ میں اور کتنی دیر تک۔ پلاننگ کے بغیر غصہ کا نتیجہ ہمیشہ غلط آئے گا۔ جب غصہ آئے تواگر کھڑی ہو توبیٹھ جائو۔ اگر بیٹھی ہوتو لیٹ جائو۔ اگر لیٹی ہو توسو جائو۔ غصہ کبھی ارجنٹ نہیں ہوتا۔
(3) شوہر کے کام میں اس کے معاملات میں اس کی پسند و نا پسند میں، اس کی دلچسپی میں دلچسپی لو… عملی دلچسپی۔ ایک لڑکی نے شادی کی انگوٹھی دکھاتے ہوئے کہا ’’مجھے اس کو حاصل کرنے کے لیے فارسی زبان کے ہر عظیم شاعر کا نام، خاندان، حالات زندگی اور اس کے بہترین اشعار یاد کرنے پڑے کیونکہ میرا منگیتر فارسی شاعری سے بڑی دلچسپی رکھتا تھا۔‘‘
(4) اپنی عملی زندگی میں ریڈیو سننے کی کوشش نہ کرو ریڈیو ہو جو کسی کی نہیں سنتا۔ بس اپنی ہی گائے جاتا ہے۔
(5) اسے محسوس ہونے دو بار بار اور ہر بار نئے انداز میں کہ تمہیں اس کی ضرورت ہے، تمہیں اس کی ضرورت ہے، تمہیں اس سے محبت ہے۔ کبھی کبھی تم پیش قدمی کرو۔
(6) اگر وہ اپنی تعریف آپ کررہا ہے تو سمجھ جائو کہ وہ تعریف کا بھوکا ہے۔ تمہاری طرف سے۔
(7) جب وہ ناکامی اور افتاد حالات سے نڈھال ہو تو اس کی ہمت بڑھا تو اور اس کی کامیابی کے دنوںکا ماضی اور مستقبل کے اس کے منصوبوں کا ذکر کرو۔
بیوی بہترین تحفہ شوہر کی خدمت میں وہ اچھی یادیں اور وہ اچھے تصورات ہیں جو بیوی کے بدولت اسے نصیب ہوں۔ اپنی طرف سے وہ واقعات تخلیق کرو جو اچھی یاد چھوڑ جائیں اور مستقبل کو اتنا دلکش بناکر پیش کرو کہ حوصلہ ہمت اور ارادہ پیدا ہوجائے۔
(8) تنقید بڑی کارگر چیز ہے لیکن اس کے لیے وقت، طریقہ اور الفاظ کا صحیح انتخاب ہر شخص کو نہیں آتا۔ یہ تدبیریں صرف شوہر ہی کے ساتھ نہیں بلکہ گھر اور باہر کے دوسرے افراد کے ساتھ بھی آزمانا ضروری ہے کہ وہ سب تمہارے دوست بن جائیں۔
ساس اور نند، خصوصاً بیوہ ساس یا بیوہ نند کے ساتھ سعادت اور خدمت کے ساتھ پیش آنا، ان کی دعائیں لینا ہے اور بے کسوں اور بے بسوں، مصیبت زدوں کی دعائیں درگاہ الٰہی میں سب سے زیادہ مقبول ہوتی ہیں اور اپنے والدین کا نام روشن کرنا کہ انہوں نے تمہیں ایسی تربیت دی۔
ساس اور نند سے اقتدار مت چھین لینا کہ سارے اہم فیصلے ان کے مشورے اور ان کی خوشی سے ہونے چاہئیں۔ تم گھر کی مالکہ ہو بیشک، لیکن مستقبل میں۔ ابھی وہ گھر کی مالکہ ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ابو ظفر زین

تبصرہ کیجیے