6

ازدواجی زندگی کے لئے نقصان دہ باتیں

اسلام جس نظام حیات کی کی تشکیل چاہتا ہے ہے اس میں سب سے اہم یونٹ، خاندان یا خاندانی نظام ہے۔
جس معاشرے میں خاندانی نظام مضبوط اور مستحکم ہوگا وہ معاشرہ اتنا ہی مضبوط اور پائیدار ہوگا۔ایک خاندان اسی وقت وقت خوشحال اور مستحکم ہوسکتا ہے جب گھر کے افراد خانہ کے درمیان آپس میں محبت اور ایک دوسرے کا احترام پایا جاتا ہو۔
خاندان کی تشکیل میں سب سے اہم کردار شوہر اور بیوی کا ہوتا ہے جب شوہر اور بیوی کے آپسی تعلقات خوشگوار ہوں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت عزت اور احترام پایا جائے تو وہی مضبوط خاندان ہوتا ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالی نے نے سب سے خوبصورت رشتہ شوہر اور بیوی کا بنایا ہے۔ لیکن اس خوبصورت رشتے کو کو نبھانا کوئی آسان کام نہیں۔ اس کے کچھ تقاضے اور کچھ اصول ہیں، جتنا خوبصورت یہ رشتہ ہے اتنا ہی نازک بھی ہے اور مضبوط بھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نے فرمایا ہم نے دو محبت کرنے والوں میں نکاح سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں دیکھی۔ یعنی نکاح سے یہ رشتہ صرف مضبوط ہی نہیں ہوتا بلکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے اس رشتے میں محبت بھی ڈال دی ہے۔ مودت کا لفظ حدیث میں آتا ہے اس کا مطلب ہے محبت، الفت، چاہ۔
اس رشتے کو نبھانے کے لیے لیے کچھ قربانیاں بھی دینی پڑتیں ہیں تب ہی یہ رشتہ قائم و د ائم رہتا ہے اس لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کونسی خطرناک باتیں ہیں جس کی وجہ سے اس خوبصورت رشتے میں دراڑ پیدا ہوتی ہے تاکہ شوہر اور بیوی ان تمام باتوں سے دور رہیں جو اس رشتے کو کمزور کرسکتی ہیں۔
ہمارا دین ہمیں صرف عبادات کے طریقے ہی نہیں سکھاتا بلکہ ہمیں زندگی گزارنے کا طریقہ بھی بتاتا ہے۔ قرآن اور احادیث میں جہاں رشتہ کو مضبوط کرنے کی تعلیمات دی گئیں ہیں، وہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جو اس رشتے کو ختم کر دیتی ہیں۔
چنانچہ کچھ ذمہ داریاں شوہر کی بتائی گئیں ہے اور کچھ بیوی کی اور دونوں کے کچھ فرائض اور کچھ حقوق بیان کیے گئے ہیں۔ اگر فریقین ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں تو یہ رشتہ مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
آیئے احادیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں وہ کون سی خطرناک باتیں ہیں جو اس رشتہ کے لیے مضر ہیں۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے، مرد کو قوام بنایا ہے ہے اسی لئے پہلے مرد کو ہی حکم دیا گیا ہے کہ وہ ازدواجی معاملات میں احسان کی روش اختیار کرے۔
حکیم بن معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے سوال کیا بیوی کا خا وند پر کیا حق ہے؟۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا جو تو کھائے وہی اسے بھی کھلائے۔ جو خود پہنے وہی اسے بھی پہنائے ، چہرے پر نہ مارے، گالی نہ دے (کبھی الگ کرنے کی ضرورت پڑے تو )اپنے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ الگ نہ کرے۔ اسے ابن ماجہ نے بیان کیا ہے۔
اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ شوہر اگر اپنے فرائض میں کوتاہی کرے تو یہ بات ازدواجی زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے اور اس کے لیے اسے اللہ کے سامنے نے جواب دہی کرنی ہوگی۔ایک اور اہم بات آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمائی کہ والدین کے بعد سب سے زیادہ حسن سلوک کی مستحق بیوی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ایمان کے لحاظ سے کامل مومن وہ ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہے اور تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنی بیویوں کے لیے بہتر ہو۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ اسی لئے شوہر کو تاکید کی گئی ہے کہ جو خود کھائے وہی بیوی کو کھلائے جو خود پہنے وہی بیوی کو پہنائے۔اگر کوئی شوہر بیوی کے حقوق کا خیال نہیں رکھتا ہے ہے تو ازدواجی زندگی میں ناچاقیاں پیدا ہوتیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی تعلیم دی کہ بیوی کی کوئی بات اگر نہ پسند ہو تو کوئی بات نہیں۔ درگزر سے کام لیا جائے۔ اگر ایک عادت پسند نہیں تو دوسری کوئی عادت اچھی ہوگی کیوں کہ:
٭ بار بار برائیوں کو گنوا نا اس کے عیب کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنا صرف یہ کہ خطرناک ہے جس سے ازدواجی زندگی پر ناگوار اثرات ہوسکتے ہیں۔
٭ کچھ شوہروں کی عادت ہوتی ہے کہ بیوی کو سب کے سامنے ڈانٹ دیا، جھڑک دیا یا بے عزتی کر دی۔ یہ بالکل نامناسب رویہ ہے ہے ہمارا دین اس کی اجازت نہیں دیتا۔
٭ اسی طرح کچھ شوہروں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ تمام گھر والوں کو اہمیت دیں گے لیکن بیوی کی ان کی نظر میں اہمیت و وقعت نہیں ہوتی۔
٭ کچھ شوہروں کی عادت ہوتی ہے رات دیر گئے تک اپنے دوست احباب کے ساتھ بیٹھے فضول باتیں کرتے رہتے ہیں۔ ادھر بیوی انتظار کر کرکے کے تھک کر سو جاتی ہے یہ بھی انتہا ہی نا مناسب رویہ ہے اور خطرناک بھی ہے۔
٭ کچھ شوہر یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے والدین کی خدمت ہماری بیوی پر واجب ہے لہٰذا خود تو اپنے والدین سے لاپرواہ ہو جاتے ہیں اور تمام تر ذمہ داری بیوی پر ڈال دیتے ہیں یہ رویہ غیر مناسب ہے۔ اس معاملے میں اعتدال ہونا چاہیے۔
ایک اور سطحی سوچ ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہے کہ بیوی ہو یا بہو اس لیے لائی جائے کہ گھر کے کام کاج میں سہولت ہو جائے یہ سوچ ازدواجی زندگی کے لیے خطرناک ہے۔ جس کی وجہ سے ذہنی ہم آہنگی یا باہمی محبت پیدا نہیں ہوپاتی اور بیوی خود کو گھر کی محض ایک خادمہ تصور کر کے رہ جاتی ہے۔
یہ تو مردوں کی طرف سے حقوق کے ادائیگی کی باتیں تھیں۔ اب آئیے دوسری جانب بیوی کے ذمے میں جو حقوق وفرائض ہیں ان پر بھی ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔
یہ اللہ سبحانہ و تعالی کاحکم ہے کہ بیوی شوہر کی اطاعت کرے اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس بات کی تعلیم دیتی ہے۔
نیک بیوی دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ ایک خاتون چاہے تو گھر کو جنت کا نمونہ بنا سکتی ہے اور گھر خوشیوں کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
٭بیوی کو چاہیے شوہر کی اطاعت کرے اسے خوش رکھے اگر وہ شوہر کے حقوق کماحقہ ہو ادا نہیں کرتی ہے تو ازدواجی زندگی کامیاب نہیں ہوپائے گی۔
شوہر کے لیے بناؤ سنگار
بعض خواتین استطاعت و خوش حالی کے باوجود برے حالوں میں رہتی ہیں۔یہ بات ازدواجی زندگی کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے ، خصوصا آج کے دور میں جب کہ ہر طرف فتنے بارش کی طرح برس رہے ہیں۔ مرد باہر کی دنیا میں یا سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے کے نظارے دیکھتے ہیں، اطراف میں بے پردہ خواتین نظر آتیں ہیں اسی لیے بیوی سجی سنوری رہے گی تو شوہر کا دل کسی طرف مائل نہیں ہوگا۔ شادی اسی معنی میں حصن، یعنی قلعہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے برائی سے حفاظت کا ذریعہ ہوتے ہیں۔
بیوی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ جب بھی شوہر کام سے آئے تو گھر میں داخل ہوتے ہی پریشانیوں، شکایات یا دن بھر کے مسائل کا رونا لیکر شوہر نہ بیٹھے۔
بلکہ شوہر کی دلجوئی کرے مسکرا کر استقبال کرے خیر خیریت دریافت کرے تاکہ وہ سکون محسوس کرے۔
٭ازدواجی زندگی کے لیے سب سے اہم بات کہ کسی ایسے شخص سے جس کو شوہر پسند نہ کرتے ہوں، بات نہ کرے، نہ ہی بغیر اجازت ایسے لوگوں کو گھر میں آنے جانے کی اجازت دے۔ ویسے بھی ہمارا دین خواتین مردوں سے بلاوجہ بات کرنے سے روکتا ہے۔
٭ اپنے شوہر کی برائیاں دوسروں کے سامنے نہ بیان کی جائیں۔بیوی کو چاہیے کہ اپنے میکے میں شوہر کی عز ت برقرار رکھے کیوں کچھ نادان بیویاں اپنے شوہر کی ہر چھوٹی بڑی بات میکے میں بیان کردیتی ہیں۔ یہ بہت معیوب بات ہے اور ازدواجی زندگی کے لیے بہت ہی خطرناک ہے۔
٭بیوی کو چاہیے کہ شوہر جب غصے میں اس وقت صبر سے کام لے۔ ہر بات کا جواب دینے سے بات بڑھ سکتی ہے یہ بات خصوصاً طلاق تک چلے جاتی ہے اور اس کی بنا پر زندگیاں تباہ و برباد ہو جاتی ہیں۔
٭ بیوی کو چاہیے کہ گھر کو صاف ستھرا رکھے، خانہ داری احسن طریقے سے انجام دے کیونکہ گھر میں پھیلاوا، افراتفری روزانہ پکوان میں تاخیر، یہ عادتیں بھی ازدواج زندگی کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہیں۔
٭شوہر کی جائز خواہشات کا احترام کیا جائے اور باہم اعتماد کی فضا کو مضبوط بنایا جائے۔
٭شوہر کو چاہیے کہ وہ بلا وجہ بیوی پر شک نہ کرے اور نہ ہی بیوی کو چاہیے کہ شوہر سے بلاوجہ بدگمان ہو۔
ازدواجی رشتہ باہمی اعتماد اور الفت و محبت کے ذریعے تقویت پاتا ہے۔ اس رشتہ کی گرم جوشی کو بڑھانے اورقائم رکھنے کے لیے ایسے اقدامات کیے جائیں جو اس پہلو کو مضبوط کریں اور ایسی کسی بھی حرکت سے پرہیز لازم ہے جو محبت اور اعتماد کو نقصان پہنچانے والی ہو۔lll

شیئر کیجیے
Default image
فوزیہ بنت محمود

تبصرہ کیجیے