فیملی کونسلنگ سینٹرس کا قیام

ایسا ہوسکتا ہے کہ فیملی کونسلنگ سینٹر مقامی سماج میں بڑھتے ہوئے مسائل سے متاثر ہوکر قائم کیا جائے، تاہم ضروری ہے کہ یہ اہم منصوبہ صرف مسائل کے حل تک محدود نہ رہے، بلکہ اس کا پہلا مقصد سماج میں آگاہی بڑھانا ہو۔ آگاہی اور جاگرکتا کے پھیلنے سے سماج میں خاندانی خوش گواری کی عام سطح خاصی اونچی ہوسکتی ہے۔
یہ بھی مطلوب ہے کہ فیملی کونسلنگ کا عمل کسی مخصوص سینٹر اور اس کے ماہرین تک محدود نہیں رہے، بلکہ یہ گھر گھر کی روایت اور ہر باشعور مسلمان کا شعار بن جائے، اس لئے یقینی بنایا جائے کہ کونسلنگ کے اس مرکز سے شعور کی روشنی پورے معاشرے میں پھیلے۔
ذہنوں میں بیٹھے ہوئے غلط تصورات کو درست کرنا نہایت اہم کام ہے، کیوں کہ غلط تصورات سے غلط رویے جنم لیتے ہیں۔ ذہن میں جب یہ تصور ہو کہ کچھ رشتے نفرت کے ہوتے ہیں، تو ان رشتوں کے ساتھ لوگوں کا رویہ بھی نفرت اور دشمنی والا ہوجاتا ہے۔ تصورات کی اصلاح کا کام بہت ضروری ہے اس کے بغیر رویے درست نہیں ہوسکتے ہیں۔ ضروری ہے کہ اس سینٹر سے خاندانی زندگی اور رشتوں کے بارے میں صحیح تصورات کے وسیع تعارف کا کام لیا جائے۔
فیملی کونسلنگ سینٹر کی خدمات سے فائدہ اٹھانے صرف وہ لوگ نہ آئیں جو رشتے کی خرابی دور کرنا چاہتے ہیں، بلکہ سب سے پہلے یہاں وہ لوگ آئیں جو خاندانی زندگی کو خوش گواری کے ساتھ شروع کرنا چاہتے ہیں۔ اگر نیا خاندان صرف شوہر اور بیوی پر مشتمل ہو تو ازدواجی زندگی کے آغاز ہی میں دونوں اس سینٹر کی خدمات سے استفادہ کریں اور اگر وہ نیا جوڑا ایک مشترکہ خاندان کا حصہ بننے جارہا ہو تو کونسلنگ کا ایک سیشن اس پورے خاندان کے ساتھ بھی ہونا چاہئے، جس میں ایک ساتھ رہنے والے تمام افراد کی مناسب رہنمائی اور ذہن سازی ہو کہ وہ اس نئے رشتے کے بعد ایک خوش گوار ماحول کے لئے مل جل کر کس طرح اپنا کردار ادا کریں گے۔
مشاہدات بتاتے ہیں کہ خاندانی مسائل عام طور سے ذہنی ناپختگی اور اخلاقی پستی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اس لئے کونسلنگ کے ذریعہ صرف متعین نزاعی مسئلہ ہی حل نہ کیا جائے، بلکہ دونوں فریقوں اور ان کے اہل خانہ کی ذہنی اور اخلاقی سطح بلند کرنے پر بھی بہت زیادہ توجہ دی جائے۔ یوں تو مسائل ایک بار حل ہوکر بھی بار بار پیدا ہوجاتے ہیں، لیکن ذہنی پختگی اور اخلاقی بلندی حاصل ہوجائے تو بیشتر مسائل کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔
خاندانی زندگی کی کامیابی دو باتوں پر منحصر ہوتی ہے۔ ایک ذہانت اور دوسری سخاوت۔ اکثر رشتے لوگوں کی کم عقلی اور حماقت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں، جب کہ ذہین لوگ اپنی ذہانت سے رشتوں کو ہر طرح کے نشیب وفراز میں سنبھالے رہتے ہیں۔ اسی طرح رشتوں میں اس وقت میلا پن آجاتا ہے جب انسان محبت کے اظہار میں کنجوسی سے کام لیتا ہے، جب کہ دریا دل انسان اپنی سخاوت اور دریا دلی سے بہت سے دلوں کی کدورتیں دھوڈالتا ہے۔ کامیاب کونسلنگ وہ ہے جو انسان کی ذہانت اور سخاوت دونوں کو بیدار کردے۔
عام لوگوں کو یہ سمجھانا بھی ضروری ہے کہ قانون اور قانونی احکامات صرف نزاعات کا تصفیہ کرنے اور حقوق کی حفاظت کرنے کے لئے ہوتے ہیں۔ جب کہ خوش گوار زندگی گزارنے اور پر بہار گھر بسانے کے لئے تقوی والی احتیاط اور احسان والے اخلاق کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسلامی کونسلنگ دراصل قانونی حقوق کی کشمکش سے نکال کر تقوی اور احسان کی بلندیوں سے آشنا کرتی ہے۔ اسلامی تحریک کے ذریعہ چلنے والے کونسلنگ سینٹرز کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ وہ خاندانی زندگی میں تقوی اور احسان کی غیر معمولی اہمیت اور بے پناہ تاثیر سے سماج کو آگاہ کریں۔
رشتوں کی ناخوشگواری اور خرابی کو دور کرنے کے لئے صرف نصیحت کافی نہیں ہوتی ہے۔ بے شک اگر صاف اور سچے دل سے نصیحت کی جائے تو اس میں بہت اثر ہوتا ہے، لیکن تشفی بخش حل اور تسلی بخش نتائج کے لئے مسائل کی صحیح تشخیص اور ان کے حل کی حکیمانہ تدبیر بھی غیر معمولی طور پر اہم ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مسائل کی صحیح تشخیص کا ملکہ حاصل کیا جائے، اور ایسی تدبیریں دریافت کرنے پر دماغی محنت صرف کی جائے جو مسائل کو جڑ سے ختم کرنے کی قدرت رکھتی ہوں۔
جبر اور تنگی اسلام میں نہیں ہے۔ جبر اور تنگی کو انسانی فطرت بھی رد کرتی ہے۔ اس لئے مفاہمت کی ایسی راہیں نکالی جائیں کہ گھر کا کوئی فرد گھٹ گھٹ کر زندگی نہ گزارے۔ تھوڑی مدت کے وقتی جبر کے لئے تو صبر کی راہ اختیار کرنا بلاشبہ مفید ہوسکتا ہے، لیکن ایسی صورت حال کو قبول کرنا جو سالہا سال تنگی اور گھٹن میں مبتلا رکھے، ذہنی اور جسمانی صحت کے لئے کسی طرح مناسب نہیں ہے۔
یاد رہے، کوئی ایسا حل یا مشورہ اسلامی نہیں ہوسکتا ہے جس میں ظلم کسی نہ کسی شکل میں برقرار رہے۔ آپ کی کوششوں کا مقصد صرف یہ نہ ہو کہ معاشرے میں طلاق کی شرح کم ہوجائے، آپ کے سامنے اصل ہدف یہ ہو کہ گھروں میں ظلم کی شرح کم ہوجائے اور تعلقات میں خوش گواری کی سطح اونچی ہوجائے۔
کچھ حل تکلیف دہ ہوتے ہیں، لیکن بعض حالات میں وہی مناسب ہوتے ہیں۔ اگر زوجین کے درمیان موافقت کی کوئی صورت نہیں بن رہی ہو، تو ان کا ایک دوسرے سے الگ ہوجانا بھی ان کے لئے مناسب حل ہوسکتا ہے۔ بیٹے کا اپنے والدین کے ساتھ رہنا بہت اچھی بات ہے، لیکن اس کی ازدواجی زندگی کی حفاظت کے لئے کبھی اس کا الگ گھر بسانا ضروری ہوسکتا ہے۔ اس لئے کونسلنگ کے عمل کو ہمارے مروجہ سماجی تصورات میں مقید نہیں رہنا چاہئے، بلکہ ضرورت پڑنے پر ان کے باہر بھی حل تلاش کرنا چاہئے۔
زخموں کو اچھی طرح دھوئے بغیر سی دینا طبی لحاظ سے درست طریقہ نہیں ہے۔ تعلقات خراب ہوجانے کے بعد مصالحت کرادینا بہت اچھی بات ہے، لیکن مصالحت کا عمل اس وقت مکمل ہوتا ہے جب دل کی کدورتیں صاف ہوجائیں، اور ایک دوسرے سے شکایتیں دور ہوجائیں۔ دلوں کی صفائی کے بغیر محض ساتھ رہنے پر راضی کردینا ویسے ہی ہے جیسے زخموں کو دھوئے بغیر سی دینا۔ جس کے نتیجے میں اندر ہی اندر مرض پلتا رہتا ہے، اور پھر دوبارہ اور شدت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔
فیملی کونسلنگ کا کام کرنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر روز اپنی معلومات میں اضافہ کرتے رہیں، اس موضوع پر لکھا گیا مفید لٹریچر اور کئے گئے بیش قیمت تجربات ان کے مستقل مطالعہ میں رہیں اور وہ اپنے ناکام تجربات پر مطمئن ہونے کے بجائے ان کی ناکامی کے اسباب کا جائزہ بھی لیتے رہیں۔ دوسرے انسانوں کے تجربات کی قدر کریں۔ انسانی مسائل کے حل میں انسانی تجربات کی بڑی اہمیت ہے۔ بسا اوقات انسانی تجربات الٰہی ہدایات کی تفسیر بن جاتے ہیں۔
اور آخری بات یہ ہے کہ جو لوگ مصالحت کی سچی خواہش لے کر آگے بڑھتے ہیں، اللہ ان کے کام کو آسان کردیتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ بلاشبہ یہ راہ آسان نہیں ہے مگر سچی خواہش اس راستے پر چلنے والوں کے لئے بہترین زاد راہ ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محی الدین غازی