بچوں میں انحراف کے عمومی اسباب

بچے ہمارا اور قوم کا مستقبل ہیں۔ بڑے ہوکر وہ کیا بنیں گے اور کیا کریں گے یہ نہ صرف ان کی دنیا و آخرت بنائے گا بلکہ ہماری بھی دنیا و آخرت کو متاثر کرے گا۔ اگر ہمارے بچے نیک اور صالح بن کر دنیا میں اچھے کام کریں گے تو ہمارے لیے صدقہ جاریہ بنیں گے اور اگر خدا نہ خواستہ وہ غلط راستے پر چلے گئے تو زندگی جہنم بنا دیں گے اور ہم جیتے جی سکون نہ پاسکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی صحیح تعلیم و تربیت لازم ہے۔ ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی اہمیت کے سبب یہ فرمایا ہے کہ والدین اپنے بچے کو جو بہترین چیز دے سکتے ہیں وہ اچھی تعلیم و تربیت ہے۔
بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ والدین تو بچوں کو نیک اور صالح بنانا چاہتے ہیں لیکن اس کے باوجود بچے راہ سے بھٹک جاتے ہیں جس سے والدین کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔ ایسے میں ہر ماں باپ کے لیے لازمی ہے کہ وہ ان اسباب و وجوہات سے بھی واقف ہوں جو بچوں کے انحراف کا سبب بنتے ہیں تاکہ اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو پریشانیوں سے بچایا جاسکے۔
والدین کے درمیان لڑائی جھگڑا
گھر سکون کی جگہ ہونی چاہیے مگر جس گھر میں میاں بیوی کے درمیان لڑاتی جھگڑا رہتا ہو وہاں سکون کیسے رہ سکتا ہے۔ اس کیفیت سے نہ صرف میاں بیوی کی زندگی متاثر ہوتی ہے بلکہ بچہ پر بھی برا اثر پڑتا ہے اور اس کی زندگی میں بھی تناؤ پیدا ہوتا ہے اور وہ پرسکون رہنے کے لیے گھر سے باہر رہنے کو ترجیح دیتا ہے جس کے نتیجے میں وہ باہر کے لوگوں کی غلط عادتیں اور برے اخلاق دیکھتا اور سیکھتا ہے جو اس کی زندگی اور سوچ و فکر کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسے والدین اپنے بچوں کی اخلاقی تربیت پر بھی توجہ نہیں دے پاتے اور اگر وہ کوشش کرتے بھی ہیں تو ان کی باتیں بے اثر اور بے معنی بن جاتی ہیں کیوں کہ بچہ والدین کی زندگی اور ان کے طرز عمل کو دیکھتا جو پہلے ہی سے اس پر منفی تاثر قائم کرچکے ہوتے ہیں۔
اگر ہم اپنے بچوں کی اچھی زندگی اور اچھے اخلاق کے خواہش مند ہیں تو ہمیں اچھی ازدواجی زندگی بنانی ہے اور گھر میں پیار و محبت اور اعلیٰ اخلاق و کردار کا ماحول بنانا ہے تاکہ بچہ اسی پیار و محبت اور اچھے اخلاقی ماحول میں پرورش پائے، وہی سیکھے اور زندگی میں اسی پر عمل پیرا ہوسکے۔
بچے کے ساتھ مناسب برتاؤ
بچے کے اخلاق و کردار کو بنانے میں والدین کا اس کے ساتھ برتاؤ اور رویہ بہت اہم رول ادا کرتا ہے۔ اگر ہم بچوں کی عزت و احترام کا خیال رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ محبت و شفقت کا برتاؤ کرتے ہیں تو بچے بھی ادب و احترام اور عزت کرنا سیکھتے ہیں۔ اس کے برخلاف اگر والدین یا گھر کے افراد کا رویہ بچوں کے ساتھ تحقیر و تذلیل کا ہو یا وہ اپنے طرز عمل کے ذریعے بچے کو حقیر سمجھنے کا احساس کراتے ہوں تو وہ بھی اپنے رویے میں اسی طرح کا طرز عمل اور برتاؤ ظاہر کرے گا۔ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ جو والدین بچوں کے ساتھ نرمی و محبت سے بات کرتے ہیں اور ان کو پیار و محبت کا احساد دلاتے ہیں بچے بھی ویسا ہی کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف جو والدین تیز آواز میں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں تو بچے بھی اسی انداز میں گفتگو کرتے اور جواب دیتے ہیں۔
بعض اوقات والدین کا سخت اور تحقیر آمیز رویہ بچوں کو گھر سے بھاگنے اور خود کشی کرنے پر آمادہ کر دیتا ہے۔ بچہ سوچتا ہے کہ جس گھر میں عزت و احترام نہ ملے وہاں رہنے سے کیا فائدہ؟ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچے والدین کے رویوں سے اس قدر مایوس اور دل شکستہ ہوجاتے ہیں کہ زندگی سے ہی اکتا جاتے ہیں۔ مار پیٹ، سختی اور ڈانٹ ڈپٹ کا رویہ بچوں میں مایوسی اور ردعمل کی کیفیت پیدا کرتا ہے جو بعد کی زندگی میں انہیں مجرمانہ سرگرمیوں اور سماجی بگاڑ کے ذریعے کے طور پر تیار کرسکتا ہے۔
بری صحبت اور برے ساتھی
صحبت اور سنگت انسان کی زندگی اور اخلاق و کردار پر عام طور پر اور بچوں پر خاص طور پر، گہرے اثرات چھوڑتی ہے۔ یہ بات حقیقت کے طور پر اتنی عام ہے کہ ہر آدمی جانتا اور سمجھتا ہے لیکن اس کے باوجود جب بات بچوں کی تعلیم و تربیت کی ہو تو والدین اس پر مطلوب توجہ نہیں دے پاتے اور اچھے اچھے خاندانوں کے ایسے بچے جن کی اٹھان بہت اچھی تھی وہ محض غلط صحبت کے سبب اپنا دین و اخلاق بھی گنواں بیٹھے اور اپنا تعلیمی کیریئر بھی۔ بیڑی سگریٹ کے استعمال سے لے کر خطرناک نشیلی چیزوں کا استعمال بچے صحبت ہی سے سیکھتے ہیں اور وہ بداخلاق گندے بچے ہی ہوتے ہیں جو بھولے بھالے بچوں کو پھنسا کر اپنے رنگ میں رنگ دیتے ہیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ والدین جہاں اپنے بچے پر کڑی نظر رکھیں وہیں بچے کے دوستوں اور اس سے ملنے والوں اور ساتھیوں پر بھی نگاہ رکھیں اور آگاہ رہیں کہ ان کا بچہ کس کس کے ساتھ رہتا ہے اور کون کون بچے اس کے دوست ہیں اور ان کا خاندانی پس منظر اور اخلاق و کردار کیا ہے۔ اچھے اسکول میں پڑھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کا بچہ محفوظ ہوگیا ہے۔ بڑے بڑے دولت مند خاندانوں کے بچے درمیانی ورجہ کے طلبہ کو بہت سے طریقوں سے پھنسا کر انہیں تباہ کرسکتے ہیں۔ اس لیے آگاہ رہیں اور اپنے بچے کے دوست بننے کے ساتھ اس کے دوستوں کے بھی دوست بننے کی کوشش کریں۔
سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ
سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ ہمارے دور کی وہ ’بھلائی‘ ہے جو اپنے آپ میں برائیوں سے لدی پھندی ہے۔ یہ ہر آدمی کی، خاص طور پر، طلبہ کی ضرورت بھی ہے مگر خطرات اور اندیشوںسے بھی بھری ہے۔ اس کے ذریعے غلط اور مجرمانہ سرگرمیوں کو انجام دینے والے لوگوں کے چنگل میں پھنسنے سے لے کر فحاشی اور بداخلاقی تک کا پورا سامان موجود ہے۔ مجرم اور بدکردار لوگ جن کی شناخت ہم پر ظاہر نہیں ہو پاتی وہ مختلف سوشل میڈیا کے رابطوں کے ذریعے چاٹ کر کے، بلیک میل کر کے اور بے شمار طریقوں سے بچوں کو ہی نہیں بڑوں کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ اسی طرح اس انٹرنیٹ کی دنیا میں انسان کی زندگی اور اس کے دین و اخلاق کو تباہ کرنے کا بھی پورا سامان اور وسائل موجود ہیں جو فحش فلموں سے لے کر خود کشی تک پہنچانے والے ویڈیو گیمس کے ساتھ ساتھ نشے اور قمار بازی تک لے جاسکتے ہیں ایسے میں والدین کے لیے دو کام اہم ہیں:
ایک یہ کہ اپنے بچے کے اندر برائی اور بھلائی کا مکمل تصور واضح کر دیں کہ وہ خیر و شر کے درمیان فرق کرسکیں اچھائی سے فائدہ اٹھا سکیں اور کسی برائے کے سامنے آنے کی صورت میں ان کا خیر پسند مزاج خود ہی اسے رد کردے۔ یہ سب سے مضبوط راستہ ہے اپنے بچوں کو اس کے شر سے محفوظ کرنے کا۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی دنیا کی اونچ نیچ سے اچھی طرح آگاہ کرنے کی فکر کریں اور بچوں کو اس دنیا کے کمزور پوائنٹس بھی بتائیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ کام تمام والدین نہیں کرسکتے مگر ان کو معلومات ضرور ہونی چاہئیں اور اسکولوں سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ بچوں کو ان تمام باتوں سے آگاہ اور خبردار کریں۔
غربت و افلاس
بڑھتی عمر کے بچوں میں مختلف النوع بگاڑ کی ایک وجہ غربت وافلاس بھی ہے۔ یہ افلاس ان کے دین و ایمان اور زندگی کو بعض اوقات تباہ کرسکتا ہے۔ جرم کی نفسیات کے ارتقا میں غربت اور مال داری دونوں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ غریب خاندانوں کے بچے اپنی غربت و جہالت کے سبب جرم کی دنیا میں قدم رکھتے ہیں اور مالدار خاندانوں کے بچے اپنے عیش و عشرت کو آگے بڑھانے اور باقی رکھنے کے لیے۔ ہر دو صورتوں میں والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں۔ اگر وہ غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں تو بچوں کو خودداری اور حالات سے لڑتے ہوئے آگے بڑھنے کا عزم و حوصلہ دیں اور حلال و حرام کی تمیز کو ان کے ذہن و فکر میں پختہ کریں۔ ہم اپنے سماج میں بے شمار مثالیں ایسی دیکھتے ہیں کہ انتہائی غریب اور پسماندہ خاندانوں کے بچوں نے علم و تجارت کے میدانوں میں سخت جدوجہد کے ذریعے نام اور مقام حاصل کیا۔ یہ جذبہ اگر ہم اپنے بچوں میں بھر دیں گے تو وہ غربت کی کیفیت کو ایمان و اخلاق کے ساتھ پار کرلے جائیں گے جس کے بعد خوش حالی ان کا مقدر ہوگی۔
بے کاری اور بے روزگاری
بے کاری اور بے روزگاری بھی نوعمروں کے اندر اخلاقی بگاڑ اور مجرمانہ سرگرمیوں میں حصہ داری کے لیے مجرم لوگوں کے ہتھے چڑھ جانے کا سبب ہوسکتی ہے۔ آج کے سیاسی و معاشی حالات میں ہم دیکھتے ہیں کہ اچھے اچھے خوش حال خاندانوں کے بچے محض بے کاری اور بے روزگاری کے سبب مجرمانہ سرگرمیوں کا حصہ بن رہے ہیں۔ اسی طرح سیاسی پارٹیاں ان کا اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استحصال کر رہی ہیں۔
بہ حیثیت والدین ہماری یہ ذمے داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو علم اور وقت کی قدر کرنا سکھائیں اور زندگی میں محنت کرنے کا عادی بنائیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ نوعمر بچوں کے لیے سب سے اہم کام اور ان کی سب سے بڑی ذمے داری اپنی تعلیم اور اپنے کیریئر پر توجہ دینا ہے۔ اگر کسی وجہ سے وہ تعلیم ترک کرچکے ہیں تو انہیں ہرگز بے کار اور بے روزگار نہ رہنے دیں اس کے لیے انہیں آمادہ کریں کہ وہ کچھ نہ کچھ کام ضرور کریں وہ کوئی چھوٹا موٹا کاروبار بھی ہوسکتا ہے اور چھوٹی موٹی نوکری بھی۔
آپ نے کہاوت سنی ہوگی کہ خالی ذہن شیطان کا گھر ہوتا ہے۔ یہ درست ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کے لیے کوئی نہ کوئی تعمیری مشغولیت دینی چاہیے اگر ایسا نہ کرسکے تو ایک طرف تو وہ کام چور ہوجائیں گے، دوسری طرف غلط سرگرمیوں اور غلط راستوں پر جانے کا پورا اندیشہ رہے گا۔
اوپر جن باتوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ باتیں بچپن سے لے کر نوجوانی کی عمر تک کے لیے انتہائی اہم اور فیصلہ کن ہوتی ہیں۔ کسی نوعمر کی زندگی اور اس کے دین و اخلاق کو تباہ کرنے کے لیے ان میں سے کوئی ایک ہی کافی ہے اور اگر کئی ایک جمع ہوجائیں تو مسائل مزید پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔ ان باتوں کے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ والدین بڑھتی عمر سے لے کر نوجوانی تک کے مراحل میں اپنے بچوں کی حفاظت کریں۔ اگرچہ یہ ضرورت ہمیشہ رہتی ہے مگر پختہ عمر اور باشعور ہوجانے کے بعد اندیشے کم ہوجاتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
زینب حسین غزالی