4

مرحلہ مراہقت کے مسائل او ران کا حل

سنِ بلوغ ہر انسان کی زندگی کا اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ کمسنی کے ایام مکمل ہوتے ہی لڑکے لڑکیاں مرحلہ بلوغت میں قدم رکھتے ہیں یہ عرصہ لڑکوں کے لیے تیرہ تا سولہ سال اور لڑکیوں کے لیے نو تا تیرہ سالوں کے درمیان ہوسکتا ہے۔ مواصلاتی دور میں غیر ضروری معلومات کی فراہمی بہ آسانی ممکن ہے اور یہ ان کی ذہنی و جسمانی پر اثر انداز بھی ہو رہا ہے موبائل اور انٹرنیٹ نے بچوں سے ان کا بچپن چھین لیا ہے اس لیے بڑھتی عمر کے بچوں کی صحیح رہنمائی ایک مسئلہ بن چکی ہے۔ اب اس کام کے لیے والدین کو بھی رہنمائی کی ضرورت پیش آنے لگی ہے۔

آج سے تیس چالیس سال پہلے کا بچپن انتہائی سہل تھا۔ معلومات کی فراہمی کے لیے بچے والدین، اساتذہ دوست یارشتے داروں پر انحصار کرتے تھے۔ تہذیب یافتہ گھروں میں اخبار معلومات کا ذریعہ تھا۔ ٹی وی ہر ایک کو میسر نہیں تھا۔ اشتہار بازیاں اتنی عام نہیں تھیں۔ بالغ ہونے کے باوجود نوجوان بڑوں کی باتوں سے لاعلم رہتے تھے۔ جوائنٹ فیملی میں گھر کے بزرگ کاؤنسلنگ کاکام بخوبی انجام دیتے تھے۔

اس مضمون میں مرحلہ بلوغت میں درپیش موجودہ دور کے چیلنجز کا ذکر کیا گیا ہے، جس سے والدین اپنے بچوں کی تربیت و رہنمائی میں مدد حاصل کرسکتے ہیں۔

جسمانی تبدیلیاں

بلوغت کی پہلی سیڑھی بچوں کے جسم میں ہارمون کی تبدیلیاں ہیں۔ لڑکوں میں آواز کا بھاری پن، چہرے پر مہاسے آنا، وزن میں بڑھوتری، چہرے پر مونچھ اور داڑھی کا ظاہر ہونا یہ واضح تبدیلیاں ہیں۔ لڑکیوں میں ماہواری کا آنا، چھاتیوں کا بڑھ جانا، اپنی صحت کولے کر فکر مند ہونا عمومی تبدیلیاں ہیں۔

حل: والدین کو چاہیے کہ بچوں میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھیں۔ ان تبدیلیوں کے متعلق انہیں مثبت سوچ رکھنے کی ترغیب دیں۔بچے، بچیوں کے دوستوں اور سہیلیوں سے بھی بات چیت کریں اور بچے اگر ان تبدیلیوں کے متعلق سوال کریں تو انہیں صحیح معلومات فراہم کریں۔ شرمانا، انہیں ٹالنا یا غلط بیانی سے کام لینا ان کی الجھن میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ مائیں لڑکیوں کی دوست بن کر ان سے بات کریں، باپ لڑکوں کو سمجھائے یا ایسا مواد پڑھنے کو دیا جائے جو ان کو مطلوبہ معلومات فراہم کرے۔ اس طرح گھر میں ایک خوشگوار ماحول بن سکتا ہے۔

جذباتی تبدیلیاں

سن بلوغ میں بچوں میں خود پسندی کا مزاج پیدا ہونے لگتا ہے۔ وہ آئینے کے سامنے زیادہ وقت گزارنے لگتے ہیں۔ لڑکیاں اکثر بے وجہ رونے لگتی ہے۔ لڑکے اپنے دوستوں میں زیادہ وقت گزارنے لگتے ہیں۔ مزاج میں چڑچڑاپن، پڑھائی میںدل نہ لگنا، فلمی ستاروں کو پسند کرنا، احساس برتری یا احساسِ کمتری کا شکار ہونا، جنسی خیالات کا ہیجان، یہ عام جذباتی تبدیلیاں ہیں جن سے نوجوانی کی عمر میں انسان دو چار ہوتا ہے۔

حل: ان جذباتی تبدیلیوں کے متعلق بچوں کو یہ بات بتانی چاہیے کہ یہ تمام تبدیلیاں ہر انسان کی زندگی میں رونما ہوتی ہیں۔ انہیں نیکی کی طرف رغبت دلانی چاہیے۔ پاکیزہ اور اچھے خیالات کو پروان چڑھانا چاہیے۔ ٹی وی کے ڈراموں اور فلموں سے انہیں دور رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لڑکوں کو ذہن کی تبدیلی کے لیے مثبت اور تعمیری سرگرمیوں میں لگانا چاہیے، کھیل کود اور جسمانی ورزش کو اپنانا چاہیے تاکہ جسمانی توانائی کھیل کود اور ورزش میں استعمال ہوجائے۔ اسی عمر میں ان کا بستر والدین سے الگ ہوجانا چاہیے۔ اسی طرح ہم عمر بھائی بہنوں کو بھی ساتھ میں سلانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اگر بچے اپنی مشکلات پر مبنی باتیں کھل کر آپ سے کریں تو انھیں ڈانٹنے یا ناراض ہونے کے بجائے ان کی صحیح رہنمائی اور مدد کرنی چاہیے۔ اس عمر میں بچوں میں باغیانہ رجحان فروغ پاتا ہے۔ ایسے میں انھیں ہلکی پھلکی نصیحتوں اور محبت بھرے جذبات کے ذریعے کنٹرول کیا جائے اور گھر سے جوڑے رکھنا چاہیے اس کام کو دادا دادی یا نانا نانی بھی اچھی طرح انجام دے سکتے ہیں۔

برتاؤ میں تبدیلی

بچے وہی رویے اختیار کرتے ہیں جیسا وہ دوسروں کو یا اپنے بڑوں کو کرتے ہوئے مشاہدہ کرتے ہیں۔ بات بات پر غصہ ہو جانا، موجودہ صورت حال سے لڑنے کی ہمت نہ ہونا، موسیقی تیز آواز سے سننا، یہ تمام تبدیلیاں دراصل دوسروں کی نقالی کرنے کی وجہ سے بچوں میں پیدا ہوتی ہے۔ پڑھائی میں اچھے نمبرات نہ آنے کی وجہ سے بھی کچھ بچے احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ دوستوں کے دباؤ میں آکر بچے والدین سے بدزبانی کرنے لگتے ہیں۔ جھوٹ بولنا اس عمر میں عام بات ہوتی ہے۔

حل: برتاؤ میں تبدیلیوں کو روکنے کے لیے بچوں سے مثبت سوچ کے ساتھ بات کرنا بہت ضروری ہے۔ بچوں کو حکم دینا یا اپنے فیصلے ان پر تھوپنے کی کوشش کرنا، درست رویہ نہیں ہے۔ ان میں مختلف رجحانوں کا پتہ لگا کر انھیں مناسب رائے دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بچوں کے دوستوں کا پتہ لگانا چاہیے اور اگر آپ دیکھیں کہ بچے غلط صحبت کا شکار ہو رہے ہیں تو انھیں سمجھا کر ایسے دوستوں سے دور رکھنا چاہیے۔

نشے کی عادت

بلوغت کے دور میں دوستوں کے بہکاوے میں آکر بعض بچے نشہ کا ذائقہ چکھ لیتے ہیں۔ اس میں ابتدائی درجہ کا نشہ سگریٹ نوشی، تمباکو نوشی اور انتہائی درجہ کا نشہ ڈرگس کا استعمال شامل ہے۔ کچھ نوجوان شراب نوشی کی لت میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔ جب آپ دیکھیں کہ آپ کا بچہ مسلسل گھر دیر سے آتا ہے یا گھر پر کھانا پینا چھوڑ چکا ہے، اس کی آنکھیں اور چہرہ لال رنگ لیے ہیں۔ مسلسل وہ نیند میں رہتا ہے تو اس کی حرکتوں پر کڑی نظر رکھنا شروع کردینا چاہیے۔ یہ ایسے نوجوان ہوتے ہیں جن میں خود اعتمادی کم ہوچکی ہوتی ہے یا بری صحبت کے باعث وہ ان لتوں کے عادی ہوجاتے ہیں۔

حل: بچے کے برتاؤ،کھانے پینے کی عادت، سونے جاگنے کے اوقات پر گہری نظر رکھی جائے۔ بچوں کو ضرورت سے زیادہ پیسے دینے سے پرہیز کیا جائے اور اگر وہ زیادہ پیسہ کا مطالبہ کریں تو وضاحت طلب کرکے اندازہ کرلیا جائے کہ وہ اس کا درست استعمال کرے گا۔ اگر آپ کے سوالوں کا جواب اطمینان بخش نہ دے تو سمجھ لینا چاہیے کہ دال میں کچھ کالا ہے اور پھر ماہر نفسیات سے مشورہ کرنا چاہیے۔ بچہ کے اسکول یا کالج سے مل کر معلومات لینی چاہئیں تاکہ آپ بچے کے غلط رویے کی وجہ جان سکیں۔ کبھی کبھی بچوں کو اسپتال میں داخل کر کے بھی علاج کروایا جاتا ہے۔ آج کل نوجوانوں میں حقہ پینے کا رجحان عام ہو رہا ہے اور لڑکیاں بھی اس شوق کا حصہ بن رہی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ نوجوان لڑکیوں کی سہیلیوں کے رویوں اور فکرپر بھی نظر رکھیں، انہیں اکیلے پکنک یا پارٹی کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ نئے زمانے کے کچھ پروڈکٹس سے بھی واقف ہونا ضروری ہے۔جیسے ای سگریٹ، پنسل حقہ بہ آسانی بازار میں ملنے والے نشے کے سامان ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اس بات پر بھی نظر رکھیں کہ نوجوان بچے بچیوں کے بیگ میں کس قسم کی چیزیں ہیں تاکہ وقت پر بچوں کی مناسب دیکھ ریکھ اور رہ نمائی کی جاسکے۔

تعلیمی چیلنجس

کچھ بچے اسکول یا کالج مکمل ہونے سے پہلے ہی بالغوںجیسے کام کرنا شروع کردیتے ہیں۔ جیسے پیسے کمانے میں جلد بازی کرنا، بڑوں کی طرح معاملات میں کودنا، کاروبار کے لیے قرض لے لینا اور ان وجوہات کی وجہ سے بچے اسکول کی پڑھائی مکمل نہیں کر پاتے اور آگے کی زندگی میں بہت بچھتاتے ہیں۔ کبھی کبھی اسکول میں مسلسل ناکام ہونے کی وجہ سے بچے اوب کر اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔ اسکول کے بعد من پسند کورس یا کالج میں داخلہ نہ ملنے کی صورت میں بھی بچے ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں۔ کئی دنوں تک غمگین رہنے کی وجہ سے بچوں کا اعتماد کم ہو جاتا ہے یہی حالات اسے ذہنی تناؤ میں مبتلا کردیتے ہیں۔

حل: یہاں ہمت افزائی اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بچے کی ذہنی صلاحیتوں کو پرکھ کر مناسب کورس کے انتخاب میں اس کی مدد کرنا تعلیمی رہنمائی کا حصہ ہے۔ ساتھ ہی اسکول کے اساتذہ سے ربط رکھنا، بچے کی کارکردگی کے متعلق اساتذہ سے رپورٹ لیتے رہنا ضروری کام ہے۔ ماں باپ کو چاہیے کہ بچوں پر پڑھائی کا اتنا دباؤ نہ ڈالا جائے کہ وہ اپنے آپ کو ناکارہ سمجھنے لگے۔ ہر بچہ کی استعداد کے مطابق ہی اسے نمبر حاصل ہوتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کا موازنہ کبھی بھی دوسرے بچوں کے ساتھ نہ کریں۔ بچوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ کسی امتحان میں ناکامی زندگی کی ناکامی نہیں ہے۔ بچوں کو سکھایا جائے کہ ہمیشہ خوش رہنے کی کوشش کریں اور جو کچھ انھیں میسر ہے اس پر شکر ادا کریں۔

صحت کے مسائل

ہارمون کے اخراج سے ہونے والی جسمانی اور نفسیاتی تبدیلیاں نوجوانوں کی صحت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ وقت پر کھانا نہ کھانا، صفائی کا بہتر انتظام نہ ہونا، نیند پوری نہ ہونا، صحت کی خرابی کا باعث بنتے ہیں۔ خاص کر لڑکیوں میں ناقص تغذیہ کے باعث خون کی کمی کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ کھانے میں اعتدال نہ ہونے کے باعث کچھ بچے کمسنی میں ہی موٹاپے کا شکار ہوجاتے ہیں۔

حل: والدین میں سے خاص کر والدہ کو بچوں کے کھانے کا خاص خیال رکھنا چاہیے اور بچوں کی پسند ناپسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے پکوان بنانے چاہیے۔ کھانوں کے مینو کو ہمیشہ بدلتے رہنا چاہیے۔ بچے ایک ہی طرح کا کھانا کھانے سے بے زار ہوجاتے ہیں۔ انہیں بدن کی روزانہ صفائی، کپڑوں کی صفائی کی عادت ڈالنی چاہیے۔ باہر کی چیزوں سے روک کر انہیں گھر ہی سے کھانے کا ڈبہ دینا چاہیے۔ نوجوان لڑکوں کو ورزش کے لیے تیا رکرنا بھی ان کی صحت کو اچھا رکھتا ہے۔ لڑکیوں کو کھانے میں دودھ، شہد، سوکھے میوے دینے چاہیے تاکہ وہ اینمیا سے بچ سکیں۔ ایک سولہ تا اٹھارہ سالہ نوجوان کو ڈھائی تا تین ہزار کیلوریز کی ضرورت ہر دن ہوتی ہے۔ لڑکیوں کے لیے یہی مقدار دو تا ڈھائی ہزار ہوتی ہے۔ اگر ممکن ہو تو دن بھر کی کیلوریز جمع کر کے دن کے اول حصے میں بچوں کو کھلائی جائے تاکہ گھر سے باہر جانے کے بعد ان کی بے اعتدالی کا اثر صحت پر نہ پڑے۔

نفسیاتی مسائل

ریسرچ یہ بتاتی ہے کہ پچاس فی صد ذہنی مسائل کا آغاز عمر کے چودہویں سال میں ہو جاتا ہے۔ تقریباً ایک تہائی نوجوان اسی عمر کے آس پاس ڈپریشن کا شکار ہوکر خود کشی کرتے ہیں۔ نوجوانوں کے مسائل میں خود پسندی، تناؤ، اداسی، دوستوں کا دباؤ، مقابلہ آرائی عمومی مسائل ہیں۔ اکثر نوجوان ان مسائل سے لڑنے کی ہمت نہیں جٹا پاتے۔ آج کل کا ٹکنالوجی سے بھرا دور ان مسائل کو اور ہوا دیتاہے۔

حل:والدین کو چاہیے کہ بچوں سے خوب بات چیت کریں ان کی ہر بات کو بغور سنیں، ان کے مسائل کو نظر انداز نہ کریں، ان کے جائز مطالبات کو پورا کریں اوربچوں کو کسی بھی ناکامی پر ہدف تنقید بنانے سے پرہیز کریں۔ بچے میں اگر خود کشی کا رجحان پیدا ہو تو فورا کاؤنسلر سے رابطہ قائم کریں۔ انہیں صحت مند مقابلے میں شرکت کی ترغیب دیں۔ بچوں کی پسند ناپسند کا خیال رکھیں۔

سماجی مسائل

والدین کی آپس میں نااتفاقی، طلاق، ماں یا باپ میں سے کسی کا انتقال سن بلوغ میں قدم رکھنے والے بچوں پر برے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ خاندانی جھگڑے بھی ذہنی اور نفسیاتی امراض کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ لڑکے لڑکیوں کا کمسنی کی عمر میں عشق میں گرفتا رہونا بھی ان کے کریئر پر اثر انداز ہوتاہے۔ فلمی کرداروں کی نقالی میں نوجوان فلموں میںدکھائے جانے والے منظر خود پر آزماتے ہیں اور جنس مخالف کے ساتھ نازیبا حرکت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر محبت میں ناکامی کا شکار بھی ہوتے ہیں اور تشدد کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ لڑکیوں کے چہرے پر تیزاب پھینکنا، کالج میں آپس میں مار پیٹ جیسی خبریں اسی وجہ سے اخباروں میں عام ہوتی ہے۔

حل: جہاں تک ہوسکے والدین کو چاہیے کہ بچوں کے سامنے لڑائی جھگڑے سے پرہیز کریں۔ اپنے گھر کا ماحول خوش گوار رکھیں اور طلاق، خلع جیسی باتیں گھر میںنہ ہوں تو بہتر ہے۔ خاندانی تنازعات اور جھگڑوں کو خاموشی سے حل کریں، بچوں کو جھگڑے میں شامل نہ ہونے دیں۔ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں بتائیں کہ یہ عمر پیار محبت کی نہیں، پڑھ لکھ کر کچھ بن جانے کی کوشش کرنے کی ہے۔ اگر اس مرحلے میں پیچھے رہ گئے تو زندگی بھر پچھتانا پڑے گا۔ بچوں کے فون پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے۔ بچوں کو چھپ کر یا اکیلے میں فون استعمال کرنے پر انہیں منع کیا جانا چاہیے۔ کبھی کبھی ان کے ساتھ کالج جائیں، ان کے دوستوں کو گھر پر بلائیں اور ان کی بھی عزت کریں۔ انہیں بنیادی اسلامی تعلیمات دیں، شرم وحیا کے اسلامی احکامات سے واقف کرائیں اور بتائیں جنس مخالف کو چھونے یا ساتھ بیٹھنے سے متعلق دین کا کیا حکم ہے۔ گھر میں اسلامی رسالے، اخبارات منگوائے جائیں تاکہ بچے وقت ملنے پر ان کا مطالعہ کرسکیں اور دینی و عام معلومات میں اضافہ ہو۔

انٹرنیٹ و موبائل کے مسائل

آج سب سے بڑی فساد کی جڑ موبائل فون بن گیا ہے۔ سوشل میڈیا نے نوجوان نسل کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ پوری نسل فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹوک کی دنیا میں گم سی ہوگئی ہے۔ حتی کہ انھیں کھانے پینے کا احساس بھی نہیں رہتا ہے۔ یو ٹیوب پر مختلف چینلس کو لائک کرنا، اپنے فوٹوس، ویڈیوز اپ لوڈ کرنا اور اپنے آپ کی تشہیر کرنا عام ہوگیا ہے۔ ہمیشہ آن لائن رہنے کی لت نے سائبر جرائم کو جنم دیا ہے اور جرائم پیشہ عناصر اپنی شناخت چھپاکر نوجوانوں کو اپنے جھانسے میں لیتے ہیں اور ان کے ذریعے اب لوڈ کیے گئے فوٹوز، ویڈیوز کا غلط استعمال کرتے ہیں۔

حل: ضرورت پڑنے پر ہی انٹرنیٹ کا استعمال کیا جائے۔ اور ہمیشہ آن لائن رہنے سے پرہیز کیا جائے۔ اپنے ذاتی دستاویزات، خاندانی تصاویر، موبائل نمبر سوشل میڈیا پر دینے سے پرہیز کیا جائے۔ لڑکیاں خاص طور پر اپنی اصل شناخت کو ظاہر نہ کریں۔ اپنے پاس ورڈ، بینک کی تفصیلات کسی کونہ دیں۔ اسی طرح کسی بھی پوسٹ کو لائک کرنا یا اپنے غصے یا ناراضگی کا اظہار کرنا درست نہیں ہے۔ سیکورٹی کی خاطر وقتاً فوقتاً اپنے پاس ورڈ بدلتے رہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنے مستقبل کے پلان کا ذکر نہ کریں۔ فون استعمال کرنے کے اوقات مقرر کرلیں۔ گھر پر سارے افراد مل کر کھانا کھائیں، کھل کر بات چیت کریں اور ایک دوسرے کے کاموں کا جائزہ لیتے رہیں تاکہ مناسب مشورے کے ذریعے بر وقت کسی پریشانی سے بچا جاسکے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
کاظم ملک

تبصرہ کیجیے