BOOST

بچوں کے رویوں اور فکر کی اصلاح

جو بڑے ہیں کبھی وہ بچے ہی تھے۔ ہر بچہ یا بچی بڑے ہو ہی جائیں گے۔ صرف عمر کے مراحل اور جسمانی نشو ونما کا فرق ہے۔ عمر کے ابتدائی مراحل جسے ہم بچپن کہتے ہیں، اس دوران بچہ اقدار کا شعور پاتا ہے تو شعوری طور پر اقدار کا حامل (انسان) بنتا ہے، اور اقدار کا شعور او رادراک آس پاس نہ پائے تو صرف ظاہری معیار سیکھ لیتا ہے اور روئیے بنتے جاتے ہیں۔
انسانی معاشرے میں جب تک بچہ کو فرد کی حیثیت سے دیکھا نہ جائے، معاشرہ ترقی نہیں پاسکتاـ۔ ذرا آگے بڑھ کر دیکھیں تو وہ مقام آتا جسے ہم ’’آفاقی‘‘ کہتے ہیں جہاں محدودیت نہیں ہوتی۔ محدودیت میں میرا اور تیرا ہوتا ہے جب کہ آفاقیت میں جیسا بھی ہے بس ہوتا ہے۔ اب بچے کو تیرا اور میرا سے ہٹ کر دیکھئے وہ آفاقی نظر آئے گا۔ بچہ کسی کا بھی ہو انسانی معاشرے کا فرد ہے اور انسانی معاشرے کا مفید فرد ہونے کے لیے اسے کن صفات ، ہنر اور رویوں کا حامل ہونا چاہیے یہ اہم ہے۔ ہم اگر بچے کو صرف اپنا بچہ سمجھیں گے تو ہم اسے اسی قدر تیار کریں گے جس سے اس کی زندگی آسان ہوجائے یا زیادہ سے زیادہ گھر والوں کی زندگی آسان ہوجائے لیکن جب اسے انسانی معاشرے کا مکمل فرد سمجھیں گے تو ایسا تیار کریں گے جس سے وہ بوجھ بنے بغیر سارے معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوگا۔
جو ادارے بچے کی دیکھ بھال اور نشو و نما کے ذمہ دار ہیں کیا وہ مفید افراد تیار کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں یا صرف ایسے افراد تیا رکرتے ہیں جو صرف اپنی ہی ضرورتیں پوری کرسکتے ہیں اور معاشرے کو کچھ دیے بنا صرف مفت کی عزت مانگتے ہوں۔ اپنی ضرورتیں پوری کرلینے کی قابلیت اور انسانوں کو فائدہ پہنچانے کی قابلیت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ دونوں کی تیاری میں ایک جیسی محنت و طاقت، وقت اور خرچ آتا ہے، صرف توجہ کا فرق ہوتا ہے۔
اگر ہم نے اٹھارہ بیس سال میں ایک فرد کو اس قابل بنا دیا کہ وہ اپنی ضرورتیں پوری کرسکتا ہو تو ہم نے ایک کم ترین سطح کا فرد تیار کر دیا جو ذاتی غرض (خود غرضی) کے لیے جیتا ہے۔ اور یہی اٹھارہ بیس سال کے دوران ہم نے اسے سب کے کام کا فرد بنا دیا تو ہم نے اسے آفاقی انسان بنا دیا۔ کہیں بھی ہوگا انسانی معاشرے کے کام کا بھی ہوگا، اپنی ضرورتیں تو اس کی بھی پوری ہوں گی۔
جو ادارے بچے کی دیکھ بھال اور نشو و نما کے ذمے دار ہیں ان میں سب سے پہلے خاندان ہے پھر تعلیمی ادارے ہیں اور اس کے بعد معاشرہ سب سے بڑی اکائی ہے۔
کسی کو بھی ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی، چچا، خالہ، پھوپھی، ماموں وغیرہ بنانے والا کون ہوتا ہے۔ ایک نومولود ہی تو ہوتا ہے جو یہ درجے دلواتا ہے۔ اب ایک معصوم نووارد نے روئے زمین پر اپنے خاندان والوں کو یہ حق دے دیا کہ آپ مجھے جو بنائیں گے میں بن جاؤں گا، بنا دیجیے یا بگاڑ دیجیے میں آپ کے رحم و کرم پر ہوں۔ یہاں سے شروع ہوتا ہے۔ parenting کا معاملہ، Parenting کا کیا ترجمہ کریں۔ نومولود فرد انسانی کو پروان چڑھانے کی قابلیت کیا جاسکتا ہے۔ دو فرد جو رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے ہیں اور ماں اور باپ بننے کے منتظر ہیں، وہ ان اقدار سے واقف ہیں یا نہیں جو ایک انسان کی ہمہ ہتی تربیت کے لیے ضروری ہیں اور اگر واقف ہیں تو کیا وہ اقدار ان کی زندگی کا حصہ ہیں جس کے ساتھ وہ ایک معاشرے میں ایک صاف شفاف مفید فرد کا اضافہ کرسکتے ہیں، اور اس عظیم ذمے داری کے تقاضے پورے کرسکتے ہیں، یا پھر اپنے طور پر جیسے تیسے بچے کو تختہ مشق بنائیں گے، جس کے بعد بچہ کچھ بن گیا تو ٹھیک ہے ورنہ بگڑنے کی ذمے داری اسی کے کاندھوں پر ڈال کر اسے معاشرے کے حوالے کر دیا جائے گا۔ یہ معاملہ بچوں کے حق میں اور بھی سنگین اس وقت ہو جاتا ہے جب ہر کوئی اپنے ادھورے خیالات اور ناکام تجربات تھوپتا رہتا ہے اور بچہ حیرانی کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے اور بے شمار واقعات اس کے ذہن کے خفیہ خانوں میں دبے رہتے ہیں جو اس کے مستقبل پر منفی طور پر اثر انداز ہوتے ہیں، جتنے افراد اس بچے کے بارے میں اپنی آرا رکھتے ہیں وہ انہیں حقیقت سمجھ کر قبول کرلیتا ہے اور اسے خود سے اپنی حقیقت جاننے کا موقع نہیں ملتا اور جب تک وہ اپنی حقیقت یا سچائی دریافت کر پائے بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے، اس کا نتیجہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ بچے خود اعتمادی سے محروم ہوکر بھی وقت سے پہلے آزاد ہو جانا چاہتے ہیں، اور جتنے بھی مسائل بچوں سے متعلق ہیں وہ بچوں کے عدم اطمینان کی وجہ سے ہیں۔
ہر انسانی رویہ دراصل ایک ردعمل ہے اور ہر ردعمل دراصل ایک حتمی فیصلہ بن جاتا ہے اور وہی فیصلہ تحت الشعور میں جگہ بنا لیتا ہے اور رویہ کہلاتا ہے۔
یہ بات والدین اور خاندان والوں کے لیے انتہائی اہم ہے کہ وہ ہر بچے کو زندگی کے لیے تیار کریں نہ کہ دیکھا دیکھی کسی کی نقل کریں۔ مطلب یہ کہ اپنے بچے کا کسی دوسرے بچے سے تقابل نہ کریں۔ آپ تقابل کریںگے تو صرف دھوکہ ہی ہوگا اور اس میں نقصان آپ کے بچے کا ہوگا اور بالآخر اس نقصان کا ذمے دار بھی بچہ ہی ٹھہرایا جائے گا حالاں کہ وہ اصلاً ذمے دار نہیں تھا۔
مثال: آپ کا بچہ پڑھائی یا کسی اور معاملے میں کچھ کمزور ہے۔ آپ کے کسی رشتہ دار یا پڑوس کا بچہ کچھ آگے ہے۔ اب آپ خود محسوس کریں یا آپ کو کوئی احساس دلائے کہ آپ کا بچہ اس بچے سے کم ہے اور آپ نے اپنی رائے قائم کرلی ہے اور اپنی رائے کا بار بار اظہار کرتے ہیں۔ اب آپ کی اپنے بچے کے بارے میں رائے صرف رائے نہیں رہی بلکہ اس کے لیے ناقابل انکار حقیقت بن چکی ہے۔ میں کم تر ہوں، پیچھے ہوں، انجانے میں احساس کمتری اور بے حوصلگی پیدا ہوگئی۔ آپ کی نیت اچھی تھی، آپ کی اس کے بارے میں صرف رائے اس کے لیے حقیقت بن گئی۔ احساسِ کمتری سے رقابت یا حسد میں مبتلا ہونے کے مواقع پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس سے جو کچھ رویہ کی شکل میں صادر ہوتا ہے اس کی جڑ میں احساسِ کمتری و محرومی ہے، اور یہ احساس اس میں ہماری رائے کے اظہا رکی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ اسی طرح جب کوئی سرپرست بچے سے باربار یہ ذکر کرتے ہیں کہ دیکھو تمہارے چاچا وغیرہ نے کتنا بڑا گھر بنا لیا یا فلاں نے کتنا پیسہ کما لیا تو کیا بچے کو لالچی بننے کی ترغیب مل رہی ہے یا محنت کرنے کی۔ ہم نے تو اسے وہ دکھا دیا جس کے لیے وہ باقی زندگی تج دیے اس میں سامان کو اہم بتایا گیا یا انسانی اقدار کو۔
بچوں کی صرف ضروریات کے بل بوتے پر پرورش کرنا کافی نہیں بلکہ پرسکون کیفیت میں پالنا پوسنا زیادہ ضروری اور اہم ہے۔ جب بچے والدین کو اور دیگر افراد خاندان کو ہمیشہ بھاگ دوڑ، پریشانی، تفکرات اور بے سکونی کی کیفیت میں دیکھتے ہیں تو عملا وہ پریشان رہتے اور بے سکون رہنے کی ٹریننگ لے رہے ہوتے ہیں اور اگر پرسکون دیکھیں گے تو پرسکون رہنے کی عملی مشق کریں گے۔ یعنی بڑوں کے رویے یا رویوں کے ردعمل سے بچوں کے رویے بنتے اور پختہ ہوتے ہیں۔
خاندان کے بعد تعلیمی اداروں کی باری آتی ہے، لیکن یہ ایک حقیقت بھی ہے اور المیہ بھی کہ خاندان نے اپنے حصے کی ذمے داری بھی تعلیمی ادارے کے حوالے کردی ہے اور تعلیمی ادارے جب لکھائی پڑھائی اور مضامین میں ہی مہارت پیدا نہیں کر پا رہے ہیں تو بچے کی تربیت اور رویوں پر نظر کہاں سے رکھ پائیں گے۔ یہ مسئلہ اپنے آپ میں اتنا حساس اور پیچیدہ ہے کہ بچوں کی بقیہ زندگی کن مراحل سے دوچار ہوگی، تعلیمی ادارے اس فکر سے بالکل لاپروا ہیں۔ تعلیمی نظام، مضامین، مواد اور دیگر امور پر تو بہت کانفرنسیں، سمینار اور تحقیق کا کام جاری ہے۔ ہر مضمون پر خوب تحقیق اور اسے بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش ہو رہی ہیں۔ اس سے مضمون تو خوب ترقی پا رہا ہے لیکن جن کے لیے مضامین تیار کیے گئے ہیں وہ ترقی نہیں پا رہے ہیں۔ کیوں کہ محنت مضمون پر ہو رہی ہے بچوں پر نہیں ہو رہی ہے اور تعلیمی نظام میں صرف مضامین پر توجہ ہو تو اہمیت مضمون کی رہ جاتی ہے جب کہ اصل اہمیت بچے کی ہونے چاہیے۔ تعلیمی زندگی میں زندگی سے متعلق کوئی مہارت ہی سکھائی نہیں جاتی، بچے کے سامنے ایک بھری پری زندگی ہے جسے اسے پرسکون طریقے سے بتانا ہے، ظاہر ہے جب بچہ عملی زندگی میں کسی مشکل میں گھر جاتا ہے تو کوئی اس کی مشکل آسان نہیں کرتا بلکہ زندگی کے بارے میں اس کے تصورات اس کی رہ نمائی کرتے ہیں اور یہ تصورات ہی اسے مستقبل کے لیے سنوارتے ہیں، لیکن سرے سے اس کے پاس تصورات ہی نہ ہوں، یا تصورات بنانے کی مہارت ہی نہ ہو تو بے چارہ بے یار و مددگار ادھر ادھر دیکھے گا اور کسی دوسرے فرد کی نقالی کرے گا اور دیگر معاملے میں کسی اور کی نقل کرے گا، یعنی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت و مہارت نہ سکھائے جانے کے باعث ایک مشینی پرزہ بن کر رہ جائے گا نہ کہ جذبات و احساسات رکھنے والا انسان اور ہم اس دور کے بے چارے بچوں اور نوجوانوں میں اس کیفیت کو اچھی طرح دیکھ سکتے ہیں۔
اب خاندان اور تعلیمی ادارے خود سے یہ سوال کریں کہ کیا ان کے پاس انسان بنانے اور بننے کا ماحول ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے اور یقینا نہیں ہے تو پھر سارا الزام اور شکایت بچوں ہی سے کیوں؟ شکایت ذمے داروں اور سرپرستوں کو خود سے ہونی چاہیے یا ان سے ہونی چاہیے جنہیں وہ ’’مفکر و مدبر‘‘ کا درجہ دیے ہوئے ہیں۔
آئیے ذرا اصلاح کے پہلوؤں پر غور کریں۔ درستگی اور اصلاح ’’صحیح‘‘ رُخ پر آنے کا نام ہے اور جب صحیح کو تلاش کیا جائے گا تبھی حل اور اصلاح ممکن ہے اس کے لیے ایک نفس پر بڑی ہی شاق گزرنے والی شرط ہے اور وہ ہے سچائی کو تسلیم کرنا اور وہ سچائی یہ ہے کہ ہم جس غلطی کو باہر ڈھونڈ رہے ہوتے اور بتاتے ہیں، یہ مان لینا پڑتا ہے کہ وہ غلطی باہر میں نہیں، بلکہ اندر میں ہی ہے، یعنی خود مجھ میں اور آپ میں ہے۔ آخر انسان جب تک یہ تسلیم نہ کرلے کہ وہ ’’غلط‘‘ ہے اور اسے اپنے غلط ہونے پر یقین نہ ہوجائے وہ صحیح کی تلاش شروع ہی نہیں کرسکتا۔
ہم سب کے لیے لازمی ہے کہ ہم ’’بڑے‘‘ اپنے دائرہ کار میں اور زندگی میں ایک ’’اندرونی اصلاح‘‘ کے عمل سے خود کو گزاریں اور اس اصلاح ذات کے دوران جو مشکلات پیش آئیں انہیں صبر و استقامت سے برداشت کرلیں، اور اسے کسر شان نہ بننے دیں۔ انا اور عزت کی دہلیز سے باہر آئیں اور اس سرحد میں قدم رکھیں جسے آفاقیت کہتے ہیں، جہاں صبر و رضا، قناعت و پاکیزگی، سکون و قرار، محبت و رحم دلی کو دولت و آسائش پر ترجیح دی جائے، سامان سے زیادہ انسانوں کی عزت و وقار کا لحاظ رکھا جائے، سب انسانوں کو ایک نظر سے دیکھا جائے، انسانیت کا کھویا ہوا وقار لوٹایا جائے، کوئی کرے یا نہ کرے میں کرتا رہوں، کم از کم ایک اچھا انسان دنیا کو مل جائے گا۔ ایسے ماحول میں بچے عمدہ انسان بن سکتے ہیں۔ آئیے اصلاحِ ذات یا سیلف رپیئر کو اپنا شعار زندگی بنالیں اور تسلیم کرلیں کہ ہم بھی کہیں نہ کہیں غلط ہیں تاکہ صحیح کی تلاش ممکن ہوسکے۔ صحیح کی تلاش ہی ہر مسئلے کا حل ہے۔ تمام حل ہمارے اندر موجود ہیں۔ آئینے اپنی طرف توجہ کریں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
مرزا خالد بیگ

تبصرہ کیجیے