2

فیملی کاؤنسلنگ: ضرورت اور طریقہ

معاشرے کی بنیادی اکائی ’’خاندان‘‘ ہے۔خاندان دیکھنے میں سماج کا چھوٹا سا حصہ ہے لیکن اہمیت اور اثرات کے اعتبار سے سب سے زیادہ۔
صحت مند خاندانوں سے ہی صحت مند معاشرہ بن سکتا ہے۔ خاندان میں انتشار ہوگا تو معاشرے میں بھی اس کا اثر ہوگا۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ خاندان میں ٹکراؤ، انتشار، اختلاف اور بگاڑ کی صورت نظر آرہی ہے۔
اس کی کئی وجوہات ہیں اور کئی نشانیاں بھی ہیں۔ جب خاندان میں ذہنی اختلاف، جذباتی اختلاف اور نظریاتی اختلاف ہوتا ہے تو انتشار اور بے چینی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور اس کے منفی اثرات پہلے افراد پر پڑتے ہیں اور پھر ان اثرات کو معاشرے میں بھی دیکھا جاتا ہے۔
خاندان میں اختلاف خواہ وہ ساس اور بہو کا ہو، شوہر اور بیوی کا ہو یا باپ اور بیٹے کے درمیان ہو، صرف انہی ہی کو متاثر نہیں کرتا بلکہ ان کی ذات بھی متاثر ہوتی ہے جو ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ان کی ذہنی صلاحیت کا ارتقا یا تو رک جاتا ہے یا صحیح سمت چھوڑ دیتا ہے اور ان کی فعالیت و تعمیری صلاحیت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
اس انتشار اور اختلاف کا اثر بچوں پر بھی کافی حد تک پڑتا ہے جو براہ راست اس میں شامل نہیں ہوتے مگر ان کے طرزِ فکر و عمل اور ان کی شخصیت کے بناؤ یا بگاڑ پر اس کے گہرے اثرات پڑتے ہیں۔ خاندان میں شوہر اور بیوی کی اچھی مفاہمت ہے، ساس اور بہو کے تعلقات اچھے ہیں باپ اور تایا اور چچا کے تعلقات خوش گوار ہیں تو ایسے گھر کے بچوں کا مزاج، طور و طریقہ، ذہنی صلاحیت، خود اعتمادی اور کامیابی کا معیار بھی اعلی اور اچھا ہوتا ہے۔ بہ نسبت ان خاندانوں کے بچوں کے جہاں روز لڑائی جھگڑے ہوتے ہوں۔ میرے اسکول میں کچھ طلبا و طالبات جن کے نتائج غیر معمولی طور پر حوصلہ شکن ہوتے ہیں ان کے گھریلو حالات کا میں نے مطالعہ کیا باضابطہ کیا اور یہی باتیں سامنے آئیں کہ والد دیر رات گھر میں آتے ہیں اور والدہ پر پوری قوت سے چلاتے ہیں گھر میں جھگڑے والا ماحول بن جاتا ہے۔ بچہ یا بچی خوف کے سایے تلے رات گزارتا ہے صبح یا تو اسکول میں لیٹ ہو جاتا ہے یا ناغہ ہو جاتا ہے اور جب کلاس روم میں ہوتا ہے تب بھی اس کے گھر کا منفی اور دہشت زدہ ماحول اس کے ذہن پر چھایا ہوتا ہے۔ اس طرح اس کے اسکول کے کلاس کی کارکردگی پر بھی اثر پڑتا ہے۔ پرنسپل ہونے کے ناطے مجھے اکثر ان حالات سے نپٹنا پڑتا ہے ان کی کاؤنسلنگ بھی کرنی پڑتی ہے۔
اس مضمون میں اتنی گنجائش نہیں کہ اور مثالیں دی جائیں لیکن اہم سوال یہ ہے کہ جب خاندان کی اہمیت اتنی زیادہ ہے تو اس کی صحت و بقا اور اس کو بہتر بنانے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔
بزرگ
گھر میں جو بزرگ ہیں خاص طور پر دادا دادی یا نانا نانی، ان کی ذمے داری ہے کہ گھر میں جو انتشار ہے اس کو آپسی بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کریں۔ ان میں درج ذیل پانچ نکات پر عمل کرنے سے بہتری کی امید کی جاسکتی ہے۔
(۱) مسائل کو ہی نشانہ بنائیں
جو شخص معاملے کو سلجھانے کی کوشش کر رہا ہے وہ صرف مسائل کو ہی نشانہ بنائے یعنی اس فرد کی ذات یا شخصیت پر انفرادی حملہ نہ کرے، ایسا کرنے سے مثبت ماحول میں سوچنے کا موقع ملے گا اور جس شخص کی وجہ سے مسئلہ پیدا ہوا ہے وہ مسئلے کے اسباب کو دور کرنے کی کوشش کرے گا اس کے علاہ اگر ہم مسئلے کے ساتھ ساتھ مسئلہ پیدا کرنے والے پر نکتہ چینی کریں گے تو الٹا نتیجہ سامنے آئے گا اور وہ شخص مسئلے کو حل کرنے میں آپ کا تعاون نہیں کرے گا۔
(۲) علیحدہ علیحدہ سب کی بات سنیں
جب بھی کسی دو افراد کے درمیان کا کوئی معاملہ ہو تو دونوں افراد سے الگ الگ نشست میں ان کی باتیں سنی جائیں اور ان کا موقف نہایت انہماک اور توجہ سے سنا اور سمجھا جائے تاکہ انہیں یقین ہو کہ ان کی باتیں سنجیدگی سے سن لی گئی ہیں اور وہ خود کو سننے والے کی نظروں میں کمتر نہ سمجھیں۔
(۳) ایک ساتھ بٹھا کر سمجھائیں
الگ الگ نشست کے بعد آپ دونوں افراد کو ایک ساتھ بٹھا کر آمنے سامنے ان کے اختلافات اور شکوک و شبہات کو نہایت مثبت انداز میں دور کرنے کی کوشش کریں۔ نہایت سنجیدگی اور متانت کے ساتھ ان کی باتوں کا جواب دیں اور غلط فہمیوں کو دور کریں۔
(۴) فیملی اوقات متعین کریں:
گھروں میں اختلاف بعض اوقات افراد کے ٹائم ٹیبل میں تال میل نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کسی کے سونے کا وقت ہے کسی کے پڑھنے کا، کسی کے کھانے کا، کسی کے ٹی وی دیکھنے کا، کسی کے فون پر بات کرنے کا، کسی کے قرآن پڑھنے کا، کسی کے نماز پڑھنے کا اور ان حالات میں ہر گھر کا ہر فرد یہ چاہتا ہے کہ وہ کام کر رہا ہے گھر میں اس کے لیے فضا سازگار ہو۔
اس طرح کے ٹکراؤ سے بچنے کے لیے کم سے کم کچھ اوقات میں پورے اہل خاندان کو ایک ہی کام کرنا طے کرلینا چاہیے، جیسے عشا کی نماز کا وقت متعین کرلیا جائے اور کم سے کم عشائیہ رات کے کھانے کا نظم ہو کہ سب کو ایک ساتھ اور ایک ہی وقت پر کھانا ہے۔ اس طرح کے نظم و ضبط سے بہت سارے مسئلے بھی حل ہوں گے اور باہمی محبت میں بھی اضافہ ہوگا۔
(۵) فیملی قانون بنائیں:
اپنی سہولیت اور اپنی استطاعت کے لحاظ سے خاندان کا ایک قانون ضرور بنایا جائے جو سب کے مشورے سے اور سب کی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے طے کیا جائے اور سب کو اس قانون کو لازما مانیں۔ جیسے دس بجے رات کے بعد سارے الیکٹرونک آلات بند کر دیے جائیں گے، رات کا کھانا سب ساتھ کھائیں گے، گھر کا کوئی بھی فرد بڑا یا چھوٹا اگر گھر سے باہر جائے گا تو گھر کے سرپرست کو خبر دینا ہوگی، روزانہ سویرے ہر فرد دوسرے کو ضرور سلام کرے، خواہ بڑا ہو یا چھوٹا۔ اس طرح کے بہت سے اصول بنائے جاسکتے ہیں، جن پر عمل کرنا آسان اور فائدہ مند ہے اور خاندان کے استحکام میں معاون ہے۔
(۶) ماہر نفسیات سے مدد:
گھر کے بڑے یا مائیں یا دادیاں و نانیاں اگران سارے نکتوں پر عمل کرنے کے بعد بھی کامیاب نہیں ہوتی ہیں تو پھر میرا مشورہ ہے کہ پیشہ ور ماہر نفسیات کی مدد ضرور لینی چاہیے۔
پیشہ ور یعنی ماہر نفسیات کی مدد لینا اس لیے ضروری ہے کہ سبھی یعنی خاندان کے افراد آپسی نااتفاقی، نفرت، جلن، حسد، کینہ اور بغض کی وجہ سے شدید دباؤ میں رہتے ہیں اور مدد لینے کی درج ذیل وجوہات ہیں:
(۱) ماہر نفسیات سے مدد لینے کا اصل مقصد ہے کہ ہمارے آپسی تنازعات حل ہوجائیں اور ہم بہتر زندگی گزاریں۔
(۲) سب اپنے آپ کو سدھار لیں۔ ماہر نفسیات کی مدد سے سب کو اپنا جائزہ لینے کا موقع ملے گا اور سب اپنا اپنا رویہ جان لیں گے کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔
(۳) ماہر نفسیات سے مدد لینے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ گھر کے معزز افراد کی باتوں کو بھی ہم خاطر میںنہیں لاتے لیکن جب ڈاکٹر وہ ہدایت دے گا تو ہم نئے طریقہ کو اپنائیں گے اور وہ سبھوں کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
(۴) ماہر نفسیات سے مدد لینا اس لیے بھی ضروری ہے کہ خاندانی انتشار اور خلفشار ہماری روحانی، جسمانی، جذباتی اور علمی ترقی میںرکاوٹ ہے ہمیں ماہر نفسیات کی مدد سے اس رکاوٹ کو دور کرنا چاہیے تاکہ ہم دنیا میں اور آخرت میں بھی کامیاب ہوسکیں۔ یہ میرا ذاتی خیال اور تجربہ ہے کہ جس گھر میں انتشار و افتراق اور خلفشار کی صورتِ حال پائی جاتی ہے، اس گھر کے افراد کبھی کسی مسابقت میں نمایاںکامیابی حاصل نہیں کر پاتے۔ صلاحیت ہونے کے باوجود گھر کا منفی اثر ان کی ذاتی کارکردگی پر پڑتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دینی فریضے بھی باقاعدگی سے ادا کرنا مشکل ہوتا ہے یعنی دنیا اور دین دونوں کی کامیابیوں کو حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔
(۵) ماہر نفسیات یعنی Phyciatrist یا Psychologistکی تربیت میں پورے افرادِ خاندان کی تربیت ہوتی ہے اور سارے مسائل حل ہوجاتے ہیں پورے افرادِ خاندان کی ذہنی افتاد جب مثبت ہو جاتی ہے تو ترقی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
ماہر نفسیات افرادِ خاندان کو ’’رشتوں‘‘ کی تعلیم دیتے ہیں یعنی ان کی اہمیت بتاتے ہیں کہ کس رشتے کا کیا مطالبہ ہے کس رشتے میں ہمیںکیسے تعاون کرنا ہے۔ کتنا کس رشتے کے لیے کتنی قربانی اور اہمیت دینی ہے۔ رشتوں کے ضمن میں اور رشتے نبھانے کے سلسلے میں ہمارے حقوق اور فرائض کیا ہیں، یہ ساری باتیںماہر نفسیات بتاتے ہیں اور جب ہم اپنے رشتوں سے مطمئن ہوتے ہیں تو خاندان کی فلاح و بہبود کے امکانات روشن ہوجاتے ہیں اور دنیاوی و دینی دونوں طرح کی کامیابیاں ملتی ہیں اور طمانیت قلب نصیب ہوتی ہے۔
ایک اہم ترین بات
اس ضمن میں ہمارے نزدیک جو بات سب سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ رشتوں کے سلسلے میں اللہ کے سامنے جواب دہی کا احساس ہمیشہ ہر شخص کو ہونا اور بناجائے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ رشتوں کا تعلق حقوق العباد سے ہے اور یہ حقوق اللہ تعالیٰ بھی اس وقت تک معاف نہیں فرمائے گا جب تک صاحب حق معاف نہ کردے۔ اس سلسلے میں دین کا اور اس کی ہدایات پر عمل کرنے کا شوق ہمارے تمام معاشرتی اور خاندانی مسائل کا حل ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر نیلم غزالہ

تبصرہ کیجیے