ہمارے موجودہ دور کے تربیتی مسائل

اسلام وہ دین ہے جو انسانوں کو ایسا راستہ دکھاتا ہے، جس پر چل کر دنیا کی زندگی بھی سکون و اطمینان سے سرشار ہوتی ہے اور آخرت کی زندگی بھی اللہ کی رضا حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ دنیا کی زندگی میں سکون و اطمینان کے بہت سے پہلو ہیں ان میں سے ایک پہلو اولاد کے ذریعہ سکون و اطمینان کا حصول ہے۔ سماج میں ہم ایسے کتنے ہی خاندانوں کا مشاہدہ کرتے ہیں جن کے پاس اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بے شمار نعمتیں بھی ہیں اور مال و دولت کی ریل پیل بھی مگر اولاد کی طرف سے جو ذہنی اذیت اور عذاب انہیں جھیلنا پڑ رہا ہے وہ ناقابل بیان ہوتا ہے۔ یہی اہمیت ہے اولا دکی تعلیم و تربیت کی اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہ دعا سکھائی ہے کہ:
ترجمہ: ’’اے ہمارے رب! ہمیں اپنے جوڑوں سے اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی تھنڈک عطا فرما اور ہمیں متقین کاامام بنا۔‘‘ (الفرقان:۷۴)
اولاد کے ذریعے آنکھوں کی ٹھنڈک کے حصول او ران کو متقین کا امام بنانے کے لیے والدین کی جانب سے زبردست، ہمہ جہت اور مسلسل و مستقل جدوجہد مطلوب ہے۔ یہ کام بڑا نازک اور مشکلات سے بھرا ہوا ہے اور اس میں ذرا سی بھی غفلت اور کو ہی بعض اوقات کیے دھرے پر پانی پھیر دینے کی مصداق بن جاتی ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ بچہ شخصیت سازی کا عمل پیدائش سے پہلے ہی سے شروع ہو جاتا ہے جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے۔ ماں کیا سوچتی ہے، کیا کھاتی ہے اور کیا کرتی ہے۔ یہ سب باتیں براہ راست بچے کی شخصیت کو بناتی اور بگاڑتی ہیں اسی لیے کہا جات اہے کہ حاملہ خاتون کو فکر و ٹینشن اور منفی خیالات و افکار سے بچ کر خوش دھرم رہنا چاہیے جب کہ دینی افکار کے حامل افراد اس دوران خاتون کو تلاوت قرآن عبادات اور دعاؤں کی تاکید کرتے ہیں۔
یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ بچے کی شخصیت سازی کا عمل نو سال تک مکمل ہو جاتا ہے۔ اس عمر تک اسے جو بنتا ہے، جو عادات و اطوار بنانے ہیں وہ اپنا چکا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اصلا جو کچھ سیکھنا ہوتا ہے وہ سماج، معاشرے اور خاندان کے افراد اور ان کے رویوں اور روایات سے سیکھ چکا ہوتا ہے۔ گویا شخصیت سازی اور ذہنی و فکری تربیت کے اعتبار سے یہ مرحلہ انتہائی اہم اور فیصلہ کن ہوتا ہے۔ اس عمر میں سیکھا گیا علم ہو یا ادب وہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس کی تائید حضور پاک اس قول سے بھی ہوتی ہے، جس میں آپ نے بچوں کو نوعمری میں ہی دین و ادب سکھانے تلقین فرماتی اور اسے والدین کی طرف سے اولاد کے لیے سب سے بہترین تحفہ قرار دیا۔
بچوں کی تربیت اور نئے مسائل
اگرچہ بچوں کی تربیت اور تعلیم ہر دور میں ایک حساس اور اہم مشکلات کی حامل رہی ہے۔ مگر موجودہ دور میں اس میں کچھ خاص قسم کے مسائل کا اضافہ ہوا ہے۔ آپ اب سے کوئی بیس پچیس سال پہلے کی طرف لوٹیں تو انسانی زندگی موجودہ وقت کے مقابلے بڑی سپاٹ، نظر آئے گی۔ کمپیوٹر آچکا تھا مگر کم ہی دیکھنے کو ملتا تھا۔ موبائل فون، دستیاب نہیں تھا۔ لینڈ لائن فون صرف شہروں میں یا بڑے دولت مندوں کے بیان ہوتے تھے۔ ایک تصویر کھنچوانے کے لیے کتنی محنت کرنی پڑتی تھی اور آج ہر بچہ اور بڑا موبائل فون لیے پوری دنیا سے رابطے میں ہے۔ آپ کے ہاتھ میں چھوٹا سا ڈبہ نما آلہ، کمپیوٹر بھی ہے اور کیمرہ بھی، ٹی وی بھی ہے اور فون بھی اور اس کے علاوہ نہ معلوم کیا کیا ہے اور اس کی حیثیت اس وقت یہ ہے کہ اس نے ہر انسان کے ذہن و دماغ کو اپنے قبضہ میں لے رکھا ہے۔ اس کی پکڑ رشتوں ناطوں سے بھی زیادہ مضبوط ہے آج کی نسل پر، بس یہی مسئلہ سب سے اہم ہے اس دور کا جو بچوں کی تعلیم و تربیت کے راستے میں بہت بڑا پتھر ہے۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی صورت میں آج کے والدین کے سامنے ایک بڑا تعلیمی و تربیتی چیلنج کھڑا ہے، جس سے نبرد آزما ہونا آج کے والدین کے لیے بڑا دشوار عمل ہے۔
سوشل میڈیا کے پیدا کردہ مسائل
اس دور میں جب بچے بولنا سیکھنے سے پہلے موبائل فون سے کھیلنا سیکھ لیتے ہیں، ایک عجیب نفسیات کے ساتھ وہ پروان چڑھتے ہیں۔ اس نفسیات میں، ضد، چڑچڑاپن کے علاوہ بھی بے شمار مسائل ہوتے ہیں جو عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتے رہتے ہیں۔ ابتدائی دور کے مسائل میں ارتکاز کی کمی کے علاوہ صحت کے بھی کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں، جن آنکھوں کی کمزوری سر فہرست ہے اور اگر رویوں اور رجحانات کی بات کریں تو تو اس کے نتیجے میں تشدد کا رجحان اور رویہ، مجرمانہ ذہنیت اور نشہ کی عادت اور خود کشی کا سبب بننے والا ڈپریشن خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ جب کہ صحت مند مطالعہ اور ذہنی و فکری ارتقا کو بنیاد فراہم کرنے والی سرگرمیوں میں حصہ داری سے دوری بھی کچھکم اہم مسئلہ نہیں ہے۔ ایسے میں والدین کو متوجہ رہنا ہے کہ ان کے بچے اگر موبائل، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، تو اس پر کتنا وقت صرف کر رہے ہیں۔ وہ ایک ضرورت کی تکمیل کرنے والے آلے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں یا اس کے عادی کچھ اس طرح ہو رہے ہیں، جس کو ’لت‘ کہا جائے۔ اگر وہ ’لت‘ کی حد تک اسے جڑے رہتے ہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ ان کا قیمتی وقت برباد ہو رہا ہے اور اس بات کا قوی اندیشہ ہے کہ ان کی دینی، فکری اور جسمانی صلاحیتوں کو نقصان پہنچے۔ لہٰذا اس کیفیت سے پہلے ہی خود بھی آگاہ رہیں اور بچوں کو بھی آگاہ کردیں۔
مخلوط زندگی
تعلیم ہو یا روزگار ہر جگہ موجودہ زمانے میں لڑکے لڑکیوں کا اختلاط عام بات ہے۔ اکثر اس معاملہ میں نہ عمر کی حد ہے اور نہ مقام کی۔ ایسے تعلیمی نظام میں بھی اور معاشی نظام میں بھی اپنے بچوں کی عفت و عصمت کے تحفظ کو اندیشہ گھیر لیتے ہیں۔ بچپن اور اسکولی زندگی میں اندیشے نسبتاً زیادہ ہوتے ہیں کہ یہ کچی عمر اور ناپختہ شعور کا دور ہوتا ہے جب کہ روزگار کے مرحلے تک پہنچتے پہنچتے ذہن میں پختگی آجاتی ہے اور یہ اندیشہ صرف انہی کے ساتھ رہتا ہے جو خود مطلوبہ اخلاقی سطح سے نیچے رہ گئے ہوں۔
والدین کے لیے لازم ہے کہ وہ ابتدائی عمر سے ہے اپنے بچے بچیوں کو ان حدود اور اخلاقیات کا شعور دینے کی کوشش کریں جو مرد و عورت کے تعلق اور معاملات کے سلسلے میں اسلام ہمیں سکھاتا ہے۔ یہ ایسا معاملہ ہے کہ اس میں بعض والدین شرم اور تکلف کے سبب بچوں کو مناسب رہ نمائی دینے سے قاصر رہتے ہیں جب کہ مسلسل تذکری اور یاد دہانی اور ہر معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہنے کا نظریہ اور یہ احساس کہ اللہ تعالیٰ ہمیںہر حال میں دیکھ رہا ہے ہمارے بچوں کو ایک فراہم کرتا ہے جس کے ذریعہ وہ بہت ساری رائج اخلاقی برائیوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔
دینی شعور
آج کے دور میں تمام والدین عصری تعلیم کو جو انہیں، ڈاکٹر، انجینئر یا ایک کامیاب پروفیشنل بنائے، ترجیح دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کی توجہ اس کیریئر پر اس قدر ہوتی ہے کہ بچہ ایک روز ٹیوشن کا ناغہ کر دے تو ماں طوفان کھڑا کردیتی ہے مگر اسی ماں کو اس بات پر غصہ نہیں آتا کہ اس کے بچے نے ٹی وی دیکھتے ہوئے یا کمپیوٹر پر کھیلتے ہوئے مغرب کی جماعت ترک کردی۔
دراصل دینی تعلیم کو یا زندگی میں دین کو وہ ترجیح حاصل نہیں جو عصری تعلیمی کیریئر کو ہے۔ اسی سوچ اور عمل نے ہماری نئے نسل کو بنیادی دینی و اخلاقی قدروں سے دور کر دیا ہے جو حقیقت میں دین اور دنیا دونوں کو سنوارنے کا ذریعہ ہیں۔ اس میں اعتدال اور توازن کی شدید ضرورت ہے۔
دینی شعور کی بیداری اور دینی نہج پر ان کی تعلیم و تربیت کا بہترین نظام یہ ہوسکتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اسلام کی بنیاد پر بننے والی اجتماعیت اور دینی گروپوں سے جوڑیں جن کی سرگرمیاں ہمیں معلوم ہو اور جن کے بارے میں یقین ہو کہ یہ صالح اجتماعیت ہے اور دین اور اس کی اشاعت کی خاطر وجود میں آتی ہے۔ یہ اجتماعیت جہاں ہمارے بچوں کو دینی فکر کا حامل اور صالح نوجوان بنائے گی وہیں ان کی صلاحیتوں کو نکھار کر دنیا کے سامنے ایک کامیاب سماجی، معاشی اور معاشرتی انسان کی حیثیت سے بیش کرے گی جس کی ہمہ جہت صلاحیتوں کو لوگ رشک کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ اس اجتماعیت سے وابستہ بچے دبّو، شرمیلے اور سخت میدان کار سے فرار اختیار کرنے والے نہیں بلکہ زندگی کی کلفتوں سے پنجہ آزمائی کرنے والے ہوں گے۔
صحت و غذا
ہمارے دو بچوں کے ساتھ صحت اور غذا دونوں مسئلے کافی اہمیت کے حامل ہوتے جا رہے ہیں۔ بات اگر صحت کی ہو تو جسمانی صحت سے زیادہ نفسیاتی صحت کا مسئلہ در پیش ہے اور پوری دنیا کے ماہرین نفسیات بچوں کی نفسیاتی صحت کے سلسلے میں تشویش ظاہر کرتے ہیں۔ دوسری طرف جسمانی صحت کا معاملہ بھی کم سنگین نہیں ہے جہاں بچوں میں بڑھتا، موٹاپا تشویش ناک کی صورت حال پیدا کر رہا ہے اور یہ موٹاپا ہی ہے جو بعد میں شوگر، بلڈ پریشر اور امراض قلب کے علاوہ مختلف النوع بیماریوں سے دو چار کرتا ہے۔ اس صورت حال کے فروغ میں نئی نسل کی غذا اور غذائی عادات کا بڑا رول ہے جو جنک فوڈ پر جینا چاہتی ہے اور جسمانی ورزش اور حرکت و عمل سے خود کو کاٹ کر محض کمپیوٹر اور موبائل گیم کھیل کر صحت مندر رہنا چاہتی ہے۔
ہمارے زمانے کے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی جسمانی و نفسیاتی صحت کی خاطر ان کی جدید دور کی غذاؤں اور غذائی عادات سے دور رکھیں، ان کے نقصانات سے انہیں آگاہ کریں اور صحت مند کھیل کود کی سرگرمیوں کی اہمیت بتاتے ہوئے اس کے لیے مناسب انتظامات کریں۔
اس مضمون میں ہم نے چند مسائل کی طرف والدین کو توجہ دلائی ہے، اس کے علاوہ بھی کئی اور مسائل ہیں اور ہوسکتے ہیں مگر ہمارے دور کے ان مسائل پر والدین کو خاص توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر متین اکولوی

2 Comments

  1. ماشاءاللہ بہت اچھا لگا ضرورت عوام تک اسے عام کرنے کی کے عوام کہ ہر فیملی تک کیسے پہنچایا جائے۔۔

  2. شکریہ۔آپ اس پیج کو شیئر کر کے اس مضمون کو اپنے دوست احباب تک پہنچا سکتے ہیں۔

Comments are closed.