مثالی خاندانی نظام کی جھلکیاں

خاندان کی سب سے اچھی اور مثالی شکل وہ ہے جس میں خاندان کے افراد ایک دوسرے سے محبت کریں، ایک دوسرے کا احترام کریں اور کوئی کسی کی وجہ سے ذہنی اذیت میں مبتلا نہ رہے۔ خاندان کی فضا سب کو راس آئے اور کوئی کسی طرح کی گھٹن محسوس نہ کرے۔ اگر ایسی خوش گوار فضا میسر ہو تو مشترکہ خاندانی نظام میں بھی خیر ہی خیر ہے، اور اگر ایسا نہیں ہے تو علیحدہ خاندانی نظام میں بھی کوئی خوبی کی بات نہیں ہے۔

مشترکہ خاندان کی سب سے چھوٹی شکل یہ ہوتی ہے کہ شوہر اور بیوی کے ساتھ ساس سسر بھی رہتے ہوں۔ موجودہ حالات میں اس چھوٹی شکل کو نباہنا بھی نئی نسل کے جوڑوں کے لئے بہت مشکل ہورہا ہے۔ طلاق کے بہت سے واقعات اسی حوالے سے پیش آتے ہیں۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ جوڑے جو الگ زندگی گزار رہے ہیں ان کی زندگی خوش گواری سے گزرتی ہے۔ درحقیقت ہمارے خاندانی نظام کی ابتری کا عالم یہ ہے کہ جس گھٹن سے فرار اختیار کرکے علیحدہ خاندان بنائے جاتے ہیں، وہ گھٹن علیحدہ خاندانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لئے رہتی ہے۔

مثالی اور خوش گوار خاندان کے موضوع پر گفتگو کے دوران اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ مشترکہ خاندانی نظام کی شریعت میں کیا حیثیت ہے؟

بعض لوگوں کی رائے ہے کہ مشترکہ خاندانی نظام اسلامی قدروں کے خلاف ہے۔ مجھے اس رائے پر اطمینان نہیں ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ مشترکہ خاندانی نظام کو غیر اسلامی قرار دینے کے بجائے اسے اسلامی قدروں کے مطابق بنانا بہتر راستہ ہے۔مشترکہ خاندان کی ایک بڑی خرابی یہ سامنے آتی ہے کہ خاندان کی ساری ذمہ داریوں کا بوجھ سب لوگ مل کر نہیں اٹھاتے ہیں۔ سارا بوجھ کسی ایک کے سر آجاتا ہے۔ ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ بڑا بھائی اپنی پوری جوانی چھوٹے بھائی بہنوں کی پرورش اور تعلیم میں لگادیتا ہے، اور جب وہ بوڑھا ہوجاتا ہے تو گھر کا بٹوارا ہوجاتا ہے، اور لوگ اسے بدحالی میں چھوڑ کر اپنی اپنی فیملی کے ساتھ الگ جا بستے ہیں۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کچھ افراد محنت سے کماتے ہیں اور کچھ افراد من پسند روزگار نہیں ملنے کا بہانہ کرکے گھر بیٹھ رہتے ہیں۔ خاندانی زندگی کی یہ صورت درست نہیں ہے۔ مشترکہ خاندان کے سائے میں رہنا ہے تو ضروری ہے کہ ذمہ داریوں کا بوجھ سب لوگ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق مل کر اٹھائیں۔ ایسا نہ ہو کہ خاندان کے افراد میں کوئی خود بوجھ بن جائے اور کسی کو بوجھ اٹھانے والا بننا پڑجائے۔

مشترکہ خاندان میں رہتے ہوئے ہر فرد کو یہ موقع حاصل رہے کہ وہ مستقبل میں علیحدہ ہونے کے امکان کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے مطابق انتظام بھی کرتا رہے۔ مشترکہ خاندان میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کمانے والے افراد اپنی پوری عمر اور آمدنی خاندان کے مشترکہ مصارف میں لگادیتے ہیں، لیکن یہ طویل منصوبہ بندی اور دور اندیشی کے لحاظ سے مناسب نہیں ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہر فرد کے سامنے خاندان کی موجودہ ضرورتوں کے علاوہ یہ منصوبہ بھی رہے کہ آگے چل کر اسے ایک خاندان الگ بھی بسانا ہے، حسب استطاعت اس کے لئے مناسب زمین بھی خریدنا ہے اور موزوں مکان بھی تعمیر کرنا ہے۔

مشترکہ خاندان میں کسی کو قربانی کا بکرا نہیں بنانا چاہئے، اگر کوئی اپنی مرضی سے قربانی دیتا ہے تو وہ قابل تعریف ہے، لیکن خاندان کے دوسرے لوگوں کی کوشش یہی ہونی چاہئے کہ ان میں سے کوئی ایک اپنی پوری عمر اور ساری پونجی خاندان کی مشترکہ ضرورتوں پر نہ لگادے۔ اگر مشترکہ خاندان میں کوئی فرد بڑھ چڑھ کر اپنی پونجی اور اپنی عمر لگاتا ہے تو خاندان کے دوسرے لوگوں کو چاہئے کہ اسے یاد رکھیں اور ضرورت کے وقت میں اس کی بہترین تلافی کرنے کی کوشش کریں۔

ضروری ہے کہ مشترکہ خاندان بے کار اور کام چور لوگوں کی پرورش کا ذریعہ ہرگز نہ بنے۔ کمزور افراد کا سہارا بننا ایک بات ہے اور کام چور افراد کی ہمت افزائی کا ذریعہ بننا دوسری بات ہے۔ یہ صحیح ہے کہ مشترکہ خاندان میں کمزور افراد کو مضبوط افراد کی طرف سے سہارا مل جاتا ہے تاہم کمزور ہونے اور کام چور ہونے میں فرق ہے۔

مشترکہ خاندان میں ایک طرف مردوں میں معاشی ذمہ داری کی منصفانہ تقسیم کا مسئلہ درہیش رہتا ہے، تو دوسری طرح عورتوں کے درمیان کاموں کی صحیح اور منصفانہ تقسیم کو لے کر گھر کا ماحول تناؤ سے دوچار رہتا ہے۔ اصولی بات یہ ہے کہ جس وقت جتنے لوگ گھر میں رہیں وہ سب کاموں میں بھی شریک رہیں، اور سب کو آرام کے مناسب مواقع بھی حاصل رہیں۔

یہ بھی ضروری ہے کہ مشترکہ خاندان میں خاندان کی ہر اکائی کو تفریح کے بھرپور مواقع حاصل رہیں، اور خاندانی ڈھانچہ اس میں رکاوٹ نہ بنے۔ دیکھا گیا ہے کہ مشترکہ خاندان میں یہ سوچ غالب رہتی ہے کہ ہر تفریحی سرگرمی سب لوگ مل کر انجام دیں، کسی حد تک تو اس کا لحاظ رکھنا چاہئے مگر اسے ایک مجبوری بناکر اپنی خصوصی تفریحات سے دست بردار نہیں ہونا چاہئے۔ ہر شوہر اور بیوی کو چاہئے کہ وہ بچوں کے ساتھ یا بچوں کے بغیر سیر وتفریح کے کچھ پروگرام ترتیب دیتے رہیں، ان کے یہ پروگرام خاندان کے باقی افراد سے علیحدہ ہوں، تاکہ مشترکہ خاندان میں سب کے ساتھ رہتے رہتے شوہر اور بیوی کے رشتوں میں بوسیدگی اور پھیکا پن نہ آجائے۔ سیر وتفریح کے یہ خصوصی مواقع مشترکہ خاندانی نظام کے منفی اثرات کا بہترین علاج ثابت ہوتے ہیں۔

شوہر اور بیوی پر مشتمل نیا نویلا جوڑا بہت سے ارمانوں کے ساتھ وجود میں آتا ہے، بسا اوقات مشترکہ خاندانوں کا ماحول اور خاندان کے بزرگوں کی طرف سے عائد کردہ پابندیاں ان کے ارمانوں کی تکمیل میں آڑے آجاتی ہیں، یہ مناسب نہیں ہے۔ ہر جوڑے کو اپنے ازدواجی رشتے سے باہم لطف اندوز ہونے کا پورا پورا موقع ملنا چاہئے۔ اور اس کے لئے خاندان کا ماحول بہت سازگار رہنا چاہئے۔

بسا اوقات خاندان کے اندر ماحول ایسا ہوتا ہے کہ خاندان میں شامل ہونے والے نئے افراد کو تنگی اور گھٹن کا احساس ہوتا ہے۔ اجنبی گھروں سے سسرال آنے والی بہوؤں کو مشترکہ خاندان والی سسرال میں تنگی کا احساس زیادہ ہوتا ہے۔ ضروری ہے کہ خاندان کے اندر کسی کے لئے گھٹن والی فضا نہ رہے، کچھ لوگوں کی مزاجی کمزوری کے سبب کچھ لوگ ضیق اور گھٹن سے دوچار رہیں، یہ دینی اور اخلاقی لحاظ سے قابل قبول نہیں ہے۔ اگر کوئی گھٹن میں مبتلا ہے تو سب لوگ مل کر اس کی گھٹن کے اسباب کو دور کرنے کی فکر کریں، اور اگر ایسا ممکن نہیں ہورہا ہے، تو مناسب یہی ہے کہ خوش اسلوبی سے ایک اور علیحدہ خاندان وجود میں آجائے۔

انصاف اور آزادی کی بات یہ ہے کہ مشترکہ خاندان کی کوئی شکل کسی کے اوپر زبردستی مسلط نہ کی جائے، بلکہ مشترکہ خاندان کی کوئی بھی صورت ہو وہ سب کے باہمی مشورے سے اختیار کی جائے۔ اسی طرح مشترکہ خاندان کو باہمی تعلقات کی بقا کے لئے شرط اور خاندان والوں کے لئے مجبوری نہیں بنایا جائے۔ جب بھی خاندان کی کسی اکائی کو مشترکہ خاندان راس نہیں آئے اسے علیحدہ خاندان میں منتقل ہونے کی اجازت رہے، اور یہ عمل محبت اور خوش دلی کے ساتھ انجام پائے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مشترکہ خاندان سے الگ ہونے کے لئے سب کا مشورہ اور سب کی رضامندی ضروری نہ ہو، بلکہ جو فرد الگ ہونے کا فیصلہ کرلے وہ اپنے فیصلے میں آزاد مانا جائے۔

مشترکہ خاندان میں سب کو یکساں احترام حاصل رہے، خاندان کے افراد مختلف سطح اور معیار کے ہوسکتے ہیں، ان کی مختلف خصوصیات ہوسکتی ہیں، خوبیوں اور آمدنیوں میں بڑا تفاوت ہوسکتا ہے، تاہم جب ایک ساتھ رہتے ہیں، تو سب ایک دوسرے کی طرف سے احترام کے مستحق ہیں۔

کامیاب مشترکہ خاندان وہ ہے جس میں کسی ایک کی بالادستی اور باقی لوگوں کی ماتحتی کا ماحول نہیں ہوتا بلکہ ’’گھر کے فیصلے گھر والوں کے مشورے سے‘‘ کا سنہری اصول چلتا ہے۔ یہ بہت کار آمد اصول ہے۔ آمریت کے ماحول میں تنگی محسوس ہونا فطری بات ہے، جب کہ شورائیت کے ذریعہ گھر کی فضا کو بہت زیادہ کشادہ اور آرام دہ بنایا جاسکتا ہے۔

مشترکہ خاندان کی صورت گری اس طرح کی جائے کہ خاندان کی ہر اکائی کی پرائیویسی محفوظ رہے۔ خاص طور سے ہر شوہر اور بیوی کا یہ حق ہے کہ ان کے درمیان پیش آنے والے مسائل اور حالات کا علم جب تک وہ چاہیں انہی تک محدود رہے۔ ساتھ رہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ کسی کا راز راز نہ رہے۔

مشترکہ خاندانی نظام میں رہتے ہوئے پردے کا اہتمام بہت ضروری ہے، صرف عورتیں نہیں مرد بھی پردے کا لحاظ رکھیں۔ اتنا سخت پردہ نہیں جیسا باہر کے اجنبی لوگوں سے کیا جاتا ہے، لیکن ایسا تساہل بھی نہیں کہ محرم اور نا محرم کا فرق باقی نہ رہے۔ پردے کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ خاندان کے ماحول میں حیا داری غالب رہے، اور کبھی بھی ہنسی اور مذاق حیا کی حد کو تجاوز نہ کرے۔

یاد رہے، اچھا مشترکہ خاندان وہ نہیں جس سے نکلنے کے دروازے بند رہیں، بلکہ اچھا مشترکہ خاندان وہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ علیحدہ خاندانوں کو جنم دیتا رہے۔ دوسری جنریشن کی شادی بیاہ سے پہلے پہلے پہلی جنریشن کو علیحدہ خاندانوں میں منتقل ہوجانا چاہئے۔ ایسا نہیں ہو کہ بچوں کی شادیاں شروع ہوجائیں اور گھر میں ابا جان اور چچا جان کی فیملیاں ساتھ رہ رہی رہوں۔ تجربات بتاتے ہیں کہ کسی مشترکہ خاندان کو اس سے زیادہ طول دینے سے مسائل قابو سے باہر ہوجاتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ مشترکہ خاندان سے باہر نکلنے کے بعد نئے خاندانوں کی تعمیر وترقی کے بہت زیادہ مواقع نکل کر آتے ہیں۔ اس لئے اس طرح کی پیش قدمی کو روکنا نہیں چاہئے، یہ سب کے حق میں بہتر ہوتی ہے۔

مشترکہ خاندان کی تقسیم کا سب سے بہتر وقت وہ ہوتا ہے جب کسی بڑی شکایت کے پیدا ہونے سے پہلے ہی خاندان علیحدہ خاندانوں میں تقسیم ہوجائے۔ یہ بات مناسب نہیں ہے کہ خاندان کی تقسیم کو اس وقت تک ٹالتے رہیں جب تک کوئی جوالا مکھی نہ پھوٹ پڑے۔ ایسی تقسیم کے بعد پھر نفرت بہت عرصے تک پیچھا نہیں چھوڑتی ہے۔ محبت کی حالت اور محبت کی فضا میں جو تقسیم ہوتی ہے، وہ بعد میں بھی محبت کے ماحول کو بنائے رکھنے میں مددگار ہوتی ہے۔

ایک صورت مشترکہ خاندان کی ہے، اور ایک صورت علیحدہ خاندان کی ہے، ان دونوں کے بیچ ایک اچھی اور مثالی صورت یہ ہے کہ خاندان تو علیحدہ رہے، لیکن تعلقات مشترکہ خاندان والے رہیں۔ اسے ہم مربوط خاندان کہہ سکتے ہیں۔

اللہ کے رسولؐ نے مربوط خاندان کا بہترین نمونہ پیش کیا تھا، آپ کی تمام ازواج مطہرات کے الگ الگ حجرے تھے، تاہم وہ سب ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک رہتی تھیں۔ روایت کے مطابق وہ سب روزانہ کسی ایک کے گھر میں جمع ہوتی تھیں، اور مل جل کر اپنا اچھا وقت گزارتی تھیں۔

علیحدہ مگر باہم قریب اور مربوط خاندان ایک دوسرے کے لئے بہت مفید ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے خاندانوں میں شکایتوں کے امکانات کم اور تعاون کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ایسے خاندانوں کو باہم مربوط اور قریب رکھنے والی چیز بھی اعلی اسلامی اقدار ہوتی ہیں۔

دادا دادی اور پوتے پوتیوں کا باہمی ربط بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اعلی قدروں کی تعلیم اور اعلی قدروں کے امتحان کا یہ سب سے اعلی ذریعہ ہے۔ مشترکہ خاندانوں میں یہ مواقع بہت زیادہ حاصل رہتے ہیں تاہم علیحدہ خاندانوں میں رہتے ہوئے بھی باہم گہرے ربط کے ذریعے ان کا حصول یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

نئے زمانے میں، جب کہ معاشی دوڑ دھوپ کے تقاضے بہت تیزی سے مشترکہ خاندانوں کو علیحدہ خاندانوں میں تبدیل کررہے ہیں، علیحدہ خاندانوں کے باہمی ربط کو مضبوط بنانے پر توجہ دینے کی خاص ضرورت ہے۔ تاکہ الگ الگ رہنے والے چھوٹے چھوٹے خاندان اپنے بڑے خاندان کی برکتوں سے محروم نہ رہ جائیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محی الدین غازی