نمونی

نمونیا کیوں ہوتا ہے

دنیا بھر میں نمونیا پانچ سال یا اس سے کم عمر بچوں کی موت کا دوسرا سب سے بڑا سبب ہے حالاں کہ یہ مرض ایسا ہے جس سے بچا بھی جاسکتا ہے اور قابل علاج بھی ہے۔ یونیسیف کے مطابق ۲۰۱۸ میں دنیا بھر میں اس مرض سے کوئی 800,000 (آٹھ لاکھ) بچے موت کا شکار ہوئے۔ ان میں 153000بچے ایسے تھے جو اپنی پیدائش کے پہلے ہی مہینہ میں چل بسے جب کہ زیادہ تعداد دو سال سے کم عمر بچوں کی تھی۔

اگر اس سلسلے کے پانچ ممالک کو دیکھیں تو ہمارا ملک 127,000 بچوں کی موت کے ساتھ دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے جب کہ اول نمبر پر افریقی ملک نائیجیریا ہے جہاں 162000 بچوں کی نمونیہ سے موت واقع ہوئی۔ تیسرے نمبر پر پاکستان اور پھر کونگو اور ایتھوپیا ہیں۔

نمونیہ ایسا مرض ہے جو بنیادی طو رپر احتیاط کا مطالبہ کرتا ہے اور لاحق ہونے کی صورت میں علاج کا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ معاشرے میں اس مرض کے سلسلے میں بیداری اور احتیاطی تراکیب کو عام کیا جائے۔ اسی طرح گھر کے بڑے اور تجربہ کار لوگوں کی ذمے داری ہے کہ وہ نومولود بچوں کی نگرانی اور حفاظت کے سلسلے میں نو عمر ماؤں کو آگاہ کریں اور بچوں کو اس مرض سے محفوظ رکھنے میں ان کی معاونت کریں۔

نمونیا کے اسباب

نمونیہ اصلاً پھیپھڑوں کا مرض ہے اور سردی کے موسم میں اس کی دو وجوہات بنتی ہیں۔ اولاً نزلہ ہو جاتا ہے جسے لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں کہ خود بخود ٹھیک ہوجائے گا۔ تاہم نزلہ ٹھیک ہونے کی بجائے بڑھ جاتا ہے حتی کہ پھیپھڑوں کی چھوٹی نالیوں میں گرنے لگتا ہے۔ اس رطوبت (نزلہ) میں جراثیم کی افزائش کا سامان ہوتا ہے، لہٰذا جراثیم کلیب زیلا نمونیے افزائش پا جاتا ہے جو مزید پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ سردی کی وجہ سے پھیپھڑوں کی چھوٹی نالیاں سکڑ جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں گرمی اور سردی کے ردعمل میں پیدا ہونے والی اشیا (کاربن ڈائی آکسائیڈ+پانی نما بخارات) میں سے کاربن ڈائی آکسائڈ تو خارج ہوجاتی ہے مگر پانی نما بخارات ان نالیوں ہی میں رہ جاتے ہیں۔ پھیپھڑوں اور اس سے متعلق اجزا کے متعلقات ہی اس کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟ اس کی وجہ شیخ بوعلی سینا بیان کرتے ہیں کہ یہ عضو رطوبت سے لتھڑا رہتا ہے، بیرونی جانب بخارات معدہ اور جگر اور اندرونی جانب غدود غشا مخاطی اور بلغم سے۔ یہی رطوبت جب تک طبعی حالت میں ہیں تو ٹھیک ہے، جونہی غیر طبعی کیفیت پیدا ہوتی ہے، مرض کا شکار کردیتی ہے۔

احتیاط

بسا اوقات جب بچوں کو نمونیا ہوتا ہے تو والدین کا خیال ہوتا ہے کہ بچے کو آئس کریم سے ہوا ہے، ہم نے گرم لبادہ تو پہنایا تھا، مگر چہرے میں پانچ سوراخ ہیں، جن میں سے تین سوراخ (دو نتھنوں کے اور ایک منہ کا سوراخ) وہ کھلے رہتے ہیں جن میں سردی داخل ہونے کاامکان رہتا ہے اور ہم انہیں بند بھی نہیں کرسکتے۔ غذا میں سرد موسم میں عرقیات (پھلوں کے) سے پرہیز کرنا چاہیے، اگر زیادہ طبیعت چاہے تو کالی مرچ کے ہمراہ استعمال کرسکتی ہیں۔ اسکول کے بچوں کو رات سوتے وقت پرندوں کے گوشت کی یخنی استعمال کرانی چاہیے۔ دودھ کا استعمال موسم سرما میں ہلکی سیاہ پتی کے ہمراہ کرنا چاہیے۔

علامات

٭آنکھ سرخ ہوتی ہے کیوں کہ تیز بخار ہوتا ہے۔٭ نزلہ، زکام، ناک بند کی شکایت بہت زیادہ ہوتی ہے۔٭ پھیپھڑوں کے مقام پر خارش٭ کھانسی ٭تنگی تنفس ٭ بسا اوقات بلغم میں ہلکا خون ٭ جلد کا رنگ سفید مائل ٭ قبض ٭ نفخ شکم ٭ صبح نہار منہ تھوک کالیس دار ہونا۔

ایک ضروری وضاحت

کوئی بھی بیرونی شے جب جسم پر حملہ آور ہوتی ہے تو دماغ اپنا تاثر پیش کرتا ہے جو بہ شکل بخار ہوتا ہے۔ سردی لگ جانے سے ورم آنا ایک لازمی امر ہے اور جس جگہ ورم آتا ہے، اگر وہاں غشائیہ مخاطی اور غدود بھی موجود ہوں تو رطوبت بکثرت پیدا ہوتی ہے۔ غشائیہ مخاطی (میوکس ممبرین) ناک اور پھیپھڑوں میں بکثرت ہوتی ہے، جب یہ متورم ہوتی ہے تو ان سے گاڑھی رطوبت نکل کر جمع ہوجاتی ہے اور اپنے چبھن والے مواد کی وجہ سے خراش پیدا کردیتی ہے۔ لہٰذا نمونیے میں سینے اورناک میں خراش محسوس ہوتی ہے۔ پھیپھڑے اس مواد کو خارج کرنے کی غرض سے کھانسی کی مدد لیتے ہیں اگر عروق خشک میں خراش نہ بنا ہو تو سادہ بلغم اور اگر خراش ہو چکی ہو تو ہلکا خون خارج ہوتا ہے۔ عروق خشنہ کی تنگی بوجہ رطوبت ہی تنگی تنفس کا باعث ہے۔ طب مغربی کے مطابق ایک نحوست (انفیکشن) اس رطوبت کو بناتی ہے، ان کے نام کچھ یوں ہیں:

٭ سٹیریٹیو کو کس نمونیا ٭ کلامائی ڈیا نمونیا ٭ مائیکو پلاسما نمونیا ٭ نیموفیلا ٭ کلیب زیلا نمونیا ان کی موجودگی کا پتہ ٹیسٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ جدید دور میں جین کے ذریعے پیدائش سے قبل معانیہ کرنے کا اور اس کے مطابق جین ماں میں متعارف کرنے کا طریقہ آرہا ہے اس سے بہت سی بیماریوں سے نجات مل سکے گی۔ ایک طریقہ ویکسین کا ہے، مگر جو جراچیم میوٹیشن کرتے ہیں، ان میں ویسکین کارگر ثابت نہیںہوتی۔

نمونیا کا علاج

طب یونانی: ٭ پہلے بدن کا تنقیہ (صفائی) کریں: برگ نیم، اف سن تین، شاہتراہ، چرائتہ کا قہوہ پلائیں۔

٭ دو گھنٹے بعد بلغم کا مسہل دیں، اطریفل اسطو خودوس (اسطوخودوس سرکا تنقیہ کرتا ہے اور مسہل بلغم اور سودا ہے) گرم پانی میں پلائیں ساتھ ملیٹھی، پرسیاوشان، زنجبیل (ادرک) توت سیاہ، پودینہ کا قہوہ۔ قہوہ تیار کرنے کے بعد سیاہ مرچ حسب ذائقہ استعمال کرائیں۔

٭ شہد، رطوبت سکھانے، بند نتھنے میں آرام کی غرض سے: بزرال بنج اور سوما کلپا آدھا چائے کا چمچ کا سفوف ہمراہ خالص چٹائیں۔

٭ سینے پر روغن تل کی مالش کریں تاکہ پھیپھڑوں کا ورم اتر جائے۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ باہر سے مالش کرنے سے ہڈی کے اندر کیسے دوا نافذ ہوگئی۔ یہ کام ڈفیوزن کے ذریعہ ہوتا ہے۔ ہم نے بہت سے مریضوں کو دیکھا افیون+ روغن کاہو کی مالش جگر کے مقام پر کی اور جگر کے درد سے شفا ملی۔ حکیم بقراط کہتے ہیں کہ جو دوا سر کے چندیا پر لگائی جائے اس کا اثر پیر کے تلوؤں تک پہنچتا ہے۔

طب مغربی

ناشتے کے بعد اینٹی بائیوٹک گروپ میکرو لائیڈ کا استعمال کریں، اس میں بہت سی ادویہ شامل ہیں جو مرض کے قوی اور ضعیف ہونے کے لحاظ سے دی جاتی ہیں۔ دوپہر کھانے کے بعد اینٹی بائیوٹک فلورو کوئینولون کا استعمال کرائیں یہ جراثیم کش ہیں۔ نزلاوی رطوبت زیادہ بہنے اور ناک کے دیگر عوارض کو روکنے کی غرض سے رات سوتے وقت اینٹی الرجک + سیوڈوای فڈرین، دیں۔ ان ادویہ میں عمر، جنس اور مرض کے قوی اور ضعیف ہونے کا خاص خیال رکھا جاتا ہے ورنہ چکر، متلی، دماغی امراض (اگر بلاوجہ رطوبت نزلاوی روک دی جائے) جیسی بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔

نمونیے کے مریض کے لیے غذا

٭ پرندے یا مرغ کی یخنی کالی مرچ کے ساتھ ٭ سیاہ پتی کی چائے ٭ بادام، پستے اخروٹ ٭ وٹامن ڈی، ای بی بارہ کے سپلیمنٹ ٭ سبز پتی کی چائے معہ ادرک، جن سنگ، دار چینی۔

پرہیز

ٹھنڈی اشیا (ٹھنڈا پانی، ٹھنڈی مشروبات) تیل والی اشیا، پکوان۔ سر پر گرم مزاج کے تیل کی مالش ممکن ہے مگر سرد مزاج کے تیل کی مالش منع ہے۔

نوٹ: ٭ گرم پانی پی سکتے ہیں ورنہ پانی کی کمی سے خون گاڑھا ہو جاتا ہے جو مزید بیماری کاموجب ہوگا۔ ٭ یہ تزکرہ صرف سردی کی وجہ سے پھیپھڑوں کے بارے میں ہے۔ نمونیا دل کی وجہ سے اور دیگر اسباب سے بھی ہوتا ہے، ان کے اسباب و علامات اور طریقہ ہائے علاج الگ ہیں۔ اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ سردی کے موسم میں چھوٹے بچوں کی سردی کی کسی بھی علامت کو نظر انداز نہ کیا جائے اور فوری مناسب علاج کیا جائے جب کہ سردی کے موسم میں بچوں کو سردی سے بچانے کی مکمل فکر کی جائے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر حکیم وقار حسین

تبصرہ کیجیے