BOOST

چالاکی کا انجام (خیال فارسی حکایت سے ماخوذ)

کردار: 1- خانم (مالدار بیوہ) 2- بانو( ملازمہ) 3-بی بی(ملازمہ)

(اسٹیج پر اندھیرا ہے، مرغ تین چار بار بانگ دیتاہے۔ دھیرے دھیرے روشنی بڑھتی ہے۔ایک پلنگ پر بوڑھی خانم سوئی ہوئی ہے اور نیچے دو ملازمائیں سوئی ہوئی ہیں۔)

خانم: (بانگ سن کر اٹھ بیٹھتی ہیں) الحمد للہ الذی احیانا بعد ما اما تنا و الیہ النشور

(پھر ٹٹول کر چھڑی ڈھونڈتی ہے اور اس سے ملازماؤں کو ہلاتی ہیں) اٹھ جاؤ کمبختو، اری اٹھ جاؤ۔ میرے پیارے مرغے نے بانگ دے دی۔ صبح ہو گئی بانو۔

بی بی: (اٹھ کر) جی جی خانم(دوسری ملازمہ کو ہلا کر) اٹھ …بانو۔

بانو: ابھی تو اندھیرا ہے، بی بی۔سونے دے۔(پھر بانگ کی آواز)

خانم: (ڈانٹ کر )مرغا بانگ دے رہا ہے سنائی نہیں دیتا کیا؟ صبح ہوگئی …بانو۔

بانو: (اٹھ کر)اوہ … مرغے نے بانگ دے دی؟ صبح ہوگئی خانم؟؟

خانم: گھوڑے بیچ کر سوتی ہو؟ جاؤ! وضو کے لیے پانی رکھو اور چائے کا انتظام کرو۔

خانم: (لکڑی ٹیکتے ہوئے باہر جاتی ہے۔) مرغا بانگ نہ دے تو مجھے معلوم ہی نہ ہو۔ میں اندھی کیا جانوں کہ صبح ہوئی یا نہیں۔شکر ہے میرے پاس ایک مرغا ہے۔

بی بی: (خانم کے جانے کے بعد) جی تو کرتا ہے اس مرغے کا گلا ہی گھونٹ دوں۔ روزمنھ اندھیرے جگا دیتا ہے۔

بانو: گلا کیوں گھونٹو، ذبح نہ کردو؟دعوت بھی ہوجائے گی۔

بی بی: (خوش ہو کر)خیال تو نیک ہے۔ ایک تیر سے دو نشانے اسی کو کہتے ہیں۔

بانو: کوئی تدبیر کرنا ہوگی تاکہ ہم صبح دیر تک سو سکیں۔

بی بی: ہاں، صبح دیر تک سونے کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔سوچوبانو،سوچو!! … مرغے سے پیچھا چھڑانا ہی ہوگا۔

خانم: (چھڑی ٹیکتی ہوئی آتی ہے اور ایک طرف نماز پڑھنے لگتی ہے۔)

بی بی: خانم اور مرغے میں کتنی یکسانیت ہے نا؟

بانو: (منھ پر ہاتھ رکھ کر ہنستی ہے) سچ کہا تم نے۔ دونوں صبح سویرے اٹھ جاتے ہیں۔

بی بی: اری بانو… سفید مرغے کی طرح خانم کے سفید کپڑے نہیں دیکھتی؟

بانو: ہاں ،اور مرغے کی لال کلغی اور خانم کا پان سے لال منھ۔ (منھ پر ہاتھ رکھ کر ہنستی ہے۔)

خانم: (نمازسے فارغ ہوکر) بانو، کہاں ہے میری چائے؟

بانو: لائی خانم۔ (اندر سے چائے لاکر دیتی ہے۔)

خانم: (پلنگ پر بیٹھ کر چائے پیتی ہے۔) اونھ آج پھر شکر کم ہوگئی۔ دھیان کہاں رہتا ہے تیرا؟ مجھے صبح کی چائے اچھی چاہئے۔ ورنہ پورا دن سر میں درد رہتا ہے۔

بانو: معاف کیجیے خانم۔ (کپ لے کر جاتی ہے۔)

خانم: بی بی، جلدی سے آنگن کی جھاڑو کر کے پودوں کو پانی دے دے۔ پھر مجھے قاضی صاحب کے گھر جانا ہے اور میرا پان؟

بی بی: جی خانم۔ابھی لائی۔

(مرغ کی بانگ کی آواز آتی ہے۔)

خانم: مرغے کو دانا پانی ڈالا کہ نہیں؟

بانو: جی ابھی دیتی ہوں۔

خانم: روز مجھے ہی یاد دلانا پڑتا ہے۔ کام چور کہیں کی۔ (تسبیح لے کر وظیفہ شروع کرتی ہے۔)سبحان اللہ، سبحان اللہ…

بی بی: (پان دے کر)خانم آنگن کی جھاڑو ہو گئی اور بانو پودوں کو پانی دے رہی ہے۔ قاضی صاحب کے گھر چھوڑ دوں آپ کو؟

خانم: (پان کھا کر)ہاں چل۔ ظہر کے بعد لینے آجانا۔ کھانا وہیں کھاؤں گی آج۔(چھڑی ٹیکتے ہوئے بی بی کے ساتھ چلی جاتی ہے۔ )

بانو: (خوشی سے)آج کچھ اور مانگ لیتے تو وہ بھی مل جاتا۔ خانم گھر کے باہر ہیں۔ آج ہی مرغے کا قصہ تمام کردیتے ہیں۔

بی بی: (ہاتھ میں چاقو لے کر آتی ہے۔) ہاں ، چلو مرغ پلاؤ کھانے کا وقت آ پہنچا۔

(دونوں قہقہہ لگاکر جاتی ہیں۔اسٹیج کے پیچھے سے مرغ کی چیخیں۔)

بانو: (اسٹیج کے پیچھے سے) بی بی ، چل مرغا ذبح ہو گیا۔ تو جلدی سے صاف کر تب تک میں مسالہ تیار کرتی ہوں۔

بی بی: (اسٹیج کے پیچھے سے) ہاں ہاں، میں ابھی گوشت لے کر آئی۔

(کھٹ کھٹ کی آواز، پھر کوکر کی سیٹی کی آواز)

بانو: (ہاتھ میں تھال لیے داخل ہوتی ہے۔)آہا!کیا خوشبو ہے!!

بی بی: (گلاس لے کر آتی ہے۔ ) بہت بانگ دیتاتھا، اب دے بانگ۔ (زور سے ہنستی ہے۔)

بانو: (پلاؤ کھاتے ہوئے)خانم سے کیا کہیں گے؟ مرغا کہاں گیا؟

بی بی: کالا بِلّا لے بھاگا۔ (دونوں ہنستی ہیں۔کھا نا ختم کر کے ڈکاریں لیتی ہیں۔)

بانو: بی بی، اب سب کچھ ٹھکانے لگا نا ہوگا۔

بی بی: تو صفائی کر لے، میں خانم کو لے آتی ہوں۔ ہمارے آتے ہی ڈراما شروع کردینا۔

بانو: ٹھیک ہے۔ (صفائی شروع کرتی ہے۔اور بی بی چلی جاتی ہے۔)

خانم: (چھڑی ٹیکتی ہوئی بی بی کے ساتھ داخل ہوتی ہے۔ ) آہ بہت تھک گئی۔

بانو: (چیختی ہوئی آتی ہے۔)خانم خانم، غضب ہوگیا۔ ہمارے مرغے کو کالے بِلّے نے دبوچ لیا۔

خانم: کیا ؟کب؟

بانو: کچھ دیر پہلے، میں دور تک دوڑی مگر پکڑ نہ سکی۔ ہائے ہائے پیارا سفید مرغا۔

بی بی: (روتے ہوئے) ہائے ہائے،اس بِلّے کو موت آئے، اس نے ہمارا مرغا کھالیا۔ اسے کتا کھائے۔

خانم: (کانپتی ہوئی آواز میں) ہائے میرا پیارا مرغا۔ کم بخت ماری اس کی حفاظت نہ کرسکی۔

(تینوں کے رونے کا شور، اسٹیج پر دھیرے دھیرے اندھیرا ہوتا ہے۔ پھر ہلکی روشنی ہوتی ہے۔ پلنگ پر خانم اور نیچے دونوں ملازمائیںسوئی ہوئی ہیں۔)

خانم: مرغا نہیں رہا کہ بانگ دیتا اور صبح کی خبر ہوجاتی۔ میری نماز قضا نہ ہوجائے۔ (اٹھ کرچھڑی سے ملازمہ کو ہلا تی ہے)اے بانو، اٹھ دیکھ صبح تو نہیں ہوگئی؟

بانو: (جاگ کر، ادھر ادھر دیکھتی ہے۔) نہیں خانم ابھی تو بہت اندھیرا ہے۔ سوجائیے۔

خانم: (لیٹ جاتی ہے۔پھر تھوڑی دیر بعد) بی بی … او بی بی، دیکھ ، صبح تو نہیں ہوگئی؟اے بی بی اٹھ نالائق۔

بی بی: جی خانم ؟

خانم: دیکھ صبح تو نہیں ہو گئی؟

بی بی: (اٹھ کر کھڑکی تک جاتی ہے اور باہر دیکھ کر کہتی ہے)خانم آدھی رات نہیں گذری۔ صبح ہونے میں بہت دیر ہے۔ سوجائیے۔

خانم: اچھا (پھر لیٹ جاتی ہے۔ خراٹوں کی آواز۔کچھ دیر بعد)بانو… بانو…اٹھ دیکھ شاید صبح ہوگئی۔

بانو: (جماہی لے کر) خانم خدا کے لیے سونے دیجیے۔ ابھی صبح نہیں ہوئی۔

خانم: میں اندھی کیا جانوں۔ مرغا بانگ دیتا تھا تو معلوم ہوتا تھا، اب کیسے معلوم ہو؟ دیکھ صبح نہ ہوجائے میری نماز قضا ہو جائے گی۔

بانو: (روتی ہے۔) ابھی بہت رات ہے، سوجائیے۔

خانم: ٹھیک ہے۔ (لیٹ جاتی ہے۔ خراٹوں کی آواز۔ پھر کچھ دیر بعد) اے بی بی … دیکھ شاید صبح کا وقت ہوگیا ہے۔ اے بی بی … اٹھ (چھڑی سے ہلاتی ہے۔)اٹھ کم بخت ماری دیکھ صبح کا وقت ہو گیا کیا؟

بی بی: ہائے، خانم… فجر کا وقت ہونے میں کچھ دیر اور ہے۔

خانم: کچھ دیر ہے تو کوئی بات نہیں، چولہے پر گرم ہونے کے لیے پانی رکھ۔ تھوڑی دیر میں وقت ہوتا ہی ہوگا۔

بی بی: (سر پکڑ کررونے لگتی ہے) ہائے کیا مصیبت ہے۔ بانو، اٹھ بانو۔

بانو: (روتے ہوئے )ہائے ہائے ، کیا اٹھوں؟ سوئی ہی کب تھی…؟

خانم: الحمد للہ الذی احیانا بعد ما اما تنا و الیہ النشور

(دونوں ملازماؤں کے رونے کی آواز

شیئر کیجیے
Default image
پروفیسر محمد یحییٰ جمیل

تبصرہ کیجیے