2

بچوں کو موت کی حقیقت سمجھانا

وردہ تین چار سال کی تھی جب اس کے دونوں پالتو طوطے یکے بعد دیگرے مرگئے۔ وہ ان دونوں کو بہت پیار کرتی تھی اور بڑے شوق سے انہیں کھلاتی پلاتی تھی۔ پہلے طوطے کی موت پر وہ بہت روئی۔ اس کے والد نے اسے سمجھایا پھر اسے لے کر ایک خالی پلات میں گئے ایک گڑھا کھودا ار رنگین کپڑے میں طوطے کو اسی کے ہاتھ سے لپٹوا کر زمین میںدفن کر دیا۔ اس کے والد اگلے روز سفر پر نکل گئے۔ تیسرے دن دوسرا طوطا بھی مر گیا لیکن اس بار وردہ اس طرح غم زدہ نہ تھی جس طرح پہلے طوطہ کی موت پر تھی۔ اب کی بار اس نے گڑھا کھودنے اور طوطے کو دفن کرنے کا کام خود انجام دیا اور ہشاس بشاش رہی۔

موت ایک پیچیدہ حقیقت ہے خاص طور پر اس وقت اور بھی پیچیدہ ہوجاتی ہے جب ہم اسے بچوں کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

زندگی میں ایسے بہت سے مواقع آتے ہیں جب انسان درد و کرب سے دو چار ہوتا ہے لیکن سب سے زیادہ درد و الم اور تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب اس کے خاندان یا گھر کا کوئی شخص انتقال کر جاتا ہے اور فقط بڑوں کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ اس خاص موقع پر گھر کے چھوٹے بچے بھی اس درد و تکلیف اور غم کو محسوس کرتے ہیں ان کے لیے اس وقت اس بات کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے جب بچے اس کا کوئی جانور جس کو وہ کھلاتا پلاتا تھا، جس کے ساتھ اس کی دوستی تھی مرجاتا ہے یا اور بھی کوئی دوسرا شخص جب وفات پاتا ہے تو ایسے وقت میں بچوں کو موت کی حقیقت سے آشنا کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔

بچوں کی عمر اور موت کی سمجھ

اس موضوع پر لکھی گئی بے شمار تحریریں واضح کرتی ہیں کہ بچوں کی عمر کے مطابق اس حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت الگ الگ ہوتی ہے۔ جب بچہ ڈیڑھ دو سال کا ہوتا ہے تو وہ کھونے اور پانے کی سمجھ بوجھ رکھتا ہے وہ اس بات کو اچھی طرح سے سمجھتا ہے کہ اس سے کوئی چیز چھپنی جا رہی ہے یا اس کو کچھ دیا جا رہا ہے لیکن ابھی اس عمر میں بچے کے پاس وہ صلاحیت اور سمجھ نہیں ہوتی ہے کہ موت کی حقیقت پر منطقی انداز سے سوچ سکے یا کسی حد تک اس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔

بچوں کی سمجھ بوجھ اور قوت ادراک کی صلاحیت میں ارتقا اور اضافہ کا دار ومدار زیادہ تر اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ کسی واقعہ پر کس طرح کا ردعمل ظاہر کرتے ہیں جب کہ عام طور سے بچے موت، حادثات اور تکلیف دہ واقعات سے پہنچنے والے غم و آلام سے بے پروا ہوتے ہیں اور کوئی فوری ردعمل ظاہر نہیں کرتے۔

موت اور اس کے اثرات پر موجود بہت ساری تحریریں اور بحثیں اس کو بیان کرتی ہیں کہ وہ بچے جو ابھی سات سال سے کم عمر کے ہیں ان کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ موت ایک وقتی اور عارضی چیز ہے جب کہ کچھ بچوں کی سوچ اس کے برعکس بھی ہوتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ ان اہم مسائل میں سے ہے جن کو سمجھنا بچوں کے لیے آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر اس وقت جب ہمارے پاس اس بات کو سمجھانے کے لیے ضروری مثالیں نہ ہوں یا ہم بچوں کی طرف سے کیے جانے والے سوالوں کے جواب دینے کے لیے ان کی فہم کے مطابق ضروری مواد نہ رکھتے ہوں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کی فہم سے قریب ترین طریقہ اور اسلوب اختیار کریں یا کم از کم اس بات کی کوشش کریں کہ بچے کو پہنچنے والی جذباتی تکلیف کو ختم کریں یا کم کرسکیں تاکہ وہ صدمہ یا ڈپریشن میں جانے سے محفوظ رہ پائے۔

بچوں کے سوالات

جب بچے پانچ سال یا اس سے کم عمر کے ہوتے ہیں اور ان کے سامنے کسی کی وفات ہوجاتی ہے تو وہ ان تین بنیادی عوامل کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ موت ایک قطعی اور آخری چیز کا نام ہے، اس کے بعد کسی کے واپسی کا کوئی امکان نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ سمجھ پاتے ہیں کہ مرنے والے کے تمام کاروبار زندگی ہمیشہ ہمیش کے لیے ختم ہوگئے اور نہ ہی وہ یہ سمجھ پاتے ہیں کہ موت ہر کسی کو آئے گی۔ یہی وجہ ہے کہ بچے اس قسم کے مختلف سوالات کیا کرتے ہیں کہ دادا کہاں چلے گئے، اب کیوں نہیں دکھتے؟ کیا موت واقعی تکلیف دہ چیز ہے؟ اور کیا مرنے والا سن سکتا ہے؟ کیا وہ ہمیشہ کے لیے چلے گئے اب کبھی نہیں آئیں گے؟ وغیرہ وغیرہ۔

بعض بچوں کو یہ کہتے سنا گیا ہے کہ پاپا تو دوکان پر گئے ہیں اور آجائیں گے کیوں کہ اس کے پاپا روز دوکان جاتے اور آجاتے تھے اور ایک دن راستہ میں حادثاتی موت کے سبب واپس نہیں آئے۔ اس کے ذہن میں ان کا روز کا جانا اور پھر روز واپس آجانا اتنا پختہ ہوچکا ہوتا ہے کہ وہ اور کسی بات کو قبول ہی نہیں کرتا۔

بچوں سے تفسیر کیسے کریں؟

چھوٹے اور بڑے بچوں کے لیے کسی حد تک موت کا مفہوم سمجھنا آسان تو ہو جاتا ہے لیکن کبھی کبھی وہ اس بات کا خوف محسوس کرنے لگتے ہیں کہ اب ان کو چھوڑ دیا دیا گیا ہے یا وہ تنہا رہ گئے ہیں اور پھر کبھی کبھی وہ اپنے اس پریشانی اور تکلیف کے احساس کو چھپاتے بھی ہیں۔

ذیل کچھ خاص طریقے اور اسالیب بیان کیے جا رہے ہیں، جن کے محبت اور نرمی کے ساتھ استعمال کرنے سے بچوں کے لیے موت اور اس کی حقیقت کو سمجھنا آسان ہوسکتا ہے اور حقیقت میں اس چیز کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔

واضح جواب

جب آپ اپنے آپ کو بچے کے سوال کا جواب دینے کے لیے تیار نہ پاتے ہوں تو مناسب ہے کہ آپ اس کا جواب دینے یا اس کی وضاحت کو خوش اسلوبی اور نرمی و محبت کے ساتھ کسی مناسب وقت کے لیے ٹال دیں کیوں کہ اس نوعیت کے سوالات بچے کی زندگی کے لیے بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں لہٰذا جس قدر ہوسکے بہترانداز میں اور مناسب وقت میں دینے کی کوشش کی جائے۔

یہ بہت ضروری چیز ہے کہ بچے کو اطمینان بخش اور واضح جواب فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ اور تسلیم کرے کہ اب مرنے والے کو وہ کبھی نہیں سیکھ سکتے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سمجھانے کی کوشش کریں کہ ان کی یادیں ہمارے ذہن میں ہمیشہ رہیں گی۔ ان باتوں کو سمجھانے میں اس بات کی کوشش کی جائے کے جوابات اس کی سمجھ سے قریب اور وقت و حالات کے مطابق ہوں اور اس طرح کے جملے استعمال کرنے سے بالکلیہ اجتناب کریں کہ وہ سور رہے ہیں، وہ کسی سفر پر گئے ہوئے ہیں کیوں کہ اس کی وجہ سے ہوسکتا ہے کہ ان کے اندر نیند اور سفر کے متعلق خوف پیدا ہوجائے اور نتیجہ اس کی نیند اڑ جائے جو ہلاکت خیز ہوسکتا ہے۔

جذبات کا اظہا رکرنے دیں

یہ بہت اہم اور ضروری ہے کہ بچوں کو بغیر کسی مداخلت کے کسی محفوظ اور پرسکون مقام پر اس بارے میں اپنے خوف یا دیگر قسم کے جذبات کے اظہار کاپورا اور مسلسل موقع دیا جاتا رہے اور ان کی بات کو نہایت صبر اور محبت کے ساتھ سنا جائے۔ جب تک بچہ سیکھنے اور پڑھنے کی عمر میں ہوتا ہے تو ایسا بھی ممکن ہے کہ اپنے جذبات و خیالات کے اظہار اور وضاحت کے لیے آپ کے تعاون کی ضرورت ہو۔ اگر ایسا محسوس کریں تو اس کام میں اس کی بھرپور مدد کی جائے۔

آسان اسلوب و انداز

بعض والدین اپنے بچوں کو موت کے موضوع پر دینی اور مذہبی فلسفہ سمجھانے لگتے ہیں جو بچوں کے فہم و ادراک سے پرے کی بات ہوتی ہے۔ ان کے پاس ابھی اتنی صلاحیت ہی نہیں ہے کہ تمام چیزوں کو جذب کرسکیں یا سمجھ سکیں۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اس اٹل اور مستقل حقیقت کو سمجھانے کے لیے جنچے تلے الفاظ اور روز مرہ کے واقعات و حادثات سے مدد لی جائے جو ان کے فہم سے قریب ہوں اور یہ واضح کر دیا جائے کہ مرنے والا اب ہمیشہ کے لیے غائب ہوگیا ہے اور کبھی واپس نہیں ہوگا۔

بچوں کے سامنے اس بات کو واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ ہر وہ شخص جو بیمار ہوتا ہے کوئی ضروری نہیں کہ وہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ بیمار ہونے والا ہر شخص نہیں مرا کرتا اور یہ بات بھی واضح کردیں کہ موت کے لیے بیمار ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ اچھا خاصا چلتا پھر صحت مند آدمی بھی انتقال کر جاتا ہے اور پھر بچوں کی حفاظت و سلامتی اور ان کی صحت کے لیے دعا بھی کریں، اسی طرح بچے پر یہ بات واضح کردینا بھی ضروری ہے کہ کسی شخص کا عمل اس کی موت کا ذمہ دار نہیں۔ اس طرح ہم اسے ارتکاب غلطی کے احساس سے دور رکھ سکتے ہیں۔

[الجزیرہ نت (عربی) کی ایک رپورٹ کی ترجمانی]

شیئر کیجیے
Default image
ترجمہ: امجد فلاحی

تبصرہ کیجیے