policee

پولیس اور انصاف

انکاؤنٹر پر پولیس کی کہانیوں کو سچ ماننے کا چلن اپنے ملک میں کبھی نہیںرہا۔ یہاں تک کہ وہ لوگ بھی ان کہانیوں کو سچ نہیں مانتے جو کھلے طور پر ان کاؤنٹر کی حمایت کرتے ہیں اور اسے ضروری بھی مانتے ہیں۔ لیکن پھر بھی حیدر آباد معاملے کے چار ملزمین کے رات کے اندھیرے میں ہوئے انکاؤنٹر کی جو کہانی تلنگانہ پولیس نے پیش کی ہے اس پر براہ راشت ’شک‘ کرنے کی ہمارے پاس کوئی بنیاد نہیں ہے۔ حالاں کہ اگر اس کی کہانی صحیح مان لی جائے تو بھی پولیس کے طریقہ عمل پر کئی سوال کھڑے کرتی ہے۔ یہ تو پوچھا ہی جائے گا کہ پولیس نے ایسی صورت حال کیوں بننے دی جس سے اتنے بڑے اور مشہور کانڈ کے ملزمین بھاگ نکلنے کی سوچ سکیں۔ ظاہر ہے اگر لیپا پوتی نہیںہوئی اور معاملے کی ٹھیک سے تحقیقات ہوئیں تو معاملے کے بہت سارے حقائق سامنے آئیں گے۔ لیکن اس معاملے میں زیادہ تشویش کی بات دوسری ہے۔ اس معاملے میں جس طرح سے خوشیاں منانے کی خبریںآرہی ہیں وہ پریشان کرنے والی ہیں۔ خوشیاں منانے کی اس نفسیات کو سمجھنا زیادہ دشوار نہیں ہے۔ بلاشبہ اس کے پیچھے ہماری پولیس اور عدالتی نظام کی خامیاں ہیں جن سے یہ سوچ بنی ہے کہ ملک میں مجرمین کو جلد سزا نہیں ملتی اور مظلوم کو بروقت انصاف نہیں مل پاتا۔ ایسے میں بدفعلی کے ملزمین کو مار دیا جانا کچھ لوگوں کو نفسیاتی سکون بھی دے سکتا ہے۔ ویسے ایک سوچ یہ بھی ہے کہ ایسے وقت میں جب لوگوں کا غصہ ابال کھا رہا ہے، لوگوں کو نفسیاتی راحت دینے کی غرض سے ہی انکاؤنٹر کا قدم اٹھایا گیا ہے۔ تناؤ کے ماحول میں عام لوگوں سے ایسے ردعمل کی امید کی بھی جاسکتی ہے مگر دشواری اس وقت آتی ہے جب کچھ ممبران پارلیمنٹ تک انکاؤنٹر کا استقبال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ہم نے جو قانونی نظام اختیار کیا ہے اس میں سزا دینے کی ذمے داری عدلیہ کی ہے، پولیس کے پاس اس کا اختیار نہیں ہے جب کہ انکاؤنٹر والی سوچ اسے یہ اختیار سونپتی نظر آتی ہے۔ یہ درست ہے کہ عدلیہ اور عدالتی نظام میں بہت ساری خامیاں ہیں لیکن پولیس کا نظام خامیوں سے پاک ہو ایسا بھی نہیں ہے۔ مجرم کو پکڑنے اور اسے سزا دلانے کا نظام درست ہو، اس کے لیے پولیس اور عدالتی نظام دونوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے جس سے ملک کی سیاسی قیادت ہمیشہ کتراتی رہی ہے۔ حیدر آباد انکاؤنٹر کے بارے میں بھلے ہی یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ اس میں بدفعلی کے مجرمین مار گرائے گئے لیکن پولیس کی فعالیت کے دوسرے خطرات زیادہ بڑے ہیں اور کم سے کم یہ عدل و انصاف کا متبادل تو نہیں ہوسکتی۔

حیدر آباد کے واقعہ کے بعد عام لوگوں کا جو غصہ تھا اس کی تپش ملکی و ریاستی حکومتیں محسوس کر رہی تھیں۔ جنسی جرائم سے متعلق قوانین اور اس سلسلہ میں پولیس نظام کودرست کرنے کا جس طرح کا مطالبہ ہر طرف سے اٹھ رہا تھا وہ تبدیلی کی امید بندھا رہا تھا۔ ایسا ہی دباؤ نربھیا (۲۰۱۲) معاملے میں بھی بنا تھا اور چند تبدیلیوں کے بعد جب لوگوں کا غصہ ٹھنڈا پڑا تو چیزیں پھر اپنے اسی ڈھرے پر لوٹ گئیں۔ اس مرتبہ کچھ تبدیلی کی بھی ضرورت نہیں پڑی اور ایک انکاؤنٹر نے ہی لوگوں کا غصہ ٹھنڈا کر دیا۔ ظاہر ہے اس سے عام لوگوں سے زیادہ راحت کی سانس حکومتوں نے لی ہوگی۔lll

(۷؍ دسمبر ۲۰۱۹، ہندوستان ہندی دہلی کا اداریہ)

ترجمہ حجاب ڈیسک

شیئر کیجیے
Default image
ترجمہ: حجاب ڈیسک

تبصرہ کیجیے