6

مسلم خواتین کے لیے ہدایات

قرآن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’خود کو اور اہل عیال کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔‘‘اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک اللہ پرایمان لے آؤ، اس کے تمام احکام کی سختی سے پابندی کرو اور اس کے آخری اور پیارے رسولؐ کی اتباع کرتے رہوتاکہ قیامت میںجہنم میں داخل ہونے سے بچ جاؤ۔سوال یہ پیداہوتاہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے۔اللہ تعالی نے ہمارے پیارے اور آخری رسولؐکو بھیجا ہے اور ان پر قرآن کریم نازل کیا ہے۔ ہمارے پیارے نبیؐ قرآن کی ہرآیت کو پڑھتے تھے، ان کو سمجھتے تھے، ان پر عمل کرتے تھے اور پھر اپنی ملت کو عمل پیرا ہونے کی نصیحت کرتے تھے۔ آپؐ نے خواتین کو بھی اسی کی ہدایت فرمائی اور ان کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی مگر افسوس کہ موجودہ زمانے میں مسلم معاشرہ عورت کی تعلیم پر اس طرح متوجہ نہیں جس طرح ہونا چاہیے۔

علم کا حصول

تعلیم انسان کا زیور ہے بلکہ علم اور جہالت کی مثال حیات اور موت کی ہے۔جو شخص صاحب علم ہے و ہ زندہ اس معنی میں ہے کہ وہ اپنے حق میں خیر و شر کی شر کی شناخت کر سکتا ہے۔شر سے بچ سکتاہے جب کہ ایک جاہل انسان اپنی نادانی کی وجہ سے خیروشر میں کوئی تمیز نہیں کرسکتا اور اپنی نادانی میں گمراہ ہوتاچلاجاتاہے۔اسلام نے حصول تعلیم پر بہت زوردیاہے اور اس سلسلے میں مرد اور عورت میں کوئی تفریق نہیں کی۔ایک عورت اپنے بچے کے لئے ایک بہترین مدرسہ ثابت ہوتی ہے بشرطیکہ وہ خود علم سے آراستہ ہو۔مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ اب بھی ایسے لوگ اس دنیا میں موجود ہیں جو اپنی لڑکی کو تعلیم دینا فضول خرچی سمجھتے ہیں۔مگر ان نادانوں کو کیا معلوم کہ ایک لڑکی کے تعلیم حاصل کرنے سے انکا خاندان سنور سکتا ہے۔

دنیا میں سب سے قیمتی دولت دین اسلام ہے۔جو عورت تعلیمات اسلامیہ سے روشناس ہونے کے ساتھ ساتھ عملی جذبے سے سرشارہے وہ دنیا اورآخرت کی کامیاب اور کامران عورت ہے۔اور جو عورت دین کی دولت سے خالی ہو، چاہے سونے چاندی سے لدی ہوئی ہو، وہ کنگال،غریب اور مفلس عورت ہے۔جو خواتین گھریلوحالات کی وجہ سے دینی تعلیم سے محروم ہیں، انہیں کم ازکم خواتین کے دینی اجتماعات میں ضرور سے شرکت کرنی چاہیے تراکہ وہ دین سیکھ کر خود کو جہنم کی آگ سے بچا سکے۔

باوقار لباس

سورہ الاعراف کی آیت ۲۶ میں ارشاد باری تعالی ہے:’’اے بنی آدم! ہم نے تم پر لباس اتاراجوتمہارے لئے ستر پوشی بھی ہے اور زینت بھی۔مزیدبرآں تقوٰی کا لباس ہے جو اس سے بھی بڑھ کر ہے۔یہ اللہ کی آیات میں سے ہے تاکہ وہ یاددہانی حاصل کریں۔‘‘

مسلمان خواتین کو حکم ملتاہے کہ جاہلیت کی سی سج دھج، اپنا بناؤسنگار نہ دکھاتی پھریں، اورگھر سے باہر کی دنیا میں نکلتے وقت اپنی اوڑھنیوں کے پلواپنے سروں سے نکالیں اور اپنے سراپے کو حیا کی چادر میں مستور کرلیں۔

پردے کا مقصد یہ تھاکہ عورتیںنامحرم کی نظروں سے محفوظ رہیں۔جہاں سے کوئی باپردہ خاتون گزرے مردوں کی نظریں خودجھک جائیں۔

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ؐ نے ارشاد فرمایا کہ بہت سی عورتیں ایسی ہوں گی جو باہر کپڑے پہنی ہوئی ہوں گی مگر حقیقت میں ننگی ہوں گی۔وہ مردوں کو اپنی طرف مائل کریں گی اور خود مردوں کی طرف مائل ہوں گی۔ان کے سر بختی کے اونٹ کے کوہان کی طرح ہلتی ہوں گی۔ایسی عورتیں نہ جنت میں داخل ہوں گی اورنہ جنت کی بو پائیں گی۔(صحیح مسلم)

کپڑاپہننے کے باوجود ننگی رہنے کا مطلب یہ ہے کہ کپڑا اتنا چست ہے کہ عورت کے اعضاء صاف نظر آئے۔ آج کل ڈوپٹہ تو گلے کی زینت بن کررہ گیا ہے۔ موجودہ دور میں لباس بھی چست اور برقعہ بھی اتناچست ہوگیاہے کہ پورا جسم نمایاں ہوجاتاہے۔

شریعت نے عورتوں کو حکم دیاہے کہ اپنے شوہروں کے لئے بناؤ سنگھار اور زیب وزینت اختیار کریں۔ مگربعض عورتوں کا مزاج ہوتاہے کہ وہ شوہر کے سامنے توگھروں میں میلا کچیلا لباس پہنتی ہیںاور جب گھر سے باہر نکلتی ہیں تو پورے بناؤ سنگھار کے ساتھ۔اللہ تعالی نے مؤمن عورتوں کو ہدایت دی ہے کہ چلتے وقت پاؤں زمین پرزورسے نہ ماریں، جس سے پازیب کی آواز غیر محرم مردوں کے کانوں تک نہ پہنچے۔اس کی تائید سورہ النور کی آیت ۳۱ میں کی گئی ہے:’’اورعورتیں اپنے پاؤں زمین پر مار کے نہ چلیں کہ ان کی مخفی زینت ظاہر ہو۔‘‘

فیشن کی ایک بدترین شکل یہ ہے کہ مرد عورتوں کا لباس اوران کی وضع قطع اختیار کریں اور عورتیں مردوں جیسا لباس پہن کر ان کی ہیئت اور شکل وصورت بنالیں۔ رسول اکرم ؐان مردوں اور عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول ؐ اللہ نے اس مرد پر لعنت فرمائی ہے جوزنانہ لباس پہنے اور اس عورت پر لعنت فرمائی ہے جومردانہ لباس پہنے۔

اختلاط سے پرہیز

فواحش و منکرات کی روک تھام کے لئے شریعت نے ایک قدم یہ اٹھایا ہے کہ کوئی بھی مرد کسی اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار نہ کرے۔یہ تنہائی خواہ کتنے ہی پاک مقصد کے لئے ہوشریعت اسے جائز نہیں قرار دیتی۔ ایک حدیث میں ارشاد ہواہے کہ کوئی بھی مرد کسی اجنبی عورت کے ساتھ خلوت نہ اختیار کرے الا یہ کہ اس عورت کے ساتھ اس کا کوئی محرم ہواور کوئی بھی عورت بغیر محرم کے سفر نہ کرے۔(صحیح بخاری)

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ عورتوں کے پاس تنہائی میں جانے سے بچو۔ یہ سن کر ایک صحابی انصاری نے سوال کیا: یارسولؐ اللہ! حمو کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ ؐ نے فرمایا: حمو تو موت ہے۔عربی میں حمو سے مراد شوہر کے قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں جیسے دیور یا جیٹھ، شوہر کا چچا اور چچازاد بھائی وغیرہ۔

فحاشی سے پرہیز

ہمارے ماحول میں جو ادارے اشاعت فاحشہ کا کردار اداکررہے ہیں وہ ٹی وی، سنیما،کلب ،تھئیٹر، انٹرنیٹ، واٹس اپ، ٹویٹر، لینکڈ ان، اخبارات، اور رسالے وغیرہ جیسے اشیاء ہیںجن میں ہر دن عورتوں کو اشتہارات میںنیم برہنہ یا برہنہ حالت میں پیش کیا جاتاہے۔اب تو صورت حال یہ ہے کہ ایک غیرت مند باپ کوئی اخبار یا رسالہ خریدتے وقت اس بارے میں باربار سوچتاہے کہ اسے اپنے گھر میں کس طرح داخل کرے؟ بڑے تعجب کی بات یہ ہے کہ بسااوقات کسی فلم میں وہ عریانیت اور رومانسی منظر نہیں ہوتاجیسا منظر تجارتی اعلانات میں ہوتاہے۔

موجودہ زمانے میں سوشل میڈیا معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ساتھ ہی خطرناک بھی ہیں۔آج کل کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ان کا خوب استعمال کرتے ہیں اور ان کا دن کا بہت سارا وقت ان میں صرف کرتے رہتے ہیںاوران میں خوب دلچسپی لیتے ہیں۔ان کے ذریعے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرتے ہیں اور اپنا تبادلے خیال بھی کرتے رہتے ہیں۔ ان کے ذریعے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو اپنے عشق میں پھنساتے ہیں جو ان کے والدین کی مرضی کے خلاف ہوتاہے اور جب والدین ان کی شاد ی کے لئے رضامند نہیں ہوتے تو لڑکے یا لڑکیاں خود کشی پر اتر آتے ہیں۔اس لئے ہمیں چاہئیے کہ اپنے لڑکوں اور لڑکیوں پر کڑی نظررکھیں تاکہ ان کے ذریعے وہ ایک دوسرے سے رابطہ نہ رکھ پائیں اور ان کا انجام برا نہ ہو۔

ملازمت بہ وقت ضرورت

جہاں تک عورتوں کے روزی کمانے کایا تجارت کرنے کاتعلق ہے تو شرعی حدودکو ملحوظ رکھتے ہوئے ایسے روزگاراختیار کرنے کی اسلام اجازت دیتاہے جن میں پردے اور حجاب کی فرضیت کے حکم کی خلاف ورزی نہ ہو۔اسلام عورت کو کوئی ایساپیشہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتاجس میں عورت کے حسن و جمال کونمایاں نہ کیا جائے یا اس کے آوازکی لوچ نامحرم کانوں کی دل بستگی نہ بن جائے۔خواتین ایسے پیشے اختیار کرسکتی ہیں جو اسلام کی شریعت کی حدود کے اندر ہیں جیسے لڑکیوں کے اسکول یا کالج، خواتین کے علاج کے لئے ماہر طب یا نرسیں، سلائی کا کاروباریا خواتین کی اصلاح و تربیت اور ایسی کمپنیاں جہاں مردوں اور عورتوں کا اختلاط نہ ہوتاہو وغیرہ۔اس سلسلے میں حضرت خدیجہ ؓ کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔ وہ پردہ میں رہ کر کاروبار کیا کرتی تھیں اور ان کا کاروبار کامیاب تھا۔بعد میں نبی ؐ نے ان کے کاروبار کو سنبھالااور اس کو چار چاند لگادئے۔

شوہروں کی نافرمانی:

حضرت عبداللہ بن عمروؓ کہتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: دنیا ساری کی سار ی فائدہ اور سازوسامان ہے۔ اس میں سونا چاندی، بنگلے، محل، مال ودولت سمیت خزانوں کے دریا ہیں۔ مگر ان ساری نعمتوں کے باوجود ’’دنیا کا سب سے بہترین فائدہ اور سامان نیک بیوی ہے۔‘‘سبحان اللہ۔اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں ہر عورت کو اپنی عظمت ، بلندی اور شان کا خیال رکھنا چاہئے۔ اور اپنے کرداروعمل سے یہ حقیقت منوانی چاہئیے کہ میں واقعۃً سب سے بہترین تحفہ ہوں۔میرے بغیر گلشن حیات میںنکھار اور بہار کبھی نہیں آسکتی۔

یہ وہ ہدایات ہیں جو ایک محفوظ معاشرہ اور ایسا خوب صورت گھر اور خاندان بناتی ہیں جو دنیا ہی میں جنت کا منظر اور سکون عطا کرے، مگر ضروری ہے کہ اس پر مسلم خواتین عمل پیرا بھی ہوں۔

شیئر کیجیے
Default image
سلیم شاکر چنئی

تبصرہ کیجیے