خطوط

حجاب کے نام

قارئین سے گزارش

دسمبر ۲۰۱۹ کا رسالہ ہاتھوں میں ہے۔ مضامین اچھے، معلوماتی اور مفید ہیں۔ اس شمارے میں دو مضامین خاص طور پر اچھے لگے۔ ان میں ایک نسخہ ایک کہانی اچھا لگا۔ اس مضمون کو پڑھ کر ایک بہت اہم اور ایسی بیماری کا علاج میسر آیا جو سماج میں تیزی سے پھیل رہی ہے، وہ ہے شوگر کی بیماری۔ میں نے اس نسخہ کو تیار کر کے لوگوں کو فی سبیل اللہ دینے کارادہ کیا ہے۔ اللہ کرے کہ لوگوں کو فائدہ پہنچے۔ میں اس خط کے ذریعے اپنے حجاب اسلامی کے قارئین سے یہ درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ جو لوگ بھی اس نسخہ کو خود استعمال یا دوسروں کو دیں اور اس سے انہیں فائدہ ہو تو براہ کرم حجاب اسلامی کو خط لکھ کر ضرور آگاہ کریں۔ اس طرح اس کا فائدہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو حاصل ہوسکے گا۔ نسخہ شائع کرنے کے لیے شکریہ!

حذیفہ یمانی شیخ (رٹائرڈ ٹیچر)

جلگاؤں (مہاراشٹر)

تربیت کے گر

دسمبر کے حجاب اسلامی میں تربیت سے متعلق مضامین اچھے لگے۔ دس سال کی عمر تک جن باتوں کو بچوں کو سکھانے ترغیب دی گئی ہے وہ اس کلیدی باتیں ہیں کہ اگر وہ بچوں کو سکھا دی جائیں تو ایک اچھی شخصیت تعمیر ہوسکے گی۔

ناہید فرزانہ (بذریعہ واٹسپ)

بابری مسجد کا فیصلہ

تقریباً تین دہائیوں کے انتظار کے بعد بابری مسجد پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آگیا۔ اس فیصلہ کی حیثیت انصاف اور قانون سے زیادہ ایک قدیم مسئلہ کے حل کی ہے۔ اس سے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس میں قانون و انصاف کے تقاضے تلاش کرنے کے بجائے محض ایک مسئلہ کے حل کی حیثیت سے دیکھیں۔ مایوسی اور محرومی کا شکار ہونے کے بجائے یہ سوچیں کہ ہم نے ملک میں امن و امان کے لیے اپنے جذبات کی بھی قربانی دی ہے، جس طرح آزادی کے لیے جانوں کی قربانی دی تھی اور جذبات کی قربانی جان کی قربانی سے کچھ کم نہیں ہے۔ آنے والا مورخ یاد رکھے گا اور لکھے گا کہ ایک مسجد کو غلط طریقے سے قبضہ کر کے اسے غلط طریقے سے ڈھا دیا تھا اور عدالت نے اس غلط بات کو تسلیم کرتے ہوئے بھی فیصلہ مندر بنانے کے لیے کیا تھا۔ آپ نے اداریے میں درست لکھا ہے کہ ہم بڑے روادار لوگ ہیں ہم نے صرف مسجدیں ہی نہیں بنائیں بلکہ بڑے بڑے عظیم الشان مندر اور چرچ بھی بنائے ہیں اور انہیں بڑی بڑی جاگیریں دی ہیں۔

وسیم ابرار صدیقی قنوج (یوپی)

تین طلاق کا قانون

نومبر کے حجاب اسلامی میں خصوصی رپورٹ پڑھی۔ آپ نے جن واقعات کا تذکرہ کیا ہے ان سے معلوم ہوتا ہے کہ خواتین کی جانب سے اس قانون کو شوہر اور اس کے خاندان والوں سے چل رہی رنجش میں فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ٹھیک ایسا ہی اس سے پہلے 498A کے قانون کے ساتھ ہوچکا ہے۔

اس سلسلے میں میں یہ عرض کرنا چاہتی ہوں کہ مسلم سماج میں شادی سے پہلے کونسلنگ کا انتظام کیا جانا چاہیے۔ اس طرح شادی کے بعد تنازعات کی صورت میں ایسے معاملات کے حل کے لیے کونسلنگ کا طریقہ اختیار کیا جائے تو معاملات کو بگڑنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ جس طرح پرسنل لا بورڈ نے شرعی عدالتیں قائم کی ہیں اسی طرح کونسلنگ سنٹرس بھی قائم کیے جائیں۔ ضرورت معاشرے میں بیداری لانے کی ہے۔ یہ بیداری ہر سطح پر ہوسکتی ہے اور ہونی چاہیے۔

ترنم اقبال ،گیا (بہار) بذریعہ واٹسپ

شیئر کیجیے
Default image
شرکا

تبصرہ کیجیے