6

کسی کے دل میں نہ جھانکیے

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک موقع پر دشمن کی سرکوبی کے لیے ایک جماعت بھیجی۔اس نے حملہ کیا اور جلد شکست دے دی۔ایک موقع پر دشمن کا ایک آدمی دو مسلمانوں کی تلوار کی زد میں آگیا۔ فوراً وہ زور سے لا الہ الا اللہ پڑھنے لگا۔ یہ سنتے ہی ایک مسلمان (انصاری صحابی) نے ہاتھ روک لیا، لیکن دوسرے مسلمان (حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ) نے اس کا کام تمام کردیا۔

حضرت اسامہ اللہ کے رسول اللہؐ کی خدمت میں پہنچے اور جھڑپ کی روداد سنائی تو اس واقعہ کا بھی تذکرہ کیا۔ یہ سننا تھا کہ اللہ کے رسولؐ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا۔آپ پر ناراضی کے آثار ظاہر ہوگئے۔آپ نے خفگی سے سوال کیا کہ ’’اس نے کلمہ پڑھ لیا تھا، پھر بھی تم نے اسے قتل کردیا ؟ ‘‘حضرت اسامہ نے بات نبھانے کی کوشش کی :’’اے اللہ کے رسول! اس نے دل سے تھوڑے ہی کلمہ پڑھا تھا۔ وہ تو محض اپنی جان بچانا چاہتا تھا۔ سر پر تلوار دیکھ کر اس نے کلمہ پڑھ لیا تھا۔‘‘آپؐ نے فرمایا: ’’کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا، کہ اس نے اخلاص سے کلمہ نہیں پڑھا ہے۔‘‘ یہ جملہ آپؐ بار بار دہراتے رہے، یہاں تک کہ (حضرت اسامہ کہتے ہیں کہ) میری خواہش ہونے لگی کہ کاش میں نے آج ہی اسلام قبول کیا ہوتا، تاکہ میرے سابقہ سارے گناہ معاف ہوجاتے۔‘‘ (بخاری :4269، 6872،مسلم :96)

اس حدیث سے ایک بہت اہم حقیقت کی طرف ہماری رہ نمائی ہوتی ہے۔ عموماً ہم اپنی گفتگوؤں میں دوسروں پر تبصرہ کرنے میں بہت بے باک واقع ہوئے ہیں۔فلاں شخص گھمنڈی ہے، اپنے آپ کو پتا نہیں کیا سمجھتا ہے۔فلاں شخص لالچی ہے ،ہمیشہ روپے پیسے کے چکّر میں پڑا رہتا ہے،فلاں شخص مفاد پرست ہے ، ہر کام میں اپنا فائدہ پیش نظر رکھتا ہے،فلاں شخص اخلاص سے بے بہرہ ہے ، دکھاوا کرتا ہے اور نمود و نمائش کا خواہاں رہتا ہے۔یہ اور اس طرح کے بہت سے تبصرے ہم بے دھڑک دوسروں کے بارے میں کردیتے ہیں۔یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ہمیں کسی شخص کے صرف ظاہر کو دیکھ کر اس پر حکم لگانا چاہیے۔کسی کے دل میں جھانک کر اس کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار اللہ تعالی نے کسی انسان کو نہیں دیا ہے۔

اسی بات کو مزاج شناسِ رسول حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ان الفاظ میں ادا فرمایا ہے :

’’ہم تمھارے ظاہر ی اعمال کو دیکھ کر ہی فیصلہ کریں گے۔‘‘ lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد رضی الاسلام ندوی

تبصرہ کیجیے