دنیا بدلنے کے لیے کچھ کرنا ضروری ہے

سالہ ’’کتیلینا اسکوبار‘‘ Catalina Escobar نے کولمبیا کے مرکزی شہر، کارٹاجینا (Cartagena) میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ذاتی کاروبارکا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کام یاب کاروباری خاتون کی حیثیت سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئیں۔ کاروبار کے ساتھ اپنے شہر کے مرکزی اسپتال میں بہ طور نرس رضاکارانہ کام کرتی تھی لیکن اچانک ایک دن سب کچھ بدل گیا۔

کتیلینا اسکوبار

کتیلینا نے اپنے کاروبار ختم کر دیئے اور اپنی زندگی غریب مائوں اور نومولود بچوں کے لئے وقف کر دی، جب کاروباری حلقوں میں ان کی بہت اچھی ساکھ تھی۔ آخر ایسا کیا ہوا کہ ’’کتیلینا‘‘ نے اپنی زندگی کی کایا پلٹ دی۔ اس بارے میں ’’کتیلینا‘‘ نے سی این این کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ یہ بات ہے 2000ء￿ کی، جب میری زندگی نے ایک مختلف موڑ لیا۔ ہوا کچھ یوں کہ سن 2000ء کے میں سیاہ فارم افراد کی جھونپڑ پٹی کے ایک جھونپڑ میں 16 دن کا نومولود میرے ہاتھوں میں دم توڑ گیا۔

بچے کی موت پر ماں زار زار روتے ہوئے کہہ رہی تھی میں اپنے بچے کے لئے دوا نہ خرید سکی۔ 30 ڈالر کی دوا کے لئے دروازے کھٹکھٹاتی رہی لیکن کسی کے پاس اتنی رقم نہ تھی، وہ سب بھی میرے جیسے فاقہ زدہ تھے۔ اس لمحے میرے کانوں میں ’’30 ڈالر‘‘ کی آواز کسی بم سے کم نہ تھی۔ سوچ رہی تھی، کاش یہ بے بس عورت مجھ سے بھی اپنی مجبوری بیان کر دیتی۔ بچے کی آخری رسومات کے بعد میں گھر آ گئی لیکن وہ رات بہت بے چین گزری۔ رات کا ہر گزرتا پل میرا سکون ختم کررہا تھا۔

صبح ہونے تک میری زندگی میں انقلاب آگیا۔ میں نے اپنا پھیلتا کاروبار مکمل ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ جلد ہی تمام دفتری چیزیں فروخت کرکے غریب مائوں اور نومولود بچوں کے لئے ادویات اور طبی آلات خرید کر سن 2001ء میں ایک جدید اسپتال قائم کیا، جو اپنے مرحوم بیٹے کے نام سے قائم فائونڈیشن کے زیر اہتمام کیا۔ اسپتال ہی میں ڈے کیئر سینٹر بھی بنایا۔

اسپتال میں غریب بچوں کے مفت علاج کے ساتھ مائوں کو تعلیم کے ساتھ ہنر، تولیدی صحت سے آگاہی اور روزگار فراہم کئے۔ 2011 ء میں فائونڈیشن کے زیر اہتمام ایک میڈیکل کمپلیکس اور چائلڈ ڈیولپمنٹ سینٹر تعمیر کیا، جہاں سالانہ تقریباً 28 ہزار غریب مریضوں کا علاج کیا جاتا اور مائوں کو تولیدی صحت کے حوالے سے مشورے دیئے جاتے ہیں۔

’’کتیلینا‘‘ کا کہنا ہے کہ یہ سب کر کے مجھے سکون ملتا ہے۔ میں نے اپنے ارد گرد کی دنیا ہی نہیں بدلی بلکہ دیگر خواتین کو بھی ایسے کام کرنے کی طرف مائل کیا ہے، جس سے دوسروں کا بھلا ہو، انہیں جینے کا حوصلہ ملے۔ میں سمجھتی ہوں کہ کسی بھی معاشرے میں تبدیلی مائوں سے بہتر کوئی نہیں لاسکتا۔

غریب لوگوں کوزندگی گزارنے کے باعزت طریقے بتائے اور ان کی مثبت سوچ کو پروان چڑھا کر ہم بچوں کو معاشرے کا بہترین شہری بنا سکتے ہیں۔ اس لئے جہاں جہاں غریب ہے، وہاں کی مائوں کو سمجھانا، ہنرمند بنانا ضروری ہے۔ ’’کتیلینا‘‘ کہتی ہیں، آج میرے علاقے ہی نہیں میرے شہر کی کوئی غریب عورت کے نہ بچے بھوکے ہوتے ہیں اور نہ وہ خود۔ وہ ہنرمند بھی ہے اور بچوں کو تعلیم سے بہرہ مند بھی کر رہی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
حجاب ڈیسک