پی ٹی اوشا

پی۔ٹی۔اُوشا:ایک مثالی کھلاڑی

شہرت یافتہ پی۔ ٹی۔ اوشا (Pilavullakandi Thekkeparambil Usha) (پ: 27 جون، 64 9 1) خواتین کھلاڑیوں کے لئے روشنی کا میناز ہیں۔ان کا نام ہندوستان کے سب سے بڑے کھلاڑیوں میں لیا جاتا ہے۔دو حرفی ‘پی ٹی(PT) ہمیں دو چیزوں کی یاد دلاتا ہے۔ایک اسکول میں جسمانی تربیت (Physical Training) اور دوسرا PT Usha۔وقت نے خود اعتمادی سے بھرپور پی ٹی اوشا کے قدموں کے نشان کو غیر معمولی کامیابی اور برق رفتار ی کی علامت بنا دیا۔ Kozhikode کیرالہ کے شہرPayyoli میں پیدا ہونے کے سبب وہ’’Payyoli ایکسپریس‘‘ کے نام سے مشہور ہوئیں جبکہ دوڑ کے لیے میدان میں اپنی غیر معمولی کامیابیوں کے سبب پوری دنیا میں انھیں ’’بھارتی ٹریک اور کیون آف فیلڈ‘‘ کی حیثیت سے شناخت ملی۔

مایہ ناز کھلاڑی پی۔ ٹی۔ اوشاکو اب تک 101 بین الاقوامی تمغوں سے نوازاجاچکا ہے۔یہ امتیاز اور اعزاز ہندوستان میں ان کے علاوہ کسی اور خاتون کھلاڑی کے حصے میں نہیں آسکا ہے۔1979 کی نیشنل اسکول گیمز کے دوران ’’گولڈن گرل‘‘ نے قومی شناخت حاصل کی، جہاں انھیں انفرادی چیمپئن شپ میں کامیابی ملی ۔وہ اس وقت اولمپک مقابلہ آرائی میں داخل ہونے والی نوعمر کھلاڑی تھیں۔ اوشا نے محض 16سال کی عمر میں 1980میں ماسکو گیمز میں شرکت سے اپنی پہلی بہترین شروعات کی۔اس کھیل میں اگرچہ وہ مقابلے سے باہر ہوگئیں لیکن انھوں نے ناظرین کے دل جیت لیے۔اس ناکامی سے سبق لیتے ہوئے ، 1980 میں وہ پاکستان اوپن نیشنل میٹ ،کراچی میں 4 گولڈ تمغے جیتنے کے بعد ایک مرتبہ پھر سامنے آئیں۔ 100، 200، اور 400 میٹر کے نشان، 400 میٹر رکاوٹوں، اور 4 x 400 میٹر ریلے دوڑ(race) میں، 1985 میںانڈونیشیا میں منعقد ایشیائی ٹریک اور فیلڈ چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل حاصل کرکے انھوں نے ملک کا نام روشن کیا،جو ایک ہی ٹریک ایونٹ میں کسی بھی خاتون کھلاڑی کی طرف سے حاصل کی جانے والی سب سے زیادہ اور بڑی کامیابی ہے۔

لاس اینجلس میں 1984 کے اولمپکس میں سیمی فائنل جیتنے سے پہلے پی ٹی اوشا نے اولمپک ایونٹ کے فائنل میں پہنچ کر تاریخ رقم کردی۔Payyoli ایکسپریس نے 1986 میں سیول آیشیاڈ میں بہترین کھلاڑی کے لئے ’’گولڈن شو ایوارڈ‘‘ جیتا۔سال 1985 میں انھیں پدم شری اورارجن ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔

پی۔ ٹی۔ اوشا نے گرچہ 17 سال قبل’’ٹریک اور فیلڈ‘‘ سے کنارہ کشی اختیارکرلی ہے لیکن اپنے کارناموں کی بدولت وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہیں گی۔ ایتھلیٹکس کو خیر باد کہنے کے بعد، پی۔ ٹی۔اوشا نے 2002 میں’’اُوشا اسکول آف ایتھلیٹکس‘‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔یہ ان کے کیریئر کی دوسری پاری ہے،جہاں ایک بار پھر وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو اکٹھا کرکے ملک اوریہاں کی نسلِ نو کی تربیت میں یک جٹ ہوگئی ہیں۔ یہ اسکول انھوں نے نوجوان کھلاڑیوں کو تربیت دینے کے لئے قائم کیا ہے تاکہ وہ ملک کا نام روشن کریں اور بھارت کے لئے اولمپک مڈلز جیتیں۔یہاں نئی نسل کے باصلاحیت کھلاڑیوں کو مفت تربیت اور طعام و قیام کی سہولتیں مہیا ہیں۔انھیں اس بات پر یقین ہے کہ بھارت میں’’ایتھلیٹکس‘‘کا مستقبل بڑا تابناک ہے۔ اپنے اسکول میں نوجوان اور باصلاحیت افراد کو تربیت دے کر وہ انھیں اولمپک اور ایشیاڈ مقابہ آرائی کے لیے مضبوط امید بنانا چاہتی ہیں۔اس ہدف کے لیے عوامی چندے سے انھوں نے بیس لاکھ کی رقم رکھٹا کی ہے۔انھیں 16کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے مزید 27 لاکھ روپے درکار ہیں۔ ان کے ویب سائٹ ‘میلاپ’ پر فنڈ فراہمی کی یہ عوامی مہم گرچہ ختم ہوگئی ہے تاہم اگر کوئی اس کارِ نیک میں تعاون دینا چاہے تو اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔

پی۔ ٹی۔ اوشا فی الحال 16 طالب علموں کو تربیت دے رہی ہیں۔یہ بچے رہائشی کیمپس میں رہتے ہیں۔اس نوعیت کی تربیت پانے کے لیے فی کھلاڑی سالانہ 3-6 لاکھ روپے کے درمیان خرچ آتا ہے۔بچوں کو روزانہ علی الصبح 5:30 پراٹھنا پڑتا ہے اور میدان میں ان کی تربیت 6:15 سے شروع ہوجاتی ہے۔میدان میں صبح کا تربیتی سیشن 9 بجے تک 3 گھنٹے رہتا ہے،اس کے بعد طلبہ و طالبات4:30 بجے تک اسکول میں رہتے ہیں۔ شام میں، تربیتی سیشن:30 4بجے سے 6 بجے تک رہتا ہے۔پی۔ ٹی۔ اوشا کے مطابق:’’گرچہ ایتھلیٹکس ہماری توجہ کا مرکز ہے، لیکن ہمارے بچے قریبی اسکولوں اور کالجوں میں رسمی تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں،ان میں بعض بچوں نے 90فیصد مارکس تک حاصل کیا ہے‘‘۔

پی ۔ٹی ۔اوشا ہمارے ملک اور قوم کی بیٹی ہیں۔ اپنے روشن کارناموں کی بدولت آج وہ ہمارے لیے ایک مستقل جذبہ اور حوصلہ کی علامت بن چکی ہیں۔تعلیم اور درست تربیت سے انسان کے مخفی کمالات صیقل ہوتے ہیں۔صلاحیت کی پہچان اور انھیں ان کی جبلی صلاحیتوں کے حسب حال تربیت دینا ملک ،قوم اور دینی تقاضوں کی تکمیل ہے۔بیٹیوں کے سلسلے میں ہمارا تذبذب آمیز رویہ ہمارے گردوپیش رہنے والی ان گنت اوشا کی طرف دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
امتیاز وحید

تبصرہ کیجیے