پیغام

حیات و موت کا ہے فیصلہ اٹل، لوگو!

کسے خیر ہے کہ دیکھے گا کون کل، لوگو!

نہ جانے کب، کسے آکر دبوچ لے جائے

تلاش میں ہے، ہر اک گام پر اہل، لوگو!

یہ بات یاد رہے، اس جہان فانی میں

کہ زندگی ہے بس اک عرصۂ عمل لوگو!

پھر اس کے بعد وہ دن جلد اآنے والا ہے

ملے گا جب تمہین، اپنے کیے کا پھل، لوگو!

ابھی ہے وقت جو کرنا ہے تم کو، کر ڈالو

کہیں یہ عمر کا سورج نہ جائے ڈھل، لوگو!

سنو! سنو! کہ مجاہد کا ہے یہی پیغام

جو زندگی ہے بناؤ اسے سپھل، لوگو!

شیئر کیجیے
Default image
مجاہد لکھیم پوری اقرا کالونی، علی گڑھ