6

این آر سی؛ پس منظر اور حقیقی منظر

پس منظر

نیشنل رجسٹرا ٓف سٹیزنز حکومت ہند کا وہ رجسٹر ہے جس میں ملک کے اصل شہریوں کے نام اور کوائف درج ہیں، اسے پہلی بار ۱۹۵۱ء میں تیار کیا گیا تھا، تب سے لے کر اب تک اسے اپڈیٹ نہیں کیا گیا تھا۔ آسام وہ پہلی ریاست ہے جس میں این آر سی اپڈیشن کا کام کروایا گیا ہے تاکہ اس رجسٹر میں ۱۹۵۱ء سے اب تک زندہ افراد اور ان کے بچوں کے نام بطور مستقل شہریوں کے درج کیے جاسکیں۔ البتہ بھارتی شہریت قانون ۱۹۵۵ ء میں ایک ترمیم کی رو سے اس میں وہ لوگ نیز ان کے بچے بھی شامل کیے جاسکتے ہیں جن کے نام ۲۴؍ مارچ ۱۹۷۱ء کی نصف شب سے پہلے آسام کے حلقہ ہاے اسمبلی کی ووٹر لسٹوں میں موجود تھے۔ اس کے علاوہ جو افراد آسام میں رہائش پذیر ہیں اور بعض مخصوص دستاویزات کے حامل ہیں، وہ بھی ہندوستانی شہری قرار دیے جائیں گے۔ اپڈیشن کا یہ عمل ۲۰۱۳ء میں شروع کیا گیا تھا۔ اس عمل کا ایک مقصد ریاست میں ’’غیر قانونی مہاجرین‘‘ کی شناخت کرنا ہے جن کے تعلق سے مانا جاتا ہے کہ وہ ۱۹۷۱کی بنگلہ دیش کی جنگ کے دوران ہندوستان میں آگئے تھے۔

مذکورہ جنگ کے تقریباً آٹھ سال کے بعد،۱۹۷۹ء میں ریاست میں غیر ملکیوں کے خلاف زبردست احتجاجات ہوئے۔ ان احتجاجات کابنیادی مفروضہ یہ تھا کہ ریاست میں آبادی کی اکثریت غیرملکی دراندازوں کی ہے۔ آسامیوں کو لگا تھا کہ ’’بیرونی‘‘دراندازوں نے، جو اس وقت کے مشرقی پاکستان سے ہجرت کرکے آئے تھے، نیز مغربی بنگال سے نقل مکانی کرکے آنے والے مہاجرین نے آسام کی ڈیموگرافی اور معیشت تباہ کردی ہے۔۱۹۸۵ء میں ان احتجاجات کا اختتام آسام معاہدے (Assam Accord) پر دستخط کے بعد عمل میں آیا، جس کی رو سے ۱۹۶۶ اور ۱۹۷۱ء کے درمیان ریاست میں آنے والے افراد کو دس سال کے لیے ووٹر لسٹوں سے خارج کرنے کا التزام تھا۔ جو لوگ ۲۵؍مارچ ۱۹۷۱کو یعنی بنگلہ دیش سے جنگ کے موقع پر آسام میں داخل ہوئے تھے انھیں غیرملکی قرار دینے اور ریاست سے نکالنے کا التزام تھا۔

۱۹۹۲ ء میں اس وقت کے آسام کے وزیر اعلی ہتیشور سیکیا نے اسمبلی کو بتایا تھا کہ ریاست میں ۳۰ لاکھ غیرملکی موجود ہیں، دو دن بعد انھوں نے اپنا بیان واپس لے لیا۔ ۱۹۹۷ء میں مرکزی وزیر داخلہ اندرجیت گپتا نے پارلیمنٹ کو اطلاع دی کہ ملک میں ایک کروڑ غیر ملکی موجود ہیں۔ ۲۰۰۴ء میں نائب مرکزی وزیر داخلہ سری پرکاش جیسوال نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ملک میں موجود ایک کروڑ بیس لاکھ غیر قانونی غیر ملکیوں میں سے پچاس لاکھ آسام میں ہیں۔ بعد میں وہ بھی اپنے بیان سے پھر گئے تھے۔ ۲۰۱۶ء میں نائب مرکزی وزیر داخلہ کرن رجیجو نے راجیہ سبھا کو بتایا کہ ملک بھر میں دو کروڑ غیر ملکی ہیں۔ یہ تمام اعداد و شمار ملک بھر میں ایک خاص طبقے کے خلاف نفرت انگیزی اور سیاست چمکانے کے لیے خوب استعمال کیے گئے۔

اس وقت تک کسی کو درست اندازہ نہیں تھا کہ اصلاً کتنے غیر ملکی آسام میں موجود ہیں۔ نیشنل رجسٹری آف سٹیزنز (این آر سی) کا مقصد اسی کی صراحت کرنا تھا۔

آسام میں این آر سی کی حالیہ جاری کی گئی نام نہاد حتمی فہرست مجریہ ۱۳؍اگست ۲۰۱۹ء کے مطابق ریاست کے میں بی جے پی اور دائیں بازو کی تنظیموں کی توقع کے عین خلاف محض ۱۹ لاکھ لوگ اس فہرست سے خارج ہیں، اور ان میں سے بھی اکثریت غیرمسلم افراد کی ہے۔گذشتہ سال جولائی میں جاری کی گئی فہرست کے مطابق چالیس لاکھ سے زیادہ افراد اس فہرست کا حصہ نہیں تھے۔ تاہم اس حتمی فہرست میں ۲۲؍لاکھ افراد کی اپیلوں کو منظور کرکے انھیں شامل کرلیا گیا۔

اس فہرست سے کم از کم ان دعووں اور خدشات کا سدباب ہوجانا چاہیے، جن کی بنیاد پر سماج کو تقسیم کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم اب بھی صورت حال یہ ہے کہ تازہ این آر سی فہرست سے نہ بی جے پی خوش ہے اور نہ کوئی اور۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا بی جے پی اور دیگر اداروں کی جانب سے غیرملکی دراندازوں کے کروڑوں کی تعداد میں فرضی اعداد و شمار بیان کیے جاتے رہے ہیں، خاص طور پر آسام میں رہنے والے مسلمانوں کی آبادی کے بڑے حصے کو غیرملکی قرار دیا جاتا رہا ہے۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ ان تمام اعداد و شمار اور دعووں کی بنیاد کسی معروضی مطالعے یا جائزے پر نہیں تھی، لہٰذا تعصب اور نفرت کے اس غبارے کی ہوا نکلنا بالکل فطری امر ہے۔

کیا این ٓر سی غیر آئینی ہے؟

معروف صحافی اور ٹیلی ویژن اینکر کرن تھاپر کو انٹرویو دیتے ہوئے ملک کے مشہور ماہر قانون اور نلسار یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر فیضان مصطفی نے کہا کہ جس طرح آسام میں این آرسی کو نافذ کیا گیا ہے وہ ۱۹۵۵ کے شہریت کے قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق این آر سی کی کٹ آف تاریخ ۲۴؍مارچ۱۹۷۱ء کو ٹھہرایا گیا ہے۔ تاہم شہریت کا قانون اس سلسلے میں بالکل واضح ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص جو یکم جولائی ۱۹۷۸ سے پہلے ہندوستان میں پیدا ہوا وہ پیدائش سے ملک کا شہری ہے۔ واضح رہے کہ ۱۹۵۵ء کا قانون شہریت ہی اصل قانون ہے جس کی دفعہ ۳(۱)(الف) کی صریح خلاف ورزی میں ریاستی این آرسی عمل میں لائی گئی ہے۔ اس قانون کی دفعہ ۳(۱)(الف) کے الفاظ اس طرح ہیں ’’ہندوستان میں ۲۶؍ جنوری ۱۹۵۰ء کے بعد لیکن یکم جولائی ۱۹۸۷ء سے پہلے پیدا ہونے والا ہر شخص پیدائشی طور پر ملک کا شہری ہے۔‘‘ اس شق میں کہیں بھی ان افراد کے والدین کے بارے میں کوئی بات نہیں کہی گئی۔

پروفیسر مصطفی کے بقول این آر سی حقیقتاً نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ ان متعدد بین الاقوامی کنونشنز کی خلاف ورزی بھی ہے جن پر ہندوستان نے دستخط کیے ہیں۔ شہریت کا حق تمام حقوق کی ماں ہے کیوںکہ دیگر تمام حقوق اسی ایک حق سے حاصل ہوتے ہیں۔

اس پورے انٹرویو میں این آر سی کی قانونی خامیوں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے نیز اس کی وجہ سے جمہوریت پر جو اثرات مرتب ہوئے ہیں اور بین الاقوامی برادری میں ہندوستان کی جو ساکھ خراب ہوئی ہے اس پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اسے یوٹیوب پر دیکھا جاسکتا ہے اور اس کا متن دی وائر ڈاٹ ان پر پڑھا بھی جاسکتا ہے۔

ناقص طریقہ کار، ناقص نتائج

این آرسی کے طریقہ کار پر بھی ہزاروں سوال کھڑے کیے گئے ہیں۔ یہ عمل شروع ہی سے ناقص اور شہریوں پر بیجا بار کا باعث بنا رہا ہے۔ مثال کے طور پر دستاویزات کے سلسلے میں عدالتوں کے متناقض بیانات، ۱۷۹۱ء سے پہلے کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات، بعض اوقات ۴۰ سال بلکہ ۶۰ یا ۷۰ سال پرانے دستاویزات طلب کرنا وہ بھی ناخواندہ اور غریب لوگوں سے جن کے پاس رہنے کو مکان بھی نہیں ہوتے۔

اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ باوجود اس کے کہ این آر سی کے عمل پر برسوں کی محنت اور ہزارہا کروڑ کے مصارف آئے ہیں، ریاستی مشینری کا ایک بڑا حصہ اس کام پر مامور رہا ہے جس سے ریاست کے دیگر کام متاثر ہوئے ہیں، تازہ فہرست بھی غلطیوں سے مبرا نہیں ہے البتہ متاثرین کو غیر ملکی ٹربیونل میں اپیل کرنے کا حق دیا گیا ہے، حالانکہ ماہرین نے اس پر بھی اعتراض کیا ہے کہ جب خود حکومت کے مطابق خارج شدہ لوگوں کو ابھی غیر ملکی قرار نہیں دیا گیا تو انھیں کس بنیاد پر غیر ملکی ٹربیونل کے پاس بھیجا جائے گا، جہاں تعینات افسروں کا عمومی رویہ معاندانہ اور عدم تعاون کا ہوتا ہے۔اگرچہ اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کا اختیار بھی موجود ہے، لیکن وہ اتنا مہنگا اور دشوار ہے کہ خارج از فہرست افراد کے لیے قابل عمل نہیں ہوگا جن کی اکثریت انتہائی غریب اور ناخواندہ واقع ہوئی ہے۔حکومت نے قانونی مدد کا وعدہ بھی کیا ہے لیکن ہمیں یہ دیکھنے کے لیے انتظار کرنا ہوگا کہ وہ واقعی غیرجانبداری سے کام لیتی ہے یا نہیں۔ ان سب حقائق کے باوجود توقع یہی ہے کہ خارج از فہرست لوگوں کی تعداد اور کم ہوگی اور حق دار افراد اپنا نام درج کرانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

این آر سی کی فہرست سے خارج ہونے والے ۱۹ لاکھ لوگ اگلے چار مہینے تک فورن ٹربینولزکو (غیرملکیوں کے لیے خصوصی عدالت) جنھیں فیضان مصطفی ’’کنگارو کورٹ‘‘ کہتے ہیں، اپیل کرسکتے ہیں۔ تاہم غور طلب بات یہ ہے کہ ہماری عدالتیں جن میں پہلے ہی سے لاکھوں معاملے زیر سماعت ہیں، اور جو پہلے ہی سے وسائل کی کمی کا رونا رو رہی ہیں، اب ان میں مزید لاکھوں معاملے آجائیں گے، جو برسوں تک چلتے رہیںگے، تب بھی ان کا نمٹانا عدالتوں کے لیے بہت بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔ عیار وکیلوں کی خوب دوکان چلے گی جن کی جیبیںان عوام کے خون پسنے کی کمائی سے بھریں گی جو ملک کے غریب ترین، پسماندہ ترین، اور محروم ترین لوگ ہیں۔ یہ بھی ایک ستم ظریفی ہے کہ حکومت کو ناخواندہ اور محروم ترین لوگوں سے پچاس ساٹھ سال پرانی دستاویزات مطلوبہیں، ایسے لوگ جنھیںکسی بھی زبان کا ایک حرف تک پڑھنا نہیں آتا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اس ڈجیٹل عہد میں ٹائپنگ اور ہجے کی غلطیوں سے پُر سرکاری دستاویزات میںجن لوگوں کے ووٹر یا آدھار شناختی کارڈوں می ہجے کی غلطیاں پائی گئیں ہیں ان کی دستاویزات کو بھی مسترد کردیا گیا۔

این آر سی فہرست سے خارج ہونے والوں کی عجیب و غریب الم ناک داستانیںپڑھنے کو مل رہی ہیں۔ کچھ خاندان ایسے بھی ہیں جن میں اگر والدین کو فہرست میں شامل رکھا گیا ہے تو بچے خارج ہیں۔ بیوی یا شوہر میں سے کسی ایک کے کاغذات میںکوئی کمی پائی گئی تو اس فرد اور ان کے بچوں کو شہریت سے محروم کردیا گیا۔ آل انڈیایونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ آسام کی دوسری سب سے مضبوط حزب اختلاف ہے، اس پارٹی کے ایک رکن اسمبلی اننت کمار مالو بھی این اآر سی فہرست سے خارج قرار دیے گئے۔ ملک کی حفاظت کے لڑنے والے اور صدرِ جمہوریہ سے تمغہ شجاعت حاصل کرنے والے فوجی افسر محمد ثناء اللہ بھی اس فہرست سے خارج ٹھہرے۔

اخبارات میں ایسی خبریں بھی چھپی ہیں کہ این آر سی فہرست میںشامل نہ کیے جانے پر اور شہریت سے امکانی محرومی اور حراست کے خوف سے بعض افراد نے خود کشی تک کر لی۔ اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ اگر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کرنے کے بعد بھی غلطی سے مبرا این آر سی کی فہرست مرتب نہیںکی جاسکی ہے تو یہ کس بات کی طرف اشارہ ہے؟ کیا یہ حکام کی نااہلی نہیںہے؟ کیا یہ اُس بیانیے کی شکست نہیں ہے جس کے ذریعے غیرملکی در اندازوں کا خوف لوگوں کے دلوں میںبٹھاکر اقتدار حاصل کیا گیا؟ شہریت ثابت کرنے کا بار ریاست کے بجاے عوام پر کیوں ڈالا گیا؟ ملک کے اصل باشندوں کو کیوں پریشان کیا گیا؟ کیا یہ غیرمنطقی اور غیر عقلی بات اور صریح ظلم نہیںکہ دستاویزات میںاور وہ بھی ان سرکاری دستاویزات میںجن پر عوام کا اختیار نہیں ہوتا، محض ہجے کی غلطو ں کی بنا پر پچاس سال سے زیادہ عرصے سے اس ملک میںمقیم افراد کو شہریت کے حق سے محروم کردیا جائے؟ لوک سبھا میںاپنی پہلی تقریر میں مغربی بنگال کی رکن پارلیمان مہوا موئتراکا یہ سوال کتنا مناسب اور چبھتا ہوا ہے جب وہ کہتی ہیں’’ایک ایسے ملک میں جہاں وزیر اپنی ڈگریوں کی سند تک پیش نہیں کرسکتے کہ وہ کسی کالج سے گریجویٹ ہیں، اور ہیں بھی یا نہیں، آپ ملک کے محروم ترین لوگوں سے توقع رکھتے ہیںکہ وہ ثابت کریں کہ ان کا تعلق اسی ملک سے ہے!‘‘

ہندوستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اپنے وطن سے دور دوسری ریاستوں میں کسبِ معاش کے سلسلے میں رہتا ہے۔ ہماچل پردیش سے نقلِ مکانی کرکے آسام میں رہائش پذیر کوئی غریب عورت آخر کس طرح ثابت کرے گی کہ وہ ہندوستانی ہے؟ سلیل ترپاٹھی کے بقول این آر سی کے عمل نے شہریت ثابت کرنے کا بوجھ خود شہریوں پر ڈال دیا، اصل مسئلہ یہی ہے۔ چنمے تمبے نے اپنی کتاب India Moving: A History of Migration میں دکھایا ہے کہ ہندوستان میں اپنی ریاستوں کو چھوڑ کر دوسرے مقامات پر رہنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کم از کم ۱۸کروڑ ہندوستانی ایسے ہیں جو ان ریاستوں میں رہائش پذیر ہیں جن میں وہ پیدا نہیں ہوئے تھے۔ آخر وہ دستاویزات کے ذریعے اپنی وراثت یا سلسلہ نسب کو کس طرح ثابت کرسکتے ہیں؟

یہ دعوی ٰکوئی نہیں کرسکتا کہ متاثرہ افراد کا بڑا حصہ ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، لیکن ملکی سلامتی کے نام پر ان کو ’’دیگر‘‘قرار دے دینا ضرور مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ بعض بی جے پی لیڈروں بیان دیا ہے کہ۱۹ لاکھ افراد میں سے ہندوؤں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بیان مسلمانوں اور دیگر طبقوں کو ’’دیگر‘‘ قرار دینے کی ذہنیت کا عکاس ہے، گویا ہندوستانی ہونے کے لیے کسی خاص مذہب کاماننے والا ہونا ضروری ہے، اور نہ ہونے کے لیے محض مسلمان ہونا کافی ہے۔

آخری بات

بعض طبقوں کی جانب سے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں کہ این آر سی کو سارے ملک میں نافذ کیا جاسکتا ہے۔ اولاً تو ایسا کیے جانے کی کوئی منطقی بنیاد موجود نہیں ہے، آسام این آرسی نے ان خدشات کو بے بنیاد ثابت کردیا ہے جن کی بنا پر دائیں بازو کی جماعتیں اپنی سیاسی روٹیاں سینکتی چلی آرہی تھیں۔ اور فی الواقع اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو کسی کو خائف ہونے کی ضرورت نہیں ہے،جو یہاں کا باشندہ ہے اسے کوئی حکومت یا کوئی تنظیم غیرملکی قرار نہیں دے سکتی۔ پورے ملک میں این آر سی نافذ کرنا نہ صرف آئینی اقدار کے منافی ہوگا، بلکہ ملک کی سالمیت کو زک پہنچانے کے مترادف بھی ہوگا۔ آزادی کے بعد کے ہندوستان کی تعمیر سیکولر بنیادوں پر ہوئی ہے۔ یہ ملک نہ صرف جغرافیائی طور پر بڑا ہے، بلکہ آئینی طور پر بھی بلاتفریق مذہب، رنگ، نسل کے ملک کے تمام باشندوں کو حق شہریت دیتا ہے۔ این آر سی کو پورے ملک میں نافذ کیے جانے کا مطلب ہندوستان کے الگ تصور کو فروغ دینا ہوگا جس میں ریاست اکثریت پسند واقع ہوگی اور شہریت حق نہیں بلکہ ریاست کی جانب سے عطا کردہ سہولت ہوگی۔ اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا کہ آیا ملک اس تنگ دلانہ تصور کی جانب نہیں بڑھے گا یا اس کی اپروچ سب کی شمولیت پر مبنی ہوگی۔

شیئر کیجیے
Default image
عرفان وحید

تبصرہ کیجیے