نکاح

نکاح: اہمیت اور سماجی روایات

عورت اور مرد دونوں میں فطرت نے جنسی تقاضے رکھے ہیں۔ اس لئے دونوں کے بیچ صنفی کشش پائی جاتی ہے۔ اسی تقاضے کو پورا کرنے اور اسی کشش کو ایک دائرہ مین رکھنے کے لیے اﷲ نے نکاح کا طریقہ مقرر فرمایا ہے ۔ تاکہ عورت اور مرد دونوں اس دائرہ میں رہ کر خاندانی زندگی گزاریں۔ نکاح کے دائرہ میں رہ کر فطری ضرورت پوری کرنے کو قرآن میں اﷲ کی مقرر کی ہوئی حدیں (حدود اﷲ) کہا گیا ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ یہ اﷲ کی حدیں ہیں ۔ اس سے آگے مت بڑھو۔ جن لوگوں نے اﷲ کی حدود کو توڑا پس وہی لوگ ظلم کنے والے ہیں (تلک حدوداﷲ فلا تعتدو ھاومن یتعد حدوداﷲ فاولئک ھُمُ لظالمون۔ بقرہ ۲۲۹)

شہوت اور خواہش نفس کا مارا ہوا انسان جس طرح خدا کی بنائی ہوئی حدوں کا لحاظ نہیں کرپاتا اسی طرح خدا پرست انسان کبھی کبھی یہ چاہنے لگتا ہے کہ دنیا کی اس جھنجھٹ سے اپنے آپ کو دور رکھے تاکہ اﷲ کی یاد اور اسکی عبادت میں اپنی زندگی کا بڑا حصہ گذار سکے ۔ اسی احساس کے نتیجہ میں رہبانیت (ترک دنیا) کو تقدس کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اسلام کے علاوہ سارے دین اس کا شکار ہوگئے ۔کیوں کہ یہ فطرت سے انحراف کا راستہ ہے نہ کہ مطابقت کا۔ اسی لئے یہ راستہ یقینی طور پر خدا کا پسندیدہ نہیں ہوسکتا۔

صحابی رسول انس ابن مالک کہتے ہیں کہ تین آدمی رسول اﷲ کی بیویوں کے گھر پر آئے اور آپ کی عبادت کے سلسلے میں پوچھا ۔ پھر جب اس بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے اسے کم سمجھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا اور رسول اﷲ کا کیا مقابلہ ۔ اﷲ نے آپ کے اگلے اور پچھلے بھول چوک کو معاف کردیا ہے ۔ ان میں سے ایک نے کہا ، میں ہمیشہ عورتوں سے دور رہوںگا ۔ دوسرے نے کہا میں ہمیشہ روزہ رکھوںگا اور کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ رسول اﷲ ﷺ آئے ۔ آپ نے فرمایا تمہیں وہ لوگ ہو جنہوںنے ایسا اور ایسا کہا ہے۔ سن لو خدا کی قسم میں تم لوگوں سے زیادہ اﷲ سے ڈرتا ہوں اور زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔ میں نماز پڑہتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتاہوں ۔ جو میرے طریقہ سے منھ موڑے وہ میرا نہیں ہے۔‘‘( صحیح بخاری کتاب النکاح ۰۶۳ ۵)

استطاعت اور نکاح

اﷲکے آخری رسولؐ نے فرمایا:’’اے نوجوانوں کی جماعت تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہے اسے چاہئے کہ وہ نکاح کرلے ۔ یہ نظرکو خوب جھکانے والی اور شرم گاہ کی حفاظت کرنیوالی ہے ۔

اس حدیث میں نکاح کا حکم ہر اس جوان کو دیا گیا ہے جو استطاعت رکھتا ہے ۔اس لئے استطاعت کے باوجود بغیربیوی کے زندگی گذارنا پسندیدہ نہیں ہو سکتا ۔ البتہ اﷲ کے کسی بندہ کے پاس اتنی استطاعت ہی نہ ہو کہ نکاح اپنے ساتھ جو ذمہ داری لاتا ہے اسے پوری نہ کرسکے تو وہ معذور ہے ۔ اس کے لئے حکم ہے کہ وہ عفت اور پاکدامنی کی زندگی گذارے ۔ اور جب اﷲ اپنے فضل سے کشادگی اور وسعت بخشے اپنا نکاح کرلے۔ رسول اﷲﷺ نے ایسے لوگوں کے لئے فرمایا کہ وہ روزہ رہا کرے کیونکہ اس سے ضبط اور کنٹرول کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے اور شہوت کمزور پڑتی ہے۔

استطاعت اور صلاحیت کی شرط اس لئے رکھی گئی ہے کہ نکاح ہوتے ہی مردوں پر اپنی بیوی کے نان و نفقہ اور سکنٰی کی ذمہ داری آجاتی ہے ۔ لیکن آج کل اس لفظ ’’استطاعت ‘‘ کو شادی کی تاخیر میں حیلہ کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ہے حالانکہ اﷲ کو یہ پسند نہیں ہے کہ کوئی شخص اعلیٰ مادی معیار زندگی کی ’’استطاعت ‘‘ پیدا ہونے کے انتظار میں نکاح سے خالی زندگی گزارے ۔ چنانچہ اﷲ نے ایسے کم استطاعت رکھنے والے مردوں کو جو آزاد عورت سے نکاح کرکے انہیں آزاد عورت والی معیار زندگی فراہم نہ کرسکتے ہوں خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’جو شخص آزاد مسلمان عورت سے نکاح کی قدرت نہ رکھتا ہو تو اس نے چاہئے کہ تمہاری ان کنیزوں سے نکاح کرلے جو تمہارے قبضہ میں ہوں اور مومنہ ہوں۔ (نساء :۲۵)

اوپر درج آیت کے مطابق یہ بات پسندیدہ نہیں ہو سکتی کہ کوئی شخص استطاعت میں اضافہ کا انتظار صرف اس لئے کرتا رہے کہ ایسی لڑکی کو زوجیت میں لے جو آپ کے برابر اس کا معیار تعلیم اور معیار خوبصورتی آپ کے تصوراتی خاکہ پر پورا اترتا ہو ایسی صورت میں ایک درجہ نیچے آجائے اور کم تر سہولتوں میں پرورش پانے والی اور غریب باپ کی بیٹی سے جو نسبتاً کم صورت اور کم تعلیم یافتہ ہو نکاح کرلینا زیادہ بہتر ہے۔ آپ کو نفسیاتی الجھن کا شکار بنادے یا آپ کے قلب کو گنہ گار کرتی رہے یا آپ اس خطرے میں گھرے رہیں کہ نہ جانے کب اﷲ کی بنائی ہوئی حدیں ٹوٹ جائیں۔

مسئلہ نکاح اور سماج

کسی عورت اور کسی مرد کا نکاح کے بغیر زندگی گذارنا اﷲ کو پسند نہیں ہے ۔ اگر کوئی فرد کسی مجبوری کی وجہ سے بے نکاح رہ جائے تو ایسے وقت میں مسلمانوں کی عام ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل کریں چنانچہ اﷲ نے فرمایا ہے کہ ’’ اور تم میں جو بے نکاح ہو ان کا نکاح کردو اور تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو نیک ہو ان کا بھی ۔ اگر وہ غریب ہوںگے تو اﷲ ان کو اپنے فضل سے غنی کردے گا۔ ( النور: ۳۲)

اس آایت میں اﷲ نے سارے مسلمانوں کو مخاطب کیا ہے چاہے وہ بے نکاح فرد کا گارجین ہو یا قریبی رشتہ دار ، مسلم سماج کا ایک ذمہ دار فرد ہو یا ایک عام مسلمان ۔ لیکن اس آیت پر عمل اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتا جب تک مسلم سماج کے اکثر افراد میں یہ شعور پیدا نہ کردیا جائے کہ کسی ایک فرد کا ایک ذاتی مسئلہ صرف اس کا مسئلہ بنکر نہ رہے، بلکہ پورے سماج کے ہر فرد کا مشترک مسئلہ بن جائے ۔ذمہ داری کا ایک عام احساس مسئلہ کو حل کرنے کی تدبیر اختیار کرنے پر ہر شخص کو مجبور کردے ۔

لیکن افسوس کہ سماج کا سرسری مشاہدہ بتادیتا ہے کہ ہمارے درمیان ایسے اجتماعی اور ملی احساس کی زبردست کمی ہے۔ ہمارے سماج میں ہزاروں لڑکیوں کا نکاح صرف اس وجہ سے کہ اس کے باپ کے اندر شادی کا خرچ برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے صحیح وقت پر نہیں ہوپارہا ہے۔ دوسری طرف مالدار طبقہ کی بے حسی اور بے شرمی کی یہ حالت ہے کہ وہ اپنے نمائشی ذوق کو تسکین دینے کے لئے اپنی اور اپنی اولاد کی شادی کو فضول اور فالتو خرچ کا نمونہ بناتا جارہا ہے ۔ جس کے نتیجہ میں ایک غریب آدمی کے لئے نکاح کا مرحلہ دشوار تر ہوتا جارہا ہے۔ شادی میںتاخیر کی وجہ سے نفسانی خواہش ناجائز راستوں کو تلاش کرلیتی ہے عشق و محبت کی ایسی داستانیں رقم ہونے لگی ہیں۔ عشق کا دیوانہ سفر اسے ایمان و اسلام کی سرحد سے نکال کر کفر کی سرحد میں داخل کردیتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود امت کا مالدار طبقہ اسکے لئے تیار نہیں ہے کہ وہ شادیوں میں سادگی اختیار کرے، اپنے مال کو فضول خرچیوں میں اڑانے کے بجائے غریب لڑکی اور لڑکا کے کی شادی کے انتظام میں صرف کرے ، یا کسی ایسے شخص کی مدد کردے جو استطاعت نہ ہونے کے سبب نکاح نہیں کرپارہے ہیں اور ان کی تھوڑی مدد انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکتی ہے ۔

ایک قابل غور نکتہ

اب تک کی گفتگو سے ظاہر ہے نکاح اسلام کی اہم تعلیمات میں سے ہے۔ اسی طرح یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ دنیا میں موجود ہر سماج اور ہر ملت میں ہر زمانہ میں شادی ہوتی رہی ہے۔ پھر اسلام میں آکر اسے وہ کون سا امتیازی وصف حاصل ہوگیا جس نے اسلامی نکاح کو الگ اور ممتاز کردیا ۔ آیئے غور کریں۔

پہلا امتیازی وصف ہے نیت یعنی مقصد ۔ اﷲ نے اور اس کے رسول نے شادی کے کچھ مقاصد طے کردیئے ہیں ۔ اور ترغیب دی ہے کہ انہی کے حصول کے لئے شادی کریں، کیوں کہ اسلامی شریعت میں مقصد اور نیت کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔ اﷲکے نزدیک کوئی نیک کام انجام دینے والا شخص اجر اور ثواب کا حقدار نہیںہو سکتا اگراس نے اپنے کام کو اﷲ ہی کے لئے خاص نہ کیا ہو ۔ اﷲ کے آخری رسول نے ہجرت جیسے قربانیوں سے بھرا عمل کی مثال دیتے ہوئے فرمایا ’’ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے ‘‘ پس جس شخص نے اﷲ اور اس کے رسول کے لئے ہجرت کی تو اس نے اسی کے لئے کی اور جس نے کسی عورت یا دنیا کے لئے ہجرت کی تو اس نے اسی کے لئے کی ( انمالاعمال بالنیات) ۔

دوسرا امتیازی وصف ہے اﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت: اﷲ اور اس کے رسول نے کچھ اصول دیئے ہیں اور کچھ ہدایتیں ۔ ضروری ہے کہ ان اصولوں اور ان ہدایتوں پر عمل کیا جائے۔ اگر آپ ان اصولوں اور ہدایتوں سے خوشی کے اس موقع پربے پروا ہوجاتے ہیں تو ایسی حالت میں آپ کی شادی سنت رسولﷺ اور شریعت کے مطابق نہیں کہی جاسکتی ہے چاہے خطبۂ نکاح میں خطیب نکاح ایک لاکھ بار ’’النکاح من سنتی‘‘ کیوں نہ پڑھ دے۔

دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمان جہاں کہیں بھی رہتا ہو دوسری ملتوں (Community ) سے اس کا رابطہ رہتا ہے اور ان کے یہاں رائج بہت سارے رسم اور رواج جس کے پس منظر میں شرکیہ اور کفریہ عقیدے چھپے ہوتے ہیں ، غیر محسوس طریقہ سے مسلمانوں کے یہاں چلے آتے ہیں ۔ اسی طرح بعض شریعت کے خلاف رسم اور رواج ایسے ہوتے ہیں جس کی برائیاں کئی پشتوں سے رائج ہونے کی وجہ سے لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں ۔یہ رسمیں لوگوں کے شوق اور تمناؤں کا حصہ بن جاتی ہیںاور اِنہیں اس قدر تقدس کا درجہ حاصل ہوجاتا ہے کہ ان سے پرہیز کی صورت میں ملامت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ایک مسلمان کا یہ شیوہ نہیں کہ وہ ان رسموں اور رواجوں سے چمٹا رہے۔ کیوں کہ عقل اور وحی کی روشنی میں تجزیہ کئے بغیر باپ دادا سے آرہی رسموں سے چمٹے رہنا اور کسی چیز کو درست ماننے کے لئے کافی نہیں ہے۔ چنانچہ اﷲ نے فرمایاہے ’’ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اﷲ نے جو کچھ تمہاری طرف اتارا ہے اس کی پیروی کرو ( یعنی اس کے مطابق چلو) تو وہ کہتے ہیں انہیں چیزوں کی پیروی کرینگے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا چاہے ان کے باپ دادا کچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت کا پیغام؟ (سورہ بقرہ آیت ۱۷۵)۔

اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ جب تک وحی اور عقل کی روشنی میں تجزیہ نہ کرلیں شوق اور تمنا کے نام پر کسی رسم کو عمل میں نہ لائیں اور اگر کوئی رسم سنت اور شریعت اور سماجی فائدے کے خلاف نظر آئے تو اس سے پوری طرح دوری اختیار کریں اور کوشس کریں کہ پوری امت اس سے دوری اختیار کرلے ۔اس کام میں کسی ملامت کی پرواہ نہ کریں کیوں کہ بندوں کی ملامت کے خوف سے اﷲکی نافرمانی درست نہیں ہو سکتی ۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد حفظ الرحمن ابن مولوی عبد القوی

تبصرہ کیجیے