کرو مہربانی تم اہل زمیں پر…!

اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں بل کہ مکمل نظامِ حیات ہے۔ زندگی کے ہر شعبے کے لیے اس نے واضح ہدایات و تعلیمات دی ہیں اور مسلمانوں سے مطالبہ کیا ہیکہ اس کی پیروی کریں۔ مصیبت اور تکالیف کے وقت میں بھی اسلامی تعلیمات راہ نمائی کے لیے موجود ہیں اور ان پر عمل کرنے سے یقینا قلب و روح کو سکون نصیب ہوتا ہے جو انسانوں کے زخم کا مرہم اور صدمے کی دوا بن جاتا ہے، ورنہ بعض اوقات انسان گھبرا جائے اور بسا اوقات مصائب و ابتلا کی یلغار کے سامنے ہمت ہار کر مایوسی کا شکار ہوجائے۔

روئے زمین پر کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہے، جسے دنیا میں مصائب اور تکالیف کا سامنا نہ ہو، ہر انسان خواہ وہ کتنا بھی صاحب دولت اور بے نیاز ہو، کسی نہ کسی وقت اس پر ایسی افتاد آن پڑتی ہے کہ اسے دوسروں کی مدد لینی پڑتی ہے۔ ایسی صورت میں ہمارا دین ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہم اس کی مدد اور خیر خواہی کے لیے آگے آئیں۔ اسلام اس بات کی شدید مذمت کرتا اور ناپسند کرتا ہے کہ کسی بھی انسان کی مصیبت اور تکلیف پر کوئی خوش ہو خواہ وہ مصیبت زدہ انسان دشمن ہی کیوں نہ ہو۔ حضرت واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’تو اپنے بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار نہ کر، ورنہ اللہ اس پر رحم فرمائے گا اور تجھے مصیبت میں مبتلا کردے گا۔‘‘

چوں کہ افراد کے مابین تعاون، ہم دردی اور باہمی محبت و خیر خواہی کا جذبہ معاشرے میں امن و سکون کا ضامن ہے اسی لیے اسلام نے باہمی ہم دردی و تعاون کو اعلی انسانی اوصاف کا حصہ قرار دیا۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ کا مفہوم ہے:

’’نیکی و بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو اور گناہ و سرکشی میں ایک دوسرے کے مددگار نہ بنو۔‘‘ (المائدہ)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ہر شخص جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں کوشاں ہے تو خدا تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرنے میں لگا رہے گا، اور جو کسی مسلمان کی ایک مصیبت دور کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی ستر مصیبت دور کردے گا۔‘‘

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’جو شخص کسی پریشان حال انسان کی مدد کرے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ۷۳ مرتبہ مغفرت لکھے گا، جن میں سے ایک مغفرت تو اس کے تمام کاموں کی اصلاح کے لیے کافی ہے اور بہتر مغفرتیں قیامت کے دن اس کے لیے درجات بن جائیں گی۔‘‘

اسلام کے اخوت اور بھائی چارے کا درس بھی اسی باہمی تعاون کی ایک کڑی ہے۔ باری تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’درحقیقت تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں، اسی طرح رسول اللہ نے فرمایا: ’’مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے۔‘‘

آپﷺ کی ان تعلیمات نے عربوں کی فطرت بدل دی، یہاں تک کہ انصار مہاجرین کو اپنے گھر لے گئے کہ اس گھر میں جو کچھ تھا،آدھا آدھا بانٹ لیا۔ انسانیت کو آج اسی اسوہ حسنہ کی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک رہیں۔ ہماری دست رس میں اگر دو روٹیاں ہیں تو ایک یا آدھی اس شخص کو دیں جو اس سے بھی محروم ہے۔ حاجت مندوں کی حاجت پوری کرنا انبیائے کرام کے اوصاف اور اللہ کا حکم ہے۔ مصیبت زدہ کے ساتھ ہم دردی اور تعزیت کرنا مکارم اخلاق میں سے ہے۔ رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’جس نے کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کی تو اس کے لیے مصیبت زدہ ہی کی طرح اجرہے۔‘‘

اسلام کی خیر خواہی اور معاشرتی تعلیم کو دیکھئے کہ کسی گھر میں موت کی صورت میں سماج کو کیا تعلیم دینی چاہیے ایسی صورت میں واضح تعلیم ہے کہ کیوں کہ میت کے گھر والے صدمے کی وجہ سے ایسے حال میں نہیں ہوتے کہ کھانے وغیرہ کا اہتمام کرسکیں اس لیے ان کے ساتھ ہم دردی کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ اس دن ان کے کھانے کا اہتمام دوسرے پڑوسی اور احباب کریں۔ اسی طرح انسانی تعلقات میں باہمی خیر خواہی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرت کا یہ زریں اصول عطا فرمایا:

’’بہترین انسان وہ ہے جس سے دوسرے انسانوں کو فائدہ پہنچے۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ انسانی ترقی و کمال کی معراج یہ ہے کہ اس کا وجود معاشرے کے لیے فائدہ مند ہو جائے، اس کی ذات سے خیر و خوبی کے سوتے پھوٹتے ہوں، اس کی جسمانی قوت ہر وقت کم زور اور بے سہارا لوگوں کی امداد و اعانت پر صرف ہو۔ آپؐ نے فرمایا: ’’مخلوق خدا کا کنبہ ہے، پس بہترین شخص وہ ہے جو خدا کے کنبے کے ساتھ احسان کرے۔ اسوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعے سے بہ خوبی یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ انسانیت کی فلاح و بہبود بالخصوص دکھی، مصیبت زدہ، مفلوک الحال اور مفلس و محتاج لوگوں کو باعزت زندگی گزارنے کے قابل بنانا ان کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا آپ کی بعثت کے اعلیٰ مقاصد میں شامل تھا۔ آپؐ کا فرمان ہے: ’’بیواؤں اور مسکینوں کی مصیبت کو دور کرنے میں کوشاں شخص اجر و ثواب میں اس شخص کے برابر ہے جو ہمیشہ نماز میں مصروف رہتا ہے اور اس میں وقفہ نہیں کرتا اور ہمیشہ روزہ رکھتا ہے، افطار نہیں کرتا۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’جو لوگ دوسروں پر رحم کرتے ہیں، رحمن ان پر رحم کرتا ہے۔ اہل زمین پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔‘‘

رسول اللہﷺ کے ان ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ حاجت مندوں کی مدد کرنا اور رفاہی کاموں میں حصہ لینا پیغمبرانہ اوصاف میں سے ہے۔ بل کہ آفات اور ہلاکت سے بچنے کا بہترین ہتھیار ہے۔ بخاری کی کتاب الوحی میں مذکور ہے: جب آپؐ پر پہلی وحی نازل ہوئی تو وحی کے بوجھ اور عظمت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پریشان ہوگئے۔ گھر آتے ہی آپؐ نے حضرت خدیجہؓ سے فرمایا کہ مجھے گھبراہٹ محسوس ہو رہی ہے مجھے کمبل اوڑھا دو اور فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔‘‘ حضرت خدیجہؓ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا: ہرگز نہیں خدا کی قسم! اللہ آپ کو ضائع نہیں فرمائیں گے، کیوں کہ آپ عاجز اور مجبوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، تعلقات جوڑتے ہیں، جو چیز دوسروں کے پاس نہیں آپؐ انہیں کما کر دیتے ہیں، مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں۔‘‘ تو دیکھیے کہ حضرت خدیجہؓ نے اپنی حکمت و دانائی سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ حاجت مندوں کی مدد کرنا انسانی تعلقات کو استوار کرنا عالم گیر رفاہی اصول ہیں۔ انسانیت کی فلاح اور معاشرت و تمدن کی فلاح و بہبود کا انحصار ان ہی پر ہے۔

اسلام دین رحمت اور روشنی کا وہ منبع ہے، جس نے کرہ ارض کو منور کیا۔ انسانیت کو خیر و بھلائی اور برکات و انعامات سے نوازا۔ جن و انس، حیوانات و نباتات اور جمادات سب کے حق میں یہ دین رحمت ہے۔ پاکیزگی، محبت اور پاک دامنی اس کے ثمرات ہیں، شر اور برائی کا خاتمہ نیکی کی نشو ونما اس دین کا طرہ امتیاز ہے، یہ دین حق زندگی کے روحانی اور جسمانی دونوں پہلوؤں کو ملحوظ رکھتا ہے۔ اسلام انسانیت کو روشنی فراہم کرتا ہے اور دنیا کی زینت اور لطف کو حرام قرار نہیں دیتا، ہاں اس کے لیے حدود متعین کرتا ہے تاکہ ہر شخص کی آزادی اور حقوق کی حفاظت ہوسکے۔ یہ وہ دین ہے جو اپنے پیروکاروں کو محرومی اور انتہا پسندی کے اندھیروں میں نہیں دھکیلتا۔ بل کہ انہیں پروقار اور پرلطف انداز سیزندگی جینا سکھاتا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ اپنے دین کی قدر پہنچانیں اور اس کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزاریں۔ اس سے ان کی دنیا و آخرت بھی بنے گی اور پوری انسانیت اسلام کی تعلیمات کو دیکھ اور برت کر اس کی گرویدہ بن جائے گی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سراج الحسن قاسمی