معاشی بحران

ملک کا معاشی بحران

ملک عزیز اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے۔ پہلے یہ بات کی گئی تو اسے قبول نہیں کیا گیا لیکن اب جب کہ اس کے اثرات آٹو سیکٹر سے لے کر ایک عام آدمی تک محسوس کرنے لگا ہے تو حکومت اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہے لیکن اس کی بہتری کے لیے کیا مزید اقدامات کیے جانے چاہئیں اور جو اقدامات تاحال کیے ہیں ان کے اثرات کا کیا ہو رہے ہیں اس سلسلے میں ہندوستانی عوام کو کوئی خاص بات نظر نہیں آتی۔

وطن عزیز اس وقت جدید دور کے شدید ترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ اس کی خبریں آئے دن ملکی میڈیا میں شائع ہو رہی ہیں اور ماہرین اقتصادیات اپنے اپنے طریقے سے حالات کا تجزیہ کر رہے ہیں۔جب کہ ایک عام آدمی اپنی روز مرہ کی زندگی اور اپنے معاشی کاروبار میں بھی اس کا مشاہدہ اور تجربہ کر رہا ہے۔

اس بحران کی خبریں آٹو موبائل انڈسٹری میں چل رہی شدید کساد بازاری سے شروع ہوئیں جہاں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں اس سیکٹر میں تیس فیصد کی گراوٹ نے اسے بدحال کر دیا۔ ان حالات میں مذکورہ سیکٹر نے کئی لاکھ افراد کو اپنے یہاںنوکریوں سے نکال دیا۔ کہا جا رہا ہے کہ آٹو سیکٹر کی کمپنیوں نے اپنے یہاں دس سے پندرہ فیصد افراد کی کٹوتی کی ہے۔ اب جب کہ دوسری سہ ماہی کا ایک ماہ گزر گیا ہے اس سیکٹر میں مزید ابتری سامنے آئی ہے۔ اگست کے مہینے میں یہ گراوٹ مزید بڑھ کر ۴۱ فیصد تک ہوگئی جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے کیے گئے اصلاحی اقدامات حالات کو بہتر بنانے میں تاحال کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

کپڑے کی صنعت کا بھی برا حال ہے۔ یہ صنعت دوسری سب سے بڑی صنعت ہے جو ملک کے دس کروڑ افراد کو مختلف صورتوں میں روزگار فراہم کرتی ہے اور GDP کا 2فیصد حصہ ہے۔ یہ وہ صنعت ہے جو براہ راست ملک کی زراعت سے بھی جڑی ہوئی ہے اور بڑے پیمانے پر لوگوں کے روزگار سے بھی۔ ایسے وقت میں جب کہ ’کاٹن‘ کی فصل تیاری کے مرحلے میں ہے کروڑوں کسانوں کا مستقبل داؤ پر لگا محسوس ہو رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگراس صنعت میں اسی طرح مندی چھائی رہی تو ۸۰ ہزار کروڑ کی کاٹن کی فصل کا کوئی خریدار نہ ہوگا۔ ایسی صورت میں کاٹن کا کاروبار کرنے والوں اور اس کی کھیتی کرنے والوں کے حالات کیسے ہوں گے، اندازہ کرنا دشوار نہیں۔

دوسرے اہم سیکٹرس بھی اس معاشی کساد بازاری سے متاثر ہیں اور ان کی صحت ٹھیک نہیں ہے۔ ہوا بازی یا ایئر لائنس کا شعبہ بری حالت میں ہے۔ نان بینکنگ شعبہ ٹھپ ہے، رئیل اسٹیٹ تو دیوالیہ پن کے کگار پر ہے اور روز مرہ کے استعمال کی چیزوں تک پر اثر پڑنا شروع ہوگیا ہے۔ چنانچہ پارلے جی بسکٹ بنانے والی کمپنی نے یہ کہہ کرکہ دیہی ہندوستان میںپانچ روپے کی قیمت پر بکنے والا پیکٹ بھی فروخت نہیںہو رہا ہے اس لیے وہ اپنے ایک لاکھ کارکنان میں سے دس ہزار کو نکالنے پر مجبور ہے، لوگوں کو گہری سوچ میں ڈال دیا ہے۔

چھوٹی اور درمیانی صنعت جسے اصطلاح میں اسمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز (SME) کہا جاتا ہے سب سے بری حالت میں ہے جب کہ اس صنعت کو ملکی معیشت کی بیک لون تصور کیا جاتا ہے اور یہاں افرادی قوت کا ۴۰ فیصد حصہ برسر روزگار ہے اور مینو فیکچرنگ کا ۴۵ فیصد اسی کے ذریعہ تیار ہوتا ہے۔ اس سیکٹر کی بدحالی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں جو GDP کے اعداد و شمار شائع ہوئے ہیں اس کی فیصد نمو .6 فیصد ہے جو 12 فیصد سے گھٹ کر یہاں پہنچی ہے۔ اس کا مطلب یہ صاف طور پر یہ ہے کہ یہ سیکٹر پوری طرح تباہ ہوگیا ہے، جس کا مطلب 40فیصد کامگاروں کی بے روزگاری ہے۔

GDP کی شرح جس کا اندازہ 5.8 فیصد سامنے آئی ہے اور ماہرین اقتصادیات کو اس پر تشویش ہے جب کہ بعض ماہرین معاشیات اس شرح نمو کی حقیقت پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ شرح نمو حقیقی نہیں ہے۔

ماہر معاشیات ارن کمار ان میںسے ایک ہیں۔ ان کے خیال میں یہ شرح نمو 5فیصد نہیں بلکہ منفی ہے۔ اس کے لیے وہ دلیل دیتے ہیں کہ مینو فیکچرنگ کی شرح نمو .6 فیصد ہے۔ جو ملک کے 40فیصد کامگاروں کو روزگار اور مینو فیکچرنگ میں 45فیصد کا حصہ دار ہے۔ اگر ہم اس سیکٹر کی گراوٹ کو GDP میں جوڑیں تو یہ 4.5 فیصد ہوگی۔ پھر 5.0 کی GDP میں سے ایسے گراوٹ مان کر کم کریں تو کل شرح نمو .5 فیصد رہ جائے گی اور اگر اسی طرح زراعت کے شعبہ کا بھی حساب لگائیں تو GDPکی شرح نفی میں چلی جائے گی۔ اگر اس بات کو سمجھ کر مان لیا جائے تو حالات کی سنگینی کا گراف کافی بڑھ جائے گا۔

اس صورتِ حال میں بعض لوگ عالمی کساد بازاری کو بھی موثر مانتے ہیں۔ عالمی کساد بازاری جو امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ کے نتیجہ میں پوری دنیا کو متاثر کر رہی ہے اسی طرح یوروپین یونین کا انتشار اور برطانیہ کا اس سے علیحدگی کا اعلان پورے یوروپ کی تجارتی صورتِ حال کو متاثر کیے ہوئے ہے۔ ان چیزوں کا اثر اپنی جگہ قابل قبول ہے کیوں کہ آج کی دنیا میں کسی بھی ملک کی معیشت ایک اکائی نہیں بلکہ عالمی حالات میں کام کرتی ہے مگر لوگ یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ 2008 میں کبھی پوری دنیا میں تجارتی مندی تھی مگر ہندوستان اس طرح کی صورتِ حال سے محفوظ رہا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری کساد بازاری کے داخلی اسباب بھی ہیں جو زیادہ اہم رول ادا کر رہے ہیں۔

جب ہم داخلی اسباب کا تجزیہ کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ نوٹ بندی کا فیصلہ ایسا فیصلہ تھا جس نے غیر منظم شعبہ تجارت کی کمر توڑ دی تھی اور جن لوگوں کی نوٹ بندی میں کمر ٹوٹی وہ آج تک کھڑے نہ ہوسکے۔ ہزاروں لاکھوں چھوٹی چھوٹی تجارتی یونٹیں جو اس وقت بند ہوئیں وہ دوبارہ کم ہی شروع ہوسکیں۔ اس کے بعد رہی سہی کسر ٹیکس نظام کی تبدیلی نے پوری کردی۔ GST کے نفاذ نے اس غیر منظم شعبہ کی تجارت کو بری طرح متاثر کیا اور جو لوگ چھوٹا موٹا کاروبار کرتے تھے اب GST کے رجسٹریشن کے بغیر کام نہیں کرسکتے تھے۔ اسی طرح نئے ٹیکس کی شرحوں نے پروڈکشن کو مہنگا بنا کر منافع کی شرح کو انتہائی کم یا نقصان دہ بنا دیا جس کے سبب کچھ کاروبار بند ہوئے اور جو جاری رہے وہ بھی بہت کم منافع بخش رہ گئے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حکومت موجودہ اقتصادی حالات کو لیکر سخت پریشر میں ہے لیکن شاید وہ اس سے باہر آنے کے طریقے تلاش کرنے میں تا حال ناکام ہے جبکہ روایتی طریقے جن کا اعلان کیا جاچکا ہے اپنا اثر دکھانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

حکومت نے آٹو سیکٹر کی مندی کو ختم کرنے کے لیے بھی کچھ اعلانات کیے ہیں اور کچھ اعلانات ایسے ہیں جو ملک کے ٹیکس کے نظام میں بڑی اصلاحات کی طرف اشارہ کرتے ہیں یہ اقدامات اپنی جگہ درست اور معاون کہے جاسکتے ہیں مگر کیا یہ پورے ملک کی معاشی بدحالی کو ختم کرسکیں گے یہ سوال اہم ہے۔

ان اقدامات میں پہلا قدم براہ راست آٹو سیکٹر سے متعلق ہے، جس کے بارے میں وزیر خزانہ محترمہ نرملا سینا رمن نے اعلان کیا ہے کہ اس سال کے بجٹ میں دیا گیا سرچارج واپس لیا جائے گا جس کا کارپوریٹ سیکٹر سے مطالبہ کر رہا تھا مگر حکومت اسے واپس لینے پر راضی نہیں تھی۔ کاروں کی خریداری کے وقت رجسٹریشن فیس میں کمی اور یورو6 معیار سے نیچے کی گاڑیوں کی صلاحیت کار میں تبدیلی بھی اہم اعلان تھا۔ 2020 تک یورو 6 معیار کی گاڑیوں کو یقینی بنانا حکومت کا اعلان تھا، اس لیے لوگ مخمصہ میں تھے کہ گاڑیاں خریدیں یا نہ خریدیں۔ اب حکومت نے صاف کر دیا کہ گاڑیاں خریدی جائیں اور اس معیار سے نیچے کی گاڑیاں بند نہیں ہوں گی اور جب تک وہ چلتی رہیں گی چلتی رہیں گی۔ دوسری طرف حکومت نے گاڑیوں کی مانگ میں اضافے کے لیے سرکاری دفتروں اور اداروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پرانی گاڑیوں کی جگہ نئی گاڑیاں خریدیں۔ بات اپنی جگہ درست مگر کیا حکومتی اداروں کو اس کام کے لیے مالی سال میں کوئی خصوصی بجٹ بھی دیا گیا ہے؟ یہ سوال بھی اہم ہے۔

ٹیکس کے نظام میں دور رس اثرات کے حامل اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس میں حکومت کا یہ واضح موقف قابل غور ہے کہ ’’حکومت دولت کی پیداوار کرنے والوں کا احترام کرتی ہے کیوں کہ یہ غربت و افلاس کے خاتمہ میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔

چنانچہ حکومت نے دولت پیدا کرنے والوں کو پہلا تحفہ سرچارج سے گلو خلاصی کی صورت میں دیا اور پھر مزید تحفوں کی برسات کردی۔ ان میں اہم ترین یہ ہیں کہ حکومت آئی ٹی آر کی اسکروٹنی کے نظام کو آسان کرے گی۔ اسی طرح 1400 ایسے مقدمے واپس لینے کا اعلان کیا جو کمپنی ایکٹ کے تحت درج تھے اور اس سلسلے کے کئی اہم اعلانات بھی ہیں جن میں ٹیکس کے موجودہ قانون پر ازسرنو غور کرنا بھی شامل ہے۔

حکومت نے 1.76 لاکھ کروڑ روپے کی رقم آر بی آئی سے حاصل کرلی ہے جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والے اداروں کو دے گی تاکہ معاشی سائیکل کا پہیہ تیزی سے گردش کرسکے۔ حالاں کہ اس پر حکومت کو شدید تنقید کا بھی نشانہ بننا پڑا۔ اس رقم میں سے 70 ہزار کروڑ بینکوں کو دیے جائیں گے تاکہ وہ لوگوں کو قرض دیں اور لکویڈئی کی کمی کو پورا کیا جاسکے اور تیس ہزار کروڑ ہاؤسنگ بینکوں کو دیے جائیں گے تاکہ ہاؤسنگ سیکٹر کو بحران سے نکالا جاسکے۔

ان اعلانات سے صاف واضح ہے کہ یہ تمام کے تمام کارپوریٹ سیکٹر کی بہتری سے متعلق ہیں جو محض 300 صنعت کاروں پر مشتمل ہے۔ جب کہ غیر منظم شعبہ صنعت و تجارت او رزراعت کو ان سے کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ ایسے میں یہ اصلاحی اقدامات کیا ملک کی عام آبادی اور چھوٹے صنعت کاروں اور تجارت کرنے والوں کو بھی فائدہ پہنچائیں گے اس کا امکان کم ہے۔

موجودہ حالات میں حکومت کو اقتصادی محاذ پر کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہاں ان کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے۔

ہندوستان ایسا ملک ہے جہاں لیبر فورس یا کامگاروں کی تعداد کافی ہے اور بے روزگاری کی شرح پہلے سے ہی کافی زیادہ ہے جو مزید بڑھ کر 7.5 فیصد ہوگئی ہے۔ ایسے ملک میں جہاں 35 سال تک کی عمر کے شہریوں کی تعداد 60 فیصد ہو بے روزگاری بڑا اہم مسئلہ اور چیلنج ہے۔

انفرا اسٹرکچر کا شعبہ وہ شعبہ ہے جو بھران کے حالات میں لوگوں کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ مگر ہمارے یہاں یہ شعبہ اس وقت تھم سا گیا ہے اور نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا پچاس بلین روپے کی مقروض ہوگئی ہے۔

حکومت نے کسانوں کی آمدنی کو 2020 تک دگنا کرنے کا وعدہ کیا تھا جب کہ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ کسانوں کو ان کی فصل کے واجب دام تک نہیں مل پا رہے ہیں۔ ایسے میں بڑے ہندوستان کو بحران سے نکالنا بڑا اہم کام ہوگا۔

یہ بات عام لوگوں کے علم میں نہیں ہے کہ ہندوستان جلد ہی پندرہ آسیان ملکوں کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدہ میں شامل ہونے جا رہا ہے۔ جنوبی ایشیا کے دس ممالک کے علاوہ چین، جاپان، کوریا، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ ایسے میں ماہرین اقتصادیات کو یہ بات پریشان کر رہی ہے کہ اس معاہدہ کے بعد ہندوستان ان ممالک کے درمیان اپنے تجارتی مفادات کا تحفظ اس صورتِ حال کے ساتھ کیسے کرپائے گا خاص طور پر چین کے ساتھ جہاں اس کا تجارتی خسارہ پہلے ہی سے 57 ملین ڈالر کے قریب ہے ۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

تبصرہ کیجیے