4

مشین

وسیع انتظار گاہ کے خوش گوار حدتک خنک ماحول میں آرام دہ صوفے پر بیٹھے ہوئے ناگواری چہرے پر رقم تھی۔ اکتاہٹ بھرے انداز میں اس نے نظر اٹھا کر سامنے دیوار پر نصب گھڑیال کی جانب دیکھا تو بیزاری میں مزید اضافہ ہو گیا۔ رات کے ساڑھے گیارہ بج چکے لیکن ڈاکٹر ہمدانی کے کلینک پر ہجوم کم ہونے میں نہیں آ رہا۔’’ یوں لگتا ہے کہ ساری قوم ہی نفسیاتی مریض بن چکی۔‘‘ اس نے کوفت بھرے انداز میں سوچا۔

سوچوں کو جھٹکنے کی کوشش میں اس نے اپنا سر جھٹکا اور ساتھ بیٹھی فرحین کو دیکھا جو گردوپیش سے بے خبر خاموشی کے ساتھ بے تاثر نگاہوں سے سامنے دیکھ رہی تھی۔ اس کی یہ خاموشی کمال احمد کو اس وقت ایک نعمت محسوس ہوئی ورنہ پچھلے کچھ روز سے تو…

’’بیگم فرحین کمال… ‘‘کمال احمد کی سوچوں کا غیرمربوط سلسلہ استقبالیہ پر بیٹھی جدید تراش خراش کے لباس میں ملبوس لڑکی کی قدرے بلند آواز سے معطل ہوا۔ وہ اپنی بیگم کے ساتھ اْٹھے اور ڈاکٹر کے کمرے کی سمت بڑھ گئے۔

ڈاکٹر ہمدانی ساٹھ کے پیٹے میں سرمئی بالوں والے خوش شکل انسان تھے۔انھوں نے خیر مقدمی مسکراہٹ سے کمال احمد اور مسز کمال احمد کو نوازا، ہاتھ سے سامنے پڑی کرسیوں پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ پھر اپنے سامنے پڑی فائل پر درج نام ’’مسز فرحین کمال‘‘ کو بلند آواز سے پڑھتے ہوئے دونوں کی طرف دیکھا اور اْسے میز پر واپس رکھ دیا۔

’’جی تو مسز فرحین کمال، اپنے متعلق بتائیے۔‘‘ ڈاکٹر نے خوش شکل مگر آنکھوں کے گرد حلقوں اور پڑمردہ چہرے والی خاتون کو مخاطب کیا۔

لیکن خاتون کے انداز میں کوئی تبدیلی رونما نہ ہوئی۔وہ اسی طرح لاتعلق انداز میں بیٹھی رہی۔

ڈاکٹر ہمدانی نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا لیکن اس فرق کے ساتھ کہ اب آواز پہلے کے مقابلے میں بلند تھی۔ یہ آواز مسز فرحین کمال کی سماعتوں پر شاید دستک دینے میں کامیاب ہو گئی لیکن دماغ کے کواڑ اب بھی بند رہے۔ اس نے اپنی بے تاثر نگاہوں کا زاویہ ڈاکٹر کی طرف موڑا لیکن ہونٹ آپس میں یوں پیوست رہے جیسے صدیوں سے بند کوئی قفل۔

اب ڈاکٹر نے کمال احمد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ’’کمال صاحب، آپ اپنی بیگم کی بیماری کے متعلق جو کچھ بھی جانتے ہیں، بتائیے۔‘‘

’’ڈاکٹر صاحب! میری بیگم ایک معروف تعلیمی ادارے کے ساتھ بطور استاد منسلک ہیں۔ ہماری شادی کو بارہ سال گزر چکے۔ ہمارے دو بچے ہیں۔ سب کچھ نارمل بلکہ بہت اچھا جا رہا تھا کہ اچانک کچھ دنوں سے فرحین کو یہ وہم ہو گیا ہے کہ وہ انسان نہیں بلکہ ایک مشین ہے۔‘‘

ڈاکٹر نے تفہیمی انداز میں ایک ابروٍ قدرے بلند کرتے کمال احمد کو دیکھا اور بولے ’’اچھا یہ بات ہے۔‘‘ چشمے کو ناک پر دوبارہ درست کیا اور پوچھا:

’’اور اندازاً یہ کتنے دن پہلے کی بات ہے کہ جب آپ کی مسز کو یہ وہم ہوا۔‘‘

کمال احمد: ’’غالباً ایک ماہ پہلے کی بات ہے۔‘‘

ڈاکٹر: ’’اس وہم کے بعد ان کی روزمرہ کی سرگرمیاں اور روٹین کیا ہے؟‘‘

کمال احمد: ’’جب سیان کو یہ وہم لاحق ہوا ہے،کھانا پینا، سونا سب چھوڑ دیا اور کبھی کبھی بیٹھے بیٹھے منہ سے آوازیں نکالنے لگتی ہے۔‘‘

ڈاکٹر: ’’آوازیں؟ کیسی آوازیں؟‘‘

کمال احمد: ’’مختلف آوازیں کھڑکھڑکھڑ، پٹرپٹرپٹر، ٹھک ٹھک ٹھک۔‘‘

ڈاکٹر: ’’اوکے کمال صاحب، میں آپ سے کچھ ذاتی نوعیت کے سوالات پوچھناچاہتا ہوں تا کہ مسئلے کو سمجھا جا سکے۔‘‘

کمال احمد: ’’جی پوچھیے ڈاکٹر صاحب! میں تو عاجز آ چکا ہوں۔‘‘

ڈاکٹر: ’’آپ کی شادی کو بارہ سال ہو چکے۔ یہی بتایا نا آپ نے؟‘‘

کمال احمد: ’’جی ڈاکٹر صاحب۔‘‘

ڈاکٹر: ’’آپ کے گھر پر افراد کی تعداد۔‘‘

کمال احمد: ’’میرے والدین، میں، میری بیوی اور ہمارے دو بچوں سمیت کل چھ افراد۔‘‘

ڈاکٹر: ’’اچھا آپ کی بیگم کسی ذہنی دباؤ کا شکار ہیں؟ میرا مطلب ساس بہو کی روایتی چپقلش؟‘‘

کمال احمد: ’’نہیں نہیں ڈاکٹر صاحب۔ میرے والدین کو فرحین سے کوئی شکایت نہیں۔‘‘

ڈاکٹر:’’ ادارے میں ان کو کسی منفی رویے کا تو سامنا نہیں؟‘‘

کمال احمد: ’’فرحین ایک قابل اور محنتی استاد ہیں۔ اس لیے اپنے ادارے میں عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔‘‘

ڈاکٹر: ’’آپ کے آپس کے تعلقات کیسے ہیں؟میرا مطلب آپ کی دلچسپی کہیں اور…‘‘

کمال احمد: ’’بالکل نہیں ڈاکٹر صاحب۔ میری زندگی فرحین کے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہے۔ میں ایک بڑے سائنسی تحقیقی ادارے سے منسلک ہوں۔ میرا سارا دن دفتر اور گھر پر بھی مطالعے اور تحقیق کی نذر ہو جاتا ہے۔ میں ان خرافات میں وقت ضائع کرنے کا قائل نہیں۔‘‘

ڈاکٹر: ’’آپ کی شادی پسند کی تھی یا اہلِ خانہ نے کروائی؟‘‘

کمال احمد: ’’فرحین میری پسند تھی پھر میرے خاندان نے بھی میرے فیصلے پر صاد کیا اور یوں و ہ زندگی کا حصہ بن گئی۔‘‘

ڈاکٹر:’’ یہ بتائیے، وہ گھر کے انتظام، بچوں کی تربیت اور اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے کیسی ہیں؟‘‘

کمال احمد: ’’بالکل ٹھیک۔ مجھے ان سے کوئی شکایت نہیں۔‘‘

ڈاکٹر: ’’آپ کی بیگم کے مشغلے کیا ہیں؟‘‘

کمال احمد: ’’شادی سے پہلے تو اسے موسیقی اور شاعری پسند تھی۔ مصوری بھی کرتی تھی۔‘‘

ڈاکٹر: ’’اور اب؟‘‘

کمال احمد نے سوچتے ہوئے کچھ یاد کرنے کی کوشش کی لیکن پھر خاموشی سے سر جھکا لیا۔

ڈاکٹر: ’’چلیں آپ کو اپنی بیگم کے پسندیدہ رنگ، فلم، اداکار یا کتاب وغیرہ کے متعلق تو ضرور پتا ہو گا۔‘‘

کمال احمد: ’’فرحین کا پسندیدہ رنگ شادی سے پہلے تو گلابی تھا‘‘۔

ڈاکٹر:’’ اور اب؟‘‘

کمال احمد نے پھر خاموشی سے سر جھکا لیا۔

ڈاکٹر: ’’اچھا آپ شاپنگ تو مل کر کرتے ہوں گے۔ آخری دفعہ آپ نے انھیں تحفہ کیا دیا؟‘‘

کمال احمد: ’’تحفہ؟ میں نے بتایا نا کہ وہ خود ملازمت کرتی ہیں۔ وہ اپنی مرضی سے شاپنگ بھی کر لیتی ہیں۔‘‘

کمال احمد: ’’آپ کی بیگم کھانا تو اچھا بناتی ہوں گی۔ آپ کو ان کے ہاتھ کے بنے کھانوں میں سے کیا پسند ہے؟‘‘

کمال احمد: ’’جی واقعی وہ کھانا اچھا بناتی ہے مثلاً بریانی، مچھلی، کڑاہی اور سوپ تو خاص کر بہت ہی اچھا بناتی ہیں۔‘‘

ڈاکٹر: ’’واہ! پھر تو آپ ان کی خوب ستائش کرتے ہوں گے۔‘‘

کمال احمد: ’’ستائش؟ یہ تو معمول کے کام ہیں جو سبھی خواتین کرتی ہیں۔‘‘

ڈاکٹر نے خاموش ہو کر چشمہ آنکھوں سے ہٹاتے ہوئے گہری سانس لی اور تھکے ہوئے لہجے میں بولا:’ ’بہت شکریہ مسٹر کمال احمد۔‘‘

کمال احمد: ’’لیکن ڈاکٹر صاحب ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ وہ خود کو مشین کیوں سمجھنے لگی ہیں؟؟؟‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
رفعت رفیق

تبصرہ کیجیے