قربانی

باورچی خانے میں چائے بناتے ہوئے مجھے ایک دم خیال آیا کہ شکر تو ہے ہی نہیں۔ کل بھی بڑی مشکل سے گزارا ہوا تھا۔اب چونکہ میں چائے بنا چکا تھا، سوچا برابر والے گھر سے شکر لے آتا ہوں۔ میں نے دروازے پر دستک دی تو خالہ بیلن لیے باہر نکلیں۔

’’خیریت ہے خالہ یوں بیلن لیے آپ باہر آگئیں ؟ مجھ سے ایسی کیا خطا ہو گئی ؟‘‘میں نے مذاق کرتے ہو کہا: ’’ارے میں روٹی ڈال رہی تھی۔ تم نے گھنٹی بجائی تو ایسے ہی چلی آئی۔ خیر بولو کس کام سے آئے ہو لکھاری میاں؟‘‘

مجھے تمام محلے والے لکھاری میاںکے نام سے پکارتے تھے۔ میں رسالوں اور اخباروں وغیرہ میں کہانیاں لکھتا ہوں اور یہ میرا شوق بھی ہے۔’’ خالہ شکر ختم ہوگئی تھی۔ چائے بنائی تو دیکھا۔ اب آپ ایک کپ کے لیے شکر دے دیں‘‘۔ میں نے مظلومانہ شکل بنا کر کہا۔

’’اچھااچھا۔ تم کپ لے کر آجائو اور جتنی چاہو شکر ڈال لو‘‘۔

میں فوراََجاکر کپ لے آیا اور شکر ڈال کر چمچ گھمانے لگا:’’ابھی کوئی نئی کہانی نہیں لکھی تم نے؟‘‘ خالہ مجھ سے مخاطب ہوئیں: ’’نہیں ابھی تو نہیں لکھی، اس مرتبہ کوئی حقیقت پر مبنی کہانی لکھنا چاہتا ہوں۔ ڈھونڈ رہا ہوں۔ مل گئی تو ضرور لکھو ں گا۔‘‘ میں نے چائے ختم کرتے ہوئے کہا اور اٹھ کر جانے لگا ہی تھا کہ یکایک وہ بولیں۔

’’حقیقت پر مبنی ایک کہانی میریپاس بھی ہے۔ چاہو تو سن سکتے ہواور لکھو بھی۔‘‘

میں جو جانے کے لیے تیار تھا ایک دم رْک گیا اوراْن سے پوچھا: ’’کیا مطلب؟ کیسی کہانی؟؟‘‘ انھوں نے ایک سرد آہ بھری اور بولیں ????’’میری کہانی‘‘۔

’’آپ کی کہانی؟ میں کچھ سمجھا نہیں۔ آپ کی کیا کہانی ہے؟‘‘ میں نے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے کہا۔

’’تم ایسا کرو کل صبح میرے گھر آجائو۔ بچے پڑھنے جاچکے ہوں گے پھر میں فرصت سے تمہیں اپنی کہانی سنائو ں گی اور ہاں کاغذ قلم بھی لے کر آنا۔ مجھے یقین ہے میری کہانی سننے کے بعد تم اْسے لکھے بغیر نہ رہ سکو گے۔‘‘ یہ کہہ کر خالہ باورچی خانے میں چلی گئیں اور میں واپس آگیا۔

رات بھر مجھے تجسس رہا کہ خالہ شبانہ کی ایسی کیا کہانی ہو سکتی ہے۔ امی ان دنوں ایک شادی کے سلسلے میں چچا کے گھر گئی ہوئی تھیں لہٰذا گھر کیکچھ نہ کچھ کام مجھے کرنے پڑ رہے تھے۔ صبح ناشتا کیا، کچھ ضروری کام نبٹائے اور خالہ شبانہ کی طرف چل پڑا۔ دروازے پر دستک دی۔’ ’کون؟‘‘ خالہ نے پوچھا۔ ’’میں ہوں مومن۔‘‘

جواب سن کر انھوں نے دروازہ کھولا اور مسکراتے ہوئے بولیں:’’ہاں بھئی کہانی کی تلاش تمہیں صبح صبح میرے گھر لے آئی اچھا یہ بتائو چائے پیوگے؟‘‘ میں نے کہا:’’ نہیں ناشتا تو میں کر کے آیا ہو ں بس آپ جلدی سے کہانی شروع کریں۔‘‘ وہ ایک دم خوش ہوگئیں اور بولیں: ’’اب تم قلم لے کر بیٹھ جائو اور لکھنا شروع کر دو۔‘‘

میں اپنے ساتھ ایک ٹیپ ریکارڈر بھی لے گیا تھا تاکہ روانی سے کچھ نہ لکھ سکوں تو بعد میں سن کر لکھ لوں۔ خالہ نے ایک سرد آہ بھری اور پھر بولیں:

’’ میری زندگی تو انتظار میں گزر گئی ،ایک ایسا انتظار جو لاحاصل سا لگتا ہے۔ یہ تب کی بات ہے جب میں شبانہ انو ر نہیں بلکہ شبانہ ناصرتھی۔والدین کی اکلوتی اولاد۔ناز ونعم میں پل کر بڑی ہوئی۔ بچپن کھیل کود میں گزرا۔ کالج کی تعلیم سے فارغ ہوئی تو گویا شادی کی عمر کو پہنچ چکی تھی۔ انور صاحب کے ابا میرے والد کے قریبی دوستوں میں سے تھے لہٰذا ہمارے گھر اْن کا آناجانا لگارہتا تھا۔ وہ اپنے بیٹے کے لیے لڑکی دیکھ رہی تھیں۔ انھوں نے اماں سے میرا رشتہ مانگ لیا۔ منع کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا‘‘۔

’’ انور صاحب کام کے سلسلے میں بیرونِ ملک جاتے رہتے تھے۔ اْن دنوں لاہور آئے ہوئے تھے۔ شادی سے پہلے ابا کو پوری امید دلائی گئی کہ انور صاحب شادی کے بعد مجھے اپنے ساتھ ولایت لے جائیںگے ،لیکن میری قسمت میں شاید کچھ اور لکھا تھا۔‘‘ وہ سرد آہ بھر کر ایک لمحے کے لیے خاموش ہوئیں پھر بولیں: ’’ابا نے اپنی بساط سے بڑھ کر میری شادی پر خرچ کیا کہ بیٹی شادی ہوکر ولایت جارہی ہے اور اْن دنوں یہ بہت بڑی بات سمجھی جاتی تھی۔ہرشخص خوش تھا‘‘۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور بولتیں میں نے جھٹ سوال کر ڈالا:’’ کیا آپ بھی اتنا ہی خوش تھیں جتنا باقی گھروالے؟‘‘

سوال سن کرخالہ کچھ دیر تو خاموش رہیں پھر کہنے لگیں:’’ہاں بیٹامومن! میں بھی بے حد خوش تھی لیکن شادی کی رات ایک خبر مجھ پر بم کی طرح گری اور وہ خبر انور صاحب کی ولایت میں شادی کی تھی!! وہ شادی جس کا ذکر انور کے ابا اور اماں نے میرے والدین سے کرنا گوارا نہ کیا۔ وہ رات مجھے آج تک یاد ہے اور شاید مرتے دم تک یاد رہے گی۔لوگوں پر سے بھروسا شاید اْس دن سے اْٹھ گیا۔ زندگی بے معنی سی ہوگئی۔ انور صاحب نے مجھے اپنی پہلی شادی کی اطلاع میرے والدین کو دینے سے سختی سے منع کیا اور دھمکی دی کہ اگر میںنے ایسی کوئی حرکت کی تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ میں مجبور تھی اور تم جانتے ہو بیٹا کہ عورتیں اس معاملے میں عموماً? مجبور ہوتی ہیں‘‘۔

’’کچھ دن بعد انور صاحب کی واپسی تھی۔ جانے سے پہلے انھوں نے مجھے اپنے پاس بٹھا یااور بولے میں شادی نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن والدین کے سامنے مجبور تھا۔ میں نے بارہا ان سے کہا کہ میری پہلی شادی کا تمہارے والدین کو بتادیں مگر وہ نہ مانے۔ اگر میں وہاں شادی نہ کرتا تو پاکستان واپس نہیں آسکتا تھا اور اگر یہاں آجاتا تو دوبارہ وہاں جانا ممکن نہ ہوتا۔ میں بے بس تھا۔ ہوسکے تو مجھے معاف کردینا۔‘‘

’’اتنا کہہ کر وہ اٹھے اور باہر آنگن میں آگئے جہاں سب اْن کا انتظار کررہے تھے۔ سب کواللہ حافظ کہا اور چلے گئے۔ کئی سال گزر گئے لیکن انور ولایت سے واپس نہیں آئے۔ اپنی اماں کو پابندی سے فون کرتے، کبھی کبھار مجھ سے بھی بات ہوجاتی۔ گھر خرچ بہرحال بھیجا کرتے تھے۔ ایک دن اچانک انور کا فون آیا۔ انھوں نے اپنی اماں سے کہا کہ شبانہ سے میری بات کروائیں۔ یہ میرے لیے ایک نئی بات تھی۔ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ میں ایک انجانی خوشی دل میں لیے فون کی طرف جیسے بھاگتی ہوئی گئی‘‘۔

’’سلام کے بعد انور بولے:’’ میں اس مہینے کے آخری ہفتے پاکستان آرہا ہوں۔‘‘ اس سے پہلے کہ میں اپنی خوشی کا اظہار کرتی وہ بولے:’’ یہ بات ابھی کسی کو مت بتانا۔ میں خود آکر بات کرلوں گا۔ تمہیں پہلے اس لیے بتا رہا ہوں کہ تم میرے ساتھ گھر والوں کو بھی منا لوگی اور مجھے یقین ہے وہ مان جائیں گے۔ اس کے لیے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے تاکہ وہ میری بیوی اور بیٹے کو کھلے دل سے اپنا لیں۔ بولو تم میری مدد کروگی ناں؟‘‘

’’میں جو اتنی دیر سے گم کھڑی تھی، یکایک چونک گئی اور صرف اتنا ہی کہہ سکی ’’آپ پاکستان آجائیں سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘ نم آنکھیں لیے کمرے کی طرف پلٹی۔ اماں نے پوچھا کیا کہہ رہا تھا۔ میں نے اْن کے پاکستان آنے کی خبر سنائی تو اماں خوشی سے جھوم اٹھیں لیکن میری نم آنکھوں کو دیکھنے وہاں کوئی نہ تھا‘‘۔میں خالہ کی آنکھوں میں نمی اس وقت بھی محسوس کرسکتا تھا جب یہ سب بتا رہی تھیں۔ وہ نہایت کرب میں تھیں جبکہ یہ بات اب اْن کے ماضی کا حصہ بن چکی تھی۔ صاف لگ رہا تھا کہ وہ پھر سے غمگین ہوگئی ہیں۔

انھوں نے بات جاری رکھی۔ ’’بہر حال چند ہفتے بعد انور پاکستا ن آگئے۔ پہلے تو اْن کے اماں ابا نے خاصا ہنگامہ کیا محض میرا دل خوش کرنے کے لیے کیونکہ چند دن بعد ہی اْن کی بہو اور نیلی آنکھوں والاپوتا اْن کے دل میں جگہ بنا چکا تھا۔‘‘ ’’اورخالہ آپ؟ آپ کے دل پرکیا گزری؟‘‘ میں نے جھٹ سوال کر ڈالا۔

میرا سوال سن کر وہ مسکرائیں پھر اداسی سے بولیں: ’’میرے دل پر کیاگزری اس کی اہمیت کب تھی؟ اور کس کے لیے تھی؟ بہر حال میں نے اپنے وعدے کے مطابق کسی قسم کا کوئی احتجاج نہیں کیا۔‘‘

’’اور آپ کے والدین؟‘‘ میں نے پھر سوال کر ڈالا۔

’’وہ آئے تھے۔ اس بارے میں بات کرنا چاہتے تھے۔ شدید غم اور غصے کا شکار تھیلیکن میں نے انھیں منع کردیا کیونکہ اس کے بعد میرا کیا انجام ہوتا یہ مجھے بخوبی معلوم تھا۔‘‘

’’میں نے انور اور اْن کی پہلی بیوی کا پورا پورا خیال رکھا۔ میں ان کی بیوی سے نفرت کرنے کا حق رکھتی تھی لیکن میں نے نجانے کیوں ایسا نہیں کیا! ہماری زبانیں مختلف تھیں۔ بظاہر وہ بے حد معصوم نظر آتی تھی۔ شاید ہوبھی؟ جیسے میرا کوئی قصور نہیں تھا۔ شاید اْس کا بھی نہ ہو۔ اصل قصور وار تو انور تھے‘‘۔

’’ ایک مہینا گزر گیا اور واپسی کے دن آگئے۔ جانے سے پہلے ایک دن انور میرے کمرے میں آئے اور بولے شبانہ میں نے تم سے بڑی قربانیاں مانگی ہیں ایک مہربانی اور کردو میری ذات پر۔‘‘

’’کیا؟‘‘ میں نے دوسری طرف منہ پھیرے لاپروائی سے پوچھا۔’’ شبانہ میں بیٹے، علی کو تمہارے حوالے کر کے جانا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں وہ یہاں رہے اور تم اْسے ماں بن کر پالو۔‘‘

’’کیا؟ یہ کہا تھا انکل نے آپ سے ؟ اور آپ مان گئیں؟‘‘ میں جذباتی سا ہوگیا اور یک دم کئی سوال کر ڈالے۔ خالہ نے آہستگی سے جواب دیا: ’’نہیں پہلے تو میں نے انکار کردیا تھا لیکن بعد میں مجھے ان کا فیصلہ ماننا پڑا۔ انور کا فیصلہ مجھے اْس عورت پر بھی ظلم لگ رہا تھا لیکن پھر میں نیدیکھا کہ اْس انگریز عورت کو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ اْس کا بچہ یہاں میرے پاس رہے۔ جب گھر والوں کو اس بات کا علم ہو ا تو سب نے مجھے یہی کہا کہ تم انور کی بات مان لو۔ شاید وہ لوگ پہلے ہی ،دل سے اس فیصلے پرراضی ہو چکے تھے‘‘۔

’’انور اور اْس کی بیوی چلے گئے اور ننھے علی کو میرے پاس چھوڑ گئے۔ وقت گزرتا گیا۔ علی جو اْ س وقت صرف چھ ماہ کا تھا وقت کے ساتھ ساتھ بڑا ہوتا گیا۔ انور کے والدین کی طبیعت ناساز رہتی تھی۔پورا دن اْ ن کی اور علی کی دیکھ بھال کرتے گزر جاتا۔ رات کو جب تھک کر بستر پر لیٹتی تو کبھی اپنی قسمت کو ملامت کرتی اور کبھی اپنے والدین کے فیصلے کو یاد کر کے روتی۔ چند سال بعد یکے بعد دیگرے انور کے والدین اس دنیا سے رخصت ہو گئے‘‘۔

’’اب گھر میں صرف علی اور میں رہ گئے۔ کبھی کبھی مجھے علی پر شدید غصہ آتا اور میں اسے معمولی باتوں پر شدید سزا دے ڈالتی، لیکن پھر سوچتی آخر اس ننھی جان کا کیاقصور ؟ لیکن میرا بھی تو کوئی قصور نہ تھا۔ میں بھی تو ایک ایسی سزا کاٹ رہی تھی جس کا کوئی انجام نظر نہیں آتا تھا۔ علی جب بارہ سال کا ہوا تو انور عید پر پاکستان آئے۔ وہ اس دفعہ بھی تنہا نہیں تھے۔ا س بار وہ اپنے ایک سالہ بیٹے فرخ کو میرے حوالے کرنے آئے تھے‘‘۔

’’میں ایک مرتبہ پھر خاموش رہی۔ اس عرصے میں میرے والدین بھی اس دنیا سے جاچکے تھے۔ کون تھا جسے میں اپنا دکھ سناتی؟‘‘ خالہ کی آنکھیں ایک مرتبہ پھر آنسوئوں سے بھیگ گئیںاور کیوں نہ بھیگتیںخود میری آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔ کوئی کسی پر اتنا ظلم کیسے کر سکتا ہے؟

کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ دوبارہ گویا ہوئیں۔ ’’انور ہر مہینے مجھے رقم ارسال کرتے تھے اور میں اْن کے بچوں کی ضروریات پوری کرتی رہتی۔ ‘‘پھر مسکراتے ہوئے بولیں ’’اب بھی پوری کر رہی ہوں اور یونہی کرتی رہوں گی۔‘‘

میں نے سوال کیا: ’’لیکن آپ نے یہ سب کیوں کیا؟ اپنے حق کے لییکیوں نہیں لڑیں؟‘‘

خالہ نے میری بات سن کر نرمی سے جواب دیا: ’’مومن بیٹا! آج جویہ سب کچھ تم دیکھ رہے ہو، اْن بچوں کی وجہ سے ہی ہے۔ اْس وقت اگر میں وہ تلخ فیصلہ نہ کرتی تو آج میرے پاس یہ گھر نہ ہوتا۔ انور ان بچوں کی بدولت ہی سہی مجھ سے رابطہ تو رکھتے ہیں۔ بے شک یہ بات ظلم ہے مجھ پر لیکن میرا گھر ہے، معاشرے میں عزت سے رہ رہی ہوں، یہ اْس ایک فیصلے کی وجہ سے ہی تو ہے۔ یہ بچے میرے نہیں لیکن مجھے ان سے بے حد محبت ہے۔ مارتی تو سگی ماں بھی ہے۔ میں ماروں گی تو سوتیلی کہلا ئوں گی۔ یہ مجھے معلوم ہے لیکن پھر بھی مجھے ان سے محبت بھی ہے۔‘‘

میں نیپھر سوال شروع کر دیے: ’’یہ سب باتیں اپنی جگہ لیکن آپ نے تو ساری زندگی ان بچوں کے نام کردی۔ انور صاحب نے تو کبھی آپ سے محبت نہیں کی پھر آپ اْ ن کے بچوں پر کیوں جان نچھاور کر رہی ہیں؟ ‘‘

’’ایسا نہیں ہے‘‘۔خالہ نے یقین سے جواب دیا: ’’انور کو کبھی تو میری قربانیوں کا احساس ہوگا۔ کبھی تو وہ میری جانب پلٹیں گے۔‘‘

وہ خاموش ہوئیں تو میں نے ایک سرد آہ بھر کر کہا: ’’خالہ شبانہ جب آپ کی اتنی قربانیاں انھیںقائل نہ کر سکیں کہ آپ کے ساتھ ظلم ہورہا ہے تو یہ بچے کیا قائل کریں گے؟آپ کا انتظار تو انتظار لا حاصل ہے جیسا کہ آپ نے پہلے کہاتھا‘‘۔یہ کہہ کر میں دروازے کی طرف چل پڑا پیچھے مْڑ کر نہ میں نے دیکھا نہ آنٹی نے آواز دی کیونکہ ہم دونوں کی آنکھیں نم تھیں۔

قارئین!! انور صاحب کا ایک بیٹا کالج اور دوسرا پرائمری میںہے۔نجانے آنے والے برسوں میں کیا ہو گا۔ انور صاحب اپنے بچوں کو اپنے پاس بلوالیں گییا پھر بچے اپنی اس ماںکے لییجو بظاہر تو سوتیلی ہے لیکن بے حد محبت سیانھیں پال رہی ہے، اس کی محبت میں جانے سے انکار کردیں گے۔ یہ جاننے کی خاطر آپ کو چند سال انتظار کرنا ہو گا۔ اگر ممکن ہوا تو چند سال بعد آپ کو اس کہانی کا اختتام ضرور بتائو ں گا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
آمنہ زبیر