ہیپاٹائٹس (یرقان) سے بچاؤ کیسے ممکن ہے

۲۸ جولائی کو پوری دنیا میں ہیپاٹائٹس ڈے منایا جاتا ہے۔ صحت کے عالمی ادارے کی جانب سے گزشتہ برس جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس وقت دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد ۳۵ کروڑ ہے ان میں ہندوستان کے شہریوں کی تعداد قابل تشویش موجود ہے ان کے اندازے کے مطابق ہندوستان میں لگ بھگ چار کروڑ افراد ہیپاٹائٹس بی میں اور چھ سے بارہ ملین ہیپا ٹائٹس سی کے مرض میں مبتلا ہیں۔ واضح رہے کہ یہ مرض خطرناک امراض میں شمار کیا جاتا ہے اور بعض صورتوں میں اس کا علاج بھی ناممکن ہو جاتا ہے۔ ہیپا ٹائٹس (یرقان) ایک مرتعدی بیماری ہے جو وائرس سے پھیلتی ہے۔ یہ وائرس مختلف اقسام کے ہوتے ہیں۔ہیپا ٹائٹس اے، ہیپا ٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی عمومی طور پر جانے پہچانے نام ہیں۔ اس کے علاوہ یرقان D,G,E قسم کے بھی ہوتے ہیں۔ یہ وائرس انسانی جگر پر اثر انداز ہوکر مختلف نوعیت کی بیماری پیدا کرتے ہیں۔

ہیپا ٹائٹس A

یرقان کی یہ قسم ایک وائرس سے پھیلتی ہے۔ عموما بچوں میں ہوتی ہے۔ بیماری کی نوعیت معمولی یا درمیانے درجے تک رہتی ہے۔ یہ مرض حفظان صحت کے اصولوں کا خیال نہ رکھنے کے باعث پھیلتا ہے۔ یاد رہے کہ اس کا وائرس مریض کے پاخانے میں خارج ہوتا ہے۔

علامات: مریض کے جسم میں وائرس داخل ہونے کے دو سے چار ہفتے بعد علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ زیادہ تر مریض تین سے چھ ہفتے میں تندرست ہوجاتے ہیں۔ ایک فیصد مریض شدید بیمار کا شکار ہوسکتے ہیں۔ علامات درج ذیل ہیں:

پیٹ درد، بخار، متلی ہونا، الٹی آنا، آنکھوں کا رنگ پیلا ہونا، پیشاب کا رنگ پیلا ہونا، شدید کمزوری محسوس ہونا، بھوک کا نہ لگنا۔

علاج: اس بیماری کا کوئی علاج نہیں۔ مریض میں پانی کی کمی او رخوراک کی کمی کو پورا کیا جاتا ہے۔ بخار کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔

بچاؤ: ایک مرتبہ کے انجکشن یا ویکسینیشن سے انسان ساری عمر کے لیے اس مرض سے بچ سکتا ہے، اس لیے بچاؤ پر زور دینا چاہیے۔

۱- بچوں میں ایک سال کی عمر کے بعد پیپا ٹائٹس اے کی ویکسین لگائی جاتی ہے، جس کے دو ٹیکے چھ ماہ کے وقفے سے لگوا کر اس بیماری سے بچایا جاسکتا ہے۔

۲- مرض ہونے کی صورت میں مریض کو حفظان صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل کرنا چاہیے جن میں ہاتھوں کا بار بار صابن سے دھونا شامل ہے۔

۳- پانی ہمیشہ ابال کر استعمال کرنا چاہیے۔

۴- رفع حاجت کے بعد کموڈ کیصفائی اور ہاتھوں کا دھونا ضروری ہے۔

۵- پھل اور سبزیاں دھونے کے لیے اُبلا ہوا پانی استعمال کریں۔

۶- برف جمانے کے لیے بھی ابلا ہوا پانی استعمال کریں۔

۷- صاف پینے کے پانی کے پائپ اور گندے نکاسی آپ کے پائپ اگر زیر زمین قریب قریب بچھائے گئے ہوں تو ٹوٹنے (Leak) کی صورت میں دونوں پانی مل جاتے ہیں، یوں ہیپا ٹائٹس کا مرض وبائی صورت اختیار کرلیتا ہے۔

ہیپا ٹائٹس B (یرقان)

ہیپا ٹائٹس بی وائرس سے پھیلنے والی خطرناک متعدی بیماری سے جو احتیاط نہ کرنے کی صورت میں وبائی شکل اختیار کرسکتی ہے۔

عمومی علامات: اس مرض میں علامات معمولی بھی ہوسکتی ہیں اور پیچیدہ بھی۔ ہوسکتا ہے کہ مریض کوئی تکلیف ، علامات محسوس نہ کرے اور کسی اور وجہ سے کیے گئے خون کے ٹیسٹ سے مرض کا پتہ چلے۔ اس کی علامات درج ذیل ہیں:

٭ آنکھوں میں پیلا ہٹ، تھکاوٹ، بھوک میں کمی، وزن میں کمی، جلد پر خارش ہونا، متلی اور بخار کی کیفیت بھی اس کی علامات ہوسکتی ہیں۔

بیماری میں پیچیدگی کی علامات:

٭ پیٹ میں پانی کا پڑنا ٭ دماغی سستی ٭ دماغی توازن کا بگڑنا ٭ ہاتھ پاؤں میں سوزش ہونا ٭ خون کی الٹی آنا ٭ کالے پاخانے آنا، ٭ جگر کا کینسر ہونا۔

مرض پھیلنے کی وجوہات: ٭ حمل میں ماں سے بچے کو بیماری منتقل ہونا ٭ متاثر سوئی، سرنج، آلات جراحی کے استعمال سے ٭ متاچر خون کے انتقال سے۔ ٭ متاثرہ فرد کے زیر استعمال بلیڈ یا استرے سے شیو کرنے سے ٭ متاثرہ شخص کی جسمانی رطوبت یا زخم سے رسنے والے مواد سے۔

تشخیص: جسم میں وائرس کی موجودگی اور بیماری کی نوعیت اور بیماری کی شدت جاننے کے لیے مختلف لیبارٹری ٹیسٹ موجود ہیں جو ماہر امراض کے مشورے سے کروانے چاہئیں۔

کالے یرقان سے بچاؤ کے طریقے: ٭ کالے یرقان کی Vaccine موجود ہے جو بچوں کو پیدائش کے فورا بعد لگنے والے حفاظتی ٹیکوں میں شامل ہے۔

٭ بچوں کو مکمل حفاظتی ٹیکے لگوائیے۔

٭ علاج کے لیے ہمیشہ نئی سرنج استعمال کریں۔

٭ شیو کے لیے نیا بلیڈ استعمال کریں۔

٭ آپریشن کے لیے نئے اوزار یا وائرس سے پاک کیے گئے اوزار استعمال کریں۔

٭ خون لگواتے وقت صرف ٹیسٹ شدہ خون قبول کریں۔

٭ کالے یرقان سے متاثرہ ماں کا بچہ پیدا ہوتے ہی اسے نوزائیدہ بچوں کے ڈاکٹر کو دکھائیں تاکہ اسے HBVویکسین ہوسکے او رساتھ ہی Hep.B Immunoglobul لگ سکے۔ جو اس مرض سے حفاظت کا ایک موثر ذریعہ ہے۔

٭ خواتین بیوٹی پارلر پر Menicure/ pedicure کے لیے نئے اوزار کا تقاضا کریں ورنہ یہ بناؤ سنگھار کے ادارے کالا یرقان پھیلانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

٭ ناک اور کان چھدوانے کے لیے نئے اوزار کا استعمال یقینی بنائیں۔

٭ متاثرہ شخص کی استعمال شدہ کانوں کی بالیاں نہ پہنیں۔

کالے یرقان کا علاج

کالے یرقان کا علاج گولیوں اور ٹیکوں کی صورت میں موجود ہے۔ علاج صرف مستند ڈاکٹر سے کروانا چاہیے۔ کچھ مریضوں میں یہ بیماری وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوجاتی ہے جب کہ بعض مریض کیریئر بن جاتے ہیں یعنی بیماری ان میں علامات نہیں رکھتی مگر بتائی گئی احتیاطیں نہ کرنے سے دوسروں میں منتقل ہوسکتی ہے۔ بعض مریض شدید بیماری میں مبتلا ہوسکتے ہیں یا پیچیدگی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ایسے میں یہ بیماری جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ مریض کے لیے چند مزید احتیاطیں۔

مریض کو چاہیے کہ سرجری سے پہلے سرجن کو، دانتوں کے علاج کے وقت Dentist کو اور کسی بھی علاج کے وقت معالج کو اپنے مرض کے بارے میں ضرور بتا دے، تاکہ معالج ان کے علاج میں احتیاطی تدابیر اختیار کرسکے۔ ایسے مریض کو خون کا عطیہ دینے سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔ خون کے ٹیسٹ کرواتے ہوئے لیبارٹری ٹیکنیشین کو ضرور بتائیں تاکہ وہ خون کا سیمپل احتیاط سے لے اور سرنج احتیاط سے تلف کردے۔ کالے یرقان کے ساتھ اگر ہیپا ٹائٹس ای ہوجائے تو بیماری کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور وہ جان لیوا بھی ہوسکتی ہے۔

ہیپا ٹائٹس C

ہیپا ٹائٹس سی کا مرض ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے جس کے نتائج تباہ کن ہیں۔ اسے دنیا میں ہونے والی ہلاکتوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس بیماری کو خاموش وبا بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ اس مرض میں مبتلا ۹۵ فیصد لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ بیمار ہیں، اس لیے اس بیماری سے متعلق ٹیسٹ کروانا بہت ضروری ہے۔ عالمی سطح پر ہیپا ٹائٹس سی میں مبتلا تقریبا ۱۵۰ ملین افراد علاج نہیں کرواتے جس کی وجہ سے سالانہ سات لاکھ کے قریب ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ ہیپا ٹائٹس سی وائرس کی تمام اقسام میں سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ یہ وہ واحد قسم ہے جس کی کوئی ویکسین بھی دستیاب نہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ہیپا ٹائٹس کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔

ہیپا ٹائٹس سی بھی وائرس ہی سے پھیلنے والی بیماری ہے جو جگر کی سوزش کا باعث بنتی ہے۔ یہ عمومی طور پر آہستگی سے پھیلتی ہے۔ اس کی علامات ظاہر ہونے میں چودہ دن سے اسّی دن تک لگ سکتے ہیں۔

علامات: بعض اوقات اس کی علامات بہت عرصہ تک ظاہر نہیں ہوتیں۔ کسی اور وجہ سے کروائے گئے ٹیسٹوں میں اس کی تشخیص ہوتی ہے۔ اس کی علامات درج ذیل ہیں:

٭ آنکھوں کا پیلا ہونا ٭تھکاوٹ کا طاری ہونا ٭ جوڑوں میں درد رہنا ٭ بھوک میں کمی ٭ خارش کا ہونا ٭بخار کی کیفیت ٭ متلی یا الٹی ہونا ٭ ہاتھوں، پیروں کا سن ہونا۔

بیماری میں پیچیدگی کی علامت:

٭ دماغی توازن کا بگڑنا ٭ الٹی یا پاخانے میں خون آنا ٭ پیٹ میں پانی کا پڑنا ٭ Cirrhosisliver کا ہونا ٭ کالے رنگ کے پاخانے آنا۔

مرض کیسے پھیلتا ہے

٭ متاثرہ شخص کے خون کے انتقال سے

٭ متاثرہ مریض کے آلات جراحی کے استعمال سے۔

مشترکہ سرنج کے استعمال سے (نشے کے عادی افراد میں) ٭ متاثرہ شخص کے زیر ااستعمال بلیڈ یا استرے کے استعمال سے (شیو کے لیے) ٭ دانتوں کے علاج میں استعمال ہونے والے اوزاروں سے۔

بچاؤ

٭ انجکشن کے لیے ہمیشہ نئی سوئی استعمال کریں۔

٭ حجامت کے لیے نیا استرا، بلیڈ استعمال کریں۔

٭ آلاتِ جراحی کا جراچیم سے پاک ہونا ضروری ہے۔

٭ خواتین ناک کان چھدواتے ہوئے ہمیشہ نئے اوزار کے استعمال پر زور دیں۔

٭ اپنا میڈیکل چیک اپ کرواتے رہیں۔

٭ اولڈ ہومز، یتیم خانوں میں اس مرض کا چیک اب ضرور ہونا چاہیے۔

٭ قیدیوں میں بھی تشخیص معمولی کا کام ہونا چاہیے۔

یاد رکھیں! ہیپا ٹائٹس سی کی کوئی ویکسین نہیں ہے۔ بیماری کی تشخیص کے بعد فوری علاج مریض کی جان بچا سکتا ہے۔ اس کے لیے اپنے معالج سے رابطہ کریں۔ ہیپا ٹائٹس کی بیماری کو بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے اور علاج میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ اس مرض کے علاج کے لیے عطائیوں، غیر مستند اور غیر رجسٹرڈ معالجین سے ہرگز علاج نہیں کروانا چاہیے کیوں کہ اس طرح مرض کے مزید بگڑ جانے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر نوید؍ ڈاکٹر نائلہ اقرا