رسم و رواج کا بوجھ

بعض رسم و رواج اور روایات نہ صرف کسی معاشرے کی شناخت ہوتے ہیں بلکہ اس معاشرے کے لوگوں کا فخر بھی ہوتے ہیں۔ ہمارے یہاں بھی صدیوں سے رائج بعض رسومات ایسی ہیں جو ہماری تہذیب اور ثقافت کا خوب صورت حصہ ہیں، لیکن انہی میں بعض تکلیف دہ اور دل آزار رسمیں بھی شامل ہیں، جن کی کسی صورت حوصلہ افزائی اور قدر نہیں کی جاسکتی۔ اس رسموں کو نبھانے میں عورتیں ہر طرح سے آگے ہوتی ہیں۔ خواہ ان رسوم میں اُن کی آرزوؤں کا رنگ چھلکے یا ارمانوں کی موت نظر آئے اور پھر وہ ’’عزت کا سوال‘‘ بنا کر مردوں کو بھی اس کے حصارمیں لے لیتی ہیں۔ یہ وہ رسوم ہیں جنہیں اکثر خواتین اپنی خوشی سے اپناتی ہیں تو کبھی جبراً بھی ان پر مسلط کی جاتی ہیں اور ان کے نام پر خواتین ہی کا استحصال ہوتا ہے۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی صدیوں پرانی فضول رسوم بوجھ بنی ہوئی ہے۔

بلاشبہ عورت صدیوں کا طویل او رصبر آزما سفر میں اپنے نازک کاندھوں پر زمانوں کا بوجھ اٹھائے چلی آرہی ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ بوجھ اٹھانے والی یہی عورت زمانے کی نظروں میں بھی بوجھ بنی ہوئی ہے۔ طعنے سہتی ہے، لوگوں کی تضحیک، تحقیر اور تذلیل بھری نظروں کا ہدف بنتی ہے اور اپنی ذمے داری خوش اسلوبی اور دیانت داری سے نباہنے کے باوجود بوجھ کہلاتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اسے ان ’’اعزازات‘‘ سے نوازنے والا کوئی مرد نہیں بلکہ عورت ہی ہے۔ ایک عورت ہی کسی کی بیٹی کو اس کے والدین کے لیے بوجھبنا دیتی ہے۔ یہ عورت نام نہاد رسوم کے نام پر جو کرتی ہے وہ افسوناک ہے۔ بیٹی کے فرض سے سبک دوش ہونے کے لیے والدین کو رسومات کے سبب زہر پینا پڑتا ہے وہ بسا اوقات انہیں زندہ درگور کر دیتا ہے۔ معاملات صرف بیٹی کو جہیز دینے تک محدود نہیں بلکہ یہ سلسلہ بیٹی کی شادی کے بعد اس کے سسرال والوں کو پہناؤنی، نیوتا دینے اور شادی کے بعد بھی مکتلف رسوم کے نام پر کسی نہ کسی طرح جاری رہتا ہے۔

جہیز والدین اپنی حیثیت کے مطابق دیں تو مسئلہ نہیں، لیکن جہاں ’’زمانہ کیاکہے گا‘‘ اور ’’سسرال والوں کی طلب‘‘ پر جب والدین اپنی بیٹی کا سر بلند رکھنے کی خاطر اپنا سر جھکالیں تو یہ ایک سماجی حادثہ ہے۔ وہ کبھی اپنی اور کبھی اس کے سسرال والوں کی ’’رضا اور خوشی‘‘ کے ل یے بھی دیتے ہیں اور اتنا آگے بڑھ جاتے ہیں کہ اس کا نقصان اٹھاتے ہیں اور جو اس رسم سے ’’بغاوت‘‘ کرتے ہیں عموماً ان کی بیٹیاں والدین کی اس ’’سرکشی‘‘ کا تاوان عمر بھر ادا کرتی رہتی ہیں۔ والدین کی اس ’’غفلت‘‘ کی سزا بیٹی کو لعن طعن کی صورت جھیلنی پڑتی ہے۔

کچھلوگ اسے وقتی قصہ سمھ کر بھلا دیتے ہیں اور بعض گھرانے بیٹی کے والدین کے اس ’’گناہِ عظیم‘‘ کو دائمی روک بنا لیتے ہیں، برسوں بیت جانے کے بعد بھی انہیں اپنی ’’توہین‘‘ نہیں بھولتی کہ ان رسموں کو وہ اپنا حق اور بیٹی کے والدین کا فرض سمجھتے ہیں۔ سو اُن کی انا کا ناگ ہر دم پھن پھیلائے رہتا ہے جس کا زہر قطرہ قطرہ اس ’’مجرم‘‘ کے اندر اترتا رہتا ہے۔ بات یہیں تمام نہیں ہوتی جب عورت اپنی تکمیل کی نوید سنتی ہے تو جہاں اس کے والدین کو نانا نانی بننے کی خوشیہوتی ہے وہیں یہ فکر بھی دامن گیر ہوتی ہے کہ ’’اب‘‘ کوئی کمی نہ رہ جائے۔ بیٹی اور داماد کو اس پرمسرت موقع پر جودیں گے، سو دیں گے، بیٹی کے سسرالیوں کو بھی ملبوسات اور نقدی کی صورت میں کچھ نہ کچھ دینا ہی ہوگا اور وہ ’’کچھ نہ کچھ‘‘ بیٹی کے والدین کی حیثیت کے مطابق نہیں بلکہ سسرال والوں کے مرتبے اور معیار کے مطابق ہونا چاہیے۔

اولاد کی کفالت کا ذمے دار باپ ہوتا ہے، مگر اکثر گھرانوں میں بچے کی ولادت کے تمام اخراجات ننھیال اٹھاتا ہے۔ یہ نہیں پوچھا جاتا کہ وہ اس کی استطاعت رکھتے ہیں یا نہیں کہ یہ ایک رسم ہے جسے بہرحال نباہنا ہے۔ وہ والدین جو ابھی شادی کے حوالے سے مقروض ہیں، مزید قرض کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں، لیکن بیٹی کا سر نہیں جھکنے دیتے۔ بیٹی جو واقف حال ہوتی ہے کیا ان حالات میں اپنے گھر میں سکھی رہ سکتی ہے؟ والدین کی بے بسی محسوس کرنے کے باوجود وہ چپ کا زہر پیتی ہے اور بظاہر خوش رہتی ہے کہ مصلحت کا تقاضا یہی ہے۔ یوں چکی کے دو پاٹوں کے بیچ اس کی روح کچلی جاتی ہے۔ یہ اذیت ناک احساس ہی اسے مار دیتا ہے کہ شادی کے عد بھی وہ اپنے والدین پر بوجھ ہے۔ ان رسومات اور فرمائشوں کی تکمیل نہ ہو تو ایسا بھی ہوتا ہیکہ ’’اپنے پھوہڑ پن، بے پروائی سے چولھا پھٹ جانے کے باعث بہو جل کر ہلاک ہوگئی اور والدین سوچتے ہی رہ جاتے ہیں کہ جس بیٹی کی سلیقہ شعاری اور ذمے داری کی د ھاک بیٹھی ہوئی تھی وہ یکایک اتنی بے سلیقہ اور غیر ذمے دار کیسے ہوگئی؟ لیکن اس سوال کا جواب انہیں نہیں ملتا۔ ہمارے معاشرے کی یہ غیر ضروری اور قبیح رسومات پیسے اور وقت کا ہینہیں بلکہ انسانیجانوں کے زیاں کا سبب بن جاتی ہیں اور بیٹیاں سوچتی رہ جاتی ہیں۔

رسومات کو پروان چڑھانے والی بھی عورت ہے اور ان رسومات کے خنجر کی ضرب سے گھائل ہونے والی بھی عورت ہی ہے۔ ان بے رحم رسومات کے خلاف بغاوت کرنے والی بھی عورت ہی ہے۔ ایک عورت کے کتنے چہرے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ تکلیف دہ اور کریہہ روپ رسم و رواج کے نام پر اپنی ہی صنف کو نشانہ اور تماشا بنانے والی کا ہے۔

ہمارے معاشرے کے بعض رسم و رواج ایسے بھی ہیں، جنہیں اگر سادگی اور وقار کو ملحوظ رکھتے ہوئے اختیار کیا جائے تو زندگی میں حسن اور گہما گہمی کا احساس ہوتا ہے، لیکن اس کے برعکس اگر یہی نمود و نمازئش اور مقابلے کی دوڑ میں آگے بڑھ جانے کا ذریعہ بن جائیں تو معاشرے کے لیے عذاب اور عورت کے لیے وبال بن جاتی ہیں۔ ہمارے سماج میں ان رسومات کو اپنانے کے لیے ایک نہیں کئی ایک توجیہات اور تگوضیحات موجود ہیں۔ مثلاً پہناؤنی کوئی رسم کہاں ہے، تحفہ ہے جو بیٹی کے والدین اپنی کوشی سے دیتے ہیں۔ یہ تو محبت اور خوشی کا سودا ہے۔ تحائف کا لین دین تو محبت بڑھاتا ہے۔ مانا یہ تحفہ سہی لیکن محبت کے اظہار کے اور طریقے بھی توہیں، اپنے رویے سے اپنائیت کا احساس دلاکر بھی تو محبت کا اظہار کیا جاسکتا ہے۔ اگر تعلق کے استحکام کے لیے ایسی محبت اتنی ہی ناگزیر ہے تب بھی محبت کا یہ اظہا رمحض بیٹی کے والدین کی طرف ہی سے کیوں؟ کیا بیٹے کے والدین کو محبت کے اس اظہا رکیضرورت نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کی یہ خوشی تو اس بیٹی کے والدین کی وجہ سے وہ چند ہوتی ہے جو اپنے گھر کا آنگن سونا کر کے ان کے بیٹے کا گھر آباد کرتے ہیں۔ پھر پوتا پوتی کی آمد سے بیٹے کے والدین اپنے گھر میں رونق دیکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے تو خوشی اور محبت کے اظہار کا زیادہ حق بھی بیٹے کے والدین کا بنتا ہے نہ کہ بیٹی کے والدین کا جو اسے ان کے حوالے کردیتے ہیں۔ کیا یہ بیٹی کے والدین کے ساتھ ناانصافی نہیں کہ وہ اپنی متاع عزیز بھی دے دیں اور اس کے بعد ’’نذرانے‘‘ بھی پیش کرتے رہیں جب کہ ان رسومات کی شرعی حیثیت بھی نہیں۔ ہماری اکثر خواتین گھریلو بجٹ متوازن رکھنے کے لیے ان رسومات سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہیں مگر بے بس اور مجبور ہیں۔

معاشرے خصوصا تعلیم یافتہ اور سمجھ دار گھرانوں کو چاہیے کہ وہ ان رسومات کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور اس حوالے سے سب اپنی ذمے داری کا احساس کریں۔ یہ وہ رسومات ہیں جو بیٹی کے والدین اور اس کے سرپرستوں کو گھن کی طرح کھا رہی ہیں۔

ہماری دورنگی بھی خوب ہے، جب بیٹی والے ہوتے ہیں تو رسم و رواج کا شکوہ کرتے نہیںتھکتے اور جب بیٹے والے ہوتے ہیں تو ہوس او رلالچ میں ایسے اندھے ہوجاتے ہیں کہ اپنی ہی پریشانیوں کے تجربے کے باوجود دوسرے کی پریشانی سمجھنے کے روادار نہیں ہوتے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم خود کو واقعی اس مکڑ جال سے نکالنے کے خواہش مند ہیں؟

شیئر کیجیے
Default image
شائستہ زریں