3

بیٹی کی اچھی تربیت

عورت جسمانی لحاظ ہی سے نہیں بلکہ اپنی طبیعت، مزاج، عادات، رویوں، جذبات کے اظہار میں بھی مرد سے بہت مختلف ہے، لیکن یہ تفاوت اور اختلاف عورت کے کم تر، کمزور یا کم عقل اور کسی بھی طرح اس کے پست ہونے میں شمار نہیں ہوتا بلکہ بحیثیت انسان عورت اور مرد خوبیوں اور صلاحیتوں کے مالک اور یکساں بنیادی حقوق رکھتے ہیں، مگر ان کے فرائض اور ذمے داریاں مختلف ہیں۔

اسے یوں سمجھئے کہ جس طرح مرد ایک الگ انداز سے کسی میدان اپنی ذمے داریاں انجام دیتا اور اپنی کاکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے، اسی طرح عورت کے وظائف الگ ہیں۔ وہ بچہ جننے سے لے کر اس کی مکمل نگہداشت جیسی فطری ذمے داری کے ساتھ امورِ خانہ داری میں نہایت ذمے دار فرد کی حیثیت سے متحرک نظر آتی ہے۔سماجی معاہدے کے تحت جب مرد عورت جب شادی کے بندھن میں بندھتے ہیں تو ان میں سے کوئی بھی کسی بھی طرح دوسرے سے برتر اور اس کا مالک و مختار نہیں بن جاتا بلکہ وہ ایک دوسرے کے دست و بازو، ہم درد و غم گسار اور رفیق کہلاتے ہیں۔

بیٹا ہو یا بیٹی زندگی کے نئے سفر کے آغاز پر ان کی راہ نمائی کریں اور اس بندھن کی خوب صورتی اور گھر بنائے اور بسائے رکھنے کے حوالے سے اہم باتیں ضرور بتائیں۔ یہ والدین کا فرض بھی ہے اور ایک طرح سے ان کی سماجی ذمے داری بھی۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ ہمارے سماج میںجب لڑکی اپنے گھر سے رخصت ہوتی ہے اور نئے رشتے ناتوں کے ساتھ نیا ماحول اور ایک مرد جو شوہر کی حیثیت سے اس کی زندگی میں داخل ہوتا ہے تو اس تبدیلی کو قبول کرنے میں مشکل تو بہرحال پیش آتی ہے۔ یہ تبدیلیاں اور رشتے ناتے کسی لڑکی کے دل و دماغ اورمزاج کا حصہ بننے کے بجائے، اس کے مزاج اور بعض عادات سے متصادم ہونے لگیں تو ماحول تلخ ہونے لگتا ہے اور جب یہ تصادم بدترین حالت اختیار کرلیتا ہے تو سب کچھ برباد ہوسکتا ہے۔ یوں کم فہمی اور ضد میں ایک دوسرے کے جذبات کو روندنے کی مشق جاری رکھنے اور ایک دوسرے کو شکست دینے یا نیچا دکھانے کو زندگی کا مشن بنا لیا جائے تو یہ عائلی زندگی کی تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔

آپ اپنی عائلی زندگی میں الگ تھلگ نہیںرہ سکتے بلکہ دونوں لائف پارٹنروں کو مل کر یہ سفر طے کرنا پڑتا ہے، کیوں کہ اس رشتے میں اپنی خواہشات کی ایک الگ کشتی میں سوار ہوکر آگے بڑھنا اور منزل تک پہنچنے کی آرزو دیوانے کے خواب کے سوا کچھ نہیں!

مزاج کا تضاد غلط نہیں، بس ایک دوسرے کے مزاج کا احترام واجب ہے ورنہ وہ اپنے رشتے میں اپنا وقار کھو بیٹھیں گے۔

ضروری نہیں کہ جیسا ماحول یا لب و لہجہ والد اور آپ کے بھائیوں کا رہا ہو ویسا ہی خاوند کا بھی ہو، سو ہر وقت کا تقابلی جائزہ فضول اور زندگی اجیرن کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ عورت ہر وقت اپنے مزاج کے گھوڑے پر سوار مرد کی انا کا مقابلہ نہیں کرسکتی کیوں کہ فطری طور پر انا، مردانگی اور رعب جہاں مرد کے مزاج کا خاصہ ہیں وہیں عورت کے اندر نزاکت، حیا اور معصومیت مرد کو نہ صرف مائل کرتی ہے بلکہ انہی سے وہ اپنا آپ منواتی بھی ہے۔

مرد کے مقابلے میں عورت کی فطری نزاکت کا مطلب یہی ہے کہ وہ مرد سے مرد بن کر پیش نہ آئے، کیوں کہ ایک نیام میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں۔ عائلی زندگی میں اپنے رشتے کو بچانے کے لیے سمجھوتا دونوں میں سے کسی ایک کو نہیں بلکہ دونوں کو کرنا پڑتا ہے، تبھی یہ کشتی کنارے لگتی ہے۔ دونوں فریق اگر ضد میں آجائیں تو پھر ضد کا مقابلہ ضد سے نہیں ہوسکتا اور اس صورت میں تو بالکل بھی نہیں ہوسکتا جب آپ صاحب اولاد ہوں لہٰذا والدین کو بھی بیٹے اور بیٹی کی تربیت میں اس اصول کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔

بیٹی کی تربیت میں معاملہ فہمی کی خصوصی ’ڈگری‘ کو بھی شامل کرنا چاہیے تاکہ شوہر کی ذرا ذرا سی ناپسندیدہ بات پر غصے سے آگ بگولی ہو کر اور لڑ جھگڑ کرمیکے نہ چلی آئے بلکہ اپنے نجی معاملات کو خود سلجھانے کی کوشش کرے۔ ایسے ہی ہر وقت بیٹی کے معاملات میں ’چوہدری‘‘ بن جانے سے آپ اپنی اولاد کو ہر قسم کے نتیجے سے بے خوف اور آزاد کردیتے ہیں، جہاں صلح صفائی سے بات بن سکتی ہے وہاں اپنے میکے کی مضبوط سپورٹ کی وجہ سے وہ اپنے شوہر اور سسرال والوں کو دباؤ میںرکھنے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے لڑکی بھول جاتی ہے کہ ہر وقت مرد کو چیلنج دینا یا شوہر کی نرم مزاجی اور کسی بھی جھگڑے، ناراضی کے بعد منانے میں پہل پر یہ سمجھنا کہ وہ اس کے دباؤ میں ہے اور اس طرح وہ اپنی ہر بات منوا سکتی ہے، انتہائی غلط ہے۔ کیوںکہ معمولی باتوں پر بار بار زچ ہوتا مرد اگر ضد پر آجائے تو نقصانصرف ان دونوں کا بہی نہیں ہوتا بلکہ اولاد بھی اس کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔

باہمی کشمکش اور تنازعات کی بڑھتی وجہ صبر و قناعت کا فقدان، دوسروں کی کوش حالی اور حیثیت سے اپنا موازنہ کرنا بھی ہے۔ قدرت نے تمام انسانوں کو جسمانی ساخت، خوب صورتی، بدصورتی، طاقت، کم زوری، صلاحیتوں، قابلیتوں میں یکساں پیدا نہیں کیا، ان میںفرق اور امتیاز کی وجہ سے انسانی تمدن کی عمارت قائم ہے اور یہی وجہ انسان میں اپنے حالات بہتر بنانے کا محرک بنتی ہے۔ اگر یہ فطری امتیاز اور فرق ختم ہوجائے تو تمدن کا ارتقا تھم جائے گا۔

معمولی او رمرضی کے خلاف ہونے والی عام باتوں پر بھی عدم برداشت کا مظاہرہ، ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوجانا، ایک دوسرے کی عیب جوئی اور خامیوں، کم زوریوں پر درگزر کرنے کے بجائے انگشت نمائی کرنا عائلی زندگی میں زہر گھول دیتا ہے جو آہستہ آہستہ اس رشتے میں دراڑیں ڈال کر اسے اندرونی طور پر کمزور بنا دیتا ہے اور پھر وہ موڑ آتا ہے جب وہ افراد کسی بے رحم موقع کا شکار بن کر ایک دوسرے کو ہمیشہ کے لیے خدا حافظ کہہ دیتے ہیں۔

مخالف جنس ہونے کی وجہ سے جہاں دونوں کی صفات و خصوصیات میں تفاوت اور تنوع ہونا فطری امر ہے تو وہیں پر وظائف حیات اور ذمے داریوں میں بھی رنگا رنگی لازمی ہے، اسی لیے شادی شدہ زندگی میں صبر و استقامت، استقلال، فروتنی و ضبط نفس اور سب سے بڑھ کر ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے بیٹی کی تربیت کو اہمیت دینا چاہیے کہ اسے ایک نئے گھر جانا ہوتا ہے جہاں کا ماحول بہت مختلف ہوسکتا ہے۔ اگر آپ لڑکی کی تربیت لڑکے کی طرح کر رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس سے اس کی پہچان چھین رہے ہیں۔ بے جا نازبرداری اور مختلف مواقع پر لڑکی کے ہر ردعمل کو نہ صرف قبول کرنا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کرنا مزاج میں ضد اور کود سری پیدا کرسکتا ہے۔ اس طرح لڑکی کسی بھی موقع پر اپنی رائے اور ردعمل دینے کو اپنا حق سمجھتے ہوئے دوسروں سے اسے قبول کرنے پر بھی اصرار کرے گی۔ اس کے اظہار رائے کو اہمیت ضرور دیں اور اس کی مرضی و پسند کے حق کو تسلیم کریں مگر حتمی اور فیصلہ کن رویہ اور ہٹ دھرمی کی حد تک اس کی کود مختاری میں تمیز کیجیے اور اسے روکیے، کیوں کہ بیٹی کے بعد اسے بیوی اور پھر ایک بہترین ماں کا بھی رول ادا کرنا ہے اور اسماج میں اس کے یہی روپ قابل قبول اور پائیدار تعلق کے لیے ضروری ہیں۔ اسے یہ سمجھانا ہوگا کہ عورت ہونے کا مطلب معمولی یا کم تر ہونا نہیں بلکہ اس روپ میں وہ اپنے وظائف اور ذمے داریاں نمٹانے کے ساتھ حدود اور دائرہ کار میں رہتے ہوئے کسی بھی خاندان کے لیے اہم اور اپنے گھر میں بااثر بھی ہوتی ہے۔عورت ذات یا لڑکی کو لڑکی جیسی ہی تربیت دیں اور جب بیٹی کو رخصت کریں تو اس بات کا اطمینان ہونا چاہیے کہ نئے گھر میں جانے کے بعد وہ معاملات کو بہتر انداز سے سمجھے گی اور انجام دے گی۔ اسے اپنے گھر (سسرال) کی تمام ذمے داریوں کو مکمل طور پر اور خوشی سے نبھانے کی تلقین کریں اور کسی بھی موقع پر ضرورت سے زیادہ اس کی حمایت، یا سسرال کے معاملات میں بے جا مداخلت نہ کریں۔ جن بچیوں کے مزاج کی تیزی، ترشی آپ نے اپنے گھر میںنظر انداز کر دی ہے ضروری نہیں کہ سسرال والے بھی اسے نظر انداز کردیں۔

یاد رکھیے کہ بدمزاج مرد ہو یا عورت دونوں ہی ایک دوسرے کے دل سے اتر جاتے ہیں۔ مرد کو تو ہمارا یہ سماج پھر بھی قبول کرلیتا ہے، لیکن بدمزاج لڑکی کو نہ تو سسرال زیادہ عرصہ قبول کرتی ہے اور نہ ہی سامان باندھ کر میکے آجانے کے بعد اس کی پہلے جیسی اہمیت اور حیثیت رہتی ہے۔ بھائیوں کی شادیاں ہو جائیں یا والدین کا سایہ سر پر نہ ہو تو یہی میکہ پرایا ہو جاتا ہے اور جب تک یہ بات سمجھ آتی ہے، اس وقت تک دیر ہوچکی ہوتی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سائرہ فاروق

تبصرہ کیجیے