یاد داشت

یاد رکھنے کا سفر

عام طور پر لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ قوتِ حافظہ یا یاد کرنے کی صلاحیت صرف خاص لوگوں کے پاس ہی ہوتی ہے اور صرف چنندہ افراد کو ہی یہ ملکہ حاصل ہوتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان معجزاتی، کراماتی اور حیرت انگیز چیزوں کو پلک جھپکنے میں کیسے یاد کرلے۔ ہزاروں الفاظ، ہزاروں اعداد و شمار، ہزاروں رنگوں کی ترتیب، پیچیدہ راستوں کی پہچان، مشکل الفاظ کے معنی، نئی زبانوں کا سیکھنا، املا کی غلطیوں کا حل، حساب کے فارمولے، پورے کرہ ارض کے ممالک اور ان کے شہر، کرنسی۔ عرض البلد اور طول البلد پر وقت کے بڑھتے اور گھٹتے اصول۔ ہزاروں پاس وارڈز یہاں تک کہ حفظ قرآن بھی۔
حفظ ِمتن ایک فن ہے۔ یہ صرف معلومات پر منحصر علم نہیں بلکہ ہنر ہے۔ ہنر کو پل بھر میں سیکھا نہیں جاسکتا۔ اس کو چند ہفتوں کی مشق درکار ہوتی ہے۔ پھر یہ اپنا کمال دکھاتا ہے۔ ہر سائیکل چلانے والا اور تیراکی کا فن جاننے والا یہ بھی خوب جانتا ہے کہ وہ دوسرے شخص کو حتمی طور پر یہ نہیں بتا سکتا کہ تم صرف یوں سائیکل پر سوار ہوجائو تو توازن آجائے گا۔ تیراک بھی ٹھیک وہ راز نہیں دے سکتا کہ بدن پانی میں یوں چھوڑو یا یوں سنبھالو تو تیراکی کا ہنر آجائے گا بلکہ صرف کوشش پر لگا کر چھوڑ دیا جاتا ہے پھر یکایک سائیکل کا توازن اور تیراکی میں بدن پر قابو پانے کا ہنر آجاتا ہے۔ حافظے کا یہ ہنر بھی تھوڑی سی مشق مانگتا ہے۔ پھر آپ جادو گر بن جاتے ہیں۔
ہم نے لیپ ٹاپ، پام ٹاپ کو سمجھا اور برتا ہے اب Neck Topکو سمجھنا ہوگا۔ جو دماغ ہم اپنے گردن پر ڈھوئے ڈھوئے پھرتے ہیں‘ اس کے راز ٹٹولنے ہوں گے۔ اس لیے حافظے کے ہنرکے بارے میں کسی سرسری رائے سے گمراہ ہونے کے بجائے اس کو مکمل طور پر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
قوتِ حافظہ کا سفر حکمت سے برکت تک کا سفر ہے۔ کہیں بھی ذہانت کی سبیل و لنگر نہیں ملتی۔ ہمیں اپنی کوشش، وسائل اور تعلیم یافتہ افراد کے ایثار سے یہ مہم سر کرنی ہوگی۔
اگر کوئی یہ پوچھے کہ یادداشت کسے کہتے ہیں؟ تو جواب یہ ہے کہ قوت ِ حافظہ انسانیت کی مشترکہ میراث ہے۔ یہ فرد کی تنہا جاگیر نہیں۔ ہاں ہر فرد کے سپرد یہ ایک امانت ہے۔ یہ کامن ویلتھ ہے جو رب نے سب کو دی ہے۔حافظہ کی طاقت آپ کی چاکری کرنے کے واسطے رب نے عطا کی ہے۔ یہ ’’طاقت‘‘ کے بجائے ’’عذاب‘‘ اُس وقت بنتی ہے جب ہم بے کار جذبات و احساسات سے بھری یادوں کی دنیا میں جینے لگتے ہیں۔ کیوں کہ ’’جذبات‘‘ صرف عقل کے سفیر ہوتے ہیں۔ سفیروں کی باتیں سنی جاتی ہیں‘ اس کو نہ تو قتل کیا جاتا ہے اور نہ ہی سفیر کو حاکم مان کر اس کی غلامی کی جاتی ہے۔ بے نتیجہ جذبات کو ہم اگر اپنے حافظے میں جگہ نہ دیں تو عقل بہتر فیصلے کرسکتی ہے۔ عقل، حافظہ اور یادداشت کو صرف جذبات کے تڑکے سے ذائقے دار بنا کر اس کو ذہن کے برف دان میں رکھیں اور جب چاہیں استعمال کریں۔
اگر ذہن میں یہ سوال ابھرے کہ یاد کی روشن سطح پر کیا رہتا اور کیوں رہتا ہے۔ اس کا جواب ہوگا کہ ہم دن نہیں، لمحے یاد رکھتے ہیں۔ حافظے میں صدیاں نہیں، پل پناہ لیتے ہیں۔ ہم یادوں کی زنجیر نہیں‘ کڑی پکڑتے ہیں زنجیر خود بہ خود کھنچی چلی آتی ہے۔ اگر یہ سوال ابھرے کہ کیا ہر آدمی کے پاس حافظہ ہوتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حافظہ یا تو تربیت یافتہ ہوتا ہے یا غیر تربیت یافتہ ہوتا ہے۔ کمزور سے کمزور ذہن شعوری کوشش سے تربیت لے کر کمال حاصل کرسکتا ہے ورنہ ہم تو کان میں پنسل اڑس کر سارے جنگل کے درختوں کی لکڑیوں کو ٹٹولتے رہتے ہیں لیکن اپنے کان میں پھنسا قلم نظر نہیں آتا۔
حافظہ اور دماغ کی ساخت کے بارے میں ایک سائنسی حقیقت ہے کہ اللہ نے ہر انسان کو اتنا حافظہ دیا ہے کہ وہ 300 سال تک 24 گھنٹے چلائی جانے والی فلم کے برابر ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ ہم اس دولت یا خزانے سے واقف نہیں۔ اسی لیے جگہ جگہ قرآن میں یاد، ذکر، حافظہ اور اس سے جڑی ذمے داریوں کا ذکر آتا ہے۔
ذہانت اور قوت حافظہ
ہم تعلیمی اداروں میں اللہ کے بنائے ہوئے نظام سے ٹکر اٹکرا کر بچوں کو توتوں کی طرح یاد کراتے ہیں۔ یاد کرانے کے جو بھی موجودہ طریقے ہیں اس میں یاد کرنے والے کی جان نکل جاتی ہے۔ بچے یاد بھی کرلیں تو یہ ایسا ہے جیسے ہم نے بچہ مزدوری سے ایک محل تعمیر کیا۔کیوں کہ ہم سیاہ قلم سے سفید کاغذ کی لکھائی یاد کرتے ہیں جب کہ ذہن رنگوں کو یاد رکھتا ہے۔ہم تعلیم گاہوں میں اعداد و شمار کو خانوں میں پھیلا کر یاد کرتے ہیں، جب کہ ذہن کی ساخت اس کی مدد نہیں کرسکتی۔ قطار میں لکھے ترتیب سے جڑے، سطروں پر پھیلے ہوئے متن کورٹتے ہیں۔ اس رٹا پریڈ میں نسلوں کو ہم نے جھونک دیا۔ جب کہ حافظہ کی اپنی زبان ہے ، وہ زبان تصورات، پیکر، احساسات، رنگوں، ترتیب، خاکہ، جذبات اورزائچوں کی صورت ہے۔ اسی لیے یاد کرنے والے، جو رٹ کر یاد کرتے ہیں، بھول بھول جاتے ہیں۔
حافظہ کہانی کے فن کو قبول کرتا ہے۔ جو کہانی میں ڈھل جائے وہ بھی یاد کی روشن سطح پر رہتی ہے۔اس فن کے برتنے سے زندگی کے کئی پہلو چمک اٹھتے ہیں۔ یادشت ایک طاقتور دوست بن کر ساتھ ہوجاتی ہے۔ ہر چیز یاد کی روشن سطح پر رہتی ہے۔۔ جو حاضر علم ہے اسی سے شخصیت بنتی ہے جو بڑی یقینی تلاش کا حاصل ہے۔
Dr. Roger Sperry کو نوبل انعام دماغ کی توانائی دریافت کرنے پر ملا تھا۔ جس میں اس نے یہ ثابت کیا کہ جو لوگ اپنے دونوں ہاتھوں سے بھرپور کام کرتے ہیں ان کے دماغ کے دونوں حصہ معجزاتی طور پر کام کرتے ہیں۔ دنیا کی بہت سی اہم ترین اوربڑی شخصیات دونوں ہاتھوں سے کام کرنے میں یکساں مہارت کی حامل تھیں۔ ان کی ایک بڑی فہرست ہے۔کیوں کہ دماغ کے ایک حصہ میں تصورات اور دوسرے میں منطق کی دنیا آباد رہتی ہے۔ ڈاکٹر Roger Sperry کے بتائے ہوئے اصولوں پرکئی اداروں اور افراد نے دونوں ہاتھوں کی کئی مشقیں تیار کی ہیں۔ جن میں اپنے غیر فعال ہاتھ سے ڈرائینگ کرنا، روزانہ نا استعمال ہونے والے ہاتھ سے ایک صفحہ لکھنا، ہاتھوں کی الگ ترتیب سے کسرت کرنا وغیرہ۔
حافظہ کی بنیاد ’’تخلیقی تخیل‘‘ ہے کیوں کہ تخیل درخت اور تفصیلی علم اس کی چھاؤں ہے۔آئن اسٹائن نے بھی کہا تھا کہ ’’یہ دنیا تخیل کے حصار میں ہے۔‘‘ جیسے کہ کبھی کسی نے سوچا تھا کہ انسان پرندوں سی پرواز کیوں نہیں کرسکتا۔ یہ تخیل ہی تھاجسے تجربات نے سچ کردکھا یا۔ کبھی نبی ٔ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا کہ اسلام ایک عالم میں پھیل جائے گا۔ یہ بات تب کہی تھی جب مکی دور کے آزار سے صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم گزر رہے تھے۔ لیکن حسنِ تخیل کا یہ جلوہ دنیا نے اپنی آباد دنیا میں دیکھ لیا۔
مادّی اشیا کا بدن ہوتا ہے۔ لیکن تجرید و جذبات کو ہمیں پیکر عطا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح اعداد کو بھی زبان دینی پڑتی ہے، آوازوں میں بدلنا پڑتا ہے۔ جیسے کہ موسیقی کے سرگم ہوتے ہیں۔ اس کو Major system or Digit calling system کہتے ہیں۔ اگر اشاروں میں کہوں تو یادکرنے کے لیے پانچوں حواس کو برتنا ہوگا۔ حواس کے خزانوں میں محفوظ کرنا، حواس کی مہر لگانا، مبالغہ کو کام میں لانا، کڑی سے کڑی کو جوڑنا، انتشار کو ہنرمندی سے ایکائی میں بدلنا، رنگوں کو متن میں ڈالنا، متن کو تصور سے متحرک بنانا، متن کو مقناطیس کی طرح قانون کشش سے جوڑنا، ایک خوش کن قہقہہ اس میں شامل کرنا (تاکہ ذہنی تنا ؤ سے بھولنے اور بھلانے والے ہارمون پر قابو پایا جاسکے)، کہانی کے فن کو علم کی اکائیوں سے کرداروں میں ڈھالنا، کیوں کہ ذہن داستان گو راوی ہے اوررنگ بھرے فسانے یاد رکھاتا ہے اور مثبت سوچ کو شریک مطالعہ کرنا۔ اس سے صدیوں کا کلینڈر بھی دن تاریخ کے ساتھ تھوڑی سی کوشش سے یاد ہوجاتی ہے۔ اس سلسلے میں جس کا تصورات کا ملکہ اچھا ہوتا ہے، اس کی مثال ایسی ہے کہ وہ اپنے حافظے سے حسن تصور سے ایسا مجسمہ بنادیں کہ پتھر سے دل دھڑکتا ہوا لگے اورمنظر سے جانور جست لگاکر کود پڑے۔
اس تفصیل کے علی الرغم یہ ایک عملی ہنر ہے اس کو اس وضاحت کے باوجود پوری طرح سمجھا نہیں جاسکتا اس لیے میموری ماسٹرز اس کی تربیت دیتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں کسی بھی سبجکٹ کو کم سے کم وقت میں بغیر کسی زحمت و مشقت کے یا د کیا جاسکتا ہے۔
یاداشت تو چھلنی ہے۔چھلنی کو گرم، گاڑے، پتلے خیالات کے برتن الگ ہوتے ہیں۔قوتِ حافظہ بڑھانے کے جو بنیادی طریقے عام ہیں اس میں سے چند یہ ہیں:
Mind palace method, acronym, acrostic, number phrase, sentence method, Alphabets markers, Mnemonic of meaning and spelling, speed reading, mind map, pao system.
جو لوگ اپنے تعلیمی معیار کو آسان طریقہ سے 300 فیصد تک اپنے حافظہ کو بہتر بنانا چاہتے ہیں وہ اس ہنر کو سیکھ کر اچھے نمبرحاصل کرسکتے ہیں۔اس ہنر کی برکات یہ ہیں کہ کو اگر کوئی بچہ، نوجوان یا بوڑھا اسے سیکھ جائے تو اس کا حافظہ حیرت انگیز طور پر بہترین ہوجاتا ہے، اس سے زندگی آسان ہوجاتی ہے چاہے وہ مسابقتی امتحانات ہوں، ڈاکٹری، سول سروسز یا کسی بھی طرح کی مہمات اورمقابلوں کو مکمل یقین کے ساتھ جیتا جا سکتا ہے۔ اس سے کم از کم فائدہ یہ ہوگا کہ 300 فیصد آپ کا حافظہ ترقی کرجائے گا، یادداشت توانا ہوجائے گی، جس کو یہ ہنر آجائے اس کو اپنی کسی بھی محرومی کا غم نہیں ہوگا۔ وہ اپنے بزرگوں، ملک و قوم سے شکایت بھی نہیں کرسکے گا کہ اس کو اچھا کالج، اچھے مواقع اور اچھے استاد نہیں ملے، بلکہ وہ اللہ کا شکر ادا کرے گا کہ امکانات کی دنیا میں داخل ہو نے کا راستہ بتا دیا جہاں ہر قدم پر خزانوں کے باب کھلتے ہیں۔
یہ دریا کو کوزے میں سمیٹنے والا ہنر ہے۔ حکومت ہند آنے والے تعلیم سال سے ممکن ہو اس کورس کو نصاب میں شامل کردے جس پر سنجیدگی سے غور ہورہا ہے۔ یہ ہنر جیسے دماغ کو اس کی تمام توانائیاں سمجھنے اور اس سے کام لینے کا عملی خاکہ ہے۔یاداشت کا تعلق جگہ سے رہتا ہے جس کو Spatial memory بھی کہتے ہیں۔ ہم نے اس کو کبھی بھی نہیں برتا۔ جیسے گیاسوں کے نام (ہیلیم گیاس کو غبار میں بھری جانے والی مثال سے یاد کرنا) حساب کے فارمولوں کو ہم نے کبھی بھی کسی جگہ سے نہیں جوڑا۔ یہ جوڑنا سکھاتا ہے۔ یہ فن حیرت انگیز طور پر ہر یاد کو جسم دے دیتا ہے۔
قوتِ حافظہ کا فن ایک بہت آسان لیکن اہم تجربہ ہے۔ بڑا تجربہ، بڑی زندگی دیتا ہے۔نئے جہانوں کی بنیاد ڈالتا ہے۔ ہمیں ہمت شکن لاچاری سے آگے بڑھ کر ، پست تعلیمی اور تھکادینے والے منصوبوں سے نکل کر اس علم کی پناہوں میں جانا چاہیے تاکہ نئی نسل کو حصول علم فرحت بخش لگے۔ حیر ت ہے کہ یہ معروف ہنر ابھی تک قومی اور ملکی سطح پر فکر مند افرا د تک تعارف کی سطح تک بھی نہیں پہنچا جب کے اس میدان میں دیگر قوموں،ملکوں کے افراد نے حیرت انگیز کمالات دکھائے ہیں۔ حافظہ خوش حالیوں کی ضمانت بھی دیتا ہے۔ کون بنے کا کروڑ پتی جیسے کھیل حافظہ کے سبب عالمی سطح پر عام ہیں۔

یہ بھی پڑھیں!

یاد داشت بڑھانے کے آسان طریقے

حافظہ کو کیسے بہتر بنائیں؟

حافظہ اور اس کی افزائش

شیئر کیجیے
Default image
نعیم جاوید

تبصرہ کیجیے