BOOST

زندگی میں موت کی تیاری

دنیا میں انسان کی زندگی اور اسے ملی ہوئی مہلت حیات بہت قیمتی ہے۔ انسانی زندگی کی اہمیت اور اللہ تعالیٰ کے لیے اس کی تخلیق کے اہتمام کو دیکھیے! پورا نظام تخلیق کس طرح انسانی زندگی کی خدمت میں لگا ہوا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن میں جگہ جگہ ان باتوں کو اپنی نشانی کے طور پر پیش کرتا ہے۔ وہ اس زندگی کو آزمائش اور امتحان کی مہلت قرار دیتا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ کون اللہ کا شکر گزار بنتا ہے۔

زندگی میں انسان کو بے شمار نعمتیں حاصل ہیں، اس کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ زندگی ہمیشہ ہماری خواہشات اور تمناؤں کے مطابق نہیں چلتی۔ ایسے میں لوگ شکورہ شکایت اور مایوسی کی روش اختیار کرتے ہیں۔

دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ ان میں سے کسی کے اوپر ذرا سے سخت حالات آجاتے ہیں تو وہ موت کی تمنا کرنے لگتا ہے۔ آپ کا کوئی پیارا دنیا سے رخصت ہوگیا ہے، کسیکی منگنی ٹوٹ گئی ہے، کسی کی شادی نہیں ہورہی، کسی نے آپ کوچھوڑ دیا ہے، یا آپ کو دھوکا دیا ہے، کسی کی اولاد نہیں ہے، روزگار نہیں ہے، کسی کو جان لیوا بیماری کا سامنا ہے… تو کیا یہ سب حالات صرف اسی کے ساتھ ہی پیش آتے ہیں کہ وہ زندگی سے مایوس ہوکر موت کی تمنا کرنے لگے۔ شاعر نے کیا دانشمندانہ سوال کیا ہے:

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے

مر کے بھی چین نہ آیا تو کدھر جائیں گے؟

جو لوگ باشعور ہیں وہ موت کی تمنا نہیں کرتے اور جو لوگ بے شعور ہیں انہیں یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ موت کے بعد کی زندگی میں بھی سکون نہ ملا تو کیا ہوگا؟ اس لیے بہتر ہے کہ ہر حال میں موت کے بعد کی زندگی کے لیے تیاری کی جائے۔

جان لیجیے کہ موت کا تو ایک وقت مقرر ہے اور وہ اپنے وقت پر ہی آئے گی۔ نہ اس سے پہلے، نہ اس کے بعد۔ رسول پاکؐ نے ارشاد فرمایا ’’اپنی زندگی کو موت سے پہلے غنیمت سمجھو۔‘‘ موت آگئی، اب انسان کچھ نہیں کرسکتا، نیکی کا کام کرنا بھی چاہے تو نہیں کرسکتا۔ اُس وقت انسان پچھتائے گا، حسرت کرے گا کہ اللہ اسے تھوڑی اور مہلت دے دے تو وہ اسے اچھے کاموں میں گزارے۔قیامت کے دن انسان حیرت کرے گا اور کہے گا کہ: ’’اے پروردگار! ہمیں ایک بار لوٹا دے کہ ہم نیک عمل کریں گے۔‘‘ مگر ایسا ممکن نہ ہوگا۔

دنیا کی نعمتیں فانی ہیں، آج ہیں ممکن ہے کل نہ ہوں، لیکن آخرت کی نعمت باقی ہے، اس کو زوال نہیں۔ دنیا کی مشکلات کا موت خاتمہ کردے گی، لیکن آخرت کی مشکلات کا خاتمہ کیسے ہوگا؟ وہاں تو موت بھی نہیں ہوگی۔ انسانی خواہشات کی کوئی حد نہیں۔ ایک پوری ہوجائے گی دوسری سر اٹھانا شروع کردے گی۔ فرمانِ نبویؐ کے مطابق انسان کا پیٹ تو صرف قبر کی مٹی سے ہی بھرے گا۔

زندگی کی آزمائشوں کو بتانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی آزمائشوں کا ذکر کیا ہے تاکہ انسان جان لے کہ دنیا کی آزمائشیں تو انبیاء اور صلحاء تک کو پیش آتی ہیں۔ اس لیے دیکھئے کہ اللہ نے اپنے پیارے بندوں سے کیسے کیسے امتحان لیے ہیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی زندگی دیکھ لیجیے۔ حسن وجمال، مال اور اولاد کی کثرت تھی۔ لیکن جب آزمائش میں مبتلا کیے گئے تو آپؑ کے پاس کچھ بھی باقی نہ رہا۔ آپؑ برسوں تکلیف اور مشقت جھیلتے رہے اور برابر صابر و شاکر رہے۔ جب آپؑ آزمائش پر پورے اترے تو اللہ رب العزت نے اپنی نوازشوں اور عنایتوں سے سرفراز بھی فرمایا اور قرآن مجید میں ’’اوّاب‘‘ کہہ کر مدح سرائی بھی کی۔

حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی زندگی ہمارے لیے نمونہ ہے۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے حکم پر انہیں اور شیر خوار بچے کو لق و دق صحرا میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو کیا انہوں نے سعی نہیں کی؟ کیا انہوں نے موت کی تمنا اور واویلا کرنا شروع کردیا؟ ان کی سعی کے نتیجے میں اللہ نے کیسے زم زم جاری فرما دیا، اور یہ سعی اتنی پسند آئی کہ اس کو حج کا رکن بھی بنادیا۔ سخت اور مشکل ترین حالات میں اللہ پر توکل کا کیسا پیارا سبق حضرت ہاجرہ علیہا السلام نے ہمیں دیا جو تا قیامت مثال بن گیا۔ عورت گھر کی بنیاد رکھتی ہے، اور ہاجرہ علیہا السلام کے توکل نے تو ایک پورے مکہ شہر کی بنیاد رکھ دی۔

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ایک بہترین فقیہ اور عالمہ تھیں۔ بڑے سے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم مشکل مسائل میں آپؓ کی طرف رجوع کرتے اور مسائل کا تسلی بخش جواب پاتے۔ بے شک اماں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو جو مقام و مرتبہ علم کی وجہ سے حاصل ہوا وہ کم ہی لوگوں کو حاصل ہوا ہے۔ اماں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کوئی اولاد نہ تھی۔ کیا انہوں نے اولاد کے نہ ہونے کو اپنی زندگی کا روگ بنایا؟ کیا ام المومنین کی زندگی ہم سب کے لیے مشعلِ راہ نہیں ہے؟

یاد رکھیے کسی کو بھی اللہ نے عبث اور بیکار پیدا نہیں کیا۔ ہر کسی کی زندگی کا مقصد ہے۔ بس ہمیں اسے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کی فانی زندگی آخرت کی ابدی زندگی کے مقابلے میں بہت اہم ہے، کیوں کہ یہاں کی زندگی سے وہاں کی زندگی بن رہی ہے۔ وہاں کی زندگی کا دار و مدار یہاں کیے گئے اعمال پر ہے۔ آج دنیا میں جو بوئیں گے وہ کل آخرت میں کاٹیں گے۔

وقت وہ نعمت ہے جو چلا گیا تو دوبارہ نہیں آئے گا۔ اس لیے اس وقت کو ماضی کے پچھتاووں یا مستقبل کے اندیشوں میں مبتلا ہوکر ضائع ہونے سے بچائیں۔ اپنے صحیح مقصد کے حصول کے لیے وقت لگائیں۔ خیر کے کاموں میں وقت خرچ کریں۔ لوگوں کی مدد میں لگائیں۔ اللہ کی عبادت میں وقت لگائیں۔ اُن دینی و دنیوی علوم و فنون کو سیکھنے اور سکھانے میں وقت لگائیں جن کے ذریعے اپنی زندگی کو دنیا اور آخرت میں نفع بخش بنا سکیں، جس کے ذریعے انسانیت کی خدمت کی جا سکے، جو آپ کے لیے صدقۂ جاریہ بن سکے۔

بے شک موت مومن کے لیے تحفہ ہے، جنت کا دروازہ اور اللہ سے ملنے کا ذریعہ ہے۔ لیکن اس کے لیے ہمیں زندگی مومن بن کر گزارنی ہوگی تاکہ جب موت آئے تو ہمیں کوئی حسرت اور پشیمانی نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں!

موت کی فصل

موت کی یاد

شیئر کیجیے
Default image
کرن فاطمہ (گیا)

تبصرہ کیجیے