حجاب کے نام

بچے مسجد میں!

جولائی کا حجاب اسلامی ملا۔ عنوانات پر نظر ڈالتے ہی اندازہ ہوگیا کہ رسالہ کچھ خاص ہے۔ سب سے پہلے جس مضمون کو پڑھا وہ تھا مسجد میں بچے۔ بہت پسند آیا۔ اس مضمون کو لوگوں میں پھیلانے کی ضرورت ہے۔ میں نے اس مضمون کو اپنے ذرائع سے وائرل کرنے کی کوشش کی ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسے پڑھ سکیں۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو جزائے خیر دے۔

معین الدین شیخ

ممبئی (بذریعہ واٹس اپ)

[معین صاحب! مضمون اور رسالہ پسند کرنے کے لیے شکریہ، آپ نے مضمون کو پھیلانے کی کوشش کی اس کے لیے بھی شکریہ اور یاد رہے کہ یہ کام آپ کو اللہ کی رضا فراہم کرنے والا ہے]

لڑکیوں کی تعلیم

جولائی ۲۰۱۹ کا حجاب اسلامی ہاتھ میں ہے۔ مضامین اچھے ہیں۔ عہد نبوی میں خواتین کی تعلیم و تربیت پر دیا گیا مضمون اچھا ہے مگر نامکمل سا محسوس ہوتا ہے۔ موجودہ زمانے کا تعلیمی نظام کافی ترقی یافتہ اور منظم ہے۔ اس زمانے میں سرکاری یا غیر سرکاری طور پر کیوں کہ منظم تعلیمی نظام نہیں تھا اس لیے اسے موجودہ دور کے نظام کے مقابلے میں رکھ کر دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود اتنا طے ہے کہ الہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم حاصل کرنے اور لکھنا پرھنا سیکھنے کی طرف اس معاشرہ کو پوری طاقت کے ساتھ متوجہ کیا۔ اسی طرح خواتین کی تربیت کے لیے بھی آپ خصوصی توجہ فرماتے تھے۔ اس سلسلے کی تاکیدی روایات اور احادیث ہمیں ملتی ہیں۔

بعد کے دور میں تعلیم و تربیت ایک منظم شعبہ بن گئی اور مسلم سماج کے لیے لڑکیوں کی تعلیم میں ایک بڑی دشواری پیش آنے لگی اور وہ بھی مخلوط نظام تعلیم میں لڑکیوں کی تعلیم۔ مخلوط نظام کو مسلم سماج نے صرف لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں دشواری تصور کیا۔ حالاں کہ اگر یہ خطرہ ہے تو لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے ہے۔ مگر لڑکوں کا اس نظآم سے فائدہ اٹھانے دیا گیا او رلڑکیوں کو روک دیا گیا۔ اور اگر میں کہوں کہ یہ رویہ غلط تھا، ہے اور رہے گا تو کئی لوگوں کو ایسا محسوس ہوگا کہ میں مخلوط نظام تعلیم کی حمایت کر رہا ہوں۔ ایسا نہیں ہے۔ جو خطرہ خطرہ لڑکیوں کے لیے ہے وہی لڑکوں کے لے بھی ہے۔ پھر کیا ہو؟ یہ سوال اہم ہے۔ اس سوال کا جواب ہمارے گھریلو نظام تربیت میں ہے۔ اگر مخلوط نظام تعلیم سے فرار ممکن نہیں تو والدین کو اپنے بچوں کی دینی اور اخلاقی تربیت پر اس قدر توجہ دینی ہوگی وہ اس لائق بن جائیں کہ جہاں اور جس نظام تعلیم میں رہیں اپنے دین اور اس کی اخلاقی قدروں سے چمٹے رہیں۔ اگر ہم اس محاذ پر کمزور پڑتے ہیں تو مخلوط نظام تعلیم ہو یا نہ ہو اخلاقی بے راہ روی کی مواقع موجود ہیں۔ اس خط کے ذریعے والدین کو اسی جانب توجہ دلانی مقصود ہے۔

اس شمارے میں ’’بچے مسجد میں‘‘ بہت پسند آیا۔ امید ہے کہ بہت سے والدین کے لے رہنما ہوگا۔ گھریلو عورت کا احساس کمتری بھی اچھالگا۔ موجودہ دور کی خواتین جو اس احساس کم تری میں یقینا اس سے باہر آئیں۔ تازہ ترین رپورٹوں میں ایک رپورٹ کویت کی ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ کویت کی وہ خواتین جو پچھلے کئی سالوں سے سرکاری نوکریوں میں تھیں اب اس سے اوب کر گھروں کی طرف متوجہ ہو رہی ہیں۔ ایسا صرف کویت ہی میں نہیں مغربی ممالک میں بھی خواتین نوکریوں سے ہٹ کر گھروں کی طرف متوجہ ہو رہی ہیں۔

فوزیہ رباب

مقیم حال کویت (بذریعہ ای- میل)

مضامین اچھے لگے

جولائی کے رسالے میں کئی مضامین بہت اچھے لگے۔ مربوط خاندانی نظام، مسجد میں بچے اور تربیت کے ضمن میں لکھا گیا مضمون اچھا لگا۔ حجاب اسلامی کے ہر شمارے میں ایسا بہت کچھ پڑھنے کو ملتا ہے جو نیا ہوتا ہے اور عملی زندگی میں خواتین کی رہ نمائی کرتا ہے۔ تربیت والے مضمون میں بچوں کی تربیت کا ایک بڑا اہم اور خاص پہلو اجاگر کیا گیا۔ اگر موجودہ دور کی مائیں اس پہلو پر توجہ دیں تو بچوں میں جب پختہ دینی شعور پیدا کیا جاسکتا ہے وہیں ایمان و یقین کی مضبوط بنیادیں رکھی جاسکتی ہیں اور ان کی سوچ کو بچپن ہی سے اللہ کی ذات سے جوڑا جاسکتا ہے۔

کیریئر کونسلنگ اور گھریلو عورت کا احساس کمتری معلوماتی مضامین ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ حجاب اسلامی کو خوب ترقی دے۔

جویر ناصر شیخ

ممبئی (بذریعہ واٹس اپ)

خصوصی گوشہ

جون کے حجاب میں ’’خواتین کی مسدج میں حاضری‘‘ پر خصوصی گوشہ پڑھ کر خوشی ہوئی۔ آپ نے اس میں جن پہلوؤں کا ذکر کیا ہے او رقرآن و حدیث کی روشنی میں کیا ہے، وہ یقینا مفید ہے۔

سچ پوچھئے تو میں کہوں گی کہ میںنے کبھی بھی کوئی مسجد آج تک اندر سے نہیں دیکھی یعنی میں کبھی بھی مسجد میں داخل نہیں ہوئی یہ بتاتے ہوئے شرم بھی آتی ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے۔ کئی بار دل میں آیا مگر میں مسلمان ہونے کے باوجود اپنے اندر اتنی ہمت نہیں جٹا سکی کہ مسجد میں داخل ہوجاؤں۔ اس رسالہ کی تحریروں نے مجھے معلومات بھی دی ہیں اور حوصلہ بھی دیا ہے۔

[یہ خط بغیر نام اور پتہ کے واٹس اپ کے ذریعے موصول ہوا ہے۔ ایڈیٹر]

شیئر کیجیے
Default image
شرکا