BOOST

مشورہ حاضر ہے!

ناخن کی بیماری

کئی خواتین نے شکایت کی ہے کہ ہمارے ناخن کھوکھلے ہوجاتے ہیں، باوجود علاج اور دوا کے کسی طرح ٹھیک نہیں ہوتے۔ ایک خاتون حاملہ ہیں اور وہ اب دوا نہیں کھا سکتیں۔ دوسری خاتون نے بہت سارے لوشن اور کریمیں استعمال کیں مگر ان کے ناخن مزید خراب ہوتے جارہے ہیں۔

٭ حاملہ خاتون سے عرض ہے کہ وہ اپنی ڈاکٹر سے مشورہ کر کے کیلشیم اور حیاتین تجویز کروائیں کیوں کہ خون کی کمی سے بھی ناخن متاثر ہوتے ہیں۔ حمل کے دوران یا زچگی کے بعد خون کی کمی ہو تو ناخن بھربھرے ہونے لگتے ہیں۔ خواتین کو چاہیے کہ روازانہ کی خوراک میں دودھ، گوشت، ایک بڑا سیب تازہ سبزیاں اور پھل وغیرہ ضرور شامل کریں۔ ناخن پالش اتارنے والے لوشن بھی ناخنوں کو خراب کرتے ہیں۔ جب ناخن پر پالش کی تہہ جمتی ہے تب بھی ناخن مرجھانے لگتے ہیں۔ کچھ خواتین برتن دھوتے وقت ہاتھوں کو محفوظ رکھنے کے لیے مختلف لوشن استعمال کرتی ہیں ان سے بھی ناخن خراب ہوتے ہیں۔

کپڑے دھونے کے لیے آج کل صابن کے بجائے پاؤڈر استعمال ہوتے ہیں، غیر معیاری پاؤڈر بھی جلد اور ناخن خراب کرتے ہیں۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ان سے جلدی داد بھی ہو جاتا ہے جو بڑی مشکل سے ٹھیک ہوتا ہے۔

ایک علاج یہ ہے کہ لہسن کی ثابت پوتھیاں اچھی طرح دھوکر پانی کے بڑے پیالے میں بھگو دیجیے۔ اگلے دن اس کا پانی کسی چھوٹے پیالے میں ڈال کر پانچ منٹ کے لیے صبح شام اس میں ناخن بھگوئیے اور لہسن چھیلئے۔ اس کے علاوہ مہندی کے پتے پھلوں کے سرکہ میں بھگو کر پیس کر مرہم کی طرح لگائیے۔ سرکہ ’’گدو‘‘ کا پھل والا خریدیے گندمی رنگ کا ہو۔

سرکہ بھی ناخن کے امراض دور کرتا ہے۔ ایک ترکیب یہ ہے کہ مہندی کے مٹھی بھر پتے زیتون کے تیل میں اچھی طرح پکا کر چھان کر رکھ لیجیے۔ رات کو سوتے وقت یہ تیل ناخنوں پر لگائیے اور غذا کا خاص خیال رکھیے۔ غذا اچھی ہو گی تو تازہ خون بنے گا، یوں صحت ٹھیک رہے گی۔

چہرے پر چھائیاں

ہم لوگ گاؤں میں رہتے ہیں اور مہینے میں ایک بار شہر آتے ہیں۔ میرے چہرے پر چھائیاں ہیں۔ مجھے کوئی آسان سا نسخہ بتائیے، جس سے یہ ختم ہوجائیں۔

٭ بی بی! چہرے پر چھائیاں عموماً خون کی کمی سے بھی پڑتی ہیں۔ چھائیوں کے لیے ایک بڑا ہی سادہ اور آسان ٹوٹکہ ہے۔ یوں کریں کہ کوئی خالی شیشی لیں اور اسے اچھی طرح دھو کے خشک کرلیجیے۔ اب اس میں آدھی شیشی تازہ مکھن ڈالیے اور ایک نکتہ مشک کافور ہاتھ سے مسل کر ملا دیجیے۔ منہ دھوکر صبح شام یہ مکھن لگائیے۔ یاد رکھیں کہ بیسن سے منہ دھونا ہے کسی صابن سے نہیں۔ علاوہ ازیں مالٹے، کینو کے چھلکے پیس کر ہفتہ میں دو بار چہرے پر لگائیے، دودھ دہی اور تازہ چھاچھ کا استعمال زیادہ کیجیے۔ آج کل گاجر اور شلجم کا موسم ہے، کچے پکے شلجم اور گاجریں خوب کھائیے اور قبض نہ ہونے دیں، انشاء اللہ آپ کی صحت آہستہ آہستہ بہتر ہوجائے گی۔

دھوپ میں زیادہ دیر کام نہ کیجیے، دھوپ کی وجہ سے بھی چہرہ سانولا ہوجاتا ہے۔ دھوپ میں کام کرنا پڑے تو سر اچھی طرح چادر سے ڈھانپ لیجیے تاکہ براہ راست دھوپ چہرے پر نہ پڑے۔ علاوہ ازیں اپنی خوراک کا خیال رکھیے۔ مسالے دار تلی ہوئی اشیا اور گوشت وغیرہ سے مکمل اجتناب کریں۔ تازہ سبزیاں اور پھل اپنی غذا میں شامل کیجیے۔

شوہر کی بدکلامی

گھر میں چھوٹے موٹے جھگڑے ہوتے رہتے ہیں لیکن چند ماہ سے میرے شوہر نے نیا وطیرہ اپنایا ہے۔ جب مجھے کسی بات سے روکنا چاہتے ہیں تو مجھے میری ماں! باز آجا‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ مجھے بڑا غصہ آتا ہے۔ عورتوں کی بھی کیا زندگی ہے، پڑھے لکھے لوگ بھی بلا سوچے سمجھے جاہلوں جیسی باتیں کہہ جاتے ہیں۔ مجھے بتائیے کہ شوہر کی بدکلامی کس طرح دور ہوسکتی ہے؟ میں خود ملازمت کرتی ہوں، گھر کے سارے کام کرتی ہوں پھر بھی میرے ساتھ ایسا سلوک ہوتا ہے۔

٭ بی بی! ہمارے معاشرے میں کم لوگ ہی عورت کی عزت کرتے ہیں۔ میں نے خود اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو فحش گالیاں دیتے ہوئے سنا ہے، جن کے متعلق کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ اتنے پڑھے لکھے اور دینی اقدار کے حامل ایسی گھٹیا زبان استعمال کرتے ہیں تو سوائے صبر کے اور کیا ہوسکتا ہے؟ آپ کا خط پڑھ کر مجھے حضرت سیدہ خولہ بنت ثعلبہ یاد آگئیں، جن کی شادی اپنے چچا زاد حضرت اوس بن صامتؓ سے ہوئی تھی۔

بڑھاپے میں حضرت اوسؓ بہت غصیلے اور چڑچڑے ہوگئے اور بینائی نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔ذرا سی بات پر بھڑک اٹھتے۔ ایک دن ذرا سی بات پر جھلاکر بولے: ’’تم تو میرے لیے ایسی ہوگئی ہو جیسی میری ماں۔‘‘ جاہلیت کے زمانے میں یہ بات طلاق کے برابر تصور کی جاتی تھی۔

غصہ اترا تو حضرت اوس کو بڑی ندامت ہوئی اور مجھ سے معافی مانگی مگر حضرت خولہؓ نے کہا کہ انھیں اب رسول پاکﷺ کے پاس جاکر پوچھنا پڑے گا۔ آپ پیارے نبیؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو سارا واقعہ بیان کیا۔ اس وقت پیاری بی بی حضرت عائشہ آپؐ کے بالوں میں کنگھی کر رہی تھیں۔ جواب ملا اللہ تعالیٰ کا اس بارے میں کوئی حکم ہمارے پاس نہیں۔ میرا خیال ہے تم اپنے شوہر پر حرام ہوچکی ہو۔‘‘

یہ سن کر سیدہ خولہؓ نے رو رو کر برا حال کرلیا۔ دوبارہ پوچھا تو سرور کونین نے فرمایا: ’’تم اس پر حرام ہوچکیں۔‘‘

یہ سن کر سیدہ خولہؓ کی گریہ و زاری میں اضافہ ہوگیا۔ رو کر کہنے لگیں: پہلے میرے پاس دولت اور جوانی تھی۔ اب تو یہ حال ہے کہ صبح ہی شام کی فکر سوار ہو جاتی ہے کہ کہاں سے کھانا ملے گا؟ خاندان والے بھی چھوڑ چکے، سوائے خدا کے کوئی آسرا نہیں۔‘‘

یہ کہہ کر حضرت کوخولہؓ آسمان کی طرف دیکھ کر دہائی دینے لگیں اور اللہ تعالیٰ سے فریاد کی کہ کوئی امن امان کی صورت نکل آئے۔ وہ دعا کرتے ہوئے روتی آسمان کی طرف دیکھتی جاتیں۔ اتنے میں رسول پاکؐ پر وحی نازل ہونے کی کیفیت طاری ہوئی۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے ان کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا: ’’ذرا صبر کرو، شاید تمہارے بارے میں کوئی فیصلہ ہو۔‘‘

حضورﷺ نے فرمایا: ’’سورہ مجادلہ کی چار آیتیں نازل ہوئی ہیں جن کے ترجمہ یہ ہے:

’’اللہ نے یقینا اس عورت کی بات سن لی جو تم سے شوہر کے بارے میں کہہ رہی ہے اور اللہ کے حضور شکایت کر رہی ہے۔ اللہ پاک تم دونوں کے سوال و جواب سن رہا ہے اور اللہ بے شک سننے اور دیکھنے والا ہے۔ تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں وہ اصل میں ان کی مائیں، بہنیں نہیں بن جاتیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وہ پیدا ہوئے۔ یقینا یہ لوگ نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔ اللہ بے شک معاف کر دینے والا اور بخشنے والا ہے۔ جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی کہی بات سے رجوع کرلیں تو آپس میں ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ان کے ذمے ایک غلام کو آزاد کرانا ہے اور اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔ جو شخص اس پر عمل کی قدرت نہ رکھتا ہو وہ دو مہینے کے مسلسل روزے رکھے اس سے پہلے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جس میں اتنی طاقت بھی نہ ہو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ یہ اس لیے ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی تعمیل کرو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدیں ہیں، دکھ کی مار تو کافروں کے لیے ہے۔‘‘

رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خولہؓ سے فرمایا:

’’اپنے شوہر سے کہو ایک غلام آزاد کردے۔‘‘

سیدہ خولہؓ نے کہا: ’’ان کے پاس لونڈی غلام کہاں، میرے علاوہ کوئی ان کی خدمت کرنے والا نہیں۔‘‘

آپﷺ نے فرمایا: ’’وہ پھر ساٹھ دن کے روزے رکھے۔‘‘

سیدہ خولہ بولیں ’’وہ بوڑھے اور کمزور ہیں، دن میں دو تین بار کچھ نہ کھائیں تو ان کی رہی سہی بینائی ختم ہوجاتی ہے۔‘‘

آپﷺ نے فرمایا: ’’اچھا! وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلادے۔‘‘

سیدہ خولہؓ بولیں ’’ہمارا یہ حال ہے کہ شام کو کھانے کے لیے نہیں ہے۔‘‘

سرور کائناتﷺ نے فرمایا: ’’اچھا تو وہ ام خندوبنت قیس کے پاس چلا جائے۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ اس کے پاس صدقہ دینے کے لیے ایک سو پانچ سیر کھجوریں ہیں۔ وہ لے کر صدقہ دے دے۔‘‘

اسی دوران اوسؓ بھی وہاں پہنچ گئے۔ انھوں نے کہا ’’حضور والا! مدینے میں مجھ سے زیادہ مسکین اور فقیر، ضرورت مند کون ہوگا اس لیے میں خود ہی لے لوں گا۔‘‘

رسول پاکﷺ کے چہرہ مبارک پر مسکراہٹ کے آثار نمودار ہوئے اور فرمایا ’’اچھا تم ہی لے لو۔‘‘

حضرت خولہؓ کا یہ واقعہ قرآن پاک میں زندہ جاوید ہے، لوگوں میں ان کا مرتبہ بہت بلند ہوگیا۔ ایک دکھی خاتون کی صدا سات آسمانوں کے اوپر سنی گئی اور ان کی عظمت بڑھ گئی۔

بی بی! آپ اپنی ملازمت دل جمعی سے کیجیے اور گھریلو کام نبھائیے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ آپ کے شوہر کو راہ راست پر لائے۔ اس کے علاوہ میں اور کیا لکھ سکتی ہوں۔‘‘

عناب کے کرشمے

موسم بدلتے ہی میرے بچے بیمار پڑ جاتے ہیں۔ طرح طرح کے دانے جسم پر نکلتے ہیں۔ کبھی سرخ دھیڑ پڑ جاتے ہیں۔ اینٹی الرجی دوا سے وقتی طور پر ہی آرام آتا ہے۔ میری بچی کا چہرہ بہت خراب ہوگیا ہے۔ سرخ کالے نشانات کی وجہ سے وہ سکول بھی نہیں جاتی۔ فروری، مارچ میں زیادہ دانے نکلتے ہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ کہ میرے گھر کی دیواروں میں سیلن آجاتی ہے کوئی ایسا ٹوٹکہ بتائیے کہ جس سے یہ تکالیف دور ہوجائیں۔

٭موسم بدلنے کی وجہ سے انسانی جسم کی حساسیت، بہت بڑھ جاتی ہے اور اسی وجہ سے آپ کے بچوں کو جلدی تکالیف ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں، عناب، کے دانے ان تکالیف کے لیے عرصہ دراوز سے استعمال ہو رہے ہیں۔ بڑوں کے لیے سات دانے عناب کے رات کو ایک پیالی پامنی میں بھگو دیجیے اور صبح مل چھان کر پی لیجیے۔ بیس اکیس دن پینے سے خون کی خرابی ٹھیک ہوجاتی ہے۔ نزلی زکام، کھانسی اگر الرجی سے ہو تو اس کا جوشاندہ پینے سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔ تین چار ہفتہ پی لیا جائے تو الرجی ٹھیک ہوجاتی ہے۔ عناب جو شاندے کا اہم جزو ہوتا ہے، عنات کا شربت بھی ہمدرد دواخانہ سے لے کر اپنے بچوں کا پلا سکتی ہیں۔

جن بچیوں کے منہ پر موسم کی حساسیت سے کیل مہاسے نکلیں انھیں عناب سات عدد اور منڈی بوٹی کے گیارہ دانے رات کو بھگو کر صبح مل کر اور چھان کر پینے سے آرام آتا ہے۔ منڈی کا ذائقہ تلخ ہوتا ہے لہٰذا اس میں ایک چمچی چینی یا شہد ملا کر پی سکتے ہیں۔ عناب کا شربت گرمیوں میں استعمال کرنے سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ کمروں میں سیلن دور کرنے کے لیے حرمل کے دانوں کی دھونی دیجیے۔

ناک کی بدبو

ایک صاحبلکھتے ہیں کہ ساتویں جماعت سے میری بچوں کی طرح ناک بہہ رہی ہے۔ بہت علاج کرایا لیکن افاقہ نہیں ہوا۔ اب گریجویٹ ہوں۔ ہر وقت ناک صاف کرتے کرتے میری ناک لمبی ہوگئی ہے۔ ناک سے اتنی شدید بو آتی ہے کہ دوستوں میں بیٹھ نہیں سکتا۔ ہر وقت تنہائی میں سوچتا رہتا ہوں۔ گھر والے بھی تنگ آگئے ہیں۔

٭صاحب! ناک لمبی ہونا تو محاورہ ہے بہرحال آپ پریشان نہ ہوں، آپ کے گھر کے آس پاس نیم کا درخت ہوگا، اس سے نیم کے پتے توڑ کر لائیے۔ مٹھی بھر پتے تین گلاس پانی میں ڈال رک ہلکی آنچ پر پکائیے جب آدھا پانی رہ جائے تو اتارلیں۔ یہ نیم گرم پانی ناک میں وضو کی طرح ڈالیں، آدھا پانی صبح اور آدھا شام کو۔ مزید برآں ایک چمچہ کلونجی سات چمچے زیتون کے تیل میں ڈال کر ہلکی آنچ پر پانچ منٹ پکاکر چھان کر شیشی میں رکھ لیں۔ رات کو سوتے وقت ناک میں اندر کی طرف یہ تیل لگائیں کسی بھی ہومیو پیتھک اسٹور سے دوا پائی روجنم IM کی خوراک بنوا کر صبح نہار منہ کھالیجیے، صرف ایک خوراک، چوتھے دن سے آپ مرگ سال ۳۰ صبح ایک خوراک اور شام کو بیلا ڈونا ۳۰ کی ایک خوراک کھائیے۔ بیس دن کے بعد بتائیے کہ اب کیا حال ہے۔ مرک سال اور بیلا ڈونا ۳۰ گولیوں میں بنوا لیجیے۔

شیئر کیجیے
Default image
صغیرہ بانو شیریں

تبصرہ کیجیے