مسجد جانے سے کہاں روکا گیا؟

مرد و زن کے درمیان اسلام صنف کی بنیاد پر کسی قسم کی تفریق نہیں کرتا بلکہ بعض مقامات پر خصوصی رعایت دیتاہے اور اجر میں بھی کوئی کمی نہیں ہوتی۔ قرآن اس کی تصدیق کرتا ہے :’’ اور جو کوئی بھی نیک عمل کرے گا چاہے وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ صاحب ایمان ہو ۔ان سب کو جنت میں داخل کیا جائے گا اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف کے برابر بھی ان کا حق نہ مارا جائے گا۔‘‘ (النساء : ۱۲۴) عورت اپنے دائرہ کارکی پابندی کرتے ہوئے اعلی سے اعلی مقام حاصل کر سکتی ہے۔ اسلامی تاریخ میں عورتوں نے فقہ، حدیث اور تفسیرمیں گراں قدر خدمات کے ساتھ مفتی، استانی، مجاہد، معالجہ اور تجارت وغیرہ میں نمایاں کارنامے انجام دیے۔ عبادت کرنے، مساجد میںآنے، شرعی و حکومتی معاملات میں دلچسپی لینے،انفاق فی سبیل اللہ۔ جمعہ اورعیدین کی نمازوں میںخواتین کو مسجد میں جانے کی خصوصی ہدایات بھی ملتی ہیں۔ عورتوں کادین میں دلچسپی اور شغف کا عالم یہ تھا کہ اللہ کے رسول ؐ کے زمانے میں حائضہ بھی عید گاہ جایا کرتی تھیں اور احادیث سے یہ واضح ہے ۔

عورتوں کے مساجد میں جاکر نماز اداکرنے کی بحث ۲۰۱۰۔ ۲۰۱۱ء میں تیز ہوئی ۔ اس سے قبل بھی وقتاً فوقتاً یہ موضوع بحث رہا ہے ۔لیکن اس کی تاریخ میں جائیں تو معلوم ہوتا ہے صحابہ کرام ؓ کے زمانے میں بھی کچھ مردوں کو عورتوں کی بالخصوص اپنی بیویوں کی مسجد میں نماز کی ادائیگی پسند نہیں تھی ۔ـلیکن وہ نا پسندیدگی کے باوجود مساجد میں جماعت کی پابند تھیں۔

’’حضرت عمر بن خطاب ؓ کی زوجہ حضرت عاتکہ ؓ برابر مسجد جاتی تھیں۔ ان کے بیٹے نے ان سے کہا: جب آپ کو اپنے شوہر کا عندیہ معلوم ہے تو آپ ان کی خواہش پر عمل کیوں نہیں کرتیں؟ عاتکہؓ نے پوچھنے والے سے الٹا سوال کر دیا: پھر وہ مجھے روک کیوں نہیں دیتے؟ پوچھنے والے نے کہا: اللہ کے رسولؐ کی صریح اجازت کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کرتے ۔‘‘ (البخاری: ۹۰۰)

’’ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے یہی حدیث سنائی تو ان کے بیٹے نے کہا کہ ہم تو اپنی خواتین کو مسجد نہیں جانے دیں گے ۔حضرت ابن عمر ؓ نے اس کو انتہائی سخت انداز میں ڈانٹا کہ میں تجھے اللہ کے رسول ؐ کا حکم سنا رہا ہوں اور تو اس سے سرتابی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔‘‘(مسلم: ۴۴۲)

گزشتہ دنوں ایک خاتون جن کا نام یاسمین (پونے) کو بھی مسجد میں نماز ادا کرنے سے روک دیا گیا۔ ان کو حقارت سے ڈانٹ ڈپٹ کر مسجد میں وقت پرنمازاداکرنے سے روک دیا گیا۔ کہہ دیا گیا کہ تم کو معلوم نہیں مسجد میں عورتوں کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ـ‘‘

یاسمین اور زبیراحمد نے بعض مساجد میں خواتین کو نماز سے روکنے کے خلاف ایک عرضی دائر کی ہے۔ جسے سپریم کورٹ نے سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔ مرکزی حکومت، وقف بورڈ، وزارت اقلیتی اُمور اورمسلم پرسنل لاء بورڈ کو جواب دینے کے لیے نوٹس جاری ہو چکا ہے۔ ساتھ ہی اسلام کے سلسلے میں بھی اسی قسم کا تاثر قائم کیا ہے، جس طرح کا معاملہ سبریمالا مندر یا دیگر ہندو عبادت گاؤں کے سلسلے میں گزشتہ دنوں چلا تھا اور سپریم کورٹ کو اپنے حکم نامے کے ذریعے عورتوں کو مندر میں جانے کی اجازت ملی تھی۔

اس مقدمے نے کئی سوالات کھڑے کیے ہیں ۔ کیا مسلم عورتوں کا مساجد جانا واقعی ممنوع ہے؟ عورتیں مساجد میں نماز کی ادائیگی نہیں کر سکتی ہیں ؟ اسلامی تاریخ میں اس کی کیا روایات ملتی ہیں ؟ عورتوں کے مساجد جانے کی قدیم روایت حدیث سے ثابت ہے۔ اس سلسلے میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد جانے کی اجازت مانگے تو وہ اسے منع نہ کرے ۔‘‘ (بخاری ،کتاب النکاح ،باب استئذان المراۃ زوجھا فی الخروج الی المسجد ) اول تو مسجد جانے سے روکنے کا حق صرف شوہر کو مخاطب کرکے فرمایا گیا جب کہ ایک اور حدیث کے الفاظ بالکل عام ہیں کہ ’’اللہ کی بندیوں کو مسجد میں جانے سے نہ روکو۔‘‘ یہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ جو کچھ رسول تمھیں دے اسے لے لو اور جس چیز سے منع کر دے اس سے رک جائو۔‘‘(الحشر: ۷)

چند علماء کرام کی طرف سے یہ بات اکثر کہی جاتی ہے کہ’ عورتوں کے مساجد جاکر نماز ادا کرنے میں فتنے کا اندیشہ ہے یا فتنہ پھیلے گا ۔‘ رسول ؐ کے زمانے کی دہائی بھی دی جاتی ہے کہ اس وقت معاشرہ ایسا اور ایسا تھا۔ مسجدالحرام اورمسجد نبوی ؐ کی مثال نہ بھی دیں تو ہندستان میں جماعت اسلامی ہند ،اہلِ حدیث اور بعض دیگر تنظیموں کے زیرانتظام مساجد میں خواتین کو نماز کی سہولت حاصل ہے۔ نا مساعدحالات کا رونا روکر مسلم خواتین کو مساجد میں نماز ادا کرنے سے روکناکہاں تک درست ہے۔کہیں یہ عورتوں کے حقوق تلفی تو نہیں؟ قرآن نے اس طرح کی کوئی روک نہیں لگائی اور رسول اللہ ﷺ کے دورمیں خواتین مسجد میں نماز اداکرتی تھیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جن مساجد میں ایسا انتظام نہیں ہے اس کے متبادل تلاش کیے جاتے اور اس کا نفوذ ہوتا نہ کہ بیجا پابندیاں عائد کی جاتیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ مساجد میں جانے یا نہ جانے کا معاملہ خالصتاً عورتوں سے جڑا ہے۔ اللہ اور رسول کا فیصلہ اور ہدایات کے بعد اس معاملہ میں مداخلت کا اختیار کسے ہے؟ صد افسوس مسلم تنظیموں اور بعض دینی امور کے ذمہ داران نے کبھی اس کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی کہ جس کو عبادات سے روکا جا رہا ہے وہ خود کیا چاہتی اور سوچتی ہے۔ جہاں تک فتنے کااندیشہ ہے تو واضح ہے کہ مساجد میںنماز بہ جماعت کے لیے جانے سے زیادہ بڑا فتنہ ان کا بازاروں، پارکوں اور سڑکوں پر گھومنے میں ہے جس کی کسی کو فکر نہیں جب کہ مسجد شریف النفس خواتین شرعی لباس میں جائیں گی ۔ اس طرح کی باتیں کہہ کر انھیں فرض عبادت سے روکنا، ان کی دل آزاری کرنا اور ان کے کیرکٹر پر سوالات کھڑے کرنے کے مترادف ہے ۔ میرے علم کے مطابق ’فتنے پھیلنے ‘کی کوئی خبر مسجد میں عورتوں کی جماعت کے متعلق نہیں آئی ہے۔۔۔۔؟ ان سنجیدہ سوالات پرعلما ء کرام کو سنجیدگی سے غور و فکر کرنا چاہیے ۔ مسلم ذمہ داران کو اس حدیث پاک کو پیش نظر رکھتے ہوئے فیصلے لینے چاہئیں۔ــ’’ اپنی عورتوں کو مساجد میں جانے سے منع مت کرو۔ــ‘‘(ابودائود، کتاب الصٰلوۃ ، باب ماجاء فی خروج انساء الی المساجد)

یاسمین صاحبہ کورٹ جانے کا فیصلہ موجودہ دور کے علما کے شدت پسندانہ اور غیر شرعی رویے کے خلاف آخری چارہ کار کے طور پر کرنا پڑا ہے کیوں کہ وہ ایک پابند صوم و صلاۃ اور دین دار خاتون ہیں۔ ان کے رویے کو ان کی نام نہاد علما سے مایوسی کے نظریے سے ہی دیکھا جانا چاہیے اور یہ ایک سنگین بات ہے۔ ان کے اس رویہ کو اسلام مخالف طاقتوں کی مدد کرنے والا نہیں قرار دیاجانا چاہیے۔ جو لوگ ان پر تنقید کر رہے ہیں انھیں سوچنا چاہیے۔

یاسمین کے ذریعہ داخل کیے گئے ’’پٹیشن میں وکیل آشوتوش دوبے نے آئین ہند کی دفعہ 14(حق مساوات، برابری)، 15 (بھید بھاؤ نہ کرنا)، دفعہ 21 (زندگی اورخودمختاری)،25 (مذہبی آزادی)، 29 (اقلیتوں کے لیے تحفظ) کے تحت اور’’مسلم خواتین کو باوقار زندگی کا حق‘‘ کے نام پر راحت طلب کی ہے ۔ جو ایک عملی مسئلہ تھا اور آج بھی ہے۔ مسلم معاشرے کو یاسمین صاحبہ کے جذبے کی قدر کرنی چاہیے کیوں کہ انھوں نے قرآن ،احادیث، فقہ اور دیگر معتبر ذرائع سے اس کی تحقیق کر لی تھی کہ عورت مسجد میں جاسکتی ہے اور عہد رسالت میں عورتیں باقاعدہ مسجد جایا کرتی تھیں۔ اب سوال تو اسلام اور مسلم سماج پر کھڑے ہوں گے ہی کہ شرعی اجازت کے باوجود عورتوں کو نماز کے لیے مسجد کیوں نہیں جانے دیا جاتا۔ ہم جانتے ہیں کہ اس وقت مسلم خاتون کے اسلام مخالف قول و عمل کو خصوصی طور پر اہمیت کا حامل بنا دیا جاتا ہے اور پروپگنڈے شروع ہو جاتے ہیں۔

ہم دیکھتے ہیں کہ خود مسلم عورتوں میں بھی اس بات پر چہ مگوئیاں ہوتی ہیں کہ ’عورت مسجد جا سکتی ہے ‘ ؟ اگر یاسمین صاحبہ یا دوسری خواتین کے ساتھ مساجد میں جانے اور عبادت میں ادائیگی کی ممانعت ہوئی ہے تو یقینا یہ موقع ذہنوں کو بدلنے اور مسجد میں جانے کے لیے شر سے خیر کے پہلو نکالے جا سکتے ہیں ۔ یہ بات ذہن نشیں کر لیں کہ ہمیں اپنے کانوں سے سننا ،آنکھوں سے دیکھنا اور دماغ سے سوچنا ہے نہ کہ دوسروں کی سنی سنائی باتوں پر ایمان لانا ہے ۔ قرآن کی یہ تنبیہ ہے۔ ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی طاعت کرو، رسول کی اطاعت کرواور (کسی دوسرے کی اطاعت کرکے) اپنے اعمال برباد نہ کرو۔‘‘ (محمد:۳۳)

ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا صرف مسلمان عورتوں کے مساجد میں جانے سے ’فتنہ ‘ پیدا ہوگا۔ گلیوں میں، سڑکوں پر، تعلیمی اداروں میں، کوچنگ سینٹرز میں اور شاپنگ مالوں میں موقع بے موقع لڑکیوں اور خواتین کی کثیر تعداد بن سنور کر بلکہ الٹرا ماڑدن شکل میں گھومتی پھرتی ہیں۔ اس وقت یہ خیال کیوں نہیں گزرتا کہ فتنہ پھیل گیا ہے؟ عیدین کے موقعوں پر ہتھیلیوں پر نامحرم مردوں کے ساتھ مہندی سجانے پر سختی کیوں نہیں کی جاتی ؟ انتہا یہ کہ جدید طرز کے فیشن ایبل لباس سلائے جانے کے دوران ٹیلر کو اِنچ اور سینٹی میٹر کی مدد سے ناپ دیے جاتے ہیں۔ کیا یہ خلط ملط سے بڑھ کر نہیں ہے ؟ لمحہ فکریہ ہے ۔ جن افراد کو خواتین کے مساجد جانے میں تکلیف محسوس ہوتی ہے انھیں اس بات سے تکلیف محسوس نہیں ہوتی کہ ان کے گھر کی خواتین اس طرح سے جسموں کے ناپ دیں ؟ علماء کرام، اکابرین ملت، تنظیموں اور جماعتوں کے ذمہ داران، معلمات، اسلام پسند خواتین اور طالبات اس کا انتظام کر سکتی ہیں کہ خواتین مذکورہ ضرورت کے لیے خود یہ ہنر سیکھ لیں اور سیکھ سکتی ہیں ۔ اس کے ذریعے خود کفیل بھی ہو سکتی ہیں ۔ اس طرح کے اقدام ضروری بھی ہیں۔

فقہاء کرام نے حالات اور زمانے کے بگاڑ کا حوالہ دے کر عورتوں کو مسجد میں جانے سے منع کیا ہے جب کہ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ خواتین پانچوں وقت یا حسب سہولت مردوں کے ساتھ مسجد آنے جانے لگیں تو موجودہ بگڑے ہوئے حالات میں کوئی نا پسندیدہ واقعہ پیش آ سکتا ہے مگر ا س سے زیادہ ناپسندیدہ واقعات کا اندیشہ تو دور درواز کے بازاروں میں گھومنے پھرنے سے ہوسکتا ہے نہ کہ گھر کے قریب کی مسجد جانے سے۔

آج کی بھاگ دوڑ کی زندگی میںبہت کم خواتین کو یہ مواقع نصیب ہوں گے کہ وہ پانچ وقتوں کی نمازیں مسجد میں ادا کریں لیکن کسی ضروری کام کے لیے عورتیں باہر گئی ہوں اور نماز کا وقت ہو جائے تو انھیں مسجد میں نماز سے روکا نہیں جا سکتا۔ اس لیے قرآن پاک میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :’’اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جس نے اللہ کی مسجدوں میں اس کا نام لینے کی ممانعت کر دی اور ان کے ویران کرنے کی کوشش کی ،ایسے لوگوں کا حق نہیں ہے کہ ان میں داخل ہوں مگر ڈرتے ہوئے۔۔۔۔(البقرہ:۱۱۴)

اللہ کے رسول نے خواتین کو مسجد جانے سے نہیں روکا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ان کی دینی تربیت اور ذہن سازی کے لیے خصوصی وقت کا اہتمام کیا اور مسجد جانے سے متعلق مردوں اور عورتوں کو بلند اخلاقیات پر مبنی ایسی ہدایات دیں جو معاشرے میں پاکیزگی اور تقویٰ و حیاداری کو مستحکم کرسکیں۔ مثلاً:

٭ وہ پردہ کے شرعی حکم کی پابندی کریں۔

٭ خوشبو وغیرہ کا استعمال نہ کریں تاکہ ان کی طرف مردوں کی توجہ نہ ہوسکے۔

٭ مساجد میں خواتین کے لیے الگ سے دروازہ ہو، اور وہیں سے خواتین آئیں جائیں، جیسے کہ اس بارے میں سنن ابو داود وغیرہ میں خصوصی ارشاد بھی ہے۔

٭عورتوں کی صفیں مردوں کے پیچھے ہوں اور مردوں اور عورتوں کے درمیان بچے کھڑے ہوں۔

٭ اگر امام سے نماز میں بھول چوک جائے تو مرد سبحان اللہ کہے، جبکہ عورت ہاتھ پر ہاتھ مارے۔

٭ مسجد سے خواتین مردوں سے قبل چلی جائیں اور مرد خواتین کے گھروں تک پہنچ جانے کا انتظار کریں، جیسے کہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کی صحیح بخاری وغیرہ میں موجود حدیث میں ہے۔ (حراسۃ الفضیلۃ،ص:۸۶)

مذکورہ بحث سے ثابت ہے کہ اسلام نے کبھی اس طرح کی پابندی نہیں لگائی بلکہ آسانیاں پیدا کی ہیں ۔ اسلام کے پیروکاروں کا اہم فریضہ ہے کہ ایسے وقت میں جب کہ اسلام بدنامی کے شکنجے میں ہے ۔ ہر طرف اسے بدنام کرنے کا مکروہ عمل جاری ہے، اسلام کے عائد کردہ خوب صور ت احکامات کو لوگوں تک پہنچائیں۔مساجد وعظ و نصیحت کا بھی اہم مرکز ہیں ۔ خواتین کو اس سے مستفید ہونے کے مواقع ضرور ملنے چاہئیں۔ حالات کے پیش نظر لازماً ایسا نظم قائم کیا جانا چاہئے کہ وہ مساجد میں ہونے والے تذکیر اور خطبات سے استفادہ کر سکیں۔ جمعہ اور عیدین میں بھی ان کی شرکت کا بھرپور اور علیحدہ انتظام کیاجانا چاہئے ۔ اس سے خواتین کی دینی و مذہبی معلومات میں اضافہ ہوگا۔ ان کے جذبۂ دین کو تقویت پہنچے گی ۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ نئی نسل کی پرورش اسلامی خطوط پر بہترین انداز میں کریں گی ۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ناز آفرین (ریسرچ اسکالر، رانچی یونیورسٹی، رانچی)