مسلم خواتین

مساجد میں خواتین کو نماز اداکرنے کے لئے عدالت سے رجوع؟

سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت، وقف بورڈ، وزارت برائے اقلیتی امور اورمسلم پرسنل لاء بورڈ کو جواب دینے کے لیے نوٹس جاری کردیے ہیں کہ بعض مساجد میں خواتین کو نماز سے روکنے کے خلاف جوعرضی دائر کی گئی ہے اس پر آپ کا موقف کیا ہے۔

عرضی داخل کرنے والے پونہ مہاراشٹر کی ایک مسلم خاتون یاسمین اوران کے شوہر زبیراحمد نظیراحمد پیرزادہ ہیں جنہوں نے سیپریم کورٹ میں اپنی اپیل میں یہ گہار لگائی ہے کہ وہ ایک عبادت گزار، مذہب پر عمل کرنے والے شہری ہیں، ان کا بنیادی حق ہے کہ مذہبی تعلیمات کی رو سے پانچ وقت کی نماز ادا کریں۔ ہندوستانی شہری ہونے کی بنیاد پر ان کا بنیادی شہری حق ہے کہ وہ مذہبی عبادات میں حصہ لے سکیں لیکن کچھ مسجد کمیٹیاں مسجد میں ان کو خاتون ہونے کی بنیاد پر نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دیتے جب کہ اسلام میں اس کی پوری پوری اجازت ہے۔ اس اپیل کو سپریم کورٹ نے سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔

اپیل پر نوٹس ہونے کے بعد معاملہ میڈیا میں آیا اور اس اپیل کے مقاصد و ممکنہ نتائج کو لے کر چہ می گوئیاں شروع ہوگئیں۔

ہمارے لئے ضروری ہے کہ مقدمہ کی تہہ تک جانے سے قبل اپیل کی غرض و غایت پر گفتگوکرنے سے پہلے ذرا یہ دیکھ لیتے ہیں کہ عرضی گزاروں کے ساتھ کیا گزری اوروہ کیوں عدالت میں گئے؟ یہ واقعہ ہے پونہ کی ایک کالونی اوندھ گاؤں کا جو ہنجے واڈی اور کورے گاؤں کے بیچ ہے۔ ایک روز یاسمین اپنے شوہر کے ساتھ شاپنگ کرنے نکلی تھیں کہ مارکیٹ میں ہی نمازکا وقت ہوگیا۔ دونوں شوہر بیوی نے مسجد کا رخ کیا۔ زبیراحمد تومسجد کے اندرچلے گیے لیکن ان کی اہلیہ کو دروازے پر ہی روک دیا گیا۔ یاسمین کے اصرار کے باوجود ان کو مسجد میں داخل نہیں ہونے دیا گیا یہ کہتے ہوئے کہ مسجد میں خواتین کو داخل ہونے کی اسلام میں قطعی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

بیشک مذہبی معاملات میں عدالت سے رجوع کرنا ہمارے سماج میں پسند نہیں کیا جاتا، مذہبی امور میں عدالت کسی طرح کی دخل اندازی کرے تو اسے بھی سماج کو ناگوار محسوس ہوتا ہے۔ لیکن یاسمین کا سوال کہ آخر کس بنیاد پر مسجد میں داخل ہونے سے منع کیا گیا؟ کیا اسلام میں عورت کے مسجد میں داخل ہونے کی ممانعت ہے؟ یاسمین نے خودپہلے مطالعہ کیا اور اس نتیجہ پر پہنچیں کہ قرآن اورسنت میں کہیں بھی ایسا حکم یا پابندی نہیں ہے کہ عورت کو مسجد میں نماز سے روکا جاسکے۔ آخرخواتین حج اورعمرہ کے لیے جاتی ہیں اوراسلام کی اہم ترین اور مقدس مساجد خانہ کعبہ اورمسجد نبوی میں نمازاداکرتی ہیں۔ کسی بھی دور میں خواتین کوان دونوں مساجد میں نماز ادا کرنے سے نہیں روکا گیا تو آخر کس بنیاد پر ہمارے ملک کی مختلف مساجد میں خواتین کو نماز ادا کرنے سے روکا جاسکتا ہے؟

بعض اہل علم کی رائے و شبہات بھی سامنے آئے کہ اچھا ہوتا ان کو ایسے معاملے میں عدالت جانے سے پہلے یہ بھی غورکرلیناچاہیے کہ ہماری عدالت جو فیصلہ صادرکرے گی اس میں وہ قانون شریعت کی پابند نہیں ہوگی۔ اس لیے لازم نہیں کہ مسجدمیں نماز کے شرعی حق کے لیے عدالت سے رجوع کرنا شرعی تقاضوں کو پورا کرنے کا راستہ کھولے۔ کوئی نیا فتنہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ دنیا کے بیشتر مسلم ممالک میں خواتین کو مسجد جانے سے نہیں روکا جاتا بلکہ عرب ممالک میں تو باقاعدہ ہر مسجد میں خواتین کے لیے خاص انتظام ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ شاپنگ مال و پٹرول پمپ جیسی جگہوں پر بھی خواتین کے نماز ادا کرنے کے معقول انتظامات ہوتے ہیں۔

عدالت میں پیش کردہ پٹیشن میں یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ مسجدالحرام (خانہ کعبہ)، مسجد نبوی اورہندستان میں جماعت اسلامی اوربعض دیگرتنظیموں کے زیرانتظام مساجد میں خواتین کو نماز ادا کرنے کی معقول سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ لیکن سنی (بریلوی) مسجدوں میں روکا جاتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ قرآن نے اس طرح کی کوئی روک نہیں لگائی۔اوررسول اللہ کے دورمیں خواتین مسجد میں نماز اداکرتی تھیں۔

یاسمین اور ان کے شوہر نے آرٹیکل ۳۲ کے تحت اپیل کی ہے، یہاں یہ تحریر کرنا ضروری ہے کہ ہمارے ملک کے دستور میں باب سوم شہریوں کے بنیادی حقوق سے متعلق ہے جس کے مطابق ہر شہری کو آئین کے آرٹیکل ۱۴ کے مطابق حق مساوات یعنی برابری کا حق حاصل ہے، آرٹیکل ۱۵ کے مطابق کسی بھی شہری کے ساتھ رنگ نسل اور جنس وغیرہ کی بنیاد پر کسی طرح کی تفریق یا بھیدبھاؤ نہیں کیا جائے گا۔ آرٹیکل ۲۱ کے تحت ہر شہری کو انسانی اقدار و احترام کے ساتھ آزادی و زندگی کا حق حاصل ہے۔ آرٹیکل ۲۵ کے تحت ہر شہری کو مذہبی آزادی کا حق حاصل ہے یعنی وہ اپنی عبادات اپنے مذاہب کی تعلیم و احکامات کی روشنی میں ادا کرنے کا مکمل حق رکھتا ہے۔ آرٹیکل ۲۹ کے مطابق اقلیتیوں کے تحفظ کی ذمہ داری پوری طرح حکومت کی ہے۔ دستور میں دیے گئے شہری و بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے سیپریم کورٹ کو دستور و دستوری حقوق کا سرپرست خود ہمارا دستور متعین کرتا ہے۔

مسلم خواتین کو مسجد میں نماز ادا کرنے سے متعلق ماضی میں ایک عرضی (اپیل) کیرالہ ہائی کورٹ میں داخل کی گئی تھی جس کو ہائی کورٹ نے خارج کردیا تھا۔ اپیل خارج کرنے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ہائی کورٹ اس مذہبی مسئلہ میں دخل اندازی کرنا نہیں چاہتا تھا یا عدالت نے یہ تسلیم کرلیا تھا کہ مساجد میں خواتین کو داخل ہونے کی اجازت حاصل نہیں ہے بلکہ وہ تو اس لیے خارج ہوگئی کہ عدالت نے کہا اس مسئلہ سے تمہارا کیا تعلق کیونکہ اپیل کرنے والا شخص ہندو مسلم نہیں تھا اور براہ راست اس مسئلہ سے وہ اپنا کوئی تعلق پیش کرنے میں ناکام رہا تھا۔ لیکن اس بار صورت حال بالکل الگ ہے، اب بھی معاملہ تو وہی ہے لیکن مسلم شوہر بیوی اس بار مدعی بن کر عدالت میں کھڑے ہیں جن کے حقوق متاثر ہوئے ہیں نیز ان کو ان کے مطابق نہ صرف نماز ادا کرنے سے روکا گیا بلکہ ذلیل و رسوا کرکے مسجد سے بھگادیا گیا تھا۔

یہاں ایک بات اور قابل غور ہے کہ ہمارے ملک میں مساجد کی ایک بہت بڑی تعداد وقف سے متعلق ہے، دہلی ممبئی جیسے شہروں کی اکثر و بیشتر مساجد وقف املاک ہیں، ان مساجد کے امام و موذن کی تنخواہ بھی وقف بورڈ کی جانب سے دی جاتی ہے۔ وقف بورڈ و وقف املاک حکومت کے ذیر انتظام ہوتی ہیں، یعنی سرکاری امداد و سرکاری سہولیات کی بنیاد پر عدالت میں یہ بھی دلیل دی گئی کہ مسجد کو وقف بورڈ کے توسط سے سرکاری امداد ملتی ہے۔ گویا مسجد سرکاری ادارہ ہے۔

عدالت میں کیا سوالات ہوئے؟ کن سوالوں کے کیا جواب دیے گئے؟ اس مقدمے میں کس کس کو فریق بنایا گیا؟ فلاں فلاں کو فریق کیوں نہیں بنایا گیا؟ یاسمین یا ان کے شوہر کا وکیل ہندو ہے یا مسلم؟ ان کے وکیل کا رجسٹریشن ہائی کورٹ میں ہے یا سیپریم کورٹ میں؟ یہ اور اس جیسے بے شمار سوالات ہمارے غیرسنجیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ہمیں حقیقت کا سامنا کرنا چاہیے اور حقیقت یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اس کیس میں مرکزی حکومت، وزارت اقلیتی امور، مرکزی و ریاستی وقف بورڈ کے ساتھ ساتھ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو بھی جواب داخل کرنے کے لئے نوٹس بھیج دیا ہے۔ ہمیں اب ایمانداری سے اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہوگا کہ کیا ہماری مساجد میں خواتین کو نماز پڑھنے سے روکا جاسکتا ہے؟ کیا اسلام میں اس کی ممانعت ہے؟ اور اگر ا?پ ممانعت کے حق میں ہیں تو ا?پ کا جواب کیا ہوگا جب آپ سے پوچھا جائے گا کہ کیا دور نبوت سے لے کر آج تک مسجد نبوی اور خانہ کعبہ میں خواتین کو داخل ہونے یا نماز ادا کرنے سے روکا گیا؟

عدالت ایسے میں کیا کرسکتی ہے اور اس کا رخ متوقع طور پر کیا ہوسکتا ہے۔ یہ ان دفعات سے واضح ہے جن کے تحت عدالت نے کاروائی منظور کی ہے۔ ایسے میں عدالت ان دفعات کے تحت اسی طرح کی ہدایات دے سکتی ہے، جس طرح کی ہدایات گزشتہ دنوں وہ سبری مالا مندر کے سلسلے میں دے چکی ہے۔ وہ ایسے احکامات دے سکتی ہے جن کے ذریعہ محولہ بالا دفعات کے مطابق مدعی کو قانونی سہولیات فراہم ہوں۔ اب مسئلہ مسلم سماج کے لیے پھر تکلیف دہ ہوگا کچھ لوگ اسے شریعت میں مداخلت قرار دیں گے اور ایک نئی بحث شروع ہوسکتی ہے جو اسلام اور مسلمانوں کی ہی مٹی پلید کرے گی۔

عدالت نے خود سے یا حکومت کی اپیل پر نوٹس جاری نہیں کیا ہے۔ سپریم کورٹ میں اپیل کرنے والے مسلم افراد ہیں اور سپریم کورٹ کو اس سلسلے میں احکامات جاری کرنے کے مکمل اختیارات ہیں۔ اب ہمارے سامنے دو صورتیں موجود ہیں: ایک صورت تو یہ ہے کہ ہم اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ مساجد میں خواتین کے داخلے پر اسلام میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور مسجد کے ایک کونے میں خواتین کے نماز ادا کرنے کی سہولیات فراہم کریں۔ دوسری شکل یہ ہے کہ ہم بے بنیاد دلیلوں پر بحث کر کے سیاسی جماعتوں اور اپنے غیرسنجیدہ علماء کو ٹی وی ڈبیٹ میں بیٹھا کر اسلام اور مسلمانوں کو مزید ذلیل کریں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کیس دفاع کرنے کیلئے بہت کمزور ہے اور ہمارے سماج میں ان جیسے بیشمار مسائل سے نمٹنے یا اصلاحی کام پر توجہ دینے کے لئے کوئی بھی سنجیدہ کوشش یا پلان نظر نہیں آتا۔

مسلمانوں کے لیے یعنی مسلم علماء اور اداروں کے جو ملت کی شرعی رہنمائی کے ذمہ دار ہیں، لازم ہے کہ وہ اس سلسلے میں قانون اور ملک و ملت کے سامنے یہ واضح کریں کہ اس سلسلے میں اسلام کا موقف واضح ہے اور دین سنت عورت کے مسجد میں کسی بھی غرض سے آنے پر کسی بھی قسم کی پابندی نہیں لگاتا۔

یہ بڑی مایوسی اور بدقسمتی کی بات ہے کہ اس موقع پر مفتیان کرام اور علمائے عظام کی طرف سے بھی اور ملت کے معتمد تصور لیے جانے والے اداروں کی طرف سے بھی کوئی رہنمائی سامنے نہیں آتی۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ یہ تمام اکائیاں یا تو اپنی ذمے داریوں کو سمجھتی نہیں ہیں یا ان کی ادائیگی کے لیے کچھ بھی سنجیدہ نہیں۔ اس کی مثال اس سے پہلے شاہ بانو کیس میں سامنے آچکی ہے۔

آج سے ۳۵ سال پہلے سپریم کورٹ نے کچھ سوالات شاہ بانو کیس میں اٹھائے تھے لیکن اس سلسلے میں بھی ہماری طرف سے کبھی کوئی سنجیدہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ آج عدالت عظمی کے سامنے ہمارا کیا اسٹینڈ ہوگا یہ طے کرے گا کہ ہم اپنے سماج کو کس طرف لے کر جانے والے ہیں، اب لوگوں میں بیداری بڑھ گئی ہے اور مسائل اسی طرح عدالت جائیں گے اگر ہم ان مسائل پر سماجی یا مذہبی سطح پر سنجیدہ نہیں ہوئے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ایڈووکیٹ ابوبکر سباغ سبحانی

One comment

تبصرہ کیجیے

%d bloggers like this: