مساجد

مساجد میں خواتین کا داخلہ

دوسرے مذاہب سے مجھے واقفیت نہیں، لیکن اسلام کا ایک طالب علم ہونے کی حیثیت سے میں پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ اسلام میں دینی و شرعی اعتبار سے خواتین کے مسجد میں داخلے پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا صریح فرمان ہے:

’’ تمھاری عورتیں جب مسجد جانے کے لیے تم سے اجازت چاہیں تو انھیں اس سے نہ روکو۔‘‘ (مسلم:۴۴۲)

عہد نبوی میں بھی بعض لوگ خواتین کا گھر سے باہر نکلنا، خواہ نماز کے لیے ہو، پسند نہیں کرتے تھے، لیکن اللہ کے رسول ﷺ کے اس صریح ارشاد کی وجہ سے انھیں روکنے کی ہمّت نہیں ہوتی تھی۔ انہی میں سے ایک حضرت عمر بن خطاب ؓ بھی تھے ۔ انھیں خواتین کا نکلنا پسند نہ تھا، لیکن ان کی زوجہ حضرت عاتکہؓ برابر مسجد جاتی تھیں ۔ کسی نے ان سے کہا کہ جب آپ کو اپنے شوہر کا عندیہ معلوم ہے تو آپ ان کی خواہش پر عمل کیوں نہیں کرتیں؟ انھوں نے پوچھنے والے سے الٹا سوال کردیا:’’ پھر وہ مجھے روک کیوں نہیں دیتے؟‘‘ پوچھنے والے نے کہا:’’ اللہ کے رسول کی صریح اجازت کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کرتے۔‘‘ (بخاری:۹۰۰) چنانچہ حضرت عاتکہ برابر مسجد جاتی رہیں ۔ وہ اس نماز کے موقع پر بھی مسجد میں موجود تھیں جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔

ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے یہی حدیث سنائی تو ان کے بیٹے نے کہا :’’ ہم تو اپنی خواتین کو مسجد نہیں جانے دیں گے ۔‘‘ حضرت ابن عمرؓ نے اس کو انتہائی سخت اور درشت انداز میں ڈانٹا کہ میں تجھے اللہ کے رسول ﷺ کا حکم سنا رہا ہوں اور تو اس سے سرتابی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔‘‘ (مسلم: ۴۴۲)

بد قسمتی سے بعد کی صدیوں میں خواتین کے مساجد میں جانے کی ہمّت شکنی کی گئی اور وہاں انھیں ادائیگی نماز کی سہولیات نہیں فراہم کی گئیں، جس کی بنا پر مساجد میں ان کی حاضری کم سے کم ہوتی گئی، یہاں تک کہ بالکل ختم ہوگئی۔ اب عام طور پر خواتین مساجد نہیں جاتیں۔ اگر کوئی خاتون جانا چاہے تو وہاں اس کے لیے نظم نہیں ہوتا۔ کوئی خاتون اس کا مطالبہ کرے تو اسے ایسی نظروں سے دیکھا جاتا ہے جیسے اس نے کسی ناجائز چیز کا مطالبہ کردیا ہو اور اسے آزاد خیال اور باغی سمجھا جاتا ہے۔

خواتین کو مساجد سے روکنے کے لیے متعدد عذر تراشے گئے ، ان کی عزّت و عصمت کے تحفّظ کی بات کہی گئی، فسادِ زمانہ کی دلیل دی گئی، ان کی وجہ سے مساجد کی پاکیزگی اور تقدّس میں خلل پڑنے کے اندیشے ظاہر کیے گئے ۔صحیح بات یہ ہے کہ یہ سب باتیں اور اندیشے بے بنیاد ہیں۔ اللہ کے رسولﷺ نے خواتین کو مسجد جانے کی اجازت دی ہے اور مردوں کو حکم دیا ہے کہ وہ انھیں نہ روکیں ۔ اس لیے کسی کے لیے جائز نہیں، خواہ وہ کوئی بھی ہو، کہ وہ انھیں اس حق سے محروم کرے ۔ ذیل میں اس سلسلے میں پیش کی جانے والی بعض باتوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

کہا جاتا ہے کہ احادیث میں یہ صراحت بھی موجود ہے کہ عورتوں کا گھر میں نماز پڑھنا مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے ۔ (ابوداؤد:۵۶۷)یہ بات درست ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اس کے باوجود اللہ کے رسولﷺ نے مردوں کے لیے عورتوں کو مسجد جانے سے روکنے کی اجازت نہیں دی تھی ۔

نماز ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے ۔ فرض نماز مسجد میں باجماعت ادا کرنے کا مردوں کو حکم اور عورتوں کو اجازت دی گئی ہے۔ نبوی حکم اور منشا کے مطابق مردوں کا مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنا بہتر ہے، البتہ اگر وہ گھر پر پڑھ لیں تو بھی نماز ہوجائے گی۔ عورتوں کا گھر میں نماز ادا کرنا بہتر ہے، لیکن اگر وہ مسجد میں جاکر باجماعت نماز ادا کریں تو ادا ہوجائے گی ۔

کسی کام کے افضل اور کسی کام کے غیر افضل ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ غیر افضل پر عمل ناپسندیدہ ہے، اس سے روکا جائے گا۔ انسانی طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں ۔ دین میں افضل اور غیر افضل سب پر عمل کی آزادی دی گئی ہے۔ پہلی صف میں نماز پڑھنا افضل ہے، لیکن بعد کی صفوں میں بھی شامل رہ کر نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ تکبیر تحریمہ کے وقت نماز میں شامل ہونا افضل ہے، لیکن بعد میں شامل ہونے والوں کی بھی نماز ہوجائے گی۔اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ افضل پر عمل کرنے کی ترغیب دی جائے گی، لیکن غیر افضل پر عمل کرنے سے نہیں روکا جائے گا ۔

کہا جاتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے عورتوں کے لیے گھر میں نماز پڑھنا افضل قرار دیا ہے۔ اس سے آپؐ کا منشا یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپؐ ان کا مسجد جانا پسند نہیں کرتے تھے۔ اللہ کے رسول ﷺ سے محبت کا تقاضا ہے کہ آپؐ کے منشا پر عمل کیا جائے۔اگر اس بات کو درست مان لیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر آپؐ نے انھیں مسجد جانے کی اجازت کیوں دی اور مردوں کو انھیں روکنے سے منع کیوں کیا؟

بعض حضرات عورتوں کو مساجد میں جانے سے روکنے کے لیے ام المومنین حضرت عائشہ ؓکا یہ قول نقل کرتے ہیںکہ ” اگر اللہ کے رسولﷺ عورتوں کے آج کے حالات دیکھ لیتے تو انھیں مسجد جانے سے منع کردیتے ۔‘‘ (بخاری:۸۶۹) اس کو عورتوں کے مسجد جانے کی ممانعت کے لیے ‘نص’ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالاں کہ یہ ام المومنین کا محض ایک احساس تھا، جو درست بھی ہوسکتا ہے اور نادرست بھی ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم وہ حالات دیکھتے تو ممکن ہے، عورتوں کو مسجد جانے سے منع کردیتے اور ممکن ہے، نہ منع کرتے ۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس احساس کا اظہار نہ صحابہ و صحابیات میں سے کسی اور نے کیا، نہ دیگر آٹھ امہات المومنین کا وہ احساس تھا۔ ہمیں نصوص کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے، نہ کہ احساسات کی پابندی کا ۔ دوسری بات یہ کہ خود حضرت عائشہ نے صراحت سے عورتوں کو مسجد جانے سے نہیں روکا اور بہت سی عورتیں بعد میں بھی مسجد جاتی رہیں ۔

بعض حضرات اس معاملے میں ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کی رائے کو نہ قبول کرنا ان کی توہین قرار دیتے ہیں اور جو لوگ عورتوں کو مسجد جانے کی اجازت دیتے ہیں انھیں صحابہ کی توہین کرنے والا کہتے ہیں۔ یہ رویّہ درست نہیں ہے۔

صحابہ اور صحابیات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے غایت درجہ محبت کرتے تھے، لیکن وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ انھیں جو حق اور آزادی دی گئی ہے، اسے استعمال کرنا محبتِ رسول کے منافی نہیں ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے عورتوں کا گھر میں نماز پڑھنا بہتر قرار دیا۔ اس کے باوجود بہت سی صحابیات مسجد جاکر باجماعت نماز ادا کرتی رہیں ۔

اگر ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ اس ارشاد سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا منشا عورتوں کو مسجد جانے سے منع کرنا تھا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ساتھ ہی یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ بہت سی صحابیات آپ ؐ کے اس منشا کو سمجھ نہیں سکی تھیں، یا سمجھنے کے باوجود برابر اس کی مخالفت کرتی رہیں۔ یہ دعویٰ کوئی بھی کرے، میں تو اس کے تصوّر سے کانپ جاتا ہوں۔

کتبِ حدیث کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ دین کے مختلف معاملات اور احکام میں صحابہ و صحابیات کی آراء میں اختلاف رہا ہے۔ بعض صحابہ اور صحابیات نے ایک بات کہی، دوسرے صحابہ و صحابیات نے اس سے مختلف بات کہی ۔ بہ یک وقت دونوں آراء پر عمل ممکن نہیں ہے ، چنانچہ تطبیق یا ترجیح کا طریقہ اختیار کیا گیا ۔ یہ طریقہ تمام محدثین اور فقہاء نے اختیار کیا ہے ۔ اگر کسی محدث یا فقیہ نے ایک صحابی یا صحابیہ کی رائے کو ترک کردیا اور دوسرے صحابی یا صحابیہ کی رائے پر عمل کیا تو امّت میں کسی نے نہیں کہا کہ جس صحابی یا صحابیہ کی رائے ترک کی گئی ہے اس کی توہین کی گئی ہے ۔ اس مسئلے کو بھی زیرِ بحث موضوع کے تناظر میں دیکھا جائے تو بات کو سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔

ام المومنین حضرت عائشہؓ جیسی بات نہ کسی اور صحابی یا صحابیہ نے کہی، نہ کسی اور ام المومنین نے، بلکہ اس دور کی بہت سی صحابیات اور تابعیات نے ام المومنین کی اس رائے سے اتفاق نہیں کیا اور وہ برابر مسجد جاتی رہیں۔ پھر کیا حضرت عائشہؓ کی اس رائے کو قبول نہ کرنا ان کی توہین ہے؟ اگر یہ توہین ہے تو بہت سی صحابیات اور تابعیات نے اس کا ارتکاب کیا ہے اور صدیوں تک یہ توہین کی جاتی رہی ہے اور بہت سے مقامات پر اب بھی کی جا رہی ہے ۔

اس نکتے کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے کہ عورتوں کو مسجد جانے کا حکم نہیں دیا گیا ہے، اجازت دی گئی ہے ۔ اس اجازت کو پابندی سے بدلنا دین میں مداخلت ہے ۔ اس کے بجائے اجازت دینے کے ساتھ فتنوں کے سدِّباب کی تدابیر اختیار کرنی چاہیے ۔

اس سوال پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا حقیقتاً اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے چند سال کے بعد ہی فتنہ اس قدر بڑھ گیا تھا جس کا ام المومنین نے اظہار کیا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ فتنہ اللہ کے رسول ﷺ کے زمانے میں بھی موجود تھا ۔ منافقین اور یہود اپنی شرانگیزیوں سے باز نہیں آتے تھے ۔ وہ پاک دامن مومن خواتین کے بارے میں تشبیب کے اشعار پڑھتے، کبھی راہ چلتے چھیڑتے، کبھی دوسری حرکتیں کرتے، لیکن اس کے باوجود آپؐ نے انھیں مسجد جانے سے نہیں روکا، بلکہ اس کی اجازت باقی رکھی تو بعد کے زمانوں میں بھی فتنوں سے ڈراکر انھیں روکنا مناسب نہیں، اس لیے یہ کہنا کہ آج کے پُر فتن دور میں عورتوں کو مسجد جانے کی اجازت دینا بڑے فتنوں کا دروازہ کھول دے گا، اس لیے اس پر پابندی رکھی جائے،درست نقطۂ نظر نہیں ہے ۔

بعض علما نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ ’’عورتوں کے لیے نماز کی سہولت صرف ہائے وے یا بازار کی مسجدوں میں فراہم کی جائے، تاکہ کسی ضرورت سے گھر سے باہر جانے والی عورتوں کی نماز قضا نہ ہو۔‘‘ یہ رائے درست نہیں ہے ۔ اللہ کے رسولﷺ کا صریح حکم ہے کہ عورتوں کو مسجد جانے سے نہ روکا جائے۔ اس حکم کا خطاب تمام مردوں سے ہے ۔ اس کا اطلاق محلوں کی مساجد پر بھی ہوتا ہے۔ اس حکم پر عمل کا تقاضا ہے کہ ہر مسجد میں ایسی سہولیات فراہم کی جائیں کہ جو عورت بھی مسجد جانا چاہے، جاسکے۔

عورتوں کو مساجد جانے سے روکنا مسلم معاشرہ کے دورِ زوال کی نشانی ہے۔ عہدِ نبوی ہی میں نہیں، بلکہ صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور بعد کے ادوار میں صدیوں تک خواتین نہ صرف مساجد میں عبادت کے لیے جاتی تھیں، بلکہ درس و تدریس کی مجلسیں بھی آراستہ کرتی تھیں۔ مسجد حرام، مسجد نبوی، مسجد اقصٰی، مسجد اموی اور دیگر مساجد میں ان کے حلقے قائم تھے، جن میں محرم اور غیر محرم کی تفریق کے بغیر ہزاروں طلبہ ان سے فیض اٹھاتے تھے۔ بعد کے ادوار میں اندیشے حاوی کرلیے گئے ۔یہ بحثیں کی جانے لگیں کہ عورت کا مکمل وجود پردہ ہے، اس کی آواز پردہ ہے، اس کا گھر سے باہر نکلنا فتنے کا باعث ہوگا۔ چنانچہ اسے گھر کی چہار دیواری میں قید کردیا گیا۔مسلم عورتوں کی بھلائی اسی میں ہے کہ انھیں اندیشہ ہائے دور دراز سے پرے ہوکر وہ تمام حقوق دیے جائیں جو انھیں عہد نبوی میں حاصل تھے۔

اب وقت آگیا ہے کہ ہر مسئلے کو قرآن و سنت اور صدر اوّل (قرون مشہود لھا بالخیر) کے تعامل کی روشنی میں دیکھا جائے اور اس کا حل پیش کیا جائے ۔ بعد کی صدیوں میں فقہی تصلّبات کی وجہ سے جو سختیاں اختیار کی گئی ہیں اور غیر ضروری احتیاط کو روا رکھا گیا ہے اسے دین کا جز نہ سمجھا جائے ، خاص طور سے مساجد میں خواتین کے داخلہ کے مسئلے کو اسی اعتبار سے دیکھا جائے۔ مساجد عبادت کے مقامات اور روحانیت کے مراکز ہیں، وہاں مسلم سماج کے افراد کو تربیت و تزکیہ، روحانیت کے ارتقا اور دینی تعلیم کے مواقع حاصل ہوتے ہیں ۔ مسلم خواتین بھی اسلامی سماج کا حصہ ہیں۔ انھیں بھی تربیت و تزکیہ کے ان مراکز سے استفادہ کرنے کے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں ۔

نئی مساجد کو اس طرح تعمیر کیا جائے کہ ان میں خواتین کے لیے مخصوص گوشہ ہو ۔ آمادگی ہو تو قدیم مساجد میں بھی بہ آسانی ان کے لیے گوشے مخصوص کیے جاسکتے ہیں۔ ہمیں مساجد میں آنے کی خواہش مند خواتین کو روکنے کے بجائے ان کی تربیت کی تدابیر اختیار کرنی چاہییں ۔ ہم انھیں بتائیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے جہاں خواتین کے لیے مسجد میں آنے کی اجازت دی ہے، وہیں اس کے آداب بھی بیان کیے ہیں۔ آپؐ نے مردوں اور عورتوں کے درمیان اختلاط سے سختی سے منع کیا ہے، مسجد سے باہر بھی اور مسجد کے اندر بھی۔ آپؐ نے عورتوں کے لیے مسجد کا ایک دروازہ خاص کردیا تھا۔ آپؐ نے خوش بو لگاکر اور زیب و زینت اختیار کرکے عورتوں کے گھر سے نکلنے کو منع کیا ہے ۔

موجودہ دور کا تقاضا ہے کہ نہ صرف مساجد میں حاضری کے معاملے میں، بلکہ زندگی کے دیگر معاملات میں، خواتین کو اسلام نے جو حقوق دیے ہیں، ہم شرحِ صدر کے ساتھ انہیں وہ حقوق دینے پر آمادہ ہوجائیں ۔ مسلمان خواتین کو ہم اپنا حریف بنانے کے بجائے حلیف بنائیں ۔ انھیں ورغلانے اور دین سے برگشتہ کرنے کے لیے ‘شیاطین’ اپنا پورا زور لگا رہے ہیں۔ ہمیں ان کی سازشوں کو ناکام بنانا ہے اور حکمت اور دانائی کے ساتھ ان کا توڑ کرنا ہے ۔ اگر امّت کے باشعور طبقے اور خاص طور پر طبقۂ علماء اور دینی تنظیموں کے سربراہوں نے ہوشیاری کا مظاہرہ نہ کیا تو انھیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد رضی الاسلام ندوی

2 Comments

تبصرہ کیجیے

%d bloggers like this: