والدین کی خدمت کس کی ذمے داری؟

سوال:ماں باپ کی عمر پچھتّر (75) سال سے زائد ہے۔ ان کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں ۔ سب کی شادیاں ہوچکی ہیں۔ لڑکیاں اپنے شوہروں کے ساتھ رہتی ہیں۔ ایک لڑکا بیرونِ ملک ملازمت کرتا ہے اور بیوی بچوں کے ساتھ رہتا ہے ، دوسرا لڑکا دوسرے شہر میں ملازم ہے، تیسرا لڑکا، جو ماں باپ کے ساتھ رہتا ہے ، ابھی بے روزگار اور غیر شادی شدہ ہے۔ بیٹوں میں سے کوئی بھی ماں باپ کو اپنے ساتھ رکھنے پر تیار نہیں ہے۔ہر ایک کہتا ہے کہ والدین کی دیکھ بھال کا ذمہ دار وہ تنہا نہیں ہے، بلکہ یہ سب بھائی بہنوں کی ذمے داری ہے۔ ان کے ساتھ وہ بھی اپنی باری آنے پر خدمت کرسکتا ہے ۔

براہ کرم قرآن و حدیث کے حوالے سے بتائیں کہ شرعی طور پر والدین کی دیکھ بھال کی اصل ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ اور کون ان کے سلسلے میں حتمی فیصلہ کرسکتا ہے؟ کیا اس کی ذمے صرف لڑکوں پر عائد ہوتی ہے یا لڑکیاں بھی ذمے دار ہیں؟

جواب:سوچنے کی بات ہے کہ ماں باپ مل کر تین بیٹوں اور تین بیٹیوں کی پرورش پوری خوش دلی ، ایثار اور قربانی کے ساتھ کرلیتے ہیں ، لیکن تین بیٹے اور تین بیٹیاں مل کر بوڑھے ماں باپ کی خدمت نہیں کرسکتے اور ان کی ضروریات پوری نہیں کرسکتے اور باری لگا کر اپنے حصے کی خدمت پر آمادگی ظاہر کرتے ہیں ۔

کتنی محرومی کی بات ہے کہ بچوں میں سے کوئی یہ کہے کہ باری لگائی جائے ، میں صرف اس وقت ماں باپ کی خدمت کروں گا جب میری باری آئے گی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اولاد میں اس بات پر مسابقت ہوتی کہ اماں ابا کو میں اپنے ساتھ رکھوں گا ۔

اگر یہ احساس تازہ رہے کہ ماں کے پیروں تلے جنت ہے اور باپ جنت کا دروازہ ہے ، جیسا کہ احادیث میں صراحت ہے تو یہ سوال ہی نہیں پیدا ہوگا جو کیا گیا ہے۔

ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی خدمت کا حکم قرآن مجید میں متعدد مقامات پر دیا گیا ہے ، مثلاً سورہ لقمان :14، سورہ احقاف :15، خاص طور سے سورہ بنی اسرائیل :23،24 میں تو بہت دل کش اندازِ بیان اختیار کیا گیا ہے۔ سورۃ البقرۃ :215 میں والدین کی معاشی ضروریات پوری کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں باپ کی خدمت کی ضرورت ہو تو جہاد بھی ساقط ہوجاتا ہے۔(بخاری :3004 ،مسلم :2549)

ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا : ’’وہ شخص ناکام و مراد ہوگیا جو اپنے والدین کو بڑھاپے میں پائے ، پھر بھی جنت میں نہ جا سکے۔‘‘ (مسلم)

ظاہر ہے، جنت میں داخلے کا راستہ والدین کی خدمت سے ہوکر جاتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :’’جو شخص اپنی عمر میں اضافہ اور روزی میں برکت چاہتا ہے اسے اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا چاہیے۔‘‘

رہا یہ سوال کہ والدین کی خدمت کی ذمے داری کس کی ہے؟ صرف لڑکوں کی، یا لڑکیوں کی بھی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر شخص کی ذمے داری اتنی ہے جتنے کا وہ مکلف ہے ۔

شادی کے بعد لڑکیاں اپنے شوہروں کے گھر چلی جاتی ہیں ، وہ ماں باپ کے پاس نہیں رہتیں ، اس کے علاوہ وہ اپنی آزاد مرضی کی مالک نہیں ہوتیں ، اپنے شوہروں کی پابند ہوتی ہیں ۔اس لیے وہ اپنے ماں باپ کو مستقل طور پر اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتیں، لیکن وہ مختصر اوقات کے لیے انھیں اپنے یہاں بلا سکتی ہیں، کبھی کبھی ان کے پاس جاکر ان کی خدمت کرسکتی ہیں۔ اگر وہ صاحبِ حیثیت ہیں تو ان کی مالی مدد کرسکتی ہیں، انھیں تحفے تحائف دے سکتی ہیں ، فون سے ان کی خیریت معلوم کرسکتی ہیں ، وغیرہ ۔

لڑکے اپنی مرضی کے مالک ہوتے ہیں ، وہ کسی کی ماتحتی میں نہیں رہتے۔ اس لیے ماں باپ کے بڑھاپے میں ان کی خدمت اصلاً بیٹوں کی ذمے داری ہے۔ وہ والدین کی خدمت خود کرسکتے ہیں ، یا اگر خود نہ کرسکیں تو اس کے انتظامات کرسکتے ہیں ۔

اگر کسی شخص کے کئی بیٹے ہوں تو وہ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق ذمے دار ہوں گے۔ جو اس معاملے میں کوتاہی کرے گا اس سے بارگاہ الہی میں بازپرس کی جائے گی۔

اگرچہ قرآن و حدیث میں صراحت نہیں ہے کہ والدین کی خدمت کی ذمے داری لڑکوں کی ہے ، لڑکیوں کی نہیں ، لیکن معمولی غور کرنے سے اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔ احادیث کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ والدین کے بارے میں عموماً سوالات مردوں نے کیے ہیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے انھیں والدین کی خدمت کا حکم دیا ہے ، کوئی سوال کسی عورت کی طرف سے نہیں ہوا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ ایک عورت نے سوال کیا کہ میری ماں حج نہیں کرسکی تھیں ، کیا میں ان کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی physical خدمت اصلاً لڑکوں کی ذمے داری ہے ، لڑکیاں مکلف نہیں ، ان سے جو ہوسکے ، کریں۔

اگر کسی شخص کے دو یا دو سے زائد لڑکے ہوں ، تو وہ مل جل کر اپنے والدین کی خدمت کی منصوبہ بندی کریں۔ جو لڑکے وطن سے دور ، لیکن مال دار ہیں ، وہ مال فراہم کریں ، جو لڑکا ماں باپ کے ساتھ ، لیکن غریب ہے، وہ ان کی جسمانی و مادی ضرورتیں پوری کرے۔ لڑکے باریاں لگانا چاہیں گے ، جس کی وجہ سے سب سے کوتاہی ہوگی تو سب گناہ گار ہوں گے۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد رضی الاسلام ندوی